| عنوان: | یزید کی تخت نشینی اور طلب بیعت |
|---|---|
| تحریر: | فقیہ ملت الحاج مفتی جلال الدین احمد امجدی |
| پیش کش: | محمد سلمان العطاری |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد یزید نے تخت نشین ہوتے ہی اپنی بیعت کے لیے ہر طرف خطوط و حکم نامے روانہ کیے ۔ مدینہ منورہ کے گورنر ولید بن عقبہ تھے ان کو اپنے باپ کی وفات کی اطلاع کی اور لکھا کہ ہر خاص و عام سے میری بیعت لو اور حسین بن علی، عبداللہ بن زبیر اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے پہلے بیعت لو، ان سب کو ایک لمحہ مہلت نہ دو۔
مدینہ منورہ کے لوگوں کو ابھی تک حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے انتقال کی خبر نہ تھی یزید کے حکم نامہ سے ولید بہت گھبرایا اس لیے کہ ان حضرات سے بیعت لینا آسان نہیں تھا۔ اس نے مشورہ کے لیے مروان بن حکم کو بلایا۔
مروان بن حکم وہ شخص ہے کہ جب اس کی پیدائش ہوئی اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحنیک (کوئی چیز چبا کر نرم کر کے کھلانے) کے لیے لایا گیا تو حضور نے فرمایا:
هُوَ الْوَزَغُ بْنُ الْوَزَغِ [رَوَاهُ الْحَاكِمُ فِيْ صَحِيْحِهِ]
یہ گرگٹ کا بیٹا گرگٹ ہے۔ [الناہیہ، ص: 45]
اور بخاری، نسائی اور ابن ابی حاتم اپنی تفسیر میں روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
لَعَنَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلَیْهِ وَسَلَّمَ اَبَا مَرْوَانَ وَمَرْوَانُ فِيْ صُلْبِهِ فَمَرْوَانُ يَفِيْضُ مِنْ لَعْنَةِ اللّٰهِ
یعنی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مروان کے باپ حکم پر لعنت فرمائی جب کہ مروان صلبِ پدر میں تھا تو وہ بھی اللہ کی لعنت سے حصہ پانے والا ہوا۔ [تاریخ الخلفاء، ص: 125]
محترم قارئین کرام! وہ مروان کہ اس کو اور اس کے باپ کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ فرمایا اور جس کے باپ پر حضور نے لعنت فرمائی بلکہ اس کے باپ کو شہر بدر فرما کر طائف میں رہنے کا حکم فرمایا۔ ایسے مروان سے بھلا خیر کی امید کیا ہو سکتی ہے۔
مدینہ منورہ کے گورنر ولید نے جب مروان سے مشورہ لیا تو اس نے کہا ان تینوں کو اسی وقت بلائیں اور بیعت کے لیے کہیں، اگر وہ بیعت کر لیں تو بہتر ورنہ تینوں کو قتل کر دیں۔
اس مشورہ کے بعد گورنر ولید نے تینوں حضرات کو بلا بھیجا۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اپنے چند جوانوں کو ساتھ لے کر گئے، مکان کے باہر ان کو کھڑا کر دیا اور فرمایا کہ اگر تم لوگ سنو کہ میری آواز بلند ہو رہی ہے تو فوراً اندر آ جانا، اور جب تک میں باہر نہ آ جاؤں یہاں سے ہرگز نہ جانا۔
پھر آپ اندر تشریف لے گئے، ولید نے آپ کو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر سنائی اور یزید کی بیعت کے لیے کہا۔ آپ نے فرمایا کہ میرے جیسا آدمی اس طرح چھپ کر بیعت نہیں کر سکتا آپ باہر نکل کر سب لوگوں سے بیعت طلب کریں تو ان کے ساتھ مجھ سے بھی بیعت کے لیے کہیں۔
ولید امن پسند آدمی تھا اس نے کہا اچھا آپ تشریف لے جائیے۔ جب آپ چلنے لگے تو مروان نے برہم ہو کر ولید سے کہا کہ اگر آپ نے اس وقت ان کو جانے دیا اور بیعت نہ لی تو پھر ان پر قابو نہ پا سکیں گے، اگر یہ بیعت کر لیں تو بہتر ورنہ ان کو قتل کر دو۔ یہ سن کر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور فرمایا او ابن الزرقاء کیا تو مجھے قتل کرے گا یا یہ قتل کریں گے خدا کی قسم تو جھوٹا اور کمینہ ہے، یہ کہہ کر آپ باہر تشریف لے آئے۔
مروان نے ولید سے کہا کہ آپ نے میری بات نہیں مانی، خدا کی قسم اب آپ ان پر قابو نہ پا سکیں گے۔ قتل کرنے کا یہ بہترین موقع تھا جس کو آپ نے ضائع کر دیا۔ ولید نے کہا افسوس تم مجھے ایسا مشورہ دے رہے ہو جس میں میرے دین کی تباہی ہے۔ کیا میں نواسۂ رسول کو صرف اس وجہ سے قتل کر دیتا کہ انھوں نے یزید کی بیعت نہیں کی، خدائے ذوالجلال کی قسم اگر مجھے ساری دنیا کا مال و متاع مل جائے تو بھی میں ان کے خون سے اپنے ہاتھوں کو آلودہ ہرگز نہیں کر سکتا۔ [طبری، ج: 6، ص: 162]
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ خوب جانتے تھے کہ بیعت کے انکار سے یزید بدبخت جان کا دشمن اور خون کا پیاسا ہو جائے گا۔ لیکن آپ کی غیرت اور تقویٰ و پرہیز گاری نے اجازت نہ دی کہ اپنی جان بچانے کی خاطر نااہل کے ہاتھ پر بیعت کر لیں اور نواسۂ رسول ہو کر اسلام و مسلمان کی تباہی کی پروا نہ کریں۔
اگر آپ یزید کی بیعت کر لیتے تو وہ آپ کی بڑی قدر و منزلت کرتا اور دنیا کی بے شمار دولت آپ کے قدموں میں ڈھیر ہو جاتی لیکن یزید کی بدکاری کے جواز کے لیے آپ کی بیعت سند ہو جاتی تو اسلام کا نظام درہم برہم ہو جاتا اور دین میں ایسا فساد برپا ہوتا کہ جس کا دور کرنا بعد میں ناممکن ہو جاتا۔
بہر حال آپ یزید کی بیعت کے لیے تیار نہ ہوئے، شام کے وقت ولید نے پھر امام کے پاس آدمی بھیجا۔ آپ نے فرمایا اس وقت تو ہم نہیں آ سکتے صبح ہونے دیجیے پھر دیکھیں گے کیا ہونا ہے۔ ولید نے یہ بات مان لی اور آپ اسی رات اپنے اہل و عیال اور عزیز و اقارب کے ساتھ مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ کا سفر کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔
مدینہ منورہ سے رحلت
محترم قارئین کرام! مدینہ منورہ وہ شہرِ مقدس ہے جو حضورِ انور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو سارے شہروں میں سب سے زیادہ محبوب ہے جیسا کہ خود حضور ارشاد فرماتے ہیں:
لَا يُقْبَضُ النَّبِيُّ إِلَّا فِي الْأَرْضِ أَحَبُّ الْأَمْكِنَةِ إِلَيْهِ
یعنی نبی اسی جگہ انتقال فرماتا ہے جو اسے سب جگہوں سے زیادہ محبوب ہو۔ [فضائلِ مدینہ، ص: 11]
اور رسولِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال مدینہ منورہ میں ہوا، معلوم ہوا کہ سارے شہروں میں آپ کو سب سے زیادہ پیارا مدینہ ہے، اور جب حضور کو وہ سب سے زیادہ پیارا ہے تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو بھی وہی شہر سب سے زیادہ پیارا ہے مگر حالات نے اس محبوب شہر کے چھوڑنے پر آپ کو مجبور کر دیا۔ سفر کی تیاری مکمل ہو گئی۔ اونٹوں پر کجاوے کسے گئے اور اہل بیت رسالت کا یہ چھوٹا سا مقدس قافلہ مدینۃ الرسول کی جدائی کے صدمہ سے روتا ہوا گھروں سے نکل پڑا اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اپنے نانا جان کے روضۂ انور پر آخری سلام عرض کرنے کے لیے حاضر ہوئے۔
محترم قارئین کرام! امام عالی مقام جب اپنے نانا جان کے آستانۂ مقدسہ پر آخری سلام کے لیے حاضر ہوئے ہوں گے اس وقت آپ کی کیفیت کیا ہوئی ہوگی۔ بلا شبہہ دیدۂ خونبار نے اشکِ غم کی بارش کی ہوگی اور عرض کیا ہوگا کہ نانا جان! میں آپ کا مقدس شہر چھوڑ رہا ہوں وہ شہر کہ جو مجھے سب سے زیادہ عزیز اور پیارا ہے۔ اس لیے چھوڑ رہا ہوں کہ میرا یہاں رہنا دشوار ہو گیا ہے۔ میں جا رہا ہوں مجھے اجازت دیجیے۔
اور آپ کے نانا جان سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم جنھوں نے آغوشِ رحمت و محبت میں آپ کی پرورش کی تھی اس وقت روضۂ انور میں ان کا کیا حال ہوا ہو گا اس کا تصور اہلِ محبت کے دلوں کو پاش پاش کر دیتا ہے۔
آہ! یہ دن کتنے رنج و غم کا دن تھا کہ جگر گوشۂ رسول فرزندِ علی و بتول جن کا سب کچھ مدینہ میں ہے مگر آج وہ مدینہ سے جا رہا ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جا رہا ہے۔
آپ الوداع، اے نانا جان! الوداع کہہ کر روتے ہوئے واپس ہوئے اور ڈوبتے ہوئے دل کے ساتھ مدینہ منورہ پر حسرت بھری نگاہ ڈالتے ہوئے مکہ معظمہ کی جانب روانہ ہو گئے۔ یہ واقعہ 4 شعبان سنہ 60ھ کا ہے۔
جب آپ مکہ معظمہ پہنچ گئے اور آپ کی تشریف آوری کی لوگوں کو خبر ہوئی تو جوق در جوق آپ کی خدمت میں لوگ آنے لگے اور آپ کی زیارت کا شرف حاصل کرنے لگے۔
مکہ معظمہ میں آپ ایک پناہ گزیں کی حیثیت سے مقیم رہے۔ نہ آپ نے یزید کے خلاف کسی سے بیعت لی اور نہ اپنی موافقت میں کوئی لشکری طاقت ہی فراہم کی۔ [خطبات محرم، ص: 349]
