Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ مبارک|محمد شہید حسین عطاری

آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ مبارک
عنوان: آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ مبارک
تحریر: محمد شہید حسین عطاری

اللہ پاک نے انسانوں کے رشد و ہدایت کے لیے انبیائے کرام اور رسولانِ عظام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا۔ انھی میں سب سے آخر میں اللہ پاک نے ہمارے پیارے آقا، مکی مدنی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا۔ اللہ پاک نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہان کا رسول بنا کر بھیجا۔ اللہ پاک نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی میں تمام خصوصیات کو جمع فرما دیا۔ آپ کے جسمِ اطہر ہی کو دیکھیں تو آپ کے جسم مبارک کے ہر ہر عضو کمالات، خصوصیات اور معجزات کا حامل و جامع ہے۔ یہ بھی بڑی خصوصیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے جسمِ اقدس کا سایہ مبارک نہیں رکھا، نہ سورج کی روشنی میں، نہ چاند کی چاندنی میں، ورنہ ذہن کہاں قبول کرتا ہے کہ جسم ہو اور سایہ نہ ہو۔ راقم اسی خصوصیتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اس مختصر مضمون میں احادیثِ کریمہ اور اقوالِ بزرگانِ دین کی روشنی میں پیش کرنے کی سعی کر رہا ہے۔

جسمِ بے سایہ احادیث کی روشنی میں

حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی پاک، صاحبِ لولاک صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ نہ تھا، آپ کبھی بھی سورج کے سامنے نہ آئے مگر آپ کا نور سورج کے نور پر غالب آ گیا اور نہ کبھی آپ شمع کے سامنے کھڑے ہوئے مگر آپ کی روشنی شمع کی روشنی پر غالب آ گئی۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 30، ص: 701]

حضرت علامہ امام نسفی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالس میں عرض کی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا سایہ زمین پر نہیں رکھا تاکہ کوئی انسان اس پر اپنا پاؤں نہ رکھ دے۔ [بزرگوں کے عقیدے، ص: 349]

حضرت ذکوان تابعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت حکیم ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے:

إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يُرَى لَهُ ظِلٌّ فِي شَمْسٍ وَلَا قَمَرٍ [بزرگوں کے عقیدے، ص: 350]

یعنی حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کا سایہ نہ سورج کی دھوپ میں نظر آتا نہ چاند کی چاندنی میں۔

حضرت علامہ جلال الدین سیوطی، حکیم ترمذی سے حضرت ذکوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث نقل کرنے کے بعد حضرت امام ابن سبع سے اس پر شہادت اس طرح پیش فرماتے ہیں:

قَالَ ابْنُ سَبْعٍ: مِنْ خَصَائِصِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ ظِلَّهُ كَانَ لَا يَقَعُ عَلَى الْأَرْضِ، وَأَنَّهُ كَانَ نُورًا، فَكَانَ إِذَا مَشَى فِي الشَّمْسِ أَوِ الْقَمَرِ لَا يُنْظَرُ لَهُ ظِلٌّ. قَالَ بَعْضُهُمْ: وَيَشْهَدُ لَهُ حَدِيثُ قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دُعَائِهِ: وَاجْعَلْنِي نُورًا۔ [بزرگوں کے عقیدے، ص: 351 تا 352]

یعنی ابن سبع نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے کہ آپ کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا تھا اس لیے کہ وہ نور تھے، تو جب چاند اور سورج کی روشنی میں وہ چلتے تھے تو سایہ نظر نہیں آتا تھا۔ بعض ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم نے کہا کہ اس خصوصیت پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث واضح ثبوت ہے کہ جس میں آپ کی یہ دعا منقول ہے کہ اے اللہ مجھے نور بنا دے۔

امام الزماں حضرت علامہ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

مَا ذُكِرَ مِنْ أَنَّهُ لَا ظِلَّ لِشَخْصِهِ فِي شَمْسٍ وَلَا قَمَرٍ لِأَنَّهُ كَانَ نُورًا [بزرگوں کے عقیدے، ص: 350 تا 351]

یعنی یہ جو بیان کیا گیا ہے کہ سورج اور چاند کی روشنی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ نہیں پڑتا تھا اس لیے کہ حضور نور تھے۔

اسی لیے تو اعلیٰ حضرت عظیم البرکت رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:

تو ہے سایہ نور کا ہر عضو ٹکڑا نور کا
سایہ کا سایہ نہ ہوتا نہ سایہ نور کا [حدائقِ بخشش]

حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ نہ سورج کی دھوپ میں پڑتا تھا نہ چاند کی چاندنی میں۔ [بزرگوں کے عقیدے، ص: 353]

مزید تحریر فرماتے ہیں کہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم سر سے پاؤں تک نور ہیں اور نور کے لیے سایہ نہیں ہوتا۔ [بزرگوں کے عقیدے، ص: 353]

امام ربانی حضرت شیخ احمد مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: “بے شک پیارے آقا کا سایہ نہیں تھا، اس کی وجہ یہ ہے کہ ظاہری دنیا میں ہر چیز سے اس کا سایہ نرم ہوتا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نرم عالم میں کوئی شے نہیں، تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ کس صورت میں ہو سکتا ہے۔” [بزرگوں کے عقیدے، ص: 352]

ایک اور جگہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:

چلتی تھی زمیں کیسی تھی دھوپ کڑی کیسی
لو وہ قدِ بے سایہ اب سایہ کناں آیا [حدائقِ بخشش]

سیرتِ حلبیہ میں ہے کہ امام محمد زرقانی رحمۃ اللہ علیہ شرح میں فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سایہ نہ تھا، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ حضور نور ہیں جیسا کہ ابن سبع نے کہا۔ اور حافظ زین محدث رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سبب اس کا یہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کی روشنی تمام جہاں کی روشنی پر غالب تھی، اور بعض علماء نے کہا کہ حکمت اس کی یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محفوظ کرنا ہے اس سے کہ کسی کافر کا پاؤں ان کے سایہ پر نہ پڑے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 30، ص: 700]

اعلیٰ حضرتِ امامِ اہلِ سنت الشاہ احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے زبردست منطقی انداز میں دو عقلی دلائل کے ذریعے جسمِ اقدس کا سایہ نہ ہونا ثابت فرمایا ہے۔ آپ فرماتے ہیں: دلیل اول: جب کوئی مجسم چیز روشنی کے سامنے آتی ہے تو روشنی کے مطابق اس شے کا سایہ تصویر بنتا ہے لیکن اس سایہ کے مزید آگے کوئی سایہ نہیں ہوتا، تو بلا تشبیہ جب پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم اللہ پاک کے نور کا سایہ ہیں، تو پھر اس سایۂ نورِ خدا (یعنی بدنِ مصطفیٰ) کا سایہ کیسے ہو سکتا ہے؟ دلیل ثانی: نور کی وجہ سے اس کے سامنے آنے والی مجسم چیز کا سایہ تو بنتا ہے، مگر نور اور روشنی اپنی ذات کا سایہ نہیں ہوتیں کیونکہ روشنی اور سایہ (یعنی تاریکی) ایک دوسرے کے برعکس ہونے کی وجہ سے آپس میں دونوں جمع نہیں ہو سکتے، تو بلا تشبیہ ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نورِ الٰہی کا ایسا چمکتا دمکتا روشن سورج ہیں کہ جس کی روشنی تمام عالم میں ہے، لیکن اس نورِ الٰہی کے سورج کا اپنا کوئی سایہ نہیں۔ [ماہنامہ فیضانِ مدینہ، جمادی الاول 1441ھ، ص: 57]

ہمارے پیارے آقا، آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسمِ اقدس ایسا باکمال تھا کہ جس کا کوئی سایہ نہ تھا اور ہو بھی کیسے کہ آپ تو نور علیٰ نور ہیں۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ حدائقِ بخشش میں لکھتے ہیں:

تیری نسلِ پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
تو ہے عینِ نور تیرا سب گھرانا نور کا [حدائقِ بخشش]

خلاصۂ کلام: احادیثِ کریمہ و اقوالِ بزرگانِ دین رحمۃ اللہ علیہم سے ہمیں واضح طور پر معلوم ہوا کہ ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسمِ اقدس کا کوئی سایہ نہ تھا، نہ سورج کی روشنی میں نہ چاند کی چاندنی میں۔ اور اس کی مختلف وجوہات ہیں؛ پہلا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نور ہیں اور نور کا کوئی سایہ نہیں ہوتا، دوسرا یہ کہ آپ کا سایہ نہیں تھا اس لیے کہ کوئی انسان آپ کے سایۂ مبارک پر اپنا پاؤں نہ رکھ دے، تیسرا یہ ہے کہ ظاہری دنیا میں ہر چیز سے اس کا سایہ نرم ہوتا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نرم عالم میں کوئی شے نہیں اس لیے آپ کا سایہ نہیں، اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی منطقی دو مثالوں سے بھی ہمیں خوب واضح طور پر معلوم ہوا۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!