| عنوان: | کیا یہ حسینیت ہے؟ |
|---|---|
| تحریر: | توحید احمد خان رضوی |
| پیش کش: | جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم، بریلی شریف |
نواسۂ رسول، جگر گوشۂ بتول حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذاتِ حق، صداقت، شجاعت اور قربانی کی عظیم علامت ہے۔ کربلا کا عظیم واقعہ اسلامی تاریخ کا ایسا روشن باب ہے جس نے سچائی کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے، حق کے مقابلے میں ڈٹ جانے اور شریعتِ مطہرہ کی حفاظت و احترام کے لیے جان و اولاد کی قربانی پیش کرنے کا درس دیا ہے۔
لیکن افسوس! آج کل کچھ لوگ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر ایسے کام کرنے لگے ہیں جس کے خلاف امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی اور اپنے خاندان والوں کی قربانی پیش کرنا پڑی تھی۔ حسینی ہونے کا دعویٰ کرنے والے خود اس راہ پر چلنے لگے ہیں جس راہ کو بند کرنے کے لیے امام حسین کو میدان میں آنا پڑا۔ جس شریعتِ مطہرہ کی حفاظت کے لیے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قربانی پیش کرنا پڑی، آج ان کے نام پر اسی شریعت کے احکام کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
محرم الحرام کے ایام میں نہ جانے کتنے اپنے آپ کو حسینی کہلانے والے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر ڈھول باجے بجاتے نظر آئیں گے، جبکہ شریعتِ مطہرہ میں ڈھول باجے کو ناجائز و حرام قرار دیا گیا ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نانا جان، سرکارِ دو جہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: ”میرے رب نے مجھے بانسری اور گانے باجے کے آلات کو توڑنے کا حکم دیا ہے“۔ (مسند امام احمد بن حنبل)۔ دوسری جگہ مختارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کا ارشاد ہے: ”اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوا اور کوبہ (ڈھول) حرام کیا اور فرمایا: ہر نشہ والی چیز حرام ہے“۔ (سنن الکبریٰ للبیہقی، کتاب الشہادات)۔
محرم الحرام میں امام حسین کے نام پر جگہ جگہ مختلف طرح کے تعزیے بنائے جاتے ہیں اور اس پر طرح طرح کے غیر شرعی کام کیے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ زور زور سے ڈھول پیٹا جاتا ہے، تاشے بجائے جاتے ہیں، اور بے پردہ خواتین کا ہجوم بھی سڑکوں پر نکل آتا ہے۔ وہ بے پردہ عورتیں فخر کے ساتھ تعزیئے پر چڑھاوا چڑھاتی ہیں؛ مرد حضرات بھی اس میں شریک ہوتے ہیں، اپنے بچوں کو بھی ساتھ لاتے ہیں تاکہ جاہلوں کا تماشا اپنے چھوٹے بچوں کو دکھا کر ان کا گناہ بھی اپنے سر لیں۔ نذر و نیاز جیسی بابرکت چیز کو چھتوں سے پھینکا جاتا ہے جس سے رزق کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ اس طرح کے نہ جانے اور کتنے غیر شرعی کام کیے جاتے ہیں، بلکہ صحیح بات تو یہ ہے کہ تعزیئے بنا کر امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر کمائی کا دھندہ کھل جاتا ہے۔ شریعتِ مطہرہ نے مروجہ تعزیہ داری کو ناجائز قرار دیا ہے۔
حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
”عشرۂ محرم میں تعزیہ داری اور تعزیے یا قبروں کی صورت بنانا جائز نہیں ہے“۔
(فتاویٰ عزیزیہ، ص: ۷۲، مطبوعہ دہلی)
۷ محرم الحرام سے لے کر ۱۰ محرم الحرام تک سڑکوں پر طرح طرح کے غیر شرعی کام امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر کیے جاتے ہیں؛ کہیں کنویں میں چینی ڈالی جاتی ہے، کہیں کسی جگہ کے چکر لگائے جاتے ہیں، کہیں علم یا تعزیہ پر میوے چڑھائے جاتے ہیں، جس میں مردوں کے ساتھ اکثریت بے پردہ عورتوں کی ہوتی ہے۔ سڑکوں پر آوارہ لڑکوں کا ہجوم اور ان کا لڑکیوں کو تاکنا جھانکنا، اور جوان لڑکیوں کا بن سنور کر نکل کر لڑکوں کو بدنگاہی کے لیے اکسانا؛ جگہ جگہ ڈھول باجے تاشے کی دھن پر منہ میں گٹکا دبائے رقص جیسی حالت بنانا اور نہ جانے کتنے ایسے کام ہیں جنہیں دیکھ کر ہر دردمند اور باشعور انسان کے دل سے ایک ہی بات نکلتی ہے کہ یہ حسینیت نہیں ہے!
حسینیت تو نام ہے شریعت کی پاسداری کا، حسینیت تو نام ہے سنتِ مصطفیٰ کی پیروی کا، حسینیت تو نام ہے ڈھول باجے تاشے سے خود بھی دور رہنے اور دوسروں کو بھی روکنے کا، حسینیت تو نام ہے بے حیائی اور برائیوں سے رکنے کا۔ ان تمام حرکات کو کرنے والا کتنے ہی دعوے کر لے، وہ سچا حسینی نہیں ہو سکتا۔
اب یہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر ڈھول بجانے والے سوچیں کہ کیا وہ حسینیت کا کام کر رہے ہیں یا یزیدیت کا؟ کیونکہ شرعی مخالف کاموں میں یزید آگے تھا، اسی لیے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی بیعت نہیں فرمائی۔ شریعتِ مطہرہ کے احکام کی خلاف ورزی یزید نے کی تھی، امام حسین نے اس شریعت کی حفاظت کے لیے اپنی جان کی قربانی پیش کی؛ اور آج انہی کے نام پر تم اسی شریعت کے خلاف کام کر رہے ہو۔
حسینی ہونے کا صرف دعویٰ بیکار ہے بلکہ سچا حسینی ہونے کے لیے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو درس دیا ہے اس پر عمل کرنا ہو گا، حضرت امام حسین کی سیرت اور ان کی تعلیمات کو پڑھنا ہو گا۔ جب آپ حضرت امام حسین کی سیرت کو پڑھیں گے تو آپ پر یہ بات واضح ہو جائے گی کہ حضرت امام حسین کی سیرت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ آپ نے ہر حال میں سنتِ نبوی کو اختیار فرمایا اور کبھی بھی شریعتِ مصطفیٰ کے دامن کو ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیا۔
آپ کی عبادت، معاملات، اخلاق اور طرزِ زندگی سب کچھ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر تھا۔ اس لیے جو شخص حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سچی محبت رکھتا ہے، اس کی محبت کا اثر اس کی نماز، اس کے اخلاق، اس کے معاملات اور اس کے سنتِ مصطفیٰ پر عمل کرنے میں نظر آنا چاہیے۔ اگر محبت محض رسمی نعروں تک محدود ہو جائے تو وہ محبت اپنے مطلوبہ ثمرات کو حاصل نہیں کر پاتی۔ واقعۂ کربلا حق کو باطل پر اور شریعتِ مطہرہ کے تحفظ کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینے کا درس دیتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس درس کو سمجھا جائے اور اپنی طرزِ زندگی کو تعلیماتِ امام حسین کی روشنی میں ڈھالا جائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضرت امام حسین کی سچی محبت کرنے، شریعتِ مطہرہ پر عمل کرنے اور محرم پر ہونے والے غیر شرعی کاموں سے دور رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
