| عنوان: | حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو “عالم الغیب” کہنا کیسا؟ |
|---|---|
| تحریر: | محمد شہید حسین عطاری |
حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی بھی نبی و مخلوق کو مطلقاً عالم الغیب کہنا درست نہیں کہ اس لفظ کا مطلقاً استعمال اللہ پاک کے ساتھ خاص ہے کیونکہ جب یہ لفظ بولا جاتا ہے تو اس سے عام حالت میں علمِ ذاتی کی طرف ذہن متوجہ ہوتا ہے اور یہ شان صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔
حضورِ پرنور صلی اللہ علیہ وسلم یقینی طور پر غیوب کو جاننے والے ہیں مگر “عالم الغیب” صرف اللہ تعالیٰ کو کہا جائے گا۔ جس طرح حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم عزت اور جلالت والے ہیں، تمام عالم میں ان کے برابر کوئی عزیز و جلیل نہ ہے نہ ہو سکتا ہے، مگر آپ کو “محمد عزوجل” کہنا جائز نہیں بلکہ اللہ عزوجل اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہا جائے گا۔ [جاء الحق، ج: 2]
خلاصۂ کلام: ہمیں معلوم ہوا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ لفظ “عالم الغیب” کہنے سے منع فرمایا گیا کیونکہ یہ لفظ جب بولا جاتا ہے تو ذہن عام طور پر علمِ ذاتی کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور یہ شان یعنی علمِ ذاتی فقط اللہ پاک کو ہے، کسی مخلوق کو اگر علم ہے تو اللہ پاک کی عطا سے ہے اس کی اپنی ذاتی نہیں۔ اور پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو جو علم حاصل ہے وہ اللہ پاک نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا۔ اور اسی طرح “محمد عزوجل” کہنا جائز نہیں بلکہ یوں کہتے ہیں اللہ عزوجل اور اس کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا علم عطا فرمایا۔
