Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اعلیٰ حضرت اور رد بدعات (قسط: اول)|محمد فیض العارفین رضوی

اعلیٰ حضرت اور رد بدعات (قسط: اول)
عنوان: اعلیٰ حضرت اور رد بدعات (قسط: اول)
تحریر: محمد فیض العارفین رضوی
پیش کش: عائشہ فاطمہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

سیدی اعلیٰ حضرت عظیم البرکت امام اہلِ سنت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی کی ذات محتاجِ تعارف نہیں، آپ کی شخصیت سے کون واقف نہیں؟ آپ کی خدمات سے عرب و عجم اچھی طرح آگاہ و معترف ہیں، آپ فقید المثال شخصیت ہیں، ہر زاویے سے بے نظیر و بے مثال ہیں، پچھلی چار صدیوں سے اب تک زمانے نے آپ کی طرح نہ دیکھا۔ آپ نے جس میدان میں بھی قدم رکھا اسے اپنی انتہا تک پہنچانے کی کوشش کی، جس علم کی جانب توجہ کی اسے تقویت حاصل ہو گئی۔ علوم و فنون میں گہرائی اور گیرائی کا عالم یہ تھا کہ ہر علم کا ماہر آپ کی جانب ضرور رجوع کرتا۔ ان کی اہمیت و افادیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی کی وفات کو سو سال کا ایک طویل عرصہ گزر جانے کے بعد آج بھی امتِ مسلمہ ان کے فیوض سے مستفید ہو رہی ہے۔ آپ کی تصانیف سے دنیا آج بھی استفادہ فرما رہی ہے، آپ کی تصانیف سے آج بھی فرقہ ہائے باطلہ کا سدِ باب کیا جاتا ہے۔ امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی نے جس بھی فرقے کی تردید کا ارادہ کیا اسے بخوبی نبھایا اور اسے اس کے انجام تک پہنچایا۔ آپ نے پوری زندگی شریعتِ محمدیہ کی پیروی اور سنتِ نبوی کی ترویج و اشاعت میں بسر کی، یہی وجہ ہے دنیا میں ہر جانب آج بھی آپ کی خدمات کا چرچہ ہو رہا ہے۔

اسی وجہ سے مبلغِ اسلام علامہ عبد العلیم میرٹھی علیہ الرحمہ نے فرمایا تھا:

تمہاری شان میں جو کچھ کہوں اس سے سوا تم ہو
قسیمِ جامِ عرفاں اے شہِ احمد رضا تم ہو

قارئینِ کرام! امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی نے علومِ دینیہ کی ترویج و اشاعت کے ساتھ ساتھ اپنے زمانے میں مروجہ امور و بدعات اور خرافات کا بھی بھرپور رد کیا اور مسلمانوں کو ان سے بچنے کا حکم بھی دیا۔ اس سلسلے میں آپ نے بہت ساری کتابیں بھی تصنیف فرمائیں اور فتاویٰ بھی تحریر فرمائے۔ امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی نے دین کے شعبوں میں مختلف جہات پر کام کیا، انہی میں سے ایک ردِ بدعات و منکرات ہے۔

سجدۂ تعظیمی

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی کسی بھی پیر و مرشد کے لیے سجدۂ تعظیمی کے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: مسلمان اے مسلمان اے شریعتِ مصطفی کے تابعِ فرمان! یقین جان سجدہ اللہ رب العزت کے علاوہ کسی کے لیے نہیں ہے، اس کے غیر کو سجدۂ عبادت تو یقیناً اجماعاً شرکِ مہین و کفرِ مبین ہے اور سجدۂ تحیت (تعظیمی) حرام و گناہِ کبیرہ بالیقین ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، کتاب الحظر والاباحۃ، ج: 15، ص: 498، رسالہ: اَلزُّبْدَةُ الزَّكِيَّةُ تَحْرِيمُ سُجُودِ التَّحِيَّةِ]

ایک اور مقام پر مزید ارشاد فرمایا: غیرِ خدا کو سجدۂ عبادت شرک ہے، سجدۂ تعظیمی شرک نہیں مگر حرام ہے گناہِ کبیرہ ہے، متواتر حدیثیں اور متواتر نصوصِ فقہیہ سے اس کی حرمت ثابت ہے۔ ہم نے اپنے فتاویٰ میں اس کی حرمت پر چالیس حدیثیں روایت کیں اور نصوصِ فقہیہ کی گنتی نہیں۔

فتاویٰ عزیزیہ میں ہے کہ اس کی حرمت پر اجماعِ امت ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، کتاب الحظر والاباحۃ، ج: 15، ص: 491]

مزارات پر بلا ضرورت چادریں چڑھانا

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی فرماتے ہیں: جب مزار پر چادر موجود ہو اور وہ ابھی پرانی یا خراب نہ ہوئی ہو کہ بدلنے کی حاجت ہو تو بیکار چادر چڑھانا فضول ہے بلکہ جو دام (مال) اس میں صرف کرے، ولی اللہ کی روح کو ایصالِ ثواب کے لیے کسی محتاج کو دے دیں۔ [فتاویٰ رضویہ، باب الحج، ج: 7، ص: 460، رسالہ: أَنْوَارُ الْبِشَارَةِ فِي مَسَائِلِ الْحَجِّ وَالزِّيَارَةِ]

مزاراتِ اولیاء کا طواف

مزاراتِ اولیاء کا طواف کرنا یا انہیں بوسہ دینا بھی ممنوع ہے چاہے وہ تعظیم کی نیت سے ہو، امام اہلِ سنت امام احمد رضا اس کے بارے میں فرماتے ہیں: مزارات کا طواف جو محض بہ نیتِ تعظیم کیا جائے ناجائز ہے کہ تعظیم بالطواف محض بہ خانۂ کعبہ ہے، مزار کو بوسہ نہ دینا چاہیے، علما اس میں مختلف ہیں اور بہتر بچنا ہے اور اسی میں ادب زیادہ ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، کتاب الجنائز، باب احوال قربِ موت، ج: 7، ص: 33]

عورتوں کی مزارات پر حاضری

آج کل کچھ خانقاہوں پر مردوں سے زیادہ عورتوں کی بھیڑ دکھائی دیتی ہے، ان کو امام اہلِ سنت کا فرمان پڑھ لینا چاہیے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی سے اس سلسلہ میں حکمِ شرعی دریافت کیا گیا تو جواباً امام اہلِ سنت نے ارشاد فرمایا: کہ یہ نہ پوچھو کہ عورت کا مزارات پر جانا جائز ہے یا نہیں؟ بلکہ یہ پوچھو کہ اس عورت پر کس قدر لعنت ہوتی ہے اللہ رب العزت کی طرف سے؟ اور کس قدر صاحبِ قبر کی جانب سے؟ جس وقت وہ گھر سے ارادہ کرتی ہے لعنت شروع ہو جاتی ہے اور جب تک وہ واپس آتی ہے ملائکہ لعنت کرتے ہیں۔ [ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، حصہ دوم، ص: 107]

[ماہنامہ افکار، حصہ: 3، ص: 45/48]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!