| عنوان: | رافضی کون |
|---|---|
| تحریر: | ارشد رضا مدنی لکھنوی |
اسلامی تاریخ کا مطالعہ جہاں ہمیں فتوحات کی داستانیں سناتا ہے، وہاں عہدِ رسالت کے بعد پیدا ہونے والے مختلف فتنوں سے بھی روشناس کراتا ہے۔ انہی فتنوں میں ایک ابھرتا ہوا فتنہ رافضیت ہے، جس کو رفض یا رافضہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ گروہ حبِ اہلِ بیت کی آڑ میں جلیل القدر صحابہ کرام، بالخصوص خلفائے راشدین کا صراحتاً دشمن ہے؛ بلکہ یہ تو خلفائے راشدین کی خلافت کو “خلافتِ غاصبہ” کہتا ہے، اور ان کے معمولات میں صحابہ پر تبرا اور دیگر گستاخیاں شامل ہیں۔
لغوی اور اصطلاحی مفہوم
لغوی اعتبار سے رفض کے معنی “الترک” یعنی چھوڑنے کے ہیں۔ ہر وہ گروہ جس نے اپنے قائد کو چھوڑ دیا ہو، اسے رافضہ کہا جاتا ہے۔ عربی میں کہا جاتا ہے:
رَفَضَ يَرْفِضُ رَفْضًا
یعنی اس نے ترک کر دیا۔
اصطلاحی طور پر یہ لفظ مخصوص عقائد اور نظریات رکھنے والے اس گروہ پر بولا جاتا ہے جنہوں نے شیخین کریمین اور اکثر صحابہ کرام کی خلافت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، اور یہ دعویٰ کیا کہ خلافت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نص کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے ہے، اور ان کے علاوہ دوسروں کی خلافت باطل ہے۔ [الْقَامُوسُ الْمُحِيط، ص: 344]
نام پڑنے کی وجہ اور تاریخی پس منظر
در اصل یہ شیعہ کا ہی ایک گروہ ہے جس کو رافضی کہا جاتا ہے۔ اس نام کے پڑنے کی وجہ یہ ہے کہ جب اہلِ عراق نے حضرت امام زین العابدین کے صاحبزادے حضرت زید بن علی کی زبانِ فیض ترجمان سے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہما کی تعریف اور مدح سنی، تو کہنے لگے کہ یقیناً آپ ہمارے امام نہیں ہیں اور امام ہمارے ہاتھ سے گیا۔ ان کا مقصود تھا کہ آج کے دن سے ان سے ہمارا ہاتھ گیا۔
جس پر حضرت زید نے فرمایا کہ آج سے یہ لوگ “رافضی” بن گئے؛ یعنی ہمیں آج کے دن سے ان لوگوں نے چھوڑ دیا اور چلے گئے۔ بس اسی وقت سے اس جماعت کو رافضی کہا جانے لگا۔ [الْبِدَايَةُ وَالنِّهَايَة، ص: 178، النَّاشِر: دَار ابْن كَثِير، دِمَشْق، بَيْرُوت]
قرآنِ کریم کی روشنی میں رافضیت کا رد
اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَكِنْ لَا يَعْلَمُونَ [سورۃ البقرۃ: 13]
ترجمہ کنز الایمان: “سنتا ہے! وہی (صحابہ کو برا بھلا کہنے والے) احمق ہیں مگر جانتے نہیں”۔
اس آیتِ کریمہ کے تحت معلوم ہوا کہ صالحین کو بُرا کہنا اہلِ باطل کا قدیم طریقہ ہے؛ آج کل کے باطل فرقے بھی پچھلے بزرگوں کو بُرا کہتے ہیں، جیسے روافض خلفائے راشدین اور بہت سے صحابہ کو۔ [خزائن العرفان، حاشیہ کنز الایمان، ص: 7، مکتبۃ المدینہ]
احادیثِ کریمہ کی روشنی میں فتنۂ رافضیت
ان کے بد ترین عقائد کو سماعت کرنے سے پہلے ان کو چند احادیثِ کریمہ سے سمجھتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے کس بد ترین گروہ سے بچنے اور دور رہنے کی تاکید فرمائی ہے۔
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: “آخری زمانے میں ایک ایسی قوم ہوگی جن کو ‘رافضہ’ کہا جائے گا۔ جو کوئی انہیں پائے، وہ ان سے قتال کرے کیونکہ وہ مشرک ہیں”۔ [تَارِيخُ بَغْدَاد، ت: بَشَّار، الْخَطِيبُ الْبَغْدَادِيّ، ج: 3، ص: 135]
مولائے کائنات شیرِ خدا کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں: “آخری زمانہ میں ایک قوم آئے گی جسے رافضی کہا جائے گا، اسی نام سے ان کو پہچانا جائے گا، وہ ہمارے شیعہ ہونے کا دعویٰ کریں گے حالاں کہ وہ ہمارے شیعہ نہیں ہوں گے؛ ان کی نشانی یہ ہے کہ وہ ابوبکر و عمر کو گالیاں دیں گے، تم انہیں جہاں پاؤ قتل کر دو، بلاشبہ وہ مشرک ہیں”۔ [معالم التنزیل، الصارم المسلول، ص: 373]
فتنۂ رافضیت کے چند عقائد و نظریات
ابو عبد اللہ نقشبندی صاحب نے اپنی کتاب “شیعہ اسلام کی نظر میں” میں چند عقائدِ رافضیہ کو ذکر کیا ہے، ملاحظہ ہوں:
-
عقیدہ: اللہ تعالیٰ کبھی کبھی جھوٹ بھی بولتا ہے اور غلطی بھی کرتا ہے۔ [اصولِ کافی، ج: 1، ص: 328، محمد بن یعقوب بن اسحاق کلینی]
-
عقیدہ: خدا نے جبرائیل کو علی کی طرف بھیجا، وہ غلطی سے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف چلے گئے۔ [تذکرۃ الائمہ، ص: 72، مصنف: ملا باقر مجلسی]
-
عقیدہ: موجودہ قرآن تحریف شدہ ہے (یعنی اس میں تبدیلی کی گئی ہے)۔ [حیات القلوب، ج: 3، ص: 10، مصنف: مرزا بشارت حسین]
-
عقیدہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو قرآن جمع کیا گیا، وہ اصولاً غلط ہے۔ [ہزار تمہاری دس ہماری، ص: 560، مطبوعہ عبد الکریم مشتاق، کراچی]
-
عقیدہ: مرتبہ امامت مرتبہ پیغمبری سے بالا تر ہے۔ [حیات القلوب، ج: 3، ص: 2، مطبوعہ تہران، مصنف: ملا باقر مجلسی]
-
عقیدہ: تین صحابہ کے سوا سب کافر تھے۔ [حیات القلوب، ج: 2، ص: 923، مطبوعہ امامیہ کتب خانہ، لاہور]
-
عقیدہ: عمر کے کفر میں شک کرنا بھی کفر ہے۔ [جلاء العیون، ج: 1، ص: 63، مطبوعہ ایران]
-
عقیدہ: مولائے کائنات سے محبت میں غلو اس قدر اختیار کرنا کہ اپنا عقیدہ یہ بنا بیٹھنا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خلفائے ثلاثہ؛ بلکہ انبیائے کرام و رسلِ عظام سے بھی افضل ہیں۔ معاذ اللہ!
اور دوسری طرف صحابہ کرام کو گالیاں دینا، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان کو ظالم، ناصب؛ بلکہ منافق اور کافر تک قرار دینا شیعوں کا روزمرہ کا کام ہے؛ چند صحابہ کرام کے علاوہ تمام اصحابِ کرام کو مرتد بتانا ان کا گندا عقیدہ ہے۔
اکابرینِ اہلِ سنت کا مؤقف
امام اہلِ سنت سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
“جو رافضیوں میں رافضی اور سنیوں میں سنی بنتا ہے، تب تو ظاہر ہے کہ وہ رافضی بھی ہے اور منافق بھی”۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 6، ص: 528]
اہلِ سنت کا اجماع ہے کہ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ امام الاولیاء، مرجع العرفاء، امیر المومنین، مولی المسلمین، سیدنا مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ سے بھی اکرم و افضل و اتم و اکمل ہیں؛ جو اس کے خلاف کرے اسے بدعتی، شیعی، رافضی مانتے ہیں۔ [عرفانِ شریعت، ص: 87]
علامہ غلام رسول سعیدی صاحب لکھتے ہیں:
“جو شخص حضرت علی کو حضرت ابو بکر و عمر سے افضل کہے، وہ رافضی ہے”۔ [تذکرۃ المحدثین، ص: 282]
عہدِ حاضر میں فتنۂ خباثت بہت ہی عجلت کے ساتھ ہماری جماعت کے صاحبِ عزت لوگوں کے دلوں میں پیوست ہو رہا ہے۔ حال یہ ہے کہ بہت سے رافضی نظریات اور میلانات رکھنے والے بظاہر اہلِ سنت و جماعت کی صفوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ حبِ اہلِ بیت کا جھوٹا لبادہ اوڑھ کر جلیل القدر صحابہ کرام علیہم الرضوان پر سب و شتم کرتے ہیں، جن کی مثال کلابِ ہاویہ (جہنم کے کتوں) کی سی ہے۔
خاص کر بعض خانقاہی اور معروف شخصیتوں کا حال اس قدر عیاں ہے کہ وہ رافضیوں اور تبرائیوں کی مجالس، ان کے منبروں اور ماتمی جلوسوں میں شرکت کرتے ہیں، اور وہاں “اتحاد” اور “مصلحت” کا پیغام دینے کی کوشش کرتے ہیں؛ جب کہ شرعی اور اعتقادی طور پر سنی اور رافضی کسی بھی طرح ایک نہیں ہو سکتے۔ ان تبرائیوں کا اصل کام ہی صحابہ کرام اور خلفائے ثلاثہ (سیدنا ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم) پر سب و شتم کرنا اور بھولے بھالے لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنا ہے۔
اے میرے بھائی! مذکورہ احادیثِ طیبہ اور ان رافضیوں کے گندے عقائد سے آپ بخوبی سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ لوگ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وفادار صحابہ کے نہ ہوئے، تو آپ کے کیسے مخلص ہو سکتے ہیں؟ جب کہ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ سے صراحتاً ثابت ہے، اور اہلِ سنت کا متفقہ فیصلہ اور اجماعی عقیدہ ہے کہ: “ہر صحابیِ نبی جنتی ہیں”۔
لہٰذا، شرعِ متین کا حکم یہی ہے کہ ان رافضیوں کی محفلوں، مجلسوں اور پروگراموں میں ہر طرح سے شرکت کرنے سے مکمل پرہیز کرو اور اپنے ایمان کی حفاظت کرو۔
اللہ کریم ہم سب کو عقلِ سلیم اور دینِ متین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ آمین۔
