| عنوان: | وہابیت کا جھگڑا (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | صدر الافاضل مفتی محمد نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ |
| پیش کش: | سیدہ کلثوم امجدی |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
وہابیت سے جو ہندوستان میں ایک نزاع پھیلا ہے اور اس نے مسلمانوں کو اور ان کی نظم کو جس قدر نقصان پہنچایا ہے وہ بہت افسوس ناک ہے۔ ایک گھر میں دو بھائیوں میں جنگ ہے، باپ بیٹوں میں جنگ ہے، پڑوسی کی پڑوسی سے لڑائی ہے، اہل محلہ کی آپس میں مخالفت ہے۔ غرض کہ کوئی جگہ نہیں ہے جہاں وہابیت نے فتنہ انگیزی نہ کی ہو اور مسلمانوں کو گودوں میں، پہلوؤں میں، سروں پر ان کے دشمن نہ بٹھا دیے ہوں۔
یہ وبا سرزمین نجد سے اٹھی۔ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں حضور سید انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صدہا سال پہلے اس کی خبر دی تھی وہ آگ بھڑکی۔ وہ فتنہ پیدا ہوا، اور عبدالوہاب نجدی کے گھر سے نکل کر عرب کے بعض مقامات میں پہنچا۔ جہاں پہنچا وہیں سے رد کیا گیا۔ کسی سرزمین نے اسے قبول نہ کیا۔ حجاز میں اس کے قدم نہ جمے۔ عراق و یمن نے اس کو جگہ نہ دی۔ کوفہ بصرہ میں، مصر و شام میں، ترکی و ایران میں، غرض دنیا کے کسی مقام میں، کسی قلمرو اور کسی ولایت میں اس فتنہ کو دخل نہ ہوا۔ اور اس تلخ تخم کو کسی سرزمین نے قبول نہ کیا۔ نجد کے چھوٹے، خشک اور بے رونق خطہ کے چند خشک دماغ، درندہ صفت انسانوں کے دماغ میں وہابیت کا تخیل گھومتا رہا۔ مگر افسوس! کہ جو چیز دنیا کے ہر خطہ نے ٹھکرا دی تھی اس کو ہندوستان میں جگہ ملی۔ اس کا تخم دلی میں لگایا گیا۔ اور وہ جب کچھ پھوٹا تو اس کو دیوبند میں تربیت کیا گیا۔ وہاں وہ اس قدر بڑھا کہ اس کی شاخیں ہندوستان کے گوشہ گوشہ میں پھیل گئیں۔ اور ان سے اس ملک کی فضا مسموم ہو گئی۔ اور اس کے زہریلے اثر نے ملک کے بہت سے نونہالوں کو برباد کر دیا۔ اور فساد کی آگ لگا دی۔ زمانے گزر گئے مگر یہ فتنہ دفع نہ ہوا۔
ستم یہ ہے کہ وہابی فروع میں سنیوں کے قریب قریب بالکل موافق ہیں۔ اہل سنت کی سی نماز، اہل سنت کا سا روزہ، انہی کا سا حج و زکوۃ، غرض عبادات و معاملات کے تقریبا جملہ مسائل میں اسی رَوِش پر ہیں۔ وہی کتابیں ہیں جن پر اہل سنت کو اعتماد ہے اور اس سے وہ تمسک کرتے ہیں۔ ان سب کو وہابی مانتے ہیں۔ حنفیت کے مدعی ہیں لیکن بعض عقائد میں اور بعض مسائل میں ان کو ایسا تشدد ہے جس سے یہ عظیم الشان اختلاف پیدا ہو گیا اور ان عقائد کے ہوتے ہوئے کوئی صورت نہیں کہ وہابیہ کو اہل سنت مسلمان مانیں اور ان کی امامت جائز سمجھیں۔
وہ کیا عقائد ہیں جنہوں نے وہابیہ کو اہل سنت سے جدا کیا؟
یہ بات اور زیادہ قابل افسوس ہے کہ جن عقائد کی بنا پر وہابی مسلمانوں سے جدا ہوئے اور جنگ کا محاذ قائم کیا وہ عقائد ان کے نقطۂ خیال سے بھی ضروری نہیں ہیں مگر باوجود اس کے وہ ان عقائد سے باز نہیں آتے، اور انہیں ان تمام خانہ جنگیوں کی جو اس فتنہ سے پیدا ہو گئی ہیں کوئی پروا نہیں۔ وہ اپنی ضد کے پکے اور ہٹ کے پورے ہیں۔ دنیا تباہ ہو جائے، سر پھوٹ جائیں، امن و عافیت برباد ہو، غیر قومیں جری ہو جائیں، یہ سب کچھ گوارا ہے۔ مگر ان غیر ضروری امور کا اور ان صریح باطل اعتقادات کا ترک کرنا گوارا نہیں۔ وہابیوں کے لیے ان کے دین اور اعتقاد کی رو سے کیا یہ ضروری ہے کہ وہ حضرت رب العزت تبارک و تعالی کے لیے کذب جیسے قبیح امر کا امکان ثابت کریں؟ اگر وہابی ایسا نہ کریں، اس کے در پے نہ ہوں تو کیا وہ اپنے اعتقاد میں کافر ہو جائیں گے؟ ایمان سے خارج ہو جائیں گے؟ اس مسئلہ کے اعتقاد اور اس کے پھیلانے کی انہیں کیا حاجت ہے؟ وہ کیا مجبور ہیں؟ کیا قرآن پاک نے اس کی تعلیم دی ہے؟ یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے؟ یا ائمہ دین نے مومن ہونے کے لیے ایسا اعتقاد ضروری بتایا ہے؟
کیا وجہ ہے کہ ایک نئی بات نکال کر دنیا میں فساد پھیلائیں، طرح طرح کے الزام اٹھائیں، دنیا کی نظر میں ذلیل و رسوا ہوں مگر اس سے باز نہیں آتے۔ اسی طرح حضور سید انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نامناسب الفاظ کہنا جیسا کہ براہین قاطعہ میں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کی نسبت یہ کلمے لکھے کہ:
“شیطان و ملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی فخر عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی وسعت علم کی کون سی نص قطعی ہے جس سے تمام نصوص کو رد کر کے ایک شرک ثابت کرنا ہے”
شیطان و ملک الموت کے لیے وسعت علم تسلیم کریں، نصوص سے ثابت مانیں اور حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس کا انکار اور اس کا ثابت کرنا شرک شمار کریں۔ عجیب بات ہے۔ ایک ہی چیز ہے شیطان کے لیے ثابت ہو تو شرک نہ ہو۔ حضور سید انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ثابت ہو تو شرک ہو جائے۔ اس قول کی شناعت اور اس پر حکم شرعی عرب و عجم کے فتووں میں ظاہر کیا جا چکا، اور اس قول کی قباحت بارہا بتا دی گئی اور ہر ادنی عقل والا اس کو نہایت ذلیل سمجھتا ہے کہ ایک قوم حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے لیے وسعت علم ثابت کرنے کو شرک بتائے اور اسی کو شیطان کے لیے ثابت مانے تو گویا اس کے نزدیک شیطان خدا کا شریک ہو سکتا ہے کیوں کہ جو چیز کسی ایک مخلوق کے لیے ماننا شرک ہو وہ جس کسی مخلوق کے لیے ثابت مانی جائے گی شرک ہی ہوگی۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ یہ سجدہ عبادت بت کے لیے تو شرک ہو، مگر وہابیوں کے کسی بڑے سے مولوی کو کر لیا جائے تو شرک نہ ہو۔ پھر جس چیز کو شرک کہنا اسی کو نص سے ثابت بتانا کیسا قبیح اور باطل ہے۔ یہ بحث ایک جداگانہ ہے۔ ہمیں تو صرف یہ کہنا ہے کہ وہابی کیا اپنے دین اور عقیدے کی رو سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں یہ اعتقاد رکھنے اور یہ کلمے کہنے پر مجبور ہیں؟ اگر وہ ایسا نہ کہیں تو کیا اپنے نزدیک ایمان سے خارج ہو جائیں گے؟ اگر ان کلموں کا اعتقاد مومن ہونے کے لیے ضروری تھا تو قرآن پاک میں اس کی تعلیم کیوں نہیں ہوئی؟ حدیث شریف میں یہ سبق کیوں نہیں دیا گیا؟
تمام صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین بزعم وہابیہ اس ضروری اعتقاد سے خالی ہی گئے۔ اس لیے ماننا پڑے گا کہ یہ اعتقاد بدعت ہے۔ نیا اختراع ہے۔ سلف صالح کے یہاں نہ اس کا ذکر ہوا نہ قرآن و حدیث میں اس کا کہیں پتہ۔ پھر اپنی ایک ٹکڑی الگ بنانے کے لیے ایسے اعتقاد پر کیوں اصرار کیا جاتا ہے اور مسلمانوں سے کیوں جھگڑا مول لیا جاتا ہے اور تمام مسلمانوں کے دلوں کو کیوں دُکھایا جاتا ہے؟ کیا وہابی بغیر اس اعتقاد کے اپنے خیال میں مومن نہیں رہ سکتے؟ کیوں یہ نفسانیتیں ہیں؟ یا اسی طرح سے حفظ الایمان میں مولوی اشرف علی کا حبیب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں یہ لکھنا:
“کہ آپ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ مراد اس سے بعض غیب ہے یا کل غیب اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو حضور کی کیا تخصیص ہے ایسا علم غیب تو ہر زید عمرو بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لیے بھی حاصل ہے”
یہ ناقص کلمات شان اقدس میں کیسی کھلی توہین ہیں کہ پیشوایان وہابیہ اپنے اور اپنے بزرگوں کے حق میں بھی ان کا کہنا گوارا نہ کریں گے اور گالی سمجھیں گے اور دنیا کا کوئی عزت دار آدمی بھی کسی فرقے اور ملت اور کسی خیال کا بھی ایسے کلموں کا سننا گوارا نہ کرے گا مگر شان اقدس میں یہ کلمے لکھے جائیں اور اس پر اصرار ہو اس کا کیا سبب ہے؟ کیا یہ کوئی تعلیم خداوندی ہے جسے کوئی چھوڑ ہی نہیں سکتا؟ یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا اعتقاد رکھنے کا حکم دیا ہے یا صحابہ و تابعین و ائمہ مجتہدین اس کی تاکید کر گئے ہیں، کیا باعث ہے؟ کہ ایسے کلموں سے احتیاط نہیں کی جاتی، احتراز نہیں کیا جاتا، دنیائے اسلام کا دل دکھایا جاتا ہے۔ جہان میں فساد برپا کیا جاتا ہے مگر ایک ضد ہے کہ اس سے باز نہیں آتے۔ اسی قسم کی اور توہینیں اور بے ادبی کے کلمات زبان پر لانا، کتابوں میں لکھنا، ان پر اڑنا، کتابیں چھاپنا، مناظروں کی مجلسیں کرنا، فساد انگیزیاں کرنا، مقدمہ بازیوں میں روپیہ ضائع کرنا، اہل اسلام کی جماعت کو ضعف پہنچانا اور جس حال میں کہ تمام دنیا اپنی ترقی کی فکروں میں ہے مسلمانوں کو خانہ جنگی کی مصیبت میں مبتلا کرنا کسی مصلحت سے ہے، کس فائدہ کے لیے ہے، کیا دانائی ہے؟
اسی طرح بعض فرعی مسائل پر جھگڑ بیٹھنا اور اپنا ایک فرقہ اور ٹکڑی الگ بنا کر مسلمانوں سے برسر پیکار ہو جانا کیا معنی رکھتا ہے؟ اگر کسی شخص نے میلاد مبارک کی محفل کی، حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ اور مقدس زندگی کے احوال کریمہ اور معجزات باہرہ بیان کیے، مجلس شاندار طور پر ترتیب دی، اور باوقار طریق پر ذکر کیا، بیان ولادت مبارکہ کے وقت شان حبیب کے اظہار عظمت کے لیے تعظیمی قیام کیا تو کیا برا ماننے کی بات ہے؟ شریعت نے اس کو کون سی محرمات میں سے بتایا ہے؟ کہاں کبائر میں سے شمار کیا ہے جس پر اس شد و مد کے ساتھ جنگ ہے، ناراضی ہے، کتابیں چھاپی جاتی ہیں، اس کی توہین میں نظمیں لکھی جاتی ہیں، رسالے لکھے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کو مشرک اور بے ایمان بتایا جاتا ہے، جو مخالفت وہابی صاحبان کبھی تھیٹر اور سینما کے لیے نہیں کرتے، حرام کاریوں اور بد افعالیوں کے لیے نہیں کرتے، وہ کوشش محفل مبارک کو روکنے کے لیے کی جاتی ہے۔ اس کا کیا باعث ہے؟ آپ مدرسے بنائیں، اس میں جماعتیں ترتیب دیں، ہر جماعت کے لیے ایک نصاب اور خاص ایک پڑھانے والا مقرر کریں، اسباق کے لیے اوقات کی تعین ہو، تعطیلوں کے ایام معین ہوں، ان پر التزام ہو، امتحان کے لیے مہینہ مقرر ہو، امتحان کے لیے پرچے بنائے جائیں، نمبر دیے جائیں، بعض کتابوں کا تقریری امتحان لیا جائے، ممتحن بلائے جائیں، ان کے لیے تکلفات کیے جائیں، بعد امتحان تعطیل کی جائے، سالانہ جلسے تاریخ کے تعین و تداعی کے ساتھ کیے جائیں، ان کے لیے اشتہارات چھاپے جائیں، طالب علموں کی ایک نصاب معینہ ختم کر لینے پر دستار بندیاں کی جائیں، دستاروں کے لیے ایک رنگ خاص مقرر کر لیا جائے، مدرسہ کا نام دستار پر لکھوایا جائے۔ یہ تمام چیزیں زمانۂ اقدس میں کب تھیں؟ زمانۂ صحابہ میں اس کا کہاں وجود تھا؟ زمانۂ تابعین و تبع تابعین میں کب پائی گئیں؟
ان سب پر التزام ہے، پابندی ہے، ثواب جانتے ہیں، داخل عبادت سمجھتے ہیں، یہ بدعت کیوں نہیں؟ اس کی مخالفت کیوں نہیں کی جاتی؟
