Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اعلیٰ حضرت: کرامات و حالات (قسط: اول)|طارق انور مصباحی

اعلیٰ حضرت: کرامات و حالات (قسط: اول)
عنوان: اعلیٰ حضرت: کرامات و حالات (قسط: اول)
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: مہ جبین
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی (1878ء - 1948ء) نے تحریر فرمایا: نبی کے دعوائے نبوت میں سچے ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ نبی اپنے صدق کا علانیہ دعویٰ فرما کر محالاتِ عادیہ کے ظاہر کرنے کا ذمہ لیتا اور منکروں کو اس کے مثل کی طرف بلاتا ہے۔ اللہ عزوجل اس کے دعویٰ کے مطابق امرِ محالِ عادی ظاہر فرما دیتا ہے اور منکرین سب عاجز رہتے ہیں۔ اس کو معجزہ کہتے ہیں جیسے: حضرت صالح علیہ السلام کی ناقہ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا کا سانپ ہو جانا اور یدِ بیضا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مردوں کو جلانا اور مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کر دینا اور ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزے تو بہت ہیں۔

جو شخص نبی نہ ہو، وہ نبوت کا دعویٰ کر کے کوئی محالِ عادی اپنے دعویٰ کے مطابق ظاہر نہیں کر سکتا، ورنہ سچے جھوٹے میں فرق نہ رہے گا۔

نبی سے جو بات خلافِ عادت قبلِ نبوت ظاہر ہو، اس کو ارہاص کہتے ہیں اور ولی سے جو ایسی بات صادر ہو اس کو کرامت کہتے ہیں اور عام مومنین سے جو صادر ہو، اسے معونت کہتے ہیں اور بے باک فجار یا کفار سے جو ان کے موافق ظاہر ہو اس کو استدراج کہتے ہیں اور ان کے خلاف ظاہر ہو تو اہانت ہے۔ [بہار شریعت، حصہ اول، ص: 12]

مجددِ اسلام اور باطنی درجات

  1. مجدد الف ثانی حضرت شیخ احمد سرہندی (971ھ - 1033ھ) نے رقم فرمایا:

    مُجَدِّد آنست كِه هَر چِه دَر آں مُدَّت اَز فُيُوض بَاُمَّتَان بِرَسَد، بِتَوَسُّطِ او بِرَسَد، اَگَر چِه أَقْطَاب وَأَوْتَاد دَر آں وَقْت بُودَنْد وَبُدَلَاء وَنُجَبَاء بَاشَنْد. [مکتوبات، ج: 2، ص: 4]

    ترجمہ: مجدد وہ ہوتا ہے کہ اس مدت میں جو فیوض و برکات امت کو پہنچتے ہیں، اسی کے وسیلہ سے پہنچتے ہیں، اگرچہ اس وقت میں اقطاب و اوتاد ہوں اور بدلاء و نجباء ہوں۔

  2. حضور محدث اعظم ہند علامہ سید محمد کچھوچھوی علیہ الرحمہ والرضوان (1894ء - 1961ء) نے بیان کیا کہ حضور شیخ المشائخ اشرفی میاں قدس سرہ العزیز (م: 1961ء) نے امام اہلِ سنت قدس سرہ العزیز کے وصال کے وقت فرمایا: “بیٹا! فرشتوں کے کاندھے پر قطب الارشاد کا جنازہ دیکھ کر رو پڑا ہوں”۔ [المیزان (ممبئی)، مجدد اعظم نمبر، ص: 259]

ملک العلماء حضرت علامہ ظفر الدین محدث بہاری (1880ء - 1962ء) نے امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری قدس سرہ العزیز (1854ء - 1921ء) کی ایک سو چھتیس کرامتوں کو حیات اعلیٰ حضرت (جلد سوم: ص 145 تا 267، امام احمد رضا اکیڈمی بریلی) میں تحریر فرمایا ہے۔ ان میں سے چند کرامتیں اس مختصر رسالہ میں نقل کی گئی ہیں۔ زبان و بیان میں تسہیل کی گئی ہے، تاکہ عوام الناس کو سمجھنے میں دشواری اور مشقت نہ ہو۔

اعلیٰ حضرت اور قطبیت

عبدالرحیم خان سلطان پوری کا بیان ہے کہ نواب ضمیر احمد صاحب کے یہاں ایک بوڑھے مرد میرے ساتھ ملازم تھے۔ وہ بیان کرتے تھے کہ بریلی کے ایک رمال تھے، وہ پیلی بھیت اکثر جایا کرتے تھے۔ پیلی بھیت کے جنگل میں ایک فقیر رہتے تھے۔ میں ان کی تلاش میں رہا کرتا تھا۔ اتفاقاً ایک دن ان سے ملاقات ہو گئی۔ بہت بوڑھے آدمی تھے۔ پپوٹے آنکھوں پر لگی ہوئی تھیں۔ میں نے سلام کیا۔ انہوں نے جواب دیا اور فرمایا: بچہ! یہاں کہاں آ گیا۔ بھاگ بھاگ یہ شیروں کا جنگل ہے۔ میں بیٹھ گیا۔ دیکھتا ہوں کہ پیچھے سے ایک شیر آ رہا ہے۔ میں نے کہا: حضرت بچائیے، شیر آ رہا ہے۔ بزرگ نے شیر کی طرف دیکھا۔ شیر وہیں کھڑا رہ گیا اور بزرگ نے مجھ سے فرمایا: تو یہاں سے چلا جا۔ تیرا حصہ یہاں نہیں ہے، پھر میں نے کہا: میرا حصہ کہاں ہے؟ میری دلی تمنا ہے کہ حضور ہی سے بیعت ہوں۔ انہوں نے فرمایا: بریلی محلہ سوداگران میں ایک قطب مولوی ہے۔ تیرا حصہ وہاں ہے۔ میں نے نام پوچھا: انہوں نے اعلیٰ حضرت کا نام لیا اور مجھے اپنے ساتھ جنگل کے باہر لا کر واپس چلے گئے۔ اس کے بعد میں بریلی آیا اور اعلیٰ حضرت امام اہلِ سنت سے مرید ہوا۔ [حیات اعلیٰ حضرت، ج: 3، ص: 150]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!