Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

سلطانِ کونین مصطفیٰ کا ورود مسعود (قسط: دوم)|سید محمد نعیم الدین مراد آبادی

سلطانِ کونین مصطفیٰ کا ورود مسعود (قسط: دوم)
عنوان: سلطانِ کونین مصطفیٰ کا ورود مسعود (قسط: دوم)
تحریر: صدر الافاضل مفتی محمد نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ
پیش کش: محمد احسان مصطفیٰ
منجانب: جامعۃ المدینہ فیضان عطار، ناگپور

ولادت مبارکہ

اب ولادتِ باسعادت کا زمانہ قریب آیا۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اعزہ و اقارب کو جو اس بادشاہِ عرش پایہ کی خدمت کا شرف پانے والے تھے، اور دوسروں اور اعیان و اشراف، علماء و احبار، امرا و سلاطین کو خواب ہونا شروع ہوئے جن میں اس مہرِ انور کے طلوع کی خبریں دی گئیں۔ رہبان و احبار نے شبِ ولادت کی اطلاعات دیں اور بتایا کہ آج ہی کی شب، شبِ ولادت ہوگی۔ علمائے یہود نے وہ ستارہ پہچانا جو اممِ سابقہ کو اس سلطانِ ذی شان کے ظہور کی علامت بتایا گیا تھا۔ مکہ مکرمہ میں اہل کتاب کی جماعتیں کی جماعتیں رات بھر اس جستجو میں ہر گلی کوچہ کا چکر لگاتی رہیں تاکہ معلوم کریں کہ محبوبِ حق کس سعادت مند کے گھر کو اپنے عالم افروز جلوے سے منور اور کس خطۂ خاک و حصۂ زمین کو اپنے قدمِ ناز سے بہرہ ور فرماتا ہے۔ آسمانی اور غیبی انوار نے آفاق کو بھر دیا، فرشِ زمین عرشِ بریں کی روشنیوں سے جگمگانے لگا، آسمانی دلربا شیدائے زمین ہوئے، فلک کے نور پیکر انجم و اختر اس قدر قریب ہوئے جس سے دیکھنے والوں کو خیال ہوا کہ گر ہی پڑیں گے۔ کارکنانِ عالمِ غیب نے تین عَلم نصب کیے: ایک کعبہ معظمہ پر، ایک مشرق میں، ایک مغرب میں تاکہ معلوم ہو کہ ختمِ رسالت کے تاجدار کی حکومت کعبہ معظمہ شریف سے ظاہر ہو کر تمام عالم میں پہنچے گی اور مشرق و مغرب میں انہیں کا سکہ رائج، انہیں کا علم بلند رہے گا۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ کی خدمت کے لیے جنتی بیبیاں آئیں۔ جن کے چہرے چاند سے زیادہ چمکتے تھے، وہ مصروفِ خدمت ہوئیں اور انہوں نے بہشتی شربت پیش کیا اور عرض کرنے لگیں: بسم اللہ! تشریف لائیے اے سرورِ انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم۔

حضرت عبدالمطلب کو آثار و قرائن سے بھی معلوم تھا، کاہنوں نے بھی خبریں دی تھیں، خوابوں سے بھی پتہ چلا تھا کہ آج کی رات بخت کی بیداری اور طالع کی ارجمندی کی رات ہے۔ وہ امیدوں کا ہجوم لے کر بیت اللہ شریف میں حاضر ہوئے اور کعبہ معظمہ کے طواف میں مشغول ہو گئے۔ نور بھری رات کی خیر و برکت والی ساعتیں محبوب کی آمد پر قربان ہوتی چلی گئیں۔ صبح صادق کا سہانا اور دل لبھانے والا وقت آیا، خوش الحان طیور نے غایت سرور سے نغمہ سنجی شروع کی، عطر بیز خوشبوؤں نے دماغ معطر کیے، کعبہ معظمہ کے در و دیوار جنبش میں آئے، بت اوندھے منہ گرے، شیاطین کے تخت الٹ گئے۔

ضلالت کی شبِ دیجور کا پردہ چاک ہوا۔ صدق و صفا کی صبح صادق نے جلوہ کیا، حق و ہدایت کے آفتابِ عالم تاب نے بے نظیر جاہ و جلال، بے مثل حسن و جمال کے ساتھ اپنی طلعت مبارکہ سے حجاب اٹھایا۔ طیب، طاہر، زکی و نظیف، عالم کے سلطان، خدا کے محبوب، ہمارے آقا سرورِ انبیاء محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحنِ عالم میں قدم رکھا۔

وُلِدَ الْحَبِيبُ وَمِثْلُهُ لَا يُولَدُ
وُلِدَ الْحَبِيبُ مُطَيَّبًا وَمُكَحَّلًا

وُلِدَ الْحَبِيبُ وَخَدُّهُ يَتَوَرَّدُ
فَالنُّورُ مِنْ وَجَنَاتِهِ يَتَوَقَّدُ

نخلِ قدس کہ از چمنِ جاں برآمدہ!
شاخِ گلے بصورتِ انساں برآمدہ

صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّاتِهِ وَبَارَكَ وَسَلَّمَ۔

مکہ مکرمہ کا ذرہ ذرہ معدنِ انوار بن گیا، کعبہ شریف کے در و بام ایوانِ تجلی نظر آنے لگے۔

حضرت عبدالمطلب کو خبر دی گئی، سنتے ہی سجدے میں گر گئے، پھر آ کر روئے منور کی زیارت کی، تمناؤں کے ساتھ گود میں لیا اور کعبہ مقدس میں لے جا کر دعا کی۔ سیدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں آتے ہی سجدہ کیا اور انگشتِ شہادت آسمان کی طرف بلند کی، نظرِ انور جانبِ سما اٹھائی، زبانِ معجز بیان سے:

اَللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا.

فرمایا۔

دولت سرائے اقدس کا گوشہ گوشہ نور سے بھر گیا، اس وقت بھی ایسا نور ساطع ہوا کہ والدہ ماجدہ نے مشرق و مغرب کا معائنہ فرمایا اور بصرہ و شام کے محل و بازار ان کے سامنے ظاہر ہوئے۔ آپ کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ اپنے قصیدہ میں فرماتے ہیں:

وَأَنْتَ لَمَّا وُلِدْتَ أَشْرَقَتِ الْأَرْضُ
وَضَاءَتْ بِنُورِكَ الْأُفُقُ

وَنَحْنُ فِي ذَلِكَ الضِّيَاءِ وَفِي النُّورِ
وَفِي سُبُلِ الرَّشَادِ نَسْتَبِقُ

حضرت عبدالمطلب فرماتے ہیں کہ میں نے کعبہ مقدسہ میں دیکھا کہ حضور کی ولادت کے وقت بت سجدے میں گر گئے اور کعبہ کی دیواروں سے یہ آوازیں آنے لگیں:

وُلِدَ الْمُصْطَفَى الْمُخْتَارُ
الَّذِي تُهْلَكُ بِيَدِهِ الْكُفَّارُ

وَيُطَهِّرُ مِنْ عِبَادَةِ الْأَصْنَامِ
وَيَأْمُرُ بِعِبَادَةِ الْمَلِكِ الْعَلَّامِ

کعبہ معظمہ آپ کی ولادت شریف سے تین روز تک جنبش میں رہا۔ نوشیرواں کے مکان میں زلزلہ آیا اور ایک آوازِ وحشت ناک پیدا ہوئی اور چودہ کنگرے گر گئے۔

آتش خانۂ فارس کی ہزار سالہ آگ ایک دم بجھ گئی، دریائے ساوہ کا پانی خشک ہو گیا اور بہت عجائب و غرائب ظہور میں آئے:

لِمَوْلِدِهِ إِيوَانُ كِسْرَى تَشَقَّقَتْ
مَبَانِيهِ وَالْخَطْبُ عَلَيْهِ شُؤُونُهُ

لِمَوْلِدِهِ خَرَّتْ عَرَاشِرُ فَاتِهِ
فَلَا شَرَفٌ لِلْفُرْسِ يَبْقَى حَصِينُهُ

لِمَوْلِدِهِ نِيرَانُ فَارِسَ أُخْمِدَتْ
فَنَارُهُمْ إِخْمَادُهُ كَانَ حِينُهُ

لِمَوْلِدِهِ غَاضَتْ بُحَيْرَةُ سَاوَةٍ
كَأَنْ لَمْ تَكُنْ بِالْأَمْسِ يَا لِلْمَنَاهِلِ

وَأَعْقَبَ ذَلِكَ الْمَوْجُ رَهْزَتَهُ
وَوَرَدَ الْعَيْنُ الْمُسْتَهَارُ الْمَعِينَةُ [مقالات نعیمی، ص: 41]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!