| عنوان: | اعلیٰ حضرت: کرامات و حالات (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | مہ جبین |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
اعلیٰ حضرت اور کشفِ غیوب
-
ایک مرتبہ امروہہ سے حافظ محمد شفیع صاحب، محمد ابراہیم خاں صاحب اور رفیق احمد صاحب درخشاں اعلیٰ حضرت کی خدمت میں بریلی حاضر ہوئے۔ بی بی جی مسجد میں جلسہ تھا۔ محمد ابراہیم خان صاحب، رفیق احمد صاحب اور محمد شفیع کے والد حافظ کرامت اللہ صاحب نعت خواں تھے۔ اس جلسے میں ان حضرات نے نعتِ پاک سنائیں۔ حافظ کرامت اللہ صاحب امروہہ کے منتخب نعت خواں اور شب بیدار عابد و زاہد تھے۔ جلسہ سے فارغ ہو کر یہ اعلیٰ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس وقت نعت خوانی کا تذکرہ تھا۔ اس سلسلے میں ارشاد فرمایا: حافظ صاحب کی طہارت میں نقصان ہے۔ انہیں کامل طہارت کرنی چاہیے۔ حافظ صاحب سے بتایا گیا کہ اعلیٰ حضرت نے ایسا فرمایا تو حافظ صاحب غور و فکر کے بعد بولے: بالکل سچ فرمایا۔ میں استنجا صرف ڈھیلے سے کرتا ہوں، پانی نہیں لیتا۔ [حیات اعلیٰ حضرت، ج: 3، ص: 264، امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف]
-
جناب علی محمد خاں صاحب کے بھانجے کا بیان ہے کہ میری عمر اس وقت ستر یا اکہتر سال ہے۔ بچپن میں تقریباً بارہ سال تک بریلی شریف میں رہا۔ بعد میں پردیس میں رہنے لگا۔ کبھی کبھی بریلی آتا۔ ایک دفعہ میں بریلی آیا ہوا تھا۔ مولانا حامد رضا خاں خلفِ اکبر امامِ اہلِ سنت نے فرمایا: اعلیٰ حضرت نے مجھے تلاش کرنے کے لیے آدمی بھیجا۔ وہ آدمی محلے میں مجھے تلاش کر واپس آیا۔ میں انہیں نہیں ملا۔ اعلیٰ حضرت نے فرمایا: فلاں مکان میں جاؤ۔ لوگ وہاں شطرنج کھیل رہے ہیں۔ وہ وہیں ہے۔ یہ مکان میری خالہ کا تھا۔ وہ لوگ جب گاؤں سے چلے جاتے تھے تو مکان خالی رہتا تھا۔ وہ آدمی آیا اور مکان کو بند دیکھ کر آواز دینے لگا۔ میں مکان سے باہر آیا اور پوچھا تم کو کیسے معلوم ہوا کہ میں یہاں ہوں؟ اس نے کہا: میں نے تمام محلہ میں تمہیں تلاش کیا۔ تم نہ ملے تو میں نے اعلیٰ حضرت سے عرض کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ وہ فلاں مکان میں شطرنج کھیل رہا ہے، پس میں یہاں آیا۔ [حیات اعلیٰ حضرت، ج: 3، ص: 182، امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف]
-
حضرت مولانا وصی احمد محدث سورتی (م: 1916ء) “التَّعْلِيقُ الْمُجَلَّى شَرْحُ مُنْيَةِ الْمُصَلِّي” تحریر فرما رہے تھے۔ ایک دن بہت سے اوراق آپ کی چوکی پر سے غائب ہو گئے۔ بہت تلاش کیا گیا، مگر وہ اوراق دستیاب نہ ہو سکے۔ اعلیٰ حضرت سے یہ واقعہ بیان کیا گیا۔ آپ نے فرمایا: وہ ضائع نہیں ہوئے، بلکہ احتیاط سے رکھے ہوئے ہیں۔ اعلیٰ حضرت نے محدث سورتی سے فرمایا: آپ کی مسجد میں جنوں کی ایک جماعت رہتی ہے۔ ان میں ایک صاحب علومِ اسلامیہ سے واقف ہیں اور آپ کے درسِ حدیث میں شامل ہوتے ہیں۔ وہ پڑھنے کے لیے ان کاغذات کو لے گئے تھے، مگر واپس رکھنا بھول گئے۔ آپ مسجد میں تلاش کیجیے۔ چنانچہ مسجد میں تلاش کیا گیا تو وہ اوراق ایک اونچے طاق پر حفاظت سے رکھے ہوئے مل گئے۔ [حیات اعلیٰ حضرت، ج: 3، ص: 250، امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف]
-
پیلی بھیت کی ایک سیدانی صاحبہ نے اعلیٰ حضرت کی خدمت میں عرض کیا کہ ایک سال پہلے میں نے کچھ روپے اور اشرفیاں اپنے کمرہ کے ایک کونے میں دفن کر دیا تھا، مگر اب وہاں وہ نہیں ہیں۔ لڑکی کی شادی قریب ہے اور اسی مقصد سے ہم نے اسے وہاں رکھا تھا۔ اعلیٰ حضرت نے فرمایا: اب وہ اس جگہ نہیں ہیں، بلکہ وہاں سے ہٹ کر کوٹھری میں فلاں جگہ پہنچ گئے ہیں۔ اس جگہ تلاش کیا گیا تو سب کے سب مل گئے۔ اعلیٰ حضرت نے فرمایا: بغیر بِسْمِ اللَّهِ کہے اگر روپیہ دفن کیا جائے تو وہ اپنی جگہ قائم نہیں رہتا ہے۔ [حیات اعلیٰ حضرت، ج: 3، ص: 250، امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف]
-
جناب سید ایوب علی صاحب کا بیان ہے کہ ایک آدمی نے خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا: میری بیوی کا انتقال ہو گیا ہے۔ گھر میں میت پڑی ہوئی ہے۔ کفن و دفن کے لیے میرے پاس ایک پیسہ نہیں۔ حضور میری مدد فرمائیں۔ اعلیٰ حضرت اس کے فریب کو سمجھ جاتے ہیں، مگر ان کو ذلیل کر کے نہیں نکالتے، بلکہ کچھ رقم دے کر ذکاء اللہ خاں صاحب رضوی کو فرماتے ہیں: آپ ان کے ساتھ چلے جائیے اور کفن وغیرہ کا سامان کر دیجیے۔
خان صاحب موصوف اعلیٰ حضرت کے فرمان کے مطابق ان کے ساتھ جاتے ہیں اور تھوڑی دیر میں واپس آ کر جو رقم ساتھ لے گئے تھے، واپس کرتے ہیں اور عرض کرتے ہیں کہ اس آدمی نے کچھ دور جا کر مجھ سے کہا: بھائی میت وغیرہ کچھ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میرے پاس جو پیسے تھے، وہ میں جوئے میں ہار آیا ہوں۔ مجھے دواؤں کے لیے روپیوں کی ضرورت ہے۔ جو رقم آپ لائے ہیں، آدھی آپ لے لیجیے اور آدھی مجھے دے دیجیے۔ [حیات اعلیٰ حضرت، ج: 3، ص: 238، امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف]
-
حافظ یقین الدین صاحب کا بیان ہے کہ میرے بڑے بھائی حاجی محمد حسین الدین صاحب سفر سے تشریف لائے۔ ایک دن والد ماجد سے کہا کہ مجھے اعلیٰ حضرت سے بہت سی باتیں دریافت کرنی ہیں اور اعلیٰ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اعلیٰ حضرت نے سوال سے پہلے ہی سب کا جواب بتا دیا۔ مکان آ کر والد صاحب سے تعجب سے کہنے لگے۔ میں نے تو اعلیٰ حضرت سے ایک بھی سوال نہ کیا، مگر آپ نے سب سوالوں کے جواب خود سے بتا دیے۔ اس کے بعد آپ اعلیٰ حضرت سے مرید ہو گئے۔ [حیات اعلیٰ حضرت، ج: 3، ص: 236، امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف]
-
ایک صاحب کی بیوی کو رات کو دردِ زہ شروع ہوا۔ ابھی عشا کی نماز نہیں ہوئی تھی۔ وہ صاحب پھاٹک میں آ کر بیٹھ گئے اور انتظار کرنے لگے کہ جب اذان ہوگی، اعلیٰ حضرت باہر تشریف لائیں گے۔ اس وقت میں عرض کروں گا۔ اعلیٰ حضرت کی عادت تھی کہ اذان ہونے کے بعد صلوٰۃ ہونے پر مسجد میں تشریف لاتے لیکن اس وقت خلافِ معمول اذان سے پہلے تشریف لائے اور اس صاحب کو تعویذ دے کر فرمایا: فوراً جا کر یہ تعویذ ران میں باندھ دیجیے، پھر آپ اندر تشریف لے گئے اور اذان و صلوٰۃ کے بعد حسبِ دستور نماز کے لیے تشریف لائے۔ [حیات اعلیٰ حضرت، ج: 3، ص: 148، امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی]
-
مولانا عرفان علی ہیسل پوری کا بیان ہے کہ جب اعلیٰ حضرت دوسری مرتبہ ہیسل پور تشریف لے گئے تو میں نے ایک بزرگ کے مزار کی جانب ان کی توجہ دلائی۔ ان کے حالات سے اہلِ قصبہ واقف نہ تھے۔ اعلیٰ حضرت بعد نمازِ عصر مزار شریف کی زیارت کو تشریف لے گئے۔ کچھ دیر تک تنہا مزار شریف کے حجرہ میں ٹھہرے رہے۔ اس کے بعد مجھ سے فرمایا: یہ اللہ کے ایک ولی کا مزار ہے۔ ان کا نام شاہ کمال انصاری ہے اور سلسلہ نقشبندیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ [حیات اعلیٰ حضرت، ج: 3، ص: 158، امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی]
-
جناب حافظ معین الدین صاحب کا بیان ہے کہ میں ملوک پور کی مسجد میں ظہر کی نماز سے فارغ ہو چکا تھا۔ دل میں خیال آیا کہ “حضرت” کا لفظ عام طور پر استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں؟ ارادہ کیا کہ ابھی جا کر اعلیٰ حضرت سے دریافت کروں گا۔ عصر کے کچھ پہلے درِ دولت پر حاضر ہو کر دروازہ کھٹکھٹایا۔ خادمہ آ کر مجھے دیکھ کر واپس گئی۔ چند منٹ کے بعد اعلیٰ حضرت تشریف لائے۔ آپ کے ہاتھوں میں کتابیں، قلم دان اور پان کی تھالی تھی۔ میں نے کتابیں اور قلم دان لے کر آپ کے بیٹھنے کی جگہ رکھ دیا۔ آپ نے پان کی تھالی لے کر میرے سامنے کر کے فرمایا: “حضرت! ملاحظہ فرمائیں۔” اس سے پہلے کبھی یہ الفاظ نہیں فرمائے تھے ورنہ میرے دل میں یہ خیال کیوں پیدا ہوتا۔ [حیات اعلیٰ حضرت، ج: 3، ص: 236]
-
ایک مرتبہ مرزا عبد الرحمن بیگ صاحب قادری رضوی ساکن محلہ بخار پورہ شہر کہنہ بریلی کے تمام زیورات چوری ہو گئے۔ یہ سخت پریشان ہوئے۔ سب لوگ خواب میں اعلیٰ حضرت کی زیارت کرتے ہیں۔ آپ ارشاد فرماتے ہیں: مرزا جی! آپ کے سب زیورات محفوظ ہیں۔ گھبرائیں نہیں، مگر اس میں چاندی ہماری ہے۔ انہوں نے عرض کیا: حضور! پھر مجھے کیسے ملے گا؟ فرمایا: فلاں شخص نے تمہارے مکان کے سامنے ہی دفن کیا ہے۔ تلاش کرو، ان شاء اللہ مل جائے گا۔ صبح کو یہ اٹھ کر چور کو پکڑتے ہیں اور اسے ڈراتے دھمکاتے ہیں۔ بالآخر وہ شخص مرزا جی کے مکان کے متصل کھنڈر کی طرف لے جاتا ہے۔ دیکھا کہ وہ زمین جابجا کھدی ہوئی ہے۔ اس سے پوچھا گیا: بتاؤ کہاں دفن کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: زیور ضرور میں نے دفن کیا ہے اور اس کھنڈر ہی میں دفن کیا تھا مگر اب میں نہیں کہہ سکتا ہوں کہ وہ کہاں ہے؟ مجھے رات بھر تلاش کرتے ہو گیا مگر پتہ نہیں چلا۔ ہاں، ہر جگہ میں نے ہی کھودی ہے۔ بالآخر چند آدمیوں نے مزید جستجو کی۔ اس کھنڈر میں ایک ٹوٹی پھوٹی کوٹھری نظر آئی۔ اسے جو کھودا تو تمام زیورات ایک جگہ نکل آئے۔ مرزا جی نے اس خوشی میں بہت دھوم دھام سے اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز کے مزارِ اقدس پر چادر چڑھائی۔ [حیات اعلیٰ حضرت، ج: 3، ص: 241، امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف]
