| عنوان: | آؤ! اپنی اصلاح کریں (قسط ہشتم) |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | سلطانی رضویہ |
قسط نہم: عہدِ حاضر میں اکثر علمی اختلاف شخصی اختلاف کی شکل اختیار کر لیتا ہے، پھر وہ اختلاف فریقِ مخالف کے آبا و اجداد کو اپنے گھیرے میں لے لیتا ہے۔ اگر خانقاہِ رضویہ کے کسی فرد سے اختلاف ہو تو اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز کا شمار بھی اختلافی دائرہ میں ہونے لگتا ہے، پھر ابلیسِ لعین اس انسان کا رخ امامِ اہلِ سنت علیہ الرحمۃ والرضوان کی تعلیمات کی طرف موڑ دیتا ہے۔ رفتہ رفتہ وہ آدمی امامِ اہلِ سنت قدس سرہ العزیز کے بیان کردہ عقائد سے منہ موڑنے لگتا ہے، اور اپنی آخرت تباہ کر لیتا ہے۔ میں ان عقلمندوں سے سوال کرتا ہوں کہ کیا جب خانقاہِ برکاتیہ یا خانقاہِ اشرفیہ کے کسی فرد سے اختلاف ہو تو ان کے جدِ کریم حضورِ اقدس تاجدارِ کائنات علیہ الصلوٰۃ والسلام کا لایا ہوا دینِ اسلام آپ چھوڑ دیں گے؟
ع / بریں عقل و دانش بباید گریست
علمی اختلاف اور شیطانی وسوسے
عقائدِ حقہ پر انگشت نمائی کرنا شیطانی وسوسوں کا نتیجہ ہے۔ ابلیس ہمارے قلب و ذہن میں وسوسہ پیوست کرتا جاتا ہے اور ہم شعوری یا لاشعوری طور پر غلط راہ پر جا پڑتے ہیں، اور شیطان کو خوش ہونے کا ایک موقع فراہم ہو جاتا ہے۔ آپ کل تک جن عقائد کو حق کہتے تھے، آج ان عقائدِ حقہ پر شکوک و شبہات کا اظہار کر کے اپنے متعلقین و معتقدین کو بھی مذبذب بنا رہے ہیں، حالانکہ آپ کے آبا و اجداد اور آپ کے شیوخ و اساتذہ بھی انہی اعتقادات پر قائم تھے تو گویا آپ نے ان تمام کو بھی سوال کے دائرہ میں لا کھڑا کیا۔ یہ شیطانی فریب کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ ہمارے سر پر مکھی بیٹھ جائے تو ہم مکھی بھگائیں، نہ کہ اپنا سر پھوڑ ڈالیں۔
ع / عقل ہوتی تو خدا سے نہ لڑائی لیتے
امامِ اہلِ سنت کی تعلیمات اور اتحادِ اہلِ حق
امامِ اہلِ سنت قدس سرہ العزیز نے جو کچھ بیان فرمایا، وہ مذہبِ اسلام اور مسلکِ اہلِ سنت و جماعت کے عقائد و مسائل ہیں۔ ان عقائد و مسائل پر اسلافِ کرام کی کتابوں سے حوالے منقول ہیں۔ ان میں سے جو امور ضروریاتِ دین یا ضروریاتِ اہلِ سنت میں سے ہیں ان کو ماننا ضروری ہے۔ ضروریاتِ دین کا منکر اسلام سے خارج ہے اور ضروریاتِ اہلِ سنت کا منکر اہلِ سنت و جماعت سے خارج ہے۔ آپ کا جس شخص سے علمی اختلاف ہے، وہ علمی اختلاف کا شخصی اختلاف میں بدل جانا بھی غلط ہے، اور اس اختلاف کا اس کی آل و اولاد یا اس کے آباؤ اجداد تک متعدی ہو جانا بھی غلط ہے۔
تعجب تو یہ ہے کہ کبھی یہ اختلاف فریقین کے جملہ احباب و متعلقین اور مریدین و معتقدین کو محیط ہو جاتا ہے اور صدیوں جاری رہتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ کسی اختلاف کے رنجیدہ اثرات کا برقرار رہنا ہی غلط ہے۔ وسعتِ ظرفی کا تقاضا تو یہی ہے کہ عفو و درگزر کی راہ اختیار کی جائے اور احبابِ اہلِ سنت باہم شیر و شکر ہو جائیں۔ یہی اسلام کی تعلیم بھی ہے۔ بھارت میں گاہے بگاہے بد مذہبوں سے سیاسی اتحاد کے نعرے بلند ہو جاتے ہیں، لیکن اہلِ حق کے اتحاد کی آواز نہیں سنائی دیتی۔ جس اتحاد کا حکم شریعتِ اسلامیہ دیتی ہے، اس بارے میں وحشت ناک خموشی اور چاروں طرف گہرا سناٹا چھایا رہتا ہے، اور جس اتحاد کی ممانعت ہے موقع بہ موقع اس اتحاد کا شوق ہمارے دلوں میں بیدار ہوتا رہتا ہے، کیا یہ تلبیسِ ابلیس نہیں؟ دراصل یہ شیطانی فتنہ ہے، جس پر ہم غور نہیں کر پا رہے ہیں۔
گمراہ طبقات سے پرہیز اور فکرِ آخرت
بھائیو! شیطان کو اپنے قلب و ذہن پر قابض مت ہونے دو۔ اپنے دل و دماغ میں پیدا ہونے والے ہر خیال کا شرعی حکم اسلامی کتابوں میں دیکھو۔ اگر وہ خیال اسلامی اصولوں کے خلاف ہے تو سمجھ لو کہ شیطانی وسوسہ ہے۔ عصرِ حاضر میں بعض لوگ غزالی و رازی بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں اور سنی مسلمانوں کے عقائد کو بگاڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ منہاجی، سراوی، پھلواری، نیم رافضی وغیرہ تمام گمراہ طبقات سے پرہیز کریں۔ یہ لوگ نیاز و فاتحہ، عرس و میلاد کے قائل ہیں، لیکن ان کے عقائد اہلِ سنت و جماعت کے خلاف ہیں۔ کسی کی شان و شوکت دیکھ کر اس کے ساتھ نہ جائیں۔ یہ جاہ و حشمت دنیا تک محدود ہے، جب کہ آپ کو ہمیشہ عالمِ آخرت میں رہنا ہے۔ دنیا سے کب رخصتی ہو جائے، اس کا کچھ پتہ نہیں، پس جس کا پتہ ہے اسی پر نظر رکھیں۔
[حوالہ:- ماہنامہ پیغامِ شریعت دہلی، ص: 28/29، 23 ستمبر 2020ء]
