Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اگر ضمیر بول سکتا تو کیا کہتا؟

اگر ضمیر بول سکتا تو کیا کہتا؟
عنوان: اگر ضمیر بول سکتا تو کیا کہتا؟
تحریر: عالیہ فاطمہ انیسی
پیش کش: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز کرنے والی بہت سی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ضمیر ہے۔ ضمیر (Conscience) وہ باطنی قوت ہے جو انسان کو اچھے اور برے، حق اور باطل، انصاف اور ظلم کے درمیان فرق کرنے کا شعور عطا کرتی ہے۔

یہ ایک خاموش نگہبان کی مانند ہر لمحہ انسان کے اعمال پر نظر رکھتا ہے۔

جب انسان کوئی اچھا کام کرتا ہے تو ضمیر اسے خوشی اور ذہنی سکون دیتا ہے، اور جب انسان کوئی برا کام کرتا ہے تو ضمیر اسے ملامت کرتا ہے (جسے احساسِ جرم کہا جاتا ہے)۔

مگر افسوس کہ آج کا انسان دنیا کی رنگینیوں، خواہشاتِ نفس اور ذاتی مفادات میں اس قدر گم ہو چکا ہے کہ اس نے اپنے ضمیر کی آواز سننا ہی بند کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ نفس کا پیروکار بنتا جا رہا ہے۔

اگر ضمیر کو زبان مل جائے تو وہ انسان سے کیا کہے گا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔

اگر ضمیر بول سکتا تو شاید وہ سب سے پہلے یہ شکوہ کرتا کہ: ”اے انسان! میں نے تمہیں ہر غلط راستے سے پہلے خبردار کیا، ہر گناہ سے پہلے روکا اور ہر ظلم پر تمہارے دل میں بے چینی پیدا کی، مگر تم نے میری بات سننے کے بجائے اپنی خواہشات کی پیروی کو ترجیح دی۔“

ضمیر انسان کو یاد دلاتا کہ سچائی، دیانت داری اور انصاف ہی وہ اقدار ہیں جن پر ایک بہتر معاشرے کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔ جب کوئی شخص جھوٹ بولتا ہے، دھوکا دیتا ہے یا کسی کا حق مارتا ہے تو ضمیر فوراً اسے ملامت کرتا ہے۔ لیکن جب انسان بار بار اس ملامت کو نظر انداز کرتا ہے تو اس کا دل سخت ہونے لگتا ہے اور ضمیر کی آواز مدھم پڑ جاتی ہے۔

اگر ضمیر بول سکتا تو وہ یہ بھی کہتا: ”تم دوسروں کی غلطیوں پر تو تنقید کرتے ہو، مگر کبھی اپنے اعمال کا جائزہ کیوں نہیں لیتے؟ تم دوسروں سے انصاف، محبت اور احترام کی توقع رکھتے ہو، لیکن کیا تم خود بھی دوسروں کے ساتھ یہی رویہ اختیار کرتے ہو؟“

ضمیر انسان کو خود احتسابی کی دعوت دیتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ انسان اپنے اعمال، اپنے کردار اور اپنی نیتوں پر غور کرے۔ جو قومیں اور معاشرے خود احتسابی کو اپنا شعار بنا لیتے ہیں، وہ ترقی اور کامیابی کی راہوں پر گامزن ہو جاتے ہیں، جبکہ ضمیر کی آواز کو دبانے والے معاشرے زوال کا شکار ہو جاتے ہیں۔

اگر ضمیر بول سکتا تو شاید وہ انسان کو موت اور آخرت کی بھی یاد دلاتا۔ وہ کہتا: ”یہ دنیا ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں ہے۔ ایک دن تمہیں اپنے ہر عمل کا حساب دینا ہوگا۔ تمہارے عہدے، دولت اور شہرت تمہارے ساتھ نہیں جائیں گے، بلکہ تمہارے اعمال ہی تمہارا اصل سرمایہ ہوں گے۔“

حقیقت یہ ہے کہ ضمیر کی آواز کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی۔ وہ انسان کے اندر موجود رہتی ہے اور مناسب موقع ملنے پر اسے جھنجھوڑتی رہتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دنیا کے شور میں اپنے ضمیر کی اس خاموش صدا کو سنیں، اپنے اعمال کا محاسبہ کریں اور اپنی زندگی کو نیکی، دیانت داری اور انصاف کے اصولوں کے مطابق ڈھالیں۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر ضمیر بول سکتا تو شاید وہ انسان سے یہی کہتا: ”اے اشرف المخلوقات! میں تمہارا دشمن نہیں بلکہ تمہارا مخلص ساتھی ہوں۔ میری آواز کو سنو، کیونکہ تمہاری کامیابی، تمہاری عزت اور تمہاری نجات اسی میں پوشیدہ ہے۔“

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!