| عنوان: | تاج الفقہا ایک یگانۂ روزگار شخصیت |
|---|---|
| تحریر: | اسیر تاج فقیہاں راشد خان آتش علیمی |
| پیش کش: | سیدہ کلثوم امجدی |
دورِ حاضر میں چند ہی شخصیات ایسی ہیں جن سے درس گاہ کا وقار باقی ہے، جن کا وجود فنون کی بقا کا ضامن ہے، جو منطق و فلسفہ جیسے مغلق و پیچیدہ علوم و فنون کو چٹکیوں میں سمجھانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ جن کا اندازِ تفہیم پرفن بھی نازاں نظر آتا ہے، جب وہ بولتے ہیں تو کٹھن سے کٹھن مسائل پر اپنی تحقیقات و تفہیمات کے دریا بہاتے چلے جاتے ہیں۔ وہ اپنی زبان میں جادوئی اثر رکھتے ہیں۔ ان کی دھاک اور فنی اثر سے اپنے جھومے جھومے جاتے ہیں اور ان کے تحقیقی رعب کے سامنے باطل سہما سہما نظر آتا ہے۔
انہی عظیم ذوات میں ایک یگانۂ روزگار ذات، فرید العصر، محققِ دہر، خلیفۂ تاج الشریعہ و معتمد حضور محدثِ کبیر، شاہینِ فکرِ رضا، ضیغمِ اہلِ سنت، حضور تاج الفقہا علامہ مفتی اختر حسین قادری حفظہ اللہ کی ہے۔ فقیر نے حضرت کو بڑے قریب سے دیکھا، آپ کی خلوت و جلوت کا مشاہدہ کیا، آپ کے سفر و حضر میں رفاقت میسر آئی، آپ کے درسِ فیض سے علمی موتی چننے کا موقع ملا اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔
میں اپنی زندگی میں جن چند شخصیات سے حد درجہ متاثر ہوا، بلکہ یوں کہہ لیا جائے کہ جن شخصیات کی صحبتِ کیمیا اثر نے میری زندگی کو انقلاب کی شاہراہ پر ڈال دیا، ان میں آپ کی ہمہ جہت شخصیت سرِفہرست ہے۔ بلا مبالغہ اگر آپ نہ ہوتے تو مجھ جیسے ناچیز کو زندگی کا شعور، احساس کی رمق اور کچھ کرنے کا حوصلہ نہ ملتا۔ حضرت نے فقیر کی زندگی میں ایسا انقلاب پیدا کیا کہ فقیر نے اپنا اوڑھنا بچھونا، الحمد للہ، علم و فن کے حصول کو بنا لیا اور آج اسی کی برکت ہے کہ علیمیہ جیسے عظیم ادارے میں تخصص فی الفقہ کر رہا ہوں۔
بات آپ کی درس گاہ کی آئی تھی سو ان کی درس گاہ محض رسمی درس گاہ نہیں بلکہ وہ اپنی زبانِ فیض ترجمان سے علم و فن کے گوہر لٹاتے ہیں۔ منطق و فلسفہ ہو، خواہ فقہ و اصولِ فقہ، یا تفسیر و حدیث، وہ سب میں نرالا ڈھب، انوکھا انداز، خوبصورت اسلوب اور یکتا ملکہ رکھتے ہیں۔
درسِ ہدایہ کے دوران ایک موقع پر آپ کی زبانِ فیض سے یہ ملفوظات صادر ہوئے جو میرے ذہن پر نقش ہو گئے اور ایک عجیب استدلال کی راہ کھول دی۔ آپ نے نواقضِ وضو کی تفصیلات اور علل بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا: “لوگ نواقضِ وضو تو بیان کرتے ہیں لیکن نواقضِ ایمان نہیں بیان کرتے” جبکہ عمل سے زیادہ اہم عقیدہ ہے اور وضو سے زیادہ اہم ایمان ہے۔
نواقصِ وضو سے مراد وہ علل و معانی نیز اسباب ہیں جن میں سے کسی ایک کے وجودِ خارجی کا تحقق بطلانِ وضو کا سبب بنتا ہے، اسی طرح نواقضِ ایمان یعنی وہ علل و اسباب جو وجودِ ایمان کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں بعض تو وہ ہیں جن کا وجود، وجودِ ایمان کے لیے رکن کی حیثیت رکھتا ہے اور بعض وہ ہیں جن کا وجود ایمان کے وجود کو زائل کر دیتا ہے۔
ایک موقع پر تصور اور تصدیق کی بنیادی قسموں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: تصور کی بنیادی قسمیں سات ہیں جن کو مزید وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہوئے بعض محققین نے سترہ میں منحصر کیا، تصور کا آخری درجہ وہم ہے۔ جانبِ مرجوح کو وہم اور جانبِ راجح کو ظن سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہیں سے تصدیق کا آغاز ہوتا ہے۔ تصدیق کے درجاتِ اربعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ علم و تصدیق کا اعلیٰ درجہ یقین ہے اور ایمان میں تصدیق سے مراد اس کا یہی فردِ کامل یعنی یقین ہے، جس کا صریح معنی یہ ہوا کہ ضروریاتِ دین کی تصدیق یعنی یقین کا نام ایمان ہے۔
آپ فرماتے ہیں: ایمان فولاد سے زیادہ مضبوط ہے کہ خبیب بن عدی تختۂ دار پر بھی اپنے محبوب کا ترانہ الاپتے ہوئے جان، جانِ آفریں کے حوالے کر دیتے ہیں؛ بلال حبشی کو گرم ریت پر لیٹا کر اوباش قسم کے بچوں کے حوالے کر دیا جاتا، لیکن اس کے باوجود ان کی پاکیزہ زبان سے “اللَّهُ أَحَدٌ” کی صدائیں بلند ہوتیں۔
لیکن دوسری جانب ایمان شیشے سے زیادہ کمزور ہے اس لیے کہ اگر ذرا برابر بھی لچک آئی تو یقین کی جگہ دیگر تین اقسام یعنی جہلِ مرکب، تقلید یا ظن میں سے کوئی ایک ثابت ہو جائے گی اور یقین کے جاتے ہی ایمان ختم اور انسان گمراہ یا کافر۔ اسی لیے ہمارے علماء، وہابیہ اور دیگر گمراہ فرقوں کے ہمراہ نشست و برخواست سے سختی کے ساتھ منع کرتے ہیں۔
تاج الفقہا کی ذات علم و تقویٰ کا حسین سنگم ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے متعدد اوصاف کا حامل بنایا ہے۔ آپ کی درس گاہ کا امتیازی وصف یہ ہے کہ آپ محض کتاب پڑھاتے نہیں بلکہ پلاتے ہیں، منطق کے درس کے دوران بطور خاص عقائد و نظریاتِ اہلِ سنت کی وضاحت امامِ اہلِ سنت کی تشریحات کی روشنی میں کرنا آپ کا خاصہ ہے۔ بیضاوی شریف کا درس دیتے ہیں تو عظیم مفسر نظر آتے ہیں۔ منطق پر کلام کرتے ہیں تو وقت کے غزالی نظر آتے ہیں۔ میدانِ فقہ کے تو آپ شہسوار ہیں۔
آپ کو اللہ تعالیٰ نے جملہ علومِ متداولہ پر ملکہ عطا فرمایا ہے، اسے خاص فضلِ الٰہی ہی کہا جا سکتا ہے ورنہ اس دورِ قحط الرجال میں ایسے اجلے کرداروں کا وجود محالِ عادی سا ہو گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ چرخِ اہلِ سنت پر آپ کا ظلِ رحمت دراز فرمائے!
