| عنوان: | چراغ کی لو پر انگلی رکھ دی |
|---|---|
| تحریر: | نا معلوم |
| پیش کش: | عالمہ صغریٰ انجم حنفی |
ایک نیک بزرگ کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا، ہوا یوں کہ وہ کسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے قریب ہی ایک چراغ جل رہا تھا۔ اچانک ان کے دل میں گناہ کا خیال آیا تو وہ اپنے نفس سے کہنے لگے: “میں اپنی انگلی اس چراغ کی بتی پر رکھتا ہوں اگر تو نے اس پر صبر کر لیا تو میں اس گناہ کو کرنے میں تیری بات مان لوں گا۔” پھر جب انہوں نے اس بتی پر اپنی انگلی رکھی تو بے قرار ہو کر چیختے ہوئے کہنے لگے: “اے دشمنِ خدا عزوجل! جب تو دنیا کی اس آگ پر صبر نہیں کر سکا جسے ستر مرتبہ بجھایا گیا ہے تو جہنم کی آگ پر کیسے صبر کرے گا؟”
امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا کعب الاحبار رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا: “اے کعب رضی اللہ عنہ ہمیں ڈر والی کچھ باتیں سنائیں۔” تو حضرت سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: “اے امیر المؤمنین! اگر آپ رضی اللہ عنہ قیامت کے دن ستر انبیاء کرام علیہم السلام کے عمل لے کر بھی آئیں تو قیامت کے احوال دیکھ کر انہیں حقیر جاننے لگیں گے۔” اس پر امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے کچھ دیر کے لئے سر جھکا لیا پھر جب افاقہ ہوا تو ارشاد فرمایا: “اے کعب رضی اللہ عنہ مزید سنائیں۔” تو انہوں نے عرض کی: “اے امیر المؤمنین! اگر جہنم میں سے بیل کے ناک جتنا حصہ مشرق میں کھول دیا جائے تو مغرب میں موجود شخص کا دماغ اس کی گرمی کی وجہ سے ابل کر بہہ جائے۔” اس پر امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے کچھ دیر کے لئے سر جھکا لیا پھر جب افاقہ ہوا تو ارشاد فرمایا: “اے کعب رضی اللہ عنہ اور سنائیں۔” تو انہوں نے پھر عرض کی: “اے امیر المؤمنین! قیامت کے دن جہنم اس طرح بھڑکے گا کہ کوئی مقرب فرشتہ یا نبی مرسل ایسا نہ ہو گا جو گھٹنوں کے بل گر کر یہ نہ کہے: رَبِّ نَفْسِي! نَفْسِي! (اے رب عزوجل! میں تجھ سے اپنی بخشش کے علاوہ کچھ نہیں مانگتا)۔”
حضرت سیدنا کعب الاحبار رضی اللہ عنہ نے مزید بتایا: “جب قیامت کا دن آئے گا تو اللہ عزوجل اولین و آخرین کو ایک ٹیلے پر جمع فرمائے گا، پھر فرشتے نازل ہو کر صفیں بنائیں گے۔ اس کے بعد اللہ عزوجل ارشاد فرمائے گا: اے جبرائیل علیہ السلام! جہنم کو لے آؤ۔ تو حضرت جبرائیل علیہ السلام جہنم کو اس طرح لے کر آئیں گے کہ اس کی ستر ہزار لگاموں کو کھینچا جا رہا ہو گا، پھر جب جہنم مخلوق سے سو برس کی راہ پر پہنچے گی تو اس میں اتنی شدید بھڑک پیدا ہو گی کہ جس سے مخلوق کے دل دہل جائیں گے، پھر جب دوبارہ بھڑک پیدا ہو گی تو ہر مقرب فرشتہ اور نبی مرسل گھٹنوں کے بل گر جائے گا، پھر جب تیسری مرتبہ بھڑکے گی تو لوگوں کے دل گلے تک پہنچ جائیں گے، اور عقلیں گھبرا جائیں گی یہاں تک کہ حضرت سیدنا ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام عرض کریں گے: میں تیرے خلیل ہونے کے صدقے سے صرف اپنے لئے سوال کرتا ہوں، حضرت سیدنا موسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام عرض گزار ہوں گے: یا الہی عزوجل! میں اپنی مناجات کے صدقے صرف اپنے لئے سوال کرتا ہوں، حضرت سیدنا عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام عرض کریں گے: یا الہی عزوجل! تو نے مجھے جو عزت دی ہے اس کے صدقے میں صرف اپنے لئے سوال کرتا ہوں، اس مریم رضی اللہ عنہا کے لئے سوال نہیں کرتا جس نے مجھے جنا ہے۔”
رسولِ کریم، رؤف رحیم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “اے جبرائیل علیہ السلام! کیا بات ہے کہ میں نے میکائیل علیہ السلام کو کبھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا؟” تو انہوں نے عرض کی: “جب سے جہنم کو پیدا کیا گیا ہے میکائیل علیہ السلام کبھی نہیں ہنسے اور جب سے جہنم پیدا ہوئی، میری آنکھ اس خوف سے خشک نہیں ہوئی کہ کہیں میں اللہ عزوجل کی نافرمانی نہ کر بیٹھوں اور وہ مجھے جہنم میں نہ ڈال دے۔”
حضرت سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ایک دن روتے ہوئے دیکھ کر پوچھا گیا: “آپ رضی اللہ عنہ کو کس چیز نے رلایا ہے؟” تو انہوں نے ارشاد فرمایا: “اللہ عزوجل کی طرف سے مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ مجھے جہنم پر پیش کیا جائے گا مگر یہ خبر نہیں پہنچی کہ میں وہاں سے نجات پا کر نکل بھی سکوں گا۔” جب ملائکہ، انبیاء علی نبینا وعلیہم الصلوۃ والسلام اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کے جہنم سے خوف کا یہ عالم ہو گا حالانکہ یہ ہستیاں گناہوں کی گندگیوں سے پاک و صاف ہیں تو اس وقت دھوکا کھائے ہوئے دعویدار کی ذلت و رسوائی کا کیا عالم ہو گا اور جسے اس کے نفس نے یہ کہہ کر گمراہ کر دیا کہ تیرا یہ خدا بخش دے گا اور جو اپنے آپ کو دوسروں کے مقابلے میں قطعی نجات یافتہ سمجھتا ہے حالانکہ قطعی نجات تو صرف انہیں دس خوش نصیبوں کو حاصل ہو گی جنہیں نجات دہندہ، روزِ شمار دوعالم کے مالک و مختار باذنِ پروردگار عزوجل صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت عطا فرمائی ہے، اس کے باوجود ان کے خوف کا یہ عالم تھا کہ حضرت سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی تک یہ کہہ اٹھے: “کاش! میں کسی مؤمن کے سینے کا بال ہوتا۔” اور حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرما گئے: “اگر عمر کی مغفرت نہ ہوئی تو عمر ہلاک ہو جائے گا۔”
حدیثِ پاک میں ہے: “جو یہ کہے: یقینا میں جنت میں جاؤں گا وہ جہنم میں جائے گا۔” [مجمع الزوائد، كتاب العلم، باب كراهية الدعوى، الحديث: 880، ج: 1، ص: 443]
یہاں اس خوف سے ہماری مراد عورتوں جیسی رقتِ قلبی نہیں جو کچھ دیر کے لئے رو لیتی ہیں، پھر نیک عمل چھوڑ دیتی ہیں، بلکہ اس سے مراد وہ خوف ہے جو انسان کے دل میں گھر بنا کر اسے گناہوں سے روکے اور اطاعت کی پابندی کی ترغیب دلائے، یہی وہ خوف ہے جو نفع بخش ہے اور یہ احمقوں کا خوف نہیں جو ڈرانے والی گزشتہ باتیں سنتے ہیں تو نَعُوذُ بِاللَّهِ اور يَا رَبِّ سَلِّمْ (یعنی خدا کی پناہ اور یا رب عزوجل! سلامت رکھنا) کے علاوہ کچھ نہیں کہتے بلکہ اس کے باوجود گناہوں کے ارتکاب پر ڈٹے رہتے ہیں اور شیطان ان کا اس طرح مذاق اڑاتا ہے جیسا کہ تم اس شخص کو دیکھ کر مذاق اڑاؤ گے کہ جس پر کوئی خطرناک درندہ حملہ کرنے لگے، جبکہ وہ شخص ایک محفوظ قلعے کے قریب ہو جس کا دروازہ بھی کھلا ہو مگر وہ اس میں داخل نہ ہو بلکہ رَبِّ سَلِّمْ کہتا رہے یہاں تک کہ وہ درندہ آکر اسے کھا جائے۔
رسولِ اکرم، نورِ مجسم، شاہِ بنی آدم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: “ایک شخص اپنی جان پر گناہوں کے ذریعے ظلم کیا کرتا تھا، جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں سے کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر میری راکھ کو پیس کر ہوا میں اڑا دینا، اللہ عزوجل کی قسم! اگر اللہ عزوجل نے مجھے عذاب دینا چاہا تو ایسا عذاب دے گا جو اس نے کسی کو نہ دیا ہو گا، پس جب اس کا انتقال ہوا تو اس کی وصیت پر عمل کیا گیا، پھر اللہ عزوجل نے زمین کو حکم دیا: اس کے جو اجزاء تجھ پر ہیں ان کو جمع کر دے۔ زمین نے حکم کی تعمیل کی اور وہ بندہ کھڑا ہو گیا تو اللہ عزوجل نے اس سے پوچھا: تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے ابھارا تھا؟ اس نے عرض کی: یا رب عزوجل! تیرے خوف نے۔ تو اس کو بخش دیا گیا۔” [صحيح البخاري، كتاب أحاديث الأنبياء، باب 54، الحديث: 3471، ص: 284]
حضرت سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے عرض کی: کیا آپ رضی اللہ عنہ ہمیں سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، باعثِ نزولِ سکینہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیثِ مبارکہ سنائیں گے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: “میں نے صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب ایک شخص کی موت کا وقت آیا اور وہ زندگی سے مایوس ہو گیا تو اس نے اپنے گھر والوں کو وصیت کی: جب میں مر جاؤں تو میرے لئے بہت سی لکڑیاں جمع کر لینا، پھر اس میں آگ لگا کر مجھے اس میں ڈال دینا تاکہ آگ میرا گوشت کھا کر ہڈیوں کو جلا دے، پھر ان ہڈیوں کو اٹھا کر پیس لینا اور تیز ہوا کے دن اس راکھ کو اڑا دینا۔ اس کے مرنے کے بعد اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا گیا جیسا اس نے کہا تھا پھر اللہ عزوجل نے اس شخص کی راکھ کو جمع کر کے اس سے پوچھا: تو نے ایسا کیوں کیا؟ تو اس نے عرض کی: تیرے خوف سے۔ تو اس کو بخش دیا گیا۔” [صحيح البخاري، كتاب أحاديث الأنبياء، باب 54، الحديث: 3479، ص: 284، “أَوْ قَدَرُوا” بَدَلَهُ “أَوْرَدُوا نَارًا”]
حضرت سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے بھی مخزنِ جود و سخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: “اللہ عزوجل نے تم سے پچھلی امتوں میں سے ایک شخص کو کثرت سے مال و اولاد سے نوازا تھا، اس نے اپنی موت کے وقت اپنے بیٹوں سے پوچھا: تم نے مجھے باپ کی حیثیت سے کیسا پایا؟ انہوں نے جواب دیا: ہم نے آپ کو بہترین باپ پایا۔ تو اس نے کہا: میں نے تو کبھی کوئی اچھا کام نہیں کیا، لہذا جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا کر راکھ بنا لینا اور پھر میری راکھ کو تیز ہوا میں اڑا دینا۔ جب انہوں نے ایسا ہی کیا تو اللہ عزوجل نے اسے جمع کر کے دریافت فرمایا: تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے ابھارا تھا؟ اس نے عرض کی: تیرے خوف سے۔ تو اللہ عزوجل کی رحمت نے اس کا استقبال کیا۔” [المرجع السابق، الحديث: 3478، ص: 284، “أَعْطَاهُ اللَّهُ” بَدَلَهُ “رَغَشَهُ اللَّهُ”]
[جہنم میں لے جانے والے اعمال، ص: 97 تا 100]
