| عنوان: | اہلِ فترت کے احکام و مباحث (قسط: بارہویں) |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفیٰ قادری / طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | مہر تاج |
| منجانب: | اقراء القرآن اکیڈمی |
اہلِ فترت کے احکام و مباحث
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ نے اپنے رسالہ ”تنزیہ المکانۃ الحیدریہ“ میں سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کے فضائل بیان کرتے ہوئے ’اہلِ فترت‘ (جن تک کسی نبی کی دعوت نہ پہنچی) کے احکام پر نہایت جامع اور تحقیقی بحث فرمائی ہے۔
اہلِ فترت کی اقسام
اعلیٰ حضرت کے بیان کے مطابق اہلِ فترت کی بنیادی طور پر تین قسمیں ہیں:
- موحد: جو اس تاریک دور میں بھی توحید پر قائم رہے (جیسے قس بن ساعدہ اور زید بن عمرو بن نفیل)۔
- مشرک: جو غیر خدا کی پوجا کرنے لگے (جیسے اکثر مشرکینِ عرب)۔
- غافل: جو دنیا میں منہمک ہونے یا سادگی کے سبب اس مسئلے سے بالکل بے خبر اور غافل رہے۔
اہلِ سنت کے تین مذاہب
ان تینوں قسموں کے اخروی انجام کے حوالے سے علمائے اہلِ سنت کے درج ذیل تین مؤقف ہیں:
- جمہور اشاعرہ: جب تک حضور خاتم النبیین ﷺ کی بعثت نہ ہوئی اور دعوتِ الٰہیہ ان تک نہ پہنچی، یہ سب فرقے ناجی (نجات پانے والے) اور غیر معذب ہیں۔ (امام کمال ابن ہمام اور ائمہ بخارا کا بھی یہی مختار ہے)۔
- بعض اشاعرہ (جیسے امام رازی، امام نووی): مشرک معاقب (عذاب دیے جانے والے) ہیں، جبکہ موحد اور غافل دونوں مطلقاً ناجی ہیں۔
- جمہور ماتریدیہ: مشرک معاقب ہیں، موحد ناجی ہیں، اور غافلوں میں جس نے غور و فکر کی مہلت پائی وہ معاقب ہے، اور جسے مہلت نہ ملی وہ ناجی ہے۔
دلائل اور اعلیٰ حضرت کی تحقیق
جمہور اشاعرہ کا استدلال قرآنی آیت ﴿وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولاً﴾ سے ہے، لیکن اعلیٰ حضرت نے احادیثِ صحیحہ (جیسے عمرو بن لحی کے عذاب کی حدیث) سے ثابت کیا کہ اہلِ فترت کے بعض مشرکین پر عذاب ہوگا۔ آپ نے جمہور ماتریدیہ کے قول کی تائید فرمائی اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے اقوال کی محققانہ تشریح پیش کی۔
مزید برآں، اعلیٰ حضرت نے ”احادیثِ امتحان“ کا ذکر فرمایا کہ قیامت کے دن ان کا امتحان لیا جائے گا، جس نے حکم مانا وہ آگ میں بھی سلامت رہے گا اور جس نے نہ مانا اسے کھینچ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ اس بحث کو سمیٹتے ہوئے آپ نے تحریر فرمایا:
”ولي ههنا كلام آخر في تحقيق المرام لا اذكره لخوف الاطالة“
(اس مقام پر تحقیقِ مرام کے حوالے سے میری ایک اور کلام/تحقیق ہے، جسے میں طوالت کے خوف سے ذکر نہیں کر رہا۔)
مضمون نگار بجا طور پر اس حسرت کا اظہار کرتے ہیں کہ کاش! امام احمد رضا قدس سرہ اس مقام پر اپنی اس خاص تحقیقی بحث کو مزید آگے بڑھاتے تاکہ علم کے ان موتیوں سے طالبانِ علم کا دامن مزید بھر جاتا۔
