| عنوان: | ذات و صفاتِ باری تعالیٰ کے متعلق عقائد (قسط: تیرہویں) |
|---|---|
| تحریر: | اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ |
| پیش کش: | مہرتاج |
| منجانب: | اقراء القرآن اکیڈمی |
انکارِ خدا اور منکرینِ خدا کا علمی و کلامی محاسبہ
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ دنیا کے کافر اور فاسد فرقے اللہ تعالیٰ کے وجود کو جانتے اور مانتے ہیں، حتیٰ کہ فلاسفہ اور مروجہ مذاہب توحید کے دعویدار بھی ہیں۔ لیکن اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ نے اپنے کلامی و عقائدی رسالے (ماخوذ از فتاویٰ رضویہ، جلد 15) میں اس مغالطے کو دور فرمایا ہے اور ثابت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو اس کی حقیقی صفاتِ کمال کے ساتھ نہ ماننا دراصل اس کے وجود کا انکار ہی ہے۔
حقیقتِ معرفت اور سلبِ شے کا منطقی قاعدہ
اعلیٰ حضرت نے واضح فرمایا کہ کسی چیز کی نفی یا سلب (Negation) کے تین طریقے ہوتے ہیں، اور منطقی طور پر یہ تینوں انجام کے اعتبار سے برابر ہیں:
- خود شے کی نفی: کسی چیز کے وجود کا سرے سے انکار کر دینا (جیسے دہرئیے وجودِ باری تعالیٰ کا صریح انکار کرتے ہیں)۔
- لوازم کی نفی: کسی چیز کو موجود ماننا مگر اس کے لازمی اوصاف کا انکار کر دینا (مثلاً کہنا کہ انسان تو ہے مگر وہ جاندار یا بولنے والا نہیں ہے)۔
- منافیات کا اثبات: کسی چیز کے لیے ایسی صفات ثابت کرنا جو اس کی حقیقت کے بالکل الٹ اور منافی ہوں۔
چونکہ اللہ تعالیٰ کے لیے تمام صفاتِ کمال واجبِ ذاتی ہیں اور تمام عیوب و نقائص محالِ ذاتی ہیں، اس لیے جو شخص بھی اللہ کی کسی صفتِ کمال کا انکار کرتا ہے یا اس کے لیے کوئی عیب ثابت کرتا ہے، وہ درحقیقت خدا کو جانتا ہی نہیں بلکہ اپنے زعمِ باطل میں کسی اور چیز کو خدا سمجھے ہوئے ہے۔ اس بنیاد پر دہرئیے پہلی قسم کے منکر ہیں جبکہ باقی تمام کفار اور گمراہ فرقے دوسری اور تیسری قسم کے منکرین میں شامل ہیں۔
مختلف ادیان اور باطل فرقوں کے عقائدِ الوہیت کا رد
اعلیٰ حضرت نے تفصیل سے ثابت کیا ہے کہ دنیا کے مختلف گروہ خدا کے نام پر جن اوصاف کے قائل ہیں، وہ توحید اور الوہیت کے سراسر منافی ہیں:
- فلاسفہ کا خدا: وہ اسے صرف 'عقلِ اول' کا خالق مانتے ہیں، جو کائنات کے جزئیات سے جاہل ہے اور اپنے افعال میں مجبور (غیر مختار) ہے۔
- آریہ کا خدا: وہ ایشر کے ساتھ روح اور مادے کو بھی قدیم اور واجب الوجود مانتے ہیں، یعنی ایشر ان کا خالق نہیں ہے۔ نیز اس کے لیے جسمانی اعضاء (ہزار سر، ہزار پاؤں) ثابت کرتے ہیں۔
- مجوس کا خدا: وہ کائنات میں دو خالق مانتے ہیں؛ ایک نیکی کا خدا (یزدان) اور دوسرا بدی کا خدا (اہرمن یا شیطان)، جو یزدان کے ساتھ جنگ اور شراکتِ اقتدار کرتا ہے۔
- یہود و نصاریٰ کا خدا: یہود خدا کے لیے تھکن، پاؤں پر پاؤں رکھ کر لیٹنا، رونا، پچھتاوا اور انسانی تشبیہات قائم کرتے ہیں۔ جبکہ نصاریٰ اسے مادی رشتوں (باپ بیٹا)، عاجزی، اور جسمانی حاجتوں (کھانا پینا، سفر کی تھکن، پاؤں دھونا) سے منسوب کرتے ہیں۔
- نیچری اور چکڑالوی: نیچری خدا کو قانونِ قدرت (نیچر) کا پابند قرار دے کر معجزات، ملائکہ، معراج اور جنت و دوزخ کا صریح انکار کرتے ہیں۔ جبکہ چکڑالوی رسالت کی حیثیت کو محض ایک 'ڈاکیا' بنا کر احکامِ شریعت کو معطل کرتے ہیں۔
- قادیانی اور رافضی: قادیانی ایسے خدا کے قائل ہیں جو جھوٹوں کو نبی بنائے اور معاذ اللہ فریب و تمسخر کی چالیں چلے۔ جبکہ رافضی خدا کے لیے 'بداء' (پہلے مصلحت کا علم نہ ہونا، پھر پچھتا کر حکم بدلنا) مانتے ہیں اور اسے اپنے کلام (قرآن) کی حفاظت سے عاجز قرار دیتے ہیں۔
- وہابی، دیوبندی اور غیر مقلدین: وہابی اور دیوبندی نظریات میں خدا کے لیے 'امکانِ کذب' یا 'وقوعِ کذب' (جھوٹ کا ممکن یا واقع ہونا)، جہت و مکان کا محتاج ہونا، اور شیطان کے علم کو رسولِ خدا کے علم سے وسیع تر ماننا پایا جاتا ہے۔ غیر مقلدین بھی ائمہ کی تقلید کو شرک کہہ کر اپنے خود ساختہ اصولوں کو شریعت کا نام دیتے ہیں اور حلال و حرام کے قطعی احکام میں تحریف کرتے ہیں۔
خلاصۂ کلام
ان تمام تفصیلات سے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی نے یہ محققانہ نتیجہ اخذ کیا کہ صرف زبان سے کلمہ پڑھنا یا اللہ کا نام لینا اس وقت تک ایمان نہیں کہلا سکتا جب تک اللہ تعالیٰ کی ذات کو تمام عیوب، نقائص، جھوٹ، عجز اور مخلوق کی تشبیہ سے پاک نہ مانا جائے اور اس کی تمام صفاتِ کمال پر خالص توحید کے ساتھ ایمان نہ لایا جائے۔
