Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

ذات و صفاتِ باری تعالیٰ کے متعلق عقائد (قسط: گیارہویں)اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی

ذات و صفاتِ باری تعالیٰ کے متعلق عقائد (قسط: گیارہویں)
عنوان: ذات و صفاتِ باری تعالیٰ کے متعلق عقائد (قسط: گیارہویں)
تحریر: اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ
پیش کش: مہرتاج
منجانب: اقراء القرآن اکیڈمی

کفر و تکفیر کے اصولی مباحث اور شبہات کا علمی ازالہ

کفر اور تکفیر علمِ عقائد کے حساس ترین موضوعات ہیں۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ نے انتہائی احتیاط اور اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے اس مسئلے کو اپنی تصانیف میں واضح فرمایا ہے۔ اس قسط میں تکفیر کے اصول، کفر کی اقسام اور معاندین کے شبہات کا ازالہ پیشِ خدمت ہے۔

کفرِ لزومی اور کفرِ التزامی کا فرق

اعلیٰ حضرت نے اپنے رسالہ ”سبحان السبوح“ کے خاتمے میں انکار اور کفر کی دو قسمیں بیان فرمائی ہیں:

  • کفرِ التزامی (صریح کفر): یہ وہ صورت ہے جہاں انسان صراحتاً دین کی کسی قطعی اور ضروری بات (ضروریاتِ دین) کا انکار کرے، خواہ وہ خود کو پکا مسلمان ہی کیوں نہ کہے۔ جیسے معجزات، فرشتوں یا جنت و دوزخ کا صریح انکار۔ یہ اجماعاً کفر ہے۔
  • کفرِ لزومی (باعثِ کفر): یہ وہ بات ہے جو بظاہر کفر نہ ہو، مگر اس کے منطقی انجام یا لازمی نتیجے کے طور پر کسی ضروری دین کا انکار لازم آتا ہو۔ جیسے روافض کا شیخین (حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) کی خلافت کا انکار، جو تمام صحابہ کی تضلیل کا باعث بنتا ہے۔
کفرِ لزومی کا حکم: محققین علمائے اہل سنت (جسے اعلیٰ حضرت نے بھی اپنایا ہے) کا مؤقف یہ ہے کہ کفرِ لزومی کے مرتکب کو کافر نہیں کہا جائے گا، بلکہ اسے مبتدع اور گمراہ قرار دیا جائے گا۔ البتہ، اگر کوئی اپنے نظریے سے توبہ نہ کرے، تو اس سے قطعِ تعلق کیا جائے گا۔

تکفیر کے محتاط اصول

اعلیٰ حضرت نے ”مقامع الحدید“ میں تکفیر کے حوالے سے درج ذیل اصول مقرر فرمائے:

  1. تاویل کی گنجائش: اگر کسی کے قول میں سو (100) پہلو نکلتے ہوں، جن میں 99 کفر کے ہوں اور 1 پہلو اسلام کا ہو، تو مفتی پر لازم ہے کہ وہ اسی ایک پہلو (اسلام) کی طرف جائے اور تکفیر سے بچے، تاوقتیکہ وہ شخص خود کفر کے پہلو کا اقرار نہ کر لے۔
  2. قائل کے ارادے کا اعتبار: اگر کسی قول میں کفر ہونے کا شک نہ ہو، لیکن کلام میں ایسا قرینہ ہو جو اسے کفرِ صریح سے نکالتا ہو، تو اسے کافر قرار دینے سے احتراز کیا جائے گا۔
  3. صریح انکار: اگر کوئی شخص بغیر کسی جبر کے، ارادتاً ضروریاتِ دین کا مذاق اڑائے یا صریح انکار کرے، تو وہ بلاشبہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے، اور اس کا دلی ارادہ بھی اسے نہیں بچا سکے گا۔

تکفیر کے حوالے سے شبہات کا ازالہ

اعلیٰ حضرت کے فتاویٰ کے خلاف جب معاندین نے شور مچایا اور مختلف بہانے تراشے، تو آپ نے ”تمہیدِ ایمان“ میں ان کے اعتراضات کے مسکت جوابات دیئے:

  • شبہ ۱ (کلمہ گو کی تکفیر): معاندین کا دعویٰ تھا کہ جو لا الہ الا اللہ کہہ لے، وہ جنت میں جائے گا، اسے کافر نہیں کہا جا سکتا۔
    جواب: اعلیٰ حضرت نے فرمایا کہ کلمہ پڑھنا اسی وقت تک فائدہ مند ہے جب تک اس کے ساتھ ضروریاتِ دین کا انکار شامل نہ ہو۔ اگر کلمہ پڑھنے کے بعد کوئی اللہ کو جھوٹا کہے یا رسول کی توہین کرے، تو کلمہ اسے نہیں بچا سکتا۔
  • شبہ ۲ (اہلِ قبلہ کی تکفیر): انہوں نے امام اعظم کا قول پیش کیا کہ ”ہم اہلِ قبلہ کی تکفیر نہیں کرتے۔“
    جواب: اصطلاحِ ائمہ میں ’اہلِ قبلہ‘ وہ ہے جو تمام ضروریاتِ دین پر ایمان رکھتا ہو۔ صرف قبلے کی طرف رخ کر لینا کافی نہیں۔ اگر کوئی قبلے کی طرف رخ کر کے بت کو سجدہ کرے تو وہ مسلمان نہیں رہتا۔

اعلیٰ حضرت کی غایت درجہ احتیاط

معاندین نے مشہور کیا کہ اعلیٰ حضرت معمولی باتوں پر کافر قرار دے دیتے ہیں۔ آپ نے اس کا دندان شکن جواب دیا:

”یہ بندۂ خدا وہی تو ہے جو ان کے اکابر پر ستر ستر وجہ سے لزومِ کفر کا ثبوت دے کر یہی کہتا ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ لا الہ الا اللہ کی تکفیر سے منع فرمایا ہے۔ ہزار ہزار بار حاشا للہ! میں ہرگز ان کی تکفیر پسند نہیں کرتا، جب تک وجہِ کفر آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہو جائے۔“

آپ نے واضح کیا کہ ۱۳۲۰ھ تک آپ نے اپنے مخالفین کی تکفیر سے بھی کفِ لسان کیا تھا، لیکن جب انہوں نے صراحتاً اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں لکھیں اور ضروریاتِ دین کا انکار کیا، تو پھر دین کی حفاظت اور ائمہ کی تصریحات کے مطابق تکفیر کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!