| عنوان: | اہل حق کی نشانیاں کیا ہیں؟ (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | ثمینہ پروین قادریہ رضویہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی مرادآباد |
چونکہ مذہبِ اسلام میں تہتر فرقے ہونے والے تھے، اس لیے حضورِ اقدس سرورِ دو جہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اہلِ حق کی متعدد نشانیاں بیان فرمائیں، تاکہ حق کا متلاشی ان علامتوں کی روشنی میں حق و باطل میں امتیاز کر سکے۔
یہ نشانیاں احادیثِ مبارکہ میں متفرق طور پر بیان کی گئی ہیں۔ ان میں سے جو مجھے دستیاب ہو سکیں، ان کو جمع کر کے قوم و ملت کے سپرد کر رہا ہوں، تاکہ ان سب کے لیے ذریعۂ ہدایت اور ہمارے لیے وسیلۂ نجات بن جائے: وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ۔
کیا عام مسلمانوں کے لیے دلائلِ حقانیت بتائے گئے ہیں؟
عام مسلمانوں کو حق و باطل کی پہچان کے لیے متعدد علامتیں بیان کی گئی ہیں۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں نے از خود ان امور کو عام مسلمانوں کے لیے علاماتِ حقانیت قرار دیدیا ہے۔
امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری (1856ء - 1921ء) رقم طراز ہیں:
"اس دلیل اعنی سوادِ اعظم کی طرف ہدایت اللہ و رسول جل و علیٰ وصلی اللہ علیہ وسلم کی کمالِ رحمت ہے۔ ہر شخص کہاں قادر تھا کہ عقیدہ کتاب و سنت سے ثابت کرے۔ عقل تو خود ہی سمعیات میں کافی نہیں، ناچار عوام کو عقائد میں تقلید کرنی ہوتی، لہذا یہ واضح روشن دلیل عطا فرمائی کہ سوادِ اعظمِ مسلمین جس عقیدہ پر ہو، وہ حق ہے۔ اس کی پہچان کچھ دشوار نہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے وقت میں تو کوئی بد مذہب تھا ہی نہیں اور بعد کو اگرچہ پیدا ہوئے، مگر دنیا بھر کے سب بد مذہب ملا کر کبھی اہلِ سنت کی گنتی کو نہیں پہنچ سکتے۔" (فتاویٰ رضویہ، ج 1، ص 56-57 - رضا اکیڈمی، ممبئی)۔ ناچار عوام کو عقائد میں تقلید کرنی ہوتی، لہذا یہ واضح روشن دلیل عطا فرمائی کہ سوادِ اعظمِ مسلمین جس عقیدہ پر ہو، وہ حق ہے، اور اس کی پہچان کچھ دشوار نہیں۔
امامِ اہلِ سنت کے مذکورہ بالا قول سے بالکل واضح ہو گیا کہ جماعتِ حقہ کا سوادِ اعظم (کثیر التعداد) ہونا عام مسلمانوں کے لیے معیارِ حقانیت ہے، اور اہلِ علم کے لیے دلیلِ حقانیت قرآن و حدیث کے موافق ہونا ہے۔ اس کو امامِ اہلِ سنت نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے:
"اس دلیل اعنی سوادِ اعظم کی طرف ہدایت اللہ و رسول جل و علیٰ وصلی اللہ علیہ وسلم کی کمالِ رحمت ہے۔ ہر شخص کہاں قادر تھا کہ عقیدہ کتاب و سنت سے ثابت کرے۔"
Aہلِ سنت و جماعت کی حقانیت کی متعدد علامتیں ہیں اور ان تمام علامتوں کا مذہبِ اہلِ سنت و جماعت میں پایا جانا ضروری ہے۔ کوئی ایک علامت بھی مفقود نہیں ہو سکتی، نہ کسی دوسری جماعت میں پائی جا سکتی ہے، کیونکہ یہ علامتیں خاصہ کی منزل میں ہیں اور شئی کا خاصہ اس کے علاوہ میں نہیں پایا جاتا ہے۔ سوادِ اعظم ہونا بھی اہلِ سنت و جماعت کا خاصہ ہے، اور ایسا عظیم خاصہ ہے کہ سوادِ اعظم جس عقیدہ پر ہو، وہ عقیدہ حق ہو گا۔
حقانیت کی ظاہری علامتیں
حقانیت کی حقیقی علامت "مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي" ہے لیکن اس حقیقت کا ادراک اربابِ علم و فضل کے ساتھ خاص ہے۔ قلتِ علم کے سبب عام مسلمانوں کو یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ کون سا عقیدہ قرآن و حدیث کے موافق ہے، اور کون سا عقیدہ قرآن و حدیث کے بر خلاف ہے۔ اس لیے ان علامتوں اور نشانیوں کی تلاش ضروری ہے، جن کی روشنی میں عوامِ مسلمین کے لیے حق و باطل کا فرق چمکتے سورج کی طرح روشن و منور ہو جائے۔ اس رسالہ میں انہی علامتوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پانچ ظاہری علامتوں کا انکشاف مجھے ہوا، جو درج ذیل ہیں:
-
جماعتِ حق کا عہدِ رسالت سے متصل ہونا۔
-
جماعتِ حق کا ہر عہد میں زیادہ تعداد میں ہونا۔
-
جماعتِ حق کا خوارج کی بہ نسبت قلیل العبادت ہونا۔
-
اہلِ حق کا عشقِ مصطفوی کو معیارِ نجات اعتقاد کرنا۔
-
جماعتِ حق کی حفاظت کے لیے ہر صدی میں مجدد آنا۔
مذکورہ بالا پانچوں نشانیوں کا ثبوت جن احادیثِ مقدسہ سے ہوتا ہے، وہ احادیثِ طیبہ اور ان کے تراجم تحریر کیے جاتے ہیں۔ تفصیلی بحث میں ان پانچوں احادیثِ مبارکہ کی تشریح بھی درج ہے۔ عوامِ مسلمین کے لیے ان تشریحات کا خلاصہ بھی رقم کر دیا گیا ہے، تاکہ حق کی تلاش آسان سے آسان تر ہو جائے۔ اربابِ علم و فضل تفصیلی مباحث کا مطالعہ فرمائیں۔
(۱) جماعتِ حق کا عہدِ رسالت سے متصل ہونا
عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّىٰ يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ كَذَٰلِكَ.
(صحیح مسلم، ج 2، کتاب الامارة)
(ترجمہ) حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت کا ایک طبقہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا، وہ انہیں نقصان نہ پہنچا سکے گا جو انہیں چھوڑ دے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم (قیامت) آ جائے، اور وہ اسی طرح رہیں گے۔
توضیح: ہر زمانے میں اہلِ سنت و جماعت کا وجود رہے گا۔ حدیثِ نبوی میں "لَا تَزَالُ" کا لفظ بتا رہا ہے کہ اہلِ حق زمانۂ رسالت سے قیامت تک رہیں گے، اور کسی زمانہ میں انقطاع نہیں ہو گا، اور جتنی جماعتیں عہدِ رسالت کے بعد پیدا ہوئیں، وہ سب عہدِ رسالت سے منقطع ہیں، لہذا ان کے حق ہونے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ یہ اہلِ سنت کی حقانیت کی ایسی علامت ہے جو عوام و خواص سب کے لیے ظاہر ہے۔ ایمان جس کے لیے مقدر ہو گا، وہ کبھی گمراہ نہ ہو گا، اور جس کی تقدیر میں ضلالت و گمراہی ہے، وہ کبھی راہِ راست پر نہ آ سکے گا۔
(۲) جماعتِ حق کا ہر عہد میں کثیر التعداد ہونا
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَجْمَعُ اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ عَلَى الضَّلَالَةِ أَبَدًا ؎ وَقَالَ: يَدُ اللَّهِ عَلَى الْجَمَاعَةِ فَاتَّبِعُوا السَّوَادَ الْأَعْظَمَ، فَإِنَّهُ مَنْ شَذَّ شَذَّ فِي النَّارِ.
(المستدرک للحاکم، ج: 1، ص: 199، دار الکتب العلمية، بيروت)
(ترجمہ) حضورِ اقدس تاجدارِ دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اس امت کو کبھی بھی گمراہی پر جمع نہ فرمائے گا اور فرمایا اللہ کی مدد جماعت کے ساتھ ہے، پس (اہلِ اسلام کے) سوادِ اعظم کی پیروی کرو، اس لیے کہ جو اس (سوادِ اعظم) سے جدا ہوا، وہ جدا ہو کر جہنم میں گیا۔
شیخ عبد الحق محدث دہلوی (958ھ - 1052ھ) نے لفظِ "شَذَّ" کی تشریح میں تحریر فرمایا:
الشُّذُوذُ الْاِنْفِرَادُ وَالتَّفَرُّدُ عَنِ الْجُمْهُورِ.
(اللمعات التنقیح فی شرح مشکاة المصابیح، ص 256 - الجامعۃ الاشرفیہ، مبارکپور)
(ترجمہ) شذوذ، جمہورِ امت (کے عقائد) سے جدا ہونا اور الگ ہونا ہے۔
توضیح: جمہور کا معنی ہے "معظم کل شئی" (المنجد، ص 102) یعنی ہر چیز کا بڑا حصہ۔ اس سے صاف ظاہر ہو گیا کہ جو سوادِ اعظم سے جدا ہو گا، وہ قلیل التعداد ہو گا، کیونکہ جب سوادِ اعظم کے مفہوم میں جمہور آ گیا اور جمہور بڑے حصے کو کہا جاتا ہے تو اب جو حصہ باقی ہو گا، وہی یقیناً چھوٹا ہو گا، پس سوادِ اعظم کے مقابل سے جدا ہونے والا طبقہ یقیناً چھوٹا ہو گا، اور انسانی جماعتوں کا بڑا چھوٹا ہونا افراد کی تعداد ہی کے اعتبار سے ہوتا ہے، پس جس جماعت میں افراد زیادہ ہوں، وہ بڑی جماعت ہو گی، اور جس میں افراد کم ہوں، وہ چھوٹی جماعت ہو گی۔
(۳) جماعتِ حق کا خوارج سے قلیل العبادت ہونا
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَحْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْسِمُ قِسْمًا أَتَاهُ ذُو الْخُوَيْصَرَةِ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اِعْدِلْ، فَقَالَ: وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلْ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ قَدْ خَسِرْتَ وَخَسِرْتَ إِنْ لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ ؎ فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ، فَقَالَ: دَعْهُ فَإِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِم| وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ يَقْرَؤُونَ...
