| عنوان: | اہل حق کی نشانیاں کیا ہیں؟ (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | ثمینہ پروین قادریہ رضویہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی مرادآباد |
(۳) جماعتِ حق کا خوارج سے قلیل العبادت ہونا
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْسِمُ قِسْمًا، أَتَاهُ ذُو الْخُوَيْصَرَةِ، وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اعْدِلْ، فَقَالَ: وَيْلَكَ! وَمَنْ يَعْدِلْ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ؟ قَدْ خِبْتَ وَخَسِرْتَ إِنْ لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ۔ فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ۔ فَقَالَ: دَعْهُ، فَإِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ، يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يُنْظَرُ إِلَى نَصْلِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى رِصَافِهِ فَمَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى نَضِيِّهِ - وَهُوَ قِدْحُهُ - فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى قُذَذِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، قَدْ سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ۔ آيَتُهُمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ إِحْدَى عَضُدَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ، أَوْ مِثْلُ الْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ، وَيَخْرُجُونَ عَلَىٰ حِينِ فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ۔ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَشْهَدُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَاتَلَهُمْ وَأَنَا مَعَهُ، فَأَمَرَ بِذَٰلِكَ الرَّجُلِ فَالْتُمِسَ فَأُتِيَ بِهِ حَتَّىٰ نَظَرْتُ إِلَيْهِ عَلَىٰ نَعْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي نَعَتَهُ۔
[صحیح البخاری، ج 1، باب علامات النبوة في الاسلام؛ صحیح مسلم، ج 2، باب ذکر الخوارج وصفاتهم]
(ترجمہ) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا: ہم لوگ حضورِ اقدس سرورِ کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ میں تھے، اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مالِ غنیمت تقسیم فرما رہے تھے کہ قبیلہ بنی تمیم کا ذوالخویصرہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: "اے اللہ کے رسول! انصاف سے کام لیں۔" آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "افسوس تجھ پر، میں ہی انصاف نہ کروں گا تو انصاف کرنے والا کون ہے؟ اگر میں انصاف نہیں کرتا تو تو خائب و خاسر ہو چکا ہوتا۔" پس حضرت عمر فاروق نے عرض کی: "یا رسول اللہ ﷺ! آپ مجھے اجازت عطا فرمائیں، تاکہ میں اس کی گردن مار دوں۔" آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اسے چھوڑ دو۔ اس کے بہت سے ساتھی ہیں، جن کی نمازوں اور روزوں کے بالمقابل تم اپنی نماز اور روزے کو بہت کم سمجھو گے۔ وہ لوگ قرآن پڑھیں گے کہ قرآن ان کے حلق کے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔
تیر کے پیکان کو دیکھا جائے تو اس میں کچھ نہ پایا جائے گا، پھر اس کے پٹھا کو دیکھا جائے تو اس میں کوئی چیز نہیں پائی جائے گی، پھر اس کے (پیکان و پر کا) درمیانی حصہ دیکھا جائے تو اس میں کوئی چیز نہیں پائی جائے گی، پھر اس کے پر کو دیکھا جائے تو اس میں کچھ نہیں پایا جائے گا۔ وہ گوبر اور خون سے گزر چکا ہو گا۔ ان کی نشانی ایک آدمی ہے کہ اس کا ایک بازو عورت کی چھاتی کی طرح ہو گا، یا گوشت کے ٹکڑے کی طرح ہو گا، حرکت کرتا رہے گا، اور یہ لوگ مومنین کی تفریق کے وقت نکلیں گے۔"
حضرت ابو سعید خدری نے کہا: پس میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث حضرت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سنی، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے جنگ فرمائی، اور میں ان کے ساتھ تھا تو انہوں نے اس آدمی کے بارے میں حکم دیا، پس اسے تلاش کر کے لایا گیا، یہاں تک کہ میں نے اسے اسی صفت پر پایا جو صفت حضورِ اقدس عالمِ ما کان و ما یکون صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بتائی تھی۔
توضیح: یہاں عبادت سے مراد عباداتِ نافلہ ہیں، کیونکہ خوارج کا ابتدائی ظہور عہدِ مرتضوی میں ہوا، اور اس عہد کے مومنین سے متعلق یہ خیال نہیں کیا جا سکتا کہ وہ فرائض و واجبات میں کوتاہی کرتے تھے، اور جب عہدِ اول میں مفہوم واضح ہو گیا تو ازمنۂ مابعد میں اس مفہومِ متعین میں بلا دلیل تغیر و تبدل نہیں ہو سکتا، نیز اہلِ حق کی علامت ترکِ فرائض و واجبات بتائی جائے، یہ قرینِ قیاس نہیں، پس حدیثِ مذکور کا مفہوم یہ ہے کہ جماعتِ حقہ میں اگر سو رکعت نوافل پڑھنے والے ہوں تو خوارج میں اس سے زائد دو سو، تین سو رکعت نوافل پڑھنے والے پائے جائیں گے۔ اگر اہلِ حق میں زاہدین و عابدین کی تعداد مثلاً دس ہو تو خوارج میں تعدادِ زاہدین اہلِ حق سے زائد ہو۔ "عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ ۙ تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً" کی بشارت ایسے ہی عابدین کے لیے ہے کہ وہ عبادت بہت کریں گے، اور بداعتقادی کے سبب جہنم کے مستحق قرار پائیں گے، پس تمام مسلمانوں کو سب سے پہلے عقائد کی درستگی اور صحبت کی فکر ہونی چاہیے، اور فرض عبادتوں کی پابندی کرنی لازم ہے۔ فرض نماز، روزہ، حج و زکوٰۃ کو چھوڑنا حرام اور گناہ کا کام ہے۔ سنت اور نفل عبادتیں ترک کرنا گناہ نہیں لیکن ثواب سے محرومی ضرور ہے۔
خوارج کی کثرتِ عبادت سے عباداتِ نافلہ کی کثرت مراد ہے، کیونکہ فرائض میں کثرت و قلت کا مفہوم جاری نہیں ہوتا۔ فرائض متعین ہیں، خواہ نماز ہو یا روزہ، حج ہو یا زکوٰۃ؛ فرض نماز کی رکعات متعین، فرض روزہ کے ایام متعین، فرض صدقہ یعنی زکوٰۃ کی مقدار متعین، فرض حج کی تعداد متعین ہے۔ ان فرض امور میں کمی و بیشی کا کوئی سوال نہیں ہوتا۔
فرائض کی عدم ادائیگی یعنی ترکِ فرائض مذہبِ حق کی علامت نہیں ہو سکتی، کیونکہ ترکِ فرائض بذاتِ خود حرام ہے، اور حرام شئی، اہلِ حق کی حقانیت کی نشانی و علامت نہیں ہو سکتی۔ ہاں، یہ ممکن ہے کہ اس امرِ حرام کا ارتکاب اہلِ حق کے بعض افراد کرتے ہوں۔ اس وجہ سے وہ گنہگار ہوں گے، اور اس گناہ سے توبہ کرنی ہوگی، قضا نماز و روزہ ادا کرنے ہوں گے۔
(۴) عشقِ نبوی کو معیارِ نجات اعتقاد کرنا
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّاعَةِ فَقَالَ: مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: وَمَاذَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟ قَالَ: لَا شَيْءَ، إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ فَقَالَ: أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ۔ قَالَ أَنَسٌ: فَمَا فَرِحْنَا بِشَيْءٍ فَرْحَنَا بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ۔ قَالَ أَنَسٌ: فَأَنَا أُحِبُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ مَعَهُمْ بِحُبِّي إِيَّاهُمْ، وَإِنْ لَمْ أَعْمَل| بِمِثْلِ أَعْمَالِهِمْ۔
[صحیح البخاری، ج 1، ص 521]
(ترجمہ) حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت سید الاولین والآخرین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے قیامت کے بارے میں دریافت کیا، پس اس نے عرض کیا: "قیامت کب ہے؟" آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم نے قیامت کے لیے کیا تیاری کی ہے؟" اس نے جواب دیا: "کچھ نہیں، مگر یہ کہ میں اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں"، پس آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "تم (آخرت میں) اس کے ساتھ رہو گے جس سے تم محبت کرتے ہو۔" حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: پس ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قولِ مبارک "أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ" سے اتنا خوش ہوئے کہ اتنا کبھی خوش نہ ہوئے تھے۔ حضرت انس نے کہا کہ میں حضرت سیدِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور ابو بکر و عمر فاروق رضی اللہ عنہما سے محبت کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ ان کے ساتھ رہوں گا میرے ان سے محبت کرنے کی وجہ سے، اگرچہ میں ان کے عمل کے مثل عمل نہ کروں۔
توضیح: جب کوئی انسان اپنے کسی عمل کو بیان کرتا ہے تو اعمال میں سے اس عمل کو ضرور بیان کرتا ہے، جس کی قبولیت کی امید اسے ہو، اور جو اس کا بڑا عمل ہو۔ حدیثِ مرقومہ بالا سے یہ حقیقت بالکل روشن ہو گئی کہ صحابہ کرام حبِ نبوی کو اپنا مقبول اور سب سے بڑا عمل شمار کرتے تھے، اور اپنے اسی عمل کو قابلِ ذکر سمجھتے تھے، اور مدارِ نجات اعتقاد کرتے، دیگر اعمال کا ذکر نہ فرماتے۔ اب جس کے پاس حبِ نبوی کی دولت نہ ہو، اس کی اپنی نظر بھی اپنی عبادتوں پر جا رکتی ہے، خواہ وہ عبادات مقبول ہوں یا مردود، لیکن وہ محض اپنی عبادت کو دیکھ کر اترانے لگتا ہے، انجام کی اسے خبر بھی نہیں ہوتی، اور شیطان اسے اس کی عبادتوں کے سبب دیگر مومنین سے افضل بتانا شروع کر دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ خود بھی ”ہمچنیں دیگرے نیست“ کے زعمِ باطل میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ صحابہ کرام راتوں کو عبادتِ الٰہی میں گزار دیتے لیکن ان عبادتوں کا ذکر بھی زبان پر نہ لاتے، جبکہ خوارج اپنی عبادتوں کے سبب غرور میں مبتلا ہو گئے۔
جاری ہے...
