| عنوان: | احمد رضا اور تاریخ اسلامی (قسط: اوّل) |
|---|---|
| تحریر: | ڈاکٹر محمد سجاد عالم رضوی مصباحی |
| پیش کش: | زہرہ یاسمین |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
تاریخ اور تاریخ نگاری ایک تعارف:
چیز رابنسن، ایک مغربی اسکالر، نے اپنی کتاب ’’اسلامک ہسٹوریوگرافی‘‘ میں کہا ہے کہ یونانی اور لاطینی زبان سے نکلنے والا لفظ “ہسٹوریا” کا عام معنی تلاش و تفتیش ہے۔ اس لفظ کا استعمال اس علم کے لیے ہوتا تھا جس کو ہم تاریخ کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے مفہوم میں پہلے جغرافیہ، لوک کہانی (افسانے و حکایات) اور علمِ نسلیات (اتھنوگرافی) کو بھی شامل کیا جاتا تھا۔ [روبنسن، ص: 6]
علمِ تاریخ پر ایک مشہور کتاب ’’وہاٹ از ہسٹری‘‘ کے مصنف ای. ایچ. کار نے تاریخ نگاری کی تعریف میں کہا ہے کہ ’’مورخ اور حقائق کے درمیان تلازم کا رشتہ ہے۔ حقائق کے بغیر مورخ بے جان اور بے معنی ہیں‘‘۔ اس لیے اس کی نظر میں تاریخ نگاری دراصل حقائق اور مورخ کے درمیان ایک مسلسل تعامل ہے اور ماضی و حال کے مابین نہ ختم ہونے والا ایک مکالمہ (ڈائیلاگ) ہے۔ [کار، ص: 30]
اس کو اس نے سماج اور فرد کے باہمی تعلق، تاریخ، سائنس اور اخلاقیات، اسباب و علل کی تلاش و جستجو، تاریخ اور نظریہ ارتقاء اور پھر تاریخ نگاری کے بدلتے ہوئے رجحانات کے حوالے سے بیان کیا ہے۔
روزنتھال نے اپنی کتاب ’’اے ہسٹری آف مسلم ہسٹوریوگرافی‘‘ میں تاریخ نگاری کی تعریف میں کہا ہے کہ تاریخ نگاری انسانوں کی جماعت یا افراد کی اس سرگرمی کا لفظی بیان ہے جس پر غور و فکر کیا جائے یا جس نے اپنا گہرا اثر اس جماعت یا ان افراد کی ترقی اور کامیابی پر ڈالا ہے۔ جب کہ جدید ذہن والوں کی نظر میں تاریخ کے عمومی تصور میں کم سے کم نظریاتی طور پر سارے جانداروں اور بے جان چیزوں کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ [روزنتھال، ص: 10-11]
ان تعریفات پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ علمِ تاریخ اور تاریخ نگاری کے دائرہ کار میں توسیع اور تحدید کا عمل جاری ہے۔ مغربی اسکالرز نے تاریخ کی تعریف میں بدلتے فکری، سیاسی، اور معاشی آفاق اور رجحانات کو ملحوظِ نظر رکھا ہے۔ مگر جب وہ اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ اور تاریخ نگاری کی روایت پر بات کرتے ہیں تو ان کی نمائندگی کرتے ہوئے فرانز روزنتھال کہتے ہیں کہ مسلم تاریخ نگاری ان کاموں (کتابوں) پر مشتمل ہے جن کو مسلمانوں نے اپنی ادبی تاریخ کے ایک مخصوص وقت میں تاریخی کام (کتب) سمجھا اور اسی کے ساتھ ان میں مواد کی ایک معقول مقدار بھی موجود ہے جن کی درجہ بندی ہماری تاریخ نگاری کی تعریف کی روشنی میں غیر تاریخی [مواد] کے طور پر کی جا سکتی ہے۔ [روزنتھال، ص: 17]
اس طرح سے اسلامی تاریخ کے مواد کے مطالعہ میں جدید دور کے معیارات و منہاجیات کے نام پر شبہات و اوہام پھیلائے جا رہے ہیں۔ کچھ نام نہاد مسلم مورخین نے بھی ان جدید رجحانات کا اثر قبول کیا ہے اور تاریخِ اسلامی کے مسلمہ موضوعات کو اپنے مخصوص نظریات اور مفادات کی خاطر متنازع بنانے کے لیے بزعمِ خود اپنی منفرد ’’تحقیق‘‘ کے لیے داد و تحسین حاصل کر رہے ہیں۔
تاریخ کا مفہوم و مواقع استعمال:
عربی زبان میں تاریخ کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
-
توقیت و تقویم: اس معنی کے اعتبار سے تاریخ کا تعلق دنوں، مہینوں اور سالوں کی تعیین سے ہے۔ اس سلسلے میں کلینڈر، جداول، زیجات کی تیاری اور شمسی و قمری تقویم کی تیاری اور قمری سے شمسی تقویم میں تبدیلی کے طریقہ ہائے کار پر گفتگو ہوتی ہے۔
-
تاریخ کا لفظ ترتیبِ زمانی کی رعایت کے ساتھ ماضی کے واقعات و حالات کا سلسلہ وار بیان ہے۔ اور آج کل عام طور پر تاریخ سے یہی معنی لیا جاتا ہے۔
-
لفظ تاریخ کا استعمال اس فن کے لیے بھی کیا جاتا ہے جس میں عربی حروف کی اعداد کی روشنی میں زمانہ اور وقت کی ترسیم کا کام لیا جاتا ہے۔ اس کو عام طور پر تاریخ گوئی کا نام دیا جاتا ہے۔ [تفصیل کے لیے دیکھیں انسائیکلو پیڈیا آف اسلام، نیو ایڈیشن، جلد: 10، 2000ء]
عربی زبان میں فن تاریخ نگاری کے ایک بڑے نام ’’السخاوی‘‘ نے کہا ہے کہ تاریخ ایسا فن ہے جس میں زمانے کے واقعات پر تعین و توقیت کی حیثیت سے بحث کی جاتی ہے اور اس کا موضوع بحث انسان اور زمانہ ہے۔ [السخاوی، الاعلان بالتوبیخ لمن ذم التاریخ]
جہاں تک تاریخ کے اسلامی تصور کی بات ہے تو اس سلسلے میں قرآن مجید کی آیاتِ کریمہ کی روشنی میں جو بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ قصص و امثال اور روایات و حکایات کا مقصد تدبر و تفکر اور عبرت و موعظت ہے۔ تاہم قرآن مجید کسی خبر کو ماننے سے پہلے اس کے بارے میں پوری تحقیق کر لینے کی تعلیم دیتا ہے۔ اس طرح سے تاریخ کی مذہبی، اخلاقی اور روحانی اہمیت سمجھ میں آتی ہے کہ قوموں اور امتوں کے عروج و زوال اور ان کے انجامِ کار پر غور و فکر کر کے انسان ایسا طرزِ زندگی اپنائے جس کی بدولت وہ ثواب و انعام کا مستحق ہو سکے، اور عذاب و عقاب سے خود کو بچائے۔
مسلم تاریخ نگاری:
مسلمانوں میں تاریخ اور علمِ تاریخ کے شعور کو بیدار کرنے میں قرآن مجید کو کلیدی مقام حاصل ہے۔ اس میں ایک ایسے الٰہی نظام کا بیان ہے جو توحید، وجود، نبوت و رسالت اور قیامت کے عقائد پر مشتمل ہے۔ اس میں انسانوں کو کائنات، انفس و آفاق اور سابقہ امتوں اور قوموں کے حالات و واقعات پر غور و فکر کرنے اور ان سے درسِ عبرت حاصل کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ قرآن مجید کی تدوین کا کام عہدِ رسالت میں ہی ہو چکا تھا۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کے اعتقاد کی بنیاد پر ابتدائی دور میں مسلمانوں نے تقویٰ اور تحقیق کے جذبے کے ساتھ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ، کردار و عمل اور ارشادات کی حفاظت اور روایت کا کام شروع کیا۔ یہ عمل ابتدا میں زبانی روایت اور حفظ اور پھر کتابت کے ذریعے ترقی کرتا گیا۔
اس سلسلے میں ایک طرف احادیثِ طیبہ کی تدوین پر توجہ دی گئی تو دوسری طرف سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کام شروع ہوا۔ اسلامی قانون، عبادات و معاملات اور مثالی کردار و عمل کی ضرورت نے ان سارے مواد کو صحت اور یقین کے ساتھ جمع کرنے کے جذبے کو فروغ دیا۔ اس لیے واقعات اور اقوال کی روایت میں اسناد کو اہمیت دی گئی۔ اور محدثینِ عظام اور علمائے کرام نے ان مواد کی تحقیق اور روایت کرنے والوں کے حالات اور کردار کی تفتیش (جرح و تعدیل) پر بھی خصوصی توجہ دی۔ ایک عینی شاہد کی سند پر اخبار و روایات کا بیان اسلامی تاریخ کی امتیازی خصوصیت ہے۔ اور اس سلسلے میں خبر، اسناد، قرأت، کتابت اور سماعت کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ خبر و اسناد کی اکائی اسلامی تاریخ نگاری کا لازمی و ضروری عنصر تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اس ابتدائی دور میں تاریخ نگاری کا کام بہت حد تک ترتیب، تدوین اور تالیف تک محدود تھا۔ اور واقعات و روایات میں مرتبین، مؤلفین اور مدونین اپنی ذاتی رائے کو بیان کرنے سے احتراز کرتے تھے۔
یہ اس لیے تھا کہ واقعات کے جمع و تدوین کا عمل احادیثِ طیبہ کی جمع و تدوین کے ضمن میں شروع ہوا۔ اس میں لسانی اور سماعی طریقۂ ترسیل کو اختیار کیا گیا۔ اور اس میں مرتب کی ذاتی رائے کی بجائے روایت پسندی کو ترجیح دی گئی۔ ہاں اس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ روایات میں کبھی کبھی تعارض بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ (تاہم دفعِ تعارض کے بھی اصول و ضوابط متعین کیے گئے ہیں)۔ اس طرح سے درست قانونی ہدایات اور تاریخ نگاری کے تحفظ کا شعور پیدا ہوا، محدثین و فقہا کی جماعت نے قرآن و حدیث کے علم پر توجہ مرکوز کی اور مورخین و اخباریین نے ماضی کے مذہبی، سیاسی اور فوجی حالات کو جمع کیا۔ کیونکہ ان سے بھی اخلاقی تعلیمات اور مثالی نمونہ ہائے عمل سیکھے جا سکتے تھے۔ اس طرح سے تاریخی نگاری ایک فن کے طور پر پروان چڑھی اور اس کی اصناف کا ارتقا عمل میں آیا۔
ابتدائی دور میں تاریخِ اسلامی کی تین اصناف:
ابتدائی دور کی تاریخِ اسلامی کی تین نمایاں اصناف تھیں:
-
سیرت و مغازی
-
طبقات و تراجم
-
اور تاریخ یعنی زمانہ کے اعتبار سے واقعات کا ترتیب وار بیان۔ ان تینوں اصناف اور ان پر کام کرنے والے مرتبین و مصنفین کو ادوار کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔
دورِ اول کے مورخین:
اسلامی تاریخ نگاری کے تشکیلی دور جو ابتدا سے نویں صدی عیسوی تک ہے، کے نمایاں مورخین میں عروہ بن زبیر، ابان بن عثمان بن عفان، وہب بن منبہ، ابن شہاب زہری، ابن اسحاق اور ابو مخنف، ہشام ابن الکلبی، الواقدی، ابن ہشام، ابن سعد اور خلیفہ ابن خیاط، ابن عبدالحکم، ابن قتیبہ، الدینوری، بلاذری اور محمد ابن جریر طبری، یعقوبی، ابن فضلان وغیرہ کا نام لیا جاتا ہے۔ جب کہ کلاسیکی دور (جو نویں صدی سے پندرہویں صدی عیسوی تک ہے) میں ابوبکر الصولی، المسعودی، ابن مسکویہ، عتبی، الخطیب البغدادی، ابو نعیم اصفہانی، ابوالفضل البیہقی، ابو الفرج ابن الجوزی، یاقوت الحموی، ابن الاثیر، ابن عساکر، ابن العدیم، الذہبی، ابن الکثیر، المقریزی، ابن حجر عسقلانی، العینی، السخاوی، السیوطی، ابن الخطیب، ابن خلدون، البیرونی وغیرہ کا نام لیا جاتا ہے۔
ابتدائی دور میں سیرت کے میدان میں سیرت ابن اسحاق، سیرت ابن ہشام اور الواقدی کی کتاب المغازی کو شامل کیا گیا ہے، جب کہ طبقات و تراجم میں ابن سعد کی طبقات اور بلاذری کی ’’انساب الاشراف‘‘ کو بیان کیا جاتا ہے۔ اور تاریخ (واقعات کا سلسلہ وار بیان) کے میدان میں عمومی تاریخ پر بلاذری کی ’’فتوح البلدان‘‘، دیناوری کی الاخبار الطوال، طبری کی تاریخ الرسل و الملوک، مسعودی کی مروج الذہب و معادن الجوہر، ابن مسکویہ کی تجارب الامم، جب کہ مقامی تاریخ پر ابن طیفور کی تاریخ بغداد وغیرہ کو شمار کیا جاتا ہے۔
بعد کے دور میں ابو نعیم کی حلیۃ الاولیاء، خطیب بغدادی کی تاریخ بغداد، ابن عساکر کی تاریخ دمشق، سیوطی کی تاریخ الخلفاء، ابن الاثیر کی الکامل فی التاریخ، ابن خلکان کی وفیات الاعیان، الصفدی کی الوافی بالوفیات اور ابن خلدون کی تاریخ (مقدمہ اور کتاب العبر) وغیرہ کو بیان کیا جاتا ہے۔
اسلامی تاریخ میں اعتقادیات کی اہمیت:
ان مورخین اور ان کی کتابوں کے بارے میں یہ بات ملحوظِ نظر رہے کہ ان میں سے کچھ مورخین نے تاریخی مواد میں اسناد کو بنیادی اہمیت دی ہے۔ جب کہ کچھ دیگر مورخین نے بیانیہ انداز اپنایا ہے۔ کچھ مورخین نے زمانی ترتیب کا خیال رکھا ہے تو کچھ نے عہدِ خلافت کے اعتبار سے واقعات کا ترتیب وار بیان کیا ہے۔ کچھ کتابیں عالمی و آفاقی تاریخ نگاری پر ہیں تو کچھ کتابوں میں علاقائی واقعات اور شخصیات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ تاریخ نگاری کے کلاسیکل دور میں کچھ مورخین نے اعتقادی میلانات، مسلکی وابستگی اور سیاسی موقف کو بھی پیشِ نظر رکھا ہے۔ مثال کے طور پر یعقوبی شیعی عقائد و خیالات رکھتا تھا۔ ابن خلدون میں اعتزال تھا اور مسعودی میں شیعیت کی طرف میلان کی بات کی جاتی ہے۔
اس لیے اسلامی تاریخ کے موضوع پر ان کتابوں کے مطالعہ سے پہلے ان کے لکھنے والے مورخین کے حالات اور ذہنی و فکری میلانات کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔ اور اسلامی تاریخ کے ابتدائی دور کے مطالعہ میں صرف ان کتبِ تاریخ پر ہی انحصار نہ کیا جائے، بلکہ ان کے ساتھ قرآن و احادیث کو بھی مراجع اور مصادر کے طور پر سامنے رکھا جائے۔ کیونکہ چند جانبدار مورخین کی وجہ سے مغربی اسکالرز اور مستشرقین نے اسلامی تاریخ کے ابتدائی دور کو مشکوک ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلے میں اختلافِ روایات یا پھر کچھ روایتوں میں پائے جانے والے تضاد کو اس تشکیک کی بنیاد بنایا گیا ہے۔ اہلِ استشراق نے اسلامی تاریخ نگاری اور واقعات و روایات کے وقوع کے درمیانی فاصلے کی بنیاد پر بھی اسلامی تاریخ کو زبانی طریقۂ ترسیل پر مبنی ہونے کی وجہ سے مشکوک قرار دیا ہے۔ جب کہ یہ حقیقت ہے کہ واقعات و روایات کے نقل کرنے کے سلسلے میں علمائے کرام نے واضح اصول متعین کیے ہیں۔ اور انہوں نے ان کی روشنی میں ہی واقعات کو قبول و رد کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ اس کے علاوہ صرف تاریخ کی کتابیں ہی واحد مصادر نہیں، بلکہ اسلام کے ابتدائی دور کی تاریخ کے لیے قرآن و احادیث بھی مراجع کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جمہور نے اسی وجہ سے روایت پسندی کو ترجیح دی ہے جس میں کتاب و سنت کو مرکزی مقام حاصل ہے۔
جب کہ جدید دور میں اہلِ مغرب عقلیت پسندی، انفرادی ذہنی میلانات اور تاریخی واقعات کی مذہب بیزار مادی تعبیر کو پسند کرتے ہیں۔ جس میں دنیا اور کائنات میں رونما ہونے والے واقعات میں کسی مافوق الفطرت ہستی کی کوئی جگہ نہیں۔ وہ لوگ اسلامی تاریخ کے ان مصنفین کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں جن کی تحریروں میں ان کو عقلیت پسندی اور واقعات کے تجزیے میں مادی و فطری اسباب و علل کی طرف میلان اور روایت پسندی سے انحراف کے آثار نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ مغرب کی نظر میں جو اہمیت ابن خلدون اور المسعودی کی ہے، وہ طبری اور ابن الاثیر کو حاصل نہیں۔
تاریخِ اسلامی اور امام احمد رضا کا منہاجیاتی اسلوب:
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کے بہت سے فتاویٰ اور رسائل ایسے ہیں جن کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تاریخِ اسلامی کے معرکۃ الآراء مباحث و موضوعات کے سیاق و سباق، پس منظر، اسباب و علل اور ان کے نتائج و اثرات پر آپ کی گہری نظر تھی۔ (ان موضوعات پر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی علمی نگارشات کی تفصیل کے لیے علامہ محمد عبدالمبین نعمانی قادری رضوی مدظلہ العالی کی ’’المصنفات الرضویہ‘‘ کو دیکھیں جو اس مجموعے کی زینت ہے۔) ان موضوعات پر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے اپنی تحریروں میں جا بجا اسلامی تاریخ نگاری کی امتیازی خصوصیات کو ملحوظِ نظر رکھا ہے۔ اس سلسلے میں روایت، درایت، نقد و نظر، دفعِ تعارض، اسناد اور اسماء الرجال کے اصول کی رعایت خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ تفسیر و حدیث میں آپ کی غیر معمولی مہارت، فقہ اسلامی میں عبقریت، علمِ توقیت و زیجات پر دسترس اور بدلتے سیاسی، معاشی، سماجی اور مذہبی منظرنامے سے مدبرانہ واقفیت کی کلیدی حیثیت ہے۔
اسی کے ساتھ آپ نے اپنی خداداد ناقدانہ و مجتہدانہ بصیرت کا استعمال کیا۔ کئی ایسے مسائل ہیں جن میں آپ نے جمہور علمائے کرام کے موقف کو دلائل و شواہد فراہم کیے ہیں یا پھر ان میں اپنی نئی تحقیق کے تابندہ نقوش چھوڑے ہیں۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے تاریخ نگاری کے ’’جدید رجحانات‘‘ سے متاثر یا ان سے مرعوب ’’مورخین‘‘ کی شدید گرفت بھی کی ہے، جو اپنے مخصوص ذہنی و فکری میلان، اعتقادی و مسلکی نقطہ ہائے نظر یا پھر سماجی و سیاسی موقف کی روشنی میں تاریخِ اسلامی کی من مانی تعبیر و تشریح کر رہے تھے۔ تاریخ کے مطالعہ میں جن جدید رجحانات سے وہ متاثر تھے ان میں دنیا اور کائنات کے مطالعہ میں عقلیت پسندی اور انسان دوستی کے تصورات کو مرکزیت حاصل ہے۔ ان کی وجہ سے اب حالات اور واقعات کی تعلیل، توجیہ اور تشریح میں مادیت پر مبنی اصولوں اور منہاجیات کو اہمیت دی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انسانی معاشرہ کی تشکیل، سیاسی نظام کا ارتقا اور اس میں تبدیلی، معیشت، صنعت و حرفت، ادب و فنونِ لطیفہ، مادی کلچر، عقائد اور مذہبی اعمال و رسوم کا ارتقا اور ان میں تبدیلی کے پسِ پشت فطری اور مادی اسباب و عوامل کو کارفرما سمجھا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے انسانی معاشرہ میں رونما ہونے والے حالات پر کسی مافوق الفطرت ہستی کے اثر انداز ہونے کے نظریہ کا انکار کیا گیا۔ دنیا اور نسلِ انسانی کے ارتقائی نظریہ کی بنیاد پر انسانی معاشرہ کے ارتقائی پہلو کو اہمیت دی گئی ہے۔ اس لیے اس فکر کے مطابق انسانی معاشرہ اور خود انسان، پستی اور ابتر حال سے بلندی اور بہتر حالت کی طرف ایک مسلسل سفر میں ہے۔ جب کہ مذہبی تعلیمات کی روشنی میں معاشرہ کمال سے زوال کی طرف گامزن ہے۔ جدید افکار و نظریات کے بالمقابل مذہب کی تعلیمات کا دعویٰ ہے کہ تاریخ کا عمل مائل بہ ارتقا نہیں ہے بلکہ مائل بہ انحطاط ہے۔
