Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

امام احمد رضا اور اسلامی تاریخ (قسط: دوم)|ڈاکٹر محمد سجاد عالم رضوی مصباحی

امام احمد رضا اور اسلامی تاریخ (قسط: دوم)
عنوان: امام احمد رضا اور اسلامی تاریخ (قسط: دوم)
تحریر: ڈاکٹر محمد سجاد عالم رضوی مصباحی
پیش کش: زہرہ یاسمین
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

اعلیٰ حضرت کی تاریخ نگاری کی تین جہتیں:

تاریخِ اسلامی پر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی تحقیقی نگارشات کے سرسری جائزہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے تاریخ کے تینوں معنوں (توقیت و تقویم، تاریخ نگاری اور تاریخ گوئی) میں آپ نے تابندہ علمی و تحقیقی نقوش چھوڑے ہیں۔ جہاں تک تاریخ نگاری میں منہاجیاتی اسلوب کی بات ہے تو اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے تاریخی واقعات و روایات کے تجزیہ میں قرآنی آیات اور احادیثِ طیبہ، اقوالِ صحابہ کرام اور ارشاداتِ ائمہ عظام کو اولیت دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے مذہب بیزار مادیت پسند رجحانات کے مطابق تاریخِ اسلامی کی تشریح کی بجائے مستند روایات کی روشنی میں حالات و واقعات کا تجزیہ کیا ہے۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ اسلامی تاریخ نگاری میں ’’نیچری‘‘ افکار کے انطباق کے خلاف ہیں اور روایت پسندی کی حمایت کرتے ہیں، اور انفرادی فکر کی بجائے جمہور کے موقف کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس مختصر سے مضمون میں تاریخِ اسلامی کی توضیح و تشریح میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی نمایاں خدمات کا احاطہ بہت ہی مشکل ہے۔

سردست ’’مشتے نمونہ از خروارے‘‘ کے طور پر تاریخِ اسلامی کے دو اہم موضوعات پر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی تاریخ دانی اور تحقیقی کاوشوں کے اہم پہلوؤں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

تاریخ: تقویم و توقیت کے معنی میں:

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کو جن علوم وفنون میں کمال حاصل تھا ان میں علم توقیت، علمِ زیجات، ہیئت و تشریح کو بھی شمار کیا جاتا ہے۔ ان علوم وفنون میں آپ کے مستقل رسالے بھی ہیں۔ [تفصیل کے لیے دیکھیں علامہ ومولانا محمد عبدالمبین نعمانی قادری رضوی مدظلہ العالی کی ’’المصنفات الرضویہ یعنی تصانیفِ امام احمد رضا‘‘ مطبوعہ رضا اکیڈمی، لاہور، مولانا محمد شہزاد قادری ترابی کی کتاب بعنوان امام احمد رضا اور سائنسی تحقیق، زاویہ پبلشرز، لاہور، 2012ء اور جناب عمر شہزاد کے ایم فل کا مقالہ بعنوان ’’مولانا احمد رضا خان کی علم الطبیعیات میں خدمات کا جائزہ اور جدید سائنسی نظریات سے تقابل‘‘، شعبہ علومِ اسلامیہ، جی سی یونیورسٹی، فیصل آباد، 2010ء۔ 2012ء]

ان علوم وفنون میں مہارت کی بدولت اور احادیثِ طیبہ، کتبِ سیر اور تاریخی مصادر و مراجع پر گہری نظر کی بنیاد پر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے ’’ولادتِ نبوی کی تاریخ‘‘ کے مسئلے پر عمدہ تحقیق فرمائی ہے۔ جس میں آپ نے کچھ نام نہاد اصلاحی تحریکوں کے علم برداروں اور مستشرقین کے ذریعے پھیلائے گئے شکوک و شبہات کا معقول جواب دیا ہے اور جمہور کے عمل کی مکمل تائید کی ہے۔ اسی کے ساتھ مختلف روایتوں میں تطبیق کا کام بھی کیا ہے۔ اس موضوع پر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا ایک مستقل رسالہ ہے۔ اس کا نام ’’نُطْقُ الْهِلَالِ بِأَرْخِ وِلَادِ الْحَبِيبِ وَالْوِصَالِ‘‘ ہے۔ یہ رسالہ فتاویٰ رضویہ مترجم، مطبوعہ، رضا فاؤنڈیشن کی 26 ویں جلد (ص: 405-474) میں شامل ہے۔

اس موضوع پر سیرت، تاریخ اور احادیث کی کتابوں میں بظاہر تضاد نظر آتا ہے۔ مستشرقین نے اس تضاد کو بنیاد بنا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ پر لکھی گئی کتابوں کی استناد پر اعتراضات کیے ہیں، اور ان میں مذکور روایتوں کو مشکوک قرار دیا ہے۔ ان ہی کی اتباع میں کچھ نام نہاد ’’مسلم محققین‘‘ نے بارہ ربیع الاول شریف کے دن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے سے انکار کیا ہے۔

ولادتِ شریفہ کی تاریخ کی تحقیق:

اس مسئلے میں استقرارِ نطفۂ زکیہ سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے مہینہ اور تاریخ، مدتِ حمل شریف، ولادتِ شریف اور وصالِ شریف کے دن، مہینہ اور تاریخ پر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے تفصیلی کلام کیا ہے۔ استقرارِ نطفۂ زکیہ کے مہینے اور تاریخ کے سلسلے میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے کہا ہے کہ بعض غرۂ رجب کہتے ہیں، اور بعض دہم محرم۔ اور صحیح یہ ہے کہ ماہِ حج کی بارہویں تاریخ۔ اس کو مدارج میں صحیح کہا گیا ہے۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے اس کی تائید میں ابن سعد اور ابن عساکر کی روایت کردہ حدیث کو بیان کیا ہے کہ زنِ شحمیہ نے حضرت عبداللہ کو اپنی طرف بلایا تو آپ نے رمی جمار کا عذر فرمایا۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا استدلال ہے کہ رمی جمار حج میں ہی ہوتی ہے۔ جہاں تک اس مسئلہ میں دن کے تعین کے بات ہے تو اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے لکھا ہے کہ روزِ دوشنبہ کہا گیا ہے۔ اور اصح یہ ہے کہ شبِ جمعہ تھی۔ اسی لیے امام احمد رضا علیہ الرحمہ شبِ جمعہ کو شبِ قدر سے افضل کہتے ہیں کہ یہ خیر و برکت و کرامت و سعادت جو اس میں اتری اس کے ہمسر نہ کبھی اتری، نہ قیامت تک اترے۔ وہاں [سورۃ القدر: 4] ”تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا“ ہے، یہاں مولائے ملائکہ و آقائے روح کا نزولِ اجلال عظیم الفتوح ہے۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔

مدتِ حمل شریف کے سلسلے، دس مہینے، نو مہینے، سات مہینے، چھ مہینے سب کچھ کہا گیا ہے اور صحیح نو مہینے ہیں۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ولادتِ شریف کا دن بالاتفاق دوشنبہ (پیر کا دن) ہے۔ ولادتِ شریف کے مہینے کے سلسلے میں اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ رجب، صفر، ربیع الاول، محرم، رمضان سب کچھ کہا گیا اور صحیح و مشہور و قولِ جمہور ربیع الاول ہے۔ پس انکارِ اگر ترجیحاتِ علماء و اختیارِ جمہور سے ناواقفی کی بنا پر ہو تو جہل، ورنہ مرکب کہ اس سے بدتر ہے۔ [ص: 405-409]

اس موضوع پر جن روایتوں کو علمائے کرام نے صحیح قرار دیا ہے ان کو ماننے سے جو اشکال پیدا ہوتا ہے اس کے بارے میں اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:

’’فقیر کہتا ہے: مگر اس تقدیر پر استقرارِ حمل بماہِ ذی الحجہ میں صریح اشکال کہ دربارۂ حمل چھ مہینے سے کمی عادۃً محال، اور خود اوپر گنوا آئے کہ مدتِ حمل شریف نہ ماہ (نو مہینے) ہونا اصح الاقوال، تو یہ تینوں تصحیحیں کیونکر مطابق ہوں‘‘۔

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے علمِ توقیت، علمِ زیجات اور علمِ ہیئت میں خداداد مہارت کی بدولت اس مسئلہ کی نفیس تحقیق فرمائی ہے۔ آپ لکھتے ہیں:

لَكِنِّي أَقُولُ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ!

مہینے زمانۂ جاہلیت میں معین نہ تھے۔ اہلِ عرب ہمیشہ شہرِ حرام کی تقدیم، تاخیر کر لیتے [القرآن الکریم] جس کے سبب ذی الحجہ ہر ماہ میں دورہ کر جاتا۔ یہاں تک کہ صدیقِ اکبر و مولیٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہما نے جو ہجرت سے نویں سال حج کیا وہ مہینہ واقع میں ذی قعدہ تھا۔ سالِ دہم میں ذی الحجہ اپنے ٹھکانے آیا۔ سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج فرمایا اور ارشاد کیا:

إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللهُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ[رواه الشيخان، صحيح البخاري، صحيح مسلم]

اسی دن سے نسئی نیا منسیا ہوا اور وہی دورۂ دوازدہ ماہ قیامت تک رہا۔ تو کچھ بعید نہیں کہ اس ذی الحجہ سے ربیع الاول تک نو مہینے ہوں۔ شاید شیخ محقق اسی نکتہ کی طرف مشیر ہیں۔ کہ زمانۂ استقرارِ مبارک کو ایامِ حج سے تعبیر کیا نہ کہ ذی الحجہ سے، اگرچہ اس وقت کے عرف میں اسے ذی الحجہ بھی کہنا ممکن تھا۔ اقول: اب مسئلہ ثالثہ و خامسہ کی تصحیحوں پر مسئلہ اولیٰ کا جواب 12 جمادی الآخرہ ہوگا۔ مگر جاہلیت کا دورِ نسئی اگر منتظم مانا جائے یعنی علی التوالی ایک ایک مہینا ہٹاتے ہوں تو سالِ استقرار حملِ اقدس ذی الحجہ شعبان میں پڑتا ہے نہ کہ جمادی الآخرہ میں کہ ذی الحجہ حجۃ الوداع شریف، جب عمرِ اقدس حضورِ پر نور صلی اللہ علیہ وسلم سے تریسٹھواں سال تھا، ذی الحجہ میں آیا۔ تو 12، 12 کے اسقاط سے جب عمرِ اقدس سے تیسرا سال تھا ذی الحجہ میں ہوا اور دوسرا ذی القعدۃ اور پہلا سال شوال، ولادتِ شریفہ رمضان اور سالِ استقرارِ حملِ مبارک شعبان میں۔ لیکن ان نامنظموں کی کوئی بات منظم نہ تھی۔ جب جیسی چاہتے کر لیتے، لٹیرے لوگ جب لوٹ مار چاہتے اور مہینوں کے حسابوں اشہرِ حرام سے ہوتا، اپنے سردار کے پاس آتے اور کہتے اس سال یہ مہینا حلال کر دے، وہ حلال کر دیتا، اور دوسرے سال گنتی پوری کرنے کو حرام ٹھہرا دیتا۔ جیسا کہ ابناء جریر و المنذر و مردویہ و ابو حاتم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا۔ تو اس سال جمادی الآخرہ میں ذی الحجہ ہونا کچھ بعید نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ [ص: 409-411]

اس کے بعد اعلیٰ حضرت نے تاریخ کے سلسلے میں مختلف اقوال نقل کیے ہیں۔ دو، آٹھ، دس، بارہ، سترہ، اٹھارہ، بائیس، سات قول ہیں۔ مگر اشہر و اکثر و ماخوذ و معتبر بارہویں ہے۔ مکہ معظمہ میں ہمیشہ اسی تاریخ مکانِ مولدِ اقدس کی زیارت کرتے ہیں۔ اور خاص اس مکانِ جنت نشان میں اسی تاریخ مجلسِ میلادِ مقدس ہوتی ہے۔ پھر شرحِ مواہب کے حوالے سے اس کو جمہور کے نزدیک مشہور کہا ہے۔ اس سلسلے میں پہلے اعلیٰ حضرت مدارج کی مندرجہ ذیل عبارت نقل کرتے ہیں: (صرف ترجمہ پیش ہے)

’’اگرچہ اکثر محدثین و مورخین کا نظریہ ہے کہ ولادتِ باسعادت آٹھ تاریخ کو ہوئی۔ اہلِ زیجات کا اسی پر اجماع ہے۔ ابن حزم و حمیدی کا یہی مختار ہے اور ابن عباس و جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے۔ مغلطائی نے قولِ اول سے آغاز فرمایا اور امام ذہبی نے مزی کی پیروی کرتے ہوئے تہذیب التہذیب میں اسی پر اعتماد کیا۔ اور دمیاطی نے دس تاریخ کو صحیح قرار دیا۔‘‘

پھر اس کے بعد اعلیٰ حضرت نے اپنی تحقیق پیش فرمائی ہے۔

’’میں کہتا ہوں۔ ہم نے حساب لگایا تو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ اقدس والے سال محرم کا غرۂ وسطیہ (آغاز) جمعرات کے روز پایا تو اس طرح ماہِ ولادتِ کریمہ غرۂ وسطیہ بروز اتوار اور غرۂ ہلالیہ بروز پیر ہوا۔ تو اس طرح پیر کے روز ماہِ ولادتِ مبارکہ کی آٹھ تاریخ بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ زیجات کا اس پر اجماع ہے۔ محض غرۂ وسطیہ کو دیکھنے سے طرفین کے علاوہ تمام اقوال کا محال ہونا ظاہر ہو جاتا ہے اور حق کا علم شب و روز کو بدلنے والے کے پاس ہے۔‘‘ [ص: 411-413]

تاہم اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ امتِ مسلمہ کے عمل کو ترجیح دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ:

’’اور شک نہیں کہ تلقیِ امت بالقبول کے لیے شانِ عظیم ہے۔‘‘

اس کے لیے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے جامع الترمذی، سنن ابی داؤد، اور السنن الکبریٰ کے حوالے سے کئی احادیث نقل فرمائی ہیں۔ خلاصۂ کلام کے طور پر فرماتے ہیں:

’’یعنی مسلمانوں کا روزِ عید الفطر، و عید الاضحیٰ، روزِ عرفہ، سب اس دن ہے جس دن جمہورِ مسلمین خیال کریں۔

وَإِنْ لَمْ يُصَادِفِ الْوَاقِعَ وَنَظِيرُهُ قِبْلَةُ التَّحَرِّي

اگرچہ وہ واقع کے مطابق نہ ہو۔ اس کی نظیر قبلۂ تحری ہے۔ لاجرم عید میلاد والا بھی کہ عیدِ اکبر ہے قول و عملِ جمہورِ مسلمین ہی کے مطابق بہتر ہے۔

فَلِأَوْفَقِ الْعَمَلِ مَا عَلَيْهِ الْعَمَلُ

[ص: 413-414]

علمِ توقیت کے اصول کی روشنی میں ولادت کی شمسی تاریخ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:

’’ولادتِ اقدس ہجرتِ مقدسہ سے ترپن برس پہلے ہے۔ مرفوع 60 سال 5 نڈاک، مرفوع 7 سال مرکا۔ 5 لمحہ کہ 8171 یوم ہوئے۔ یعنی اس سال محرم کا وسطے سال ہجرت کے محرم وسطے سے اتنے دن پہلے تھا۔ سات پر تقسیم کیے سے کچھ نہ بچا۔ اور ابتدائے سال ہجری بحساب اوسط پنجشنبہ ہے۔ تو ان ایامِ مذکورہ کا پچھلا دن چارشنبہ تھا۔ اور جبکہ یہ پورے ہفتے ہیں تو ان کا پہلا دن پنجشنبہ تھا۔ اور جب اس سال کا مدخل پنجشنبہ ہوا تو اس ربیع الاول کا مدخل یکشنبہ، تو دو شنبہ کو نویں تھی۔ یعنی یکم وسطے وہ ہلالی سے ایک دن پہلے ہوئی۔ اب مابین التاریخین ہماری تحقیق میں احرج لّط ہے 5 لمحہ انزھہ لمح۔ محرم و صفر۔ نط۔ ط ربیع الاول۔ نر نامو۔ 5005 سال ھ مخ مط ررضہ 7 سال روراہہ مارچ ال ک تاریخ مطلوب بسمت ابريل 751 معرفت یوم ہماری جداول سے 751۔ 346۔ 235۔ 28 باقی 11۔ پس جدول ریں مقابل اور دیکھا مدخل 751 پنجشنبہ ہوا۔ اور مدخل اپریل چارشنبہ، پس بسمت اپریل دوشنبہ، وھو المطلوب۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔“ [ص: 414]

اس طرح سے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے احادیث، کتبِ سیر اور کتبِ تاریخ اور علمِ توقیت و زیجات کی روشنی میں ولادتِ شریفہ کے بارے میں جمہور کے قول کی تائید کی ہے اور اس سلسلے میں اختلافِ روایات کی وجہ سے جو اشکالات تھے ان کا جواب بھی دیا ہے۔

وفاتِ شریفہ کی تاریخ کی تعیین:

وفاتِ شریفہ کی تاریخ کے سلسلے میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

”قولِ مشہور و معتمدِ جمہور دوازدہم ربیع الاول شریف ہے۔ اور تحقیق یہ ہے کہ حقیقۃً بحسبِ رؤیت مکہ معظمہ ربیع الاول شریف کی تیرہویں تھی۔ مدینہ طیبہ میں رؤیت نہ ہوئی۔ لہٰذا ان کے حساب سے بارہویں ٹھہری۔ وہی رواۃ نے اپنے حساب کی بنا پر روایت کی۔ اور مشہور و مقبولِ جمہور ہوئی۔ یہ حاصلِ تحقیقِ امام بارزی و امام عماد الدین بن کثیر و امام بدر الدین بن جماعہ و غیرہم اکابر محدثین و محققین ہے۔ اس کے سوا دو قول ہیں۔ ایک یکم ربیع الاول شریف ذکرہ موسیٰ بن عقبہ واللیث والخوارزمی وابن زبیر، دوسرا دوم ربیع الاول شریف کہ دور افضیاں کذاب ابو مخنف وکلبی کا قول ہے۔”

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی رائے میں یہ دونوں اقوال محض باطل و نامعتبر بلکہ سراسر محال و نامتصور ہیں۔

”ان دونوں میں سے ہر ایک کا میلانِ نظر حساب کی طرف ہے۔ اس حیثیت سے نہیں کہ ان کی روایت اس باب میں اثبت ہے۔ جبکہ حساب تو ان کے بطلان کا تقاضا کرتا ہے۔ جیسا کہ عنقریب تو اس کی مدد سے جان لے گا جو بہت عطا فرمانے والا بادشاہ ہے۔ کامل میں ایک تیسری حکایت واقع ہوئی ہے۔ جہاں صاحبِ کامل نے جمہور کا معتمد قول، جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے، نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ ایک قول کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھائیس ربیع الاول بروز پیر وصال فرمایا۔ میں کہتا ہوں۔ یہ وہم ہے گویا کہ قائل کو ’خَلَتَا‘ کے بجائے ’بَقِيَتَا‘ کا اشتباہ ہوا۔ کیونکہ حفاظ نے یہاں پر قولِ مشہور کے علاوہ فقط دو ہی قول ذکر کیے ہیں۔“

اس پر اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ:

”تفصیلِ مقام و توضیحِ مرام یہ ہے کہ وفاتِ اقدس ماہِ ربیع الاول شریف روزِ دوشنبہ میں واقع ہوئی۔ اس قدر ثابت و مستحکم و یقینی ہے۔ جس میں اصلاً جائے نزاع نہیں۔ ادھر بلاشبہ ثابت کہ اس ربیع الاول سے پہلے جو ذی الحجہ تھا اس کی پہلی روزِ پنجشنبہ تھی کہ حجۃ الوداع بالاجماع روزِ جمعہ ہے۔ اور جب ذی الحجہ 10ھ کی 29 روزِ پنجشنبہ تھی تو ربیع الاول 11ھ کی 12 کسی طرح روزِ دوشنبہ نہیں آتی۔ کہ اگر ذی الحجہ، محرم، صفر تینوں مہینے 30 کے لیے جائیں تو غرّہ ربیع الاول روزِ چارشنبہ ہوتا ہے اور پیر کی چھٹی اور تیرہویں، اور اگر تینوں 29 کے لیں تو غرہ روز یکشنبہ پڑتا ہے اور پیر کی رؤیت شام چارشنبہ کو ہوئی۔ پنجشنبہ کا غرہ اور جمعہ کا عرفہ۔ مگر مدینہ طیبہ میں رویت دوسرے دن ہوئی۔ تو ذی الحجہ کی پہلی جمعہ ٹھہری۔ اور دو کامل لیجیے تو پہلی سہ شنبہ کی ہوتی ہے۔ اور پیر کی ساتویں، تینوں مہینے ذی الحجہ، محرم، صفر تینوں کے ہوئے تو غرۂ ربیع الاول پنجشنبہ اور بارہویں دوشنبہ آئی۔ ذکرہا الحافظ فی الفتح۔ [ص: 430-431]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!