Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

ایک پیغام جدید فارغین و منتہی طلبہ کے نام|محمد ارقم رضا ازہری

ایک پیغام جدید فارغین و منتہی طلبہ کے نام
عنوان: ایک پیغام جدید فارغین و منتہی طلبہ کے نام
تحریر: محمد ارقم رضا ازہری جامعہ ازہر شریف، مصر
پیش کش: فاطمہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

ایک پیغام جدید فارغین و منتہی طلبہ کے نام

یہ بات کسی بھی ذی شعور سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ جس زمانے میں ہم جی رہے ہیں، وہ زمانہ فتنوں کا زمانہ ہے۔ ہر ملک، ہر صوبے، ہر قصبے یا گاؤں دیہات و بستی بلکہ ہر محلے میں طرح طرح کے فتنے جنم لے رہے ہیں۔ ایسے وقت میں ہم سب پر امر بالمعروف و نہی عن المنکر لازم و ضروری اور شریعتِ اسلامیہ کی دعوت و تبلیغ فرض و واجب ہے۔ لیکن میں یہاں خاص طور پر مخاطب ہوں اپنے ہم عصر جدید فارغین اور منتہی طلبہ سے۔ کیونکہ اکابر ہم سے زیادہ سمجھدار اور کام والے ہیں۔ اور رہے مبتدی طلبہ تو ان کی ابھی سب سے اہم ذمہ داری اپنی تعلیم پر توجہ مرکوز کرنا اور بہترین طریقے سے علم حاصل کرنا ہے۔ مگر جدید فارغین کام کے میدان میں آچکے ہیں اور منتہی طلبہ کو عنقریب اس میدان میں اترنا ہے۔

جب ہم جدید فارغین یا منتہی طلبہ پر گہری نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بہت ہی کم حضرات تبلیغِ دین اور تعلیمِ قرآن و سنت کو عام کرنے میں کوشاں ہوتے ہیں۔ اگرچہ مدرسے میں پڑھانا اور امامت کرنا وغیرہ بھی تبلیغِ دین کا ہی ایک حصہ ہے مگر جس طرح تبلیغ ہونی چاہیے وہ ان میدانوں میں بھی مفقود ہے، اس لیے ہم نے بہت کم کا ذکر کیا۔ لہٰذا ہم سب کو چاہیے کہ ہم لوگ خوب دل سے قرآن و سنت کے اصول اور سیرتِ سلف صالحین کی روشنی میں دعوت و تبلیغ کا کام کریں اور توحید و رسالت کے نور سے ہر بستی کو چمکانے کی کوشش کریں۔ اسی کے متعلق چند باتیں عرض کرتا ہوں تاکہ یہ راہ ہم سب کے لیے آسان ہو اور ہم اس اہم فریضہ کو کماحقہ ادا کر سکیں۔

دعوت و تبلیغ کا مقام و مرتبہ

اللہ کے بندوں کو اللہ کی جانب بلانے اور انہیں سیدھی راہ دکھانے یعنی دعوت و تبلیغ کرنے کا بڑا مقام و مرتبہ ہے، جو مندرجہ ذیل امور سے بخوبی واضح ہو جاتا ہے:

1۔ اللہ رب العزت نے اس امرِ عظیم کی نسبت اپنی ذاتِ مقدسہ کی جانب فرمائی۔ ارشاد فرمایا:

وَاللّٰهُ يَدْعُوْا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ وَيَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ [سورۃ یونس: 25]

ترجمہ: اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف پکارتا ہے اور جسے چاہے سیدھی راہ چلاتا ہے۔

اور فرمایا:

وَاللّٰهُ يَدْعُوْا اِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِهٖ [سورۃ البقرۃ: 221]

ترجمہ: اور اللہ جنت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے اپنے حکم سے۔

اور رسولانِ عظام نے اپنی اقوام کو اللہ رب العزت کا یہ امرِ عظیم یاد دلاتے ہوئے فرمایا:

اَفِي اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ يَدْعُوْكُمْ لِيَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ [سورۃ ابراہیم: 10]

ترجمہ: کیا اللہ میں شک ہے آسمانوں اور زمین کا بنانے والا تمہیں بلاتا ہے کہ تمہارے کچھ گناہ بخشے۔

2۔ دعوت و تبلیغ انبیائے کرام و مرسلینِ عظام کا کام اور طریقہ ہے۔ قرآنِ مجید میں ہے:

وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنَا فَاعْبُدُوْنِ [سورۃ الانبیاء: 25]

ترجمہ: اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول نہ بھیجا مگر یہ کہ ہم اس کی طرف وحی فرماتے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھی کو پوجو۔

اور فرمایا:

رُّسُلًا مُّبَشِّرِینَ وَ مُنْذِرِینَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ ؕ وَ كَانَ اللهُ عَزِیزًا حَكِیْمًا [سورۃ النساء: 165]

ترجمہ: رسول خوشخبری دیتے اور ڈراتے تاکہ رسولوں کے بعد اللہ کے یہاں لوگوں کو کوئی عذر نہ رہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔

3۔ دعوت و تبلیغ انبیائے کرام کے سچے متبعین کا طریقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤ اِلَى اللهِ ؔعَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ ؕ وَ سُبْحٰنَ اللهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ [سورۃ یوسف: 108]

ترجمہ: تم فرماؤ یہ میری راہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں میں اور جو میرے قدموں پر چلیں دل کی آنکھیں رکھتے ہیں اور اللہ کو پاکی ہے اور میں شریک کرنے والا نہیں۔

4۔ دعوت و تبلیغ کا مقام و مرتبہ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم اس کے حکم سے بھرا ہوا ہے۔ چند مثالیں پیشِ خدمت ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ [سورۃ النحل: 125]

ترجمہ: اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو۔

اور فرمایا:

وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ [سورۃ القصص: 87]

ترجمہ: اور اپنے رب کی طرف بلاؤ اور ہرگز شرک والوں میں نہ ہونا۔

اور فرمایا:

وَادْعُ إِلَىٰ رَبِّكَ ۖ إِنَّكَ لَعَلَىٰ هُدًى مُّسْتَقِيمٍ [سورۃ الحج: 67]

ترجمہ: اور اپنے رب کی طرف بلاؤ بیشک تم سیدھی راہ پر ہو۔

5۔ دعوۃ الی اللہ افضل ترین اطاعت اور قربتِ الٰہی کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ رب تعالیٰ نے فرمایا:

وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ [سورۃ حم السجدة: 33]

ترجمہ: اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیکی کرے اور کہے میں مسلمان ہوں۔

6۔ دعوت و تبلیغ داعیان و مبلغین کے لیے رحمت کے حصول کا سبب ہے۔ حق سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:

وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَٰئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ [سورۃ التوبۃ: 71]

ترجمہ: اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ دیں اور اللہ و رسول کا حکم مانیں یہ ہیں جن پر عنقریب اللہ رحم کرے گا بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔

داعیان و مبلغینِ اسلام کی فضیلت

ابھی بیان ہوا کہ دعوت و تبلیغ افضل ترین اطاعت ہے، لہٰذا جو شخص اس ذمہ داری کو ادا کرے گا وہ افضل ترین ہو جائے گا۔ اور اس عظیم عمل کو انجام دینے والوں یعنی داعیان و مبلغین کی بہت سی فضیلتیں ہیں۔ چند مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ قرآن مجید نے داعی کو قول و عمل میں احسن و افضل قرار دیا۔ فرمایا:

وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ [سورۃ فصلت: 33]

ترجمہ: اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیکی کرے اور کہے میں مسلمان ہوں۔

2۔ قرآن کریم نے دعاۃ کو مطلقاً خیرِ امت کا لقب عطا کیا۔ فرمایا:

كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ [سورۃ آل عمران: 110]

ترجمہ: تم بہتر ہو ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

3۔ داعیانِ اسلام کے لیے دنیا و آخرت میں کامیابی کا مژدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ [سورۃ آل عمران: 104]

ترجمہ: اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بری سے منع کریں اور یہی لوگ مراد کو پہنچے۔

4۔ داعی کی دعوت سے نیکی کرنے والے کے ساتھ داعی بھی اجر و ثواب کا مستحق ہوگا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

مَن دَلَّ عَلَى خَيرٍ فَلَهُ مِثلُ أَجرِ فَاعِلِهِ [صحیح مسلم، حدیث: 1893]

ترجمہ: جس نے بھلائی پر رہنمائی کی تو اسے بھلائی کرنے والے کی طرح اجر و ثواب ملے گا۔

5۔ داعیانِ اسلام کو پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سعادت مند قرار دیا اور ان کے لیے دعا فرمائی:

نَضَّرَ اللَّهُ امرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا وَحَفِظَهَا وَبَلَّغَهَا [سنن الترمذی، حدیث: 2658]

ترجمہ: اللہ پاک اس شخص کو شاد و آباد رکھے جس نے میری حدیث سنی اور اسے یاد کر کے اس کی حفاظت کی اور اس کو دوسروں تک پہنچا دیا۔

6۔ داعیانِ اسلام اللہ تعالیٰ کی رحمت میں غوطہ زن رہتے ہیں۔ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ وَأَهلَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرضِ حَتَّى النَّملَةَ فِي جُحرِهَا، وَحَتَّى الحُوتَ، لَيُصَلُّونَ عَلَى مُعَلِّمِي النَّاسِ الخَيرَ [سنن الترمذی، حدیث: 2685]

ترجمہ: بیشک اللہ رب العزت اس پر رحمت نازل کرتا ہے جو لوگوں کو بھلائی سکھاتا ہے۔ اور فرشتے، اہلِ آسمان و اہلِ زمین، یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنے بلوں میں اور مچھلیاں اس کے لیے دعائے رحمت کرتی ہیں۔

مذکورہ فضائل و کمالات کے سوا داعیان و مبلغینِ اسلام کی بہت سی فضیلتیں ہیں جو ایک مختصر سے مضمون میں بیان نہیں کی جاسکتیں۔ اور بھلا کون عقل مند ہوگا جو دعوت و تبلیغ کے اس عظیم مقام و مرتبہ کو جاننے اور داعیانِ اسلام کی فضیلت کا علم ہونے کے بعد اس عظیم کام سے دور رہے گا؟ ہر گز کوئی عقل مند ایسا نہیں کرسکتا۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس پر کہنے والے کہیں گے کہ ہمارے پاس وسائل نہیں، ہم اپنے رزق کے حصول میں مصروف رہتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ تو ہم کیسے دعوت و تبلیغ میں مشغول ہو سکتے ہیں؟ اس طرح کے تمام تر سوالات یا افکار کا جواب یہ ہے کہ علمائے کرام نے دعوت و تبلیغ کے جو اصول اور اس کے لیے جن ضروریات کو بیان کیا ہے اس سب کا خلاصہ یہ ہے کہ دعوت و تبلیغ کے لیے پانچ چیزوں کا ہونا ضروری ہے: داعی، مدعو، مدعو الیہ، وسائل، اسالیب۔ ان کی قدرے تفصیل یہ ہے:

  • داعی: یعنی دعوت و تبلیغ کرنے والا۔

  • مدعو: یعنی جن کو دعوت و تبلیغ کی جائے۔

  • مدعو الیہ: یعنی جس چیز کی دعوت و تبلیغ کی جائے، جس کی جانب لوگوں کو بلایا جائے، وہ مذہبِ اسلام اور مذہبِ اسلام کے احکام یعنی عقائد، عبادات اور اخلاق وغیرہ ہیں۔

  • وسائل: یعنی جن چیزوں کا سہارا لے کر آپ دعوت و تبلیغ کریں، مثلاً خطابت اور کتابت وغیرہ۔

  • اسالیب: یعنی آپ دعوت و تبلیغ کے لیے کونسا طریقہ اختیار کریں گے، انداز کیا ہوگا، وغیرہ وغیرہ۔

ان پانچ اصولوں پر ہم اپنے کسی دوسرے مقالے میں گفتگو کریں گے۔ ان شاء اللہ العزیز! فی الحال یہ ذہن نشین کرنا چاہیے کہ ہمارے مخاطب یعنی جدید علماء و منتہی طلبہ کے پاس یہ پانچ اصول یقینی طور پر پائے جاتے ہیں۔ جب یہ یقینی طور پر پائے جاتے ہیں تو ان کے لیے دعوت و تبلیغ سے کوئی چھٹکارا نہیں۔ اگر پھر بھی وہ اس ذمہ داری کو ادا نہیں کرتے تو گناہ گار اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر ترک کرنے کے مرتکب اور اس کے متعلق وارد وعیدوں کے مستحق ہوں گے۔

دعوت و تبلیغ کا فریضہ کیسے انجام دینا ہے اس کے لیے ہم چند باتیں ذکر کرتے ہیں۔ داعی و مبلغ تین حالوں میں سے کسی ایک حال میں ہوگا: مدرسہ کا مدرس، مسجد کا امام، ان کے علاوہ دیگر کام کرنے والا۔

مدرسہ کا مدرس ہے اور اپنی بستی یا ایسی جگہ مدرس ہے جہاں وہ دعوت و تبلیغ کے لیے الگ سے وقت نکال سکتا ہے تو اس کو چاہیے کہ کسی شخص کے مکان کو متعین کرے یا کسی بھی جگہ کو۔ اور اپنے جاننے والے چند افراد کو اس سے آگاہ کر دے کہ فلاں وقت فلاں دن، دینِ اسلام کی تعلیم دی جائے گی۔ اور ان افراد سے کہے کہ وہ دیگر لوگوں کو بھی لائیں۔ وقتِ مقرر پر ان سب کو اپنے پاس بٹھا کر جو ضرورت محسوس کرے ان کو آدھا ایک گھنٹہ آسان سے آسان انداز میں سمجھا دے اور مجلس مکمل ہونے پر حاضرین کی رضا اور سہولت کے مطابق اگلی مجلس مرتب کر دے۔ اور اسی طرح دھیرے دھیرے اپنا یہ سلسلہ جاری رکھے۔ تبلیغ کا یہ انداز نہایت آسان اور مؤثر ہے، ضروری نہیں کہ تبلیغ کے لیے ہزاروں میل کا سفر کرے، بڑا اسٹیج لگا ہو، جبہ و قبہ ہو۔ بلکہ جو ہم نے بیان کیا وہ سب کافی ہے۔ اور اگر ایسے مدرسے میں مدرس ہے جہاں اس سب کی بھی اجازت نہیں تو پھر ہفتے میں ایک دو دن اپنے طلبہ کے لیے الگ سے خاص کر لے، اپنے قریبی طلبہ یا چند یا سب، جیسے بھی سہولت ہو۔ اور ان کی تربیت کرے، ان کو اسلام و نبی اسلام کی محبت سکھائے اور ایک اچھا عالم بننے کے لیے جس تربیت کا ہونا ضروری ہے وہ سکھائے، کیونکہ آج مدرسوں سے جو روحانیت جدا ہو رہی ہے وہ سب پر عیاں ہے۔ لہٰذا مدرسے میں اپنے طلبہ کو روحانیت کا پیکر بنا دینا بڑی تبلیغ ہے۔

اور اگر مسجد کا امام ہے تو دعوت و تبلیغ کا یہ سب سے عمدہ موقع ہے۔ کسی بھی نماز کے بعد وقت مخصوص کر کے مذکورہ طریقے پر اپنے مقتدیوں کو دین سکھاتا رہے۔ یا جس بستی میں امام ہے اس بستی میں جگہ جگہ اس طرح کی خلوص سے بھری محفلیں منعقد کرتا رہے۔

اور اگر اس کے علاوہ بزنس سے یا کسی کاروبار سے یا جاب وغیرہ سے وابستہ ہے تو اس کے لیے طریقہ کار یہ ہے کہ ہفتے میں جس دن فرصت میسر ہو، اس دن کو متعین کر لے اور اپنے جاننے والوں کو جمع کر کے دین کی تعلیم دے اسی طریقے پر جو مدرس والے پیراگراف میں بیان ہوا۔ لہٰذا ہر عالمِ دین اس طرح تبلیغ کا فریضہ انجام دے سکتا ہے اور اگر اس طرح ہو جائے تو ہم چند سال میں ہی امتِ مسلمہ میں ایک بڑا انقلاب ہوتے ہوئے دیکھیں گے۔

مذکورہ چیزیں جدید فارغین کے لیے ہو گئیں، اور رہے منتہی طلبہ تو وہ بھی اس طریقہ کو اختیار کر سکتے ہیں جو مدرسہ والے میں بیان ہوا۔ اور وہ زیادہ وقت نہیں دے سکتے تو جب چھٹی کے ایام میں گھر آئیں تو گھر والوں اور بستی والوں کو جمع کر کے تعلیمِ اسلام عام کریں اور دھیرے دھیرے مستقبل کے لیے خود کو تیار کر لیں۔

اللہ کریم سے دعا ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صدقے ہم سب کو دین و سنت کا سچا خادم بنائے، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا پیکر اور دعوت و تبلیغ کا فریضہ ادا کرنے والا بنائے۔

آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ والہ وسلم

[سہ ماہی مجلہ القلم، رمضان المبارک تا ذوالقعدہ 1446ھ، ص: 4 تا 14]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!