Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اختیاراتِ مصطفیٰ ﷺ (قسط: دوم)|سید حسان احسنی مصباحی

اختیاراتِ مصطفیٰ ﷺ (قسط: دوم)
عنوان: اختیاراتِ مصطفیٰ ﷺ (قسط: دوم)
تحریر: سید حسان احسنی مصباحی
پیش کش: مدحت فاطمہ ضیائی

گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔

اختیاراتِ تشریعی

یہ وہ اختیارات ہیں جو دین کے احکام و قوانین کو نافذ کرنے، وضاحت کرنے، اور ان میں تخفیف یا اضافے سے متعلق ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے شریعت کے نفاذ کا اختیار عطا فرمایا۔

1۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کی گواہی دو لوگوں کے برابر قرار فرما دی

جناب عمارہ بن خزیمہ سے روایت ہے کہ ان کے چچا نے بیان کیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بدوی سے گھوڑا خریدا۔ اور بدوی سے کہا کہ میرے ساتھ آؤ تا کہ تمہارے گھوڑے کی قیمت ادا کر دوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی جلدی چلے جبکہ اعرابی آہستہ آہستہ چلا۔ تو لوگ اس بدوی کے سامنے آئے اور گھوڑے کا سودا کرنے لگے۔ انہیں علم نہیں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خرید لیا ہے۔ تو اس بدوی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارا اور کہا: “اگر گھوڑا خریدنا ہے تو خریدو ورنہ میں اسے فروخت کر دوں گا”۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی آواز سن کر رک گئے اور فرمایا: “کیا میں نے اسے تم سے خرید نہیں لیا؟” بدوی نے کہا: “نہیں قسم اللہ کی! میں نے تو اسے تم کو نہیں بیچا”۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “کیوں نہیں، میں نے تم سے خرید لیا ہے”۔ بدوی کہنے لگا “چلو گواہ لاؤ”۔ تو سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ بولے: “میں گواہی دیتا ہوں کہ تو نے یہ بیچ دیا ہے”۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خزیمہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: “تم کس طرح گواہی دیتے ہو؟” انہوں نے عرض کیا: “اے اللہ کے رسول! آپ کی تصدیق کی بنا پر (یعنی آپ اللہ کے رسول ہیں جھوٹ نہیں بول سکتے اور آپ ہمیں وہ کچھ بتاتے ہیں جو ہم ملاحظہ نہیں کرتے لیکن اس کے باوجود ہم وہ سب کچھ تسلیم کرتے ہیں تو یہ کیوں نہیں تسلیم کر سکتے)۔” چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دے دیا۔ [مسند احمد، رقم الحديث: 3607]

جبکہ اللہ عزوجل نے قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں مسئلہِ شہادت کو بیان فرمایا تو ارشاد فرمایا:

وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ [سورۃ البقرة: 282]

اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ بنا لو۔

یعنی گواہی کے لیے دو عاقل بالغ مسلمانوں کا ہونا ضروری ہے (کفار کی گواہی صرف کفار پر مقبول ہے) لیکن جب نبی پاک صاحبِ لولاک صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی کو دو کے قائم فرمایا تو ہرگز حضرت خزیمہ اور دیگر صحابہ نے یہ عرض نہ فرمایا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ نے قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں دو گواہوں کا حکم فرمایا ہے بلکہ آپ نے اور تمام صحابہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم مانا کیونکہ صحابہ جانتے تھے کہ ذاتِ رسول ہی جادۂ مستقیم ہے اور اللہ عزوجل نے آپ کو مختارِ کل بنا کر مبعوث فرمایا اور “وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى” آپ ہی کی شان ہے۔

2۔ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو تین دن کی عدت کا حکم

اللہ عزوجل نے شوہر کی وفات پر عورت کے لیے 4 ماہ 10 دن کی عدت فرمائی۔ ارشادِ ربانی ہے:

وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا [سورۃ البقرة: 234]

اور تم میں سے جو مر جائیں اور بیویاں چھوڑیں تو وہ بیویاں چار مہینے اور دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں۔

مگر قربان جائیے مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیارِ شرعی پر۔۔۔ پڑھیے اور ایمان کو جلا بخشیے، حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب حضرت جعفر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے پاس تشریف لا کر فرمایا:

تَسَلَّبِي ثَلَاثًا ثُمَّ اصْنَعِي مَا شِئْتِ [رقم الحديث: 27328]

تین دن تک سوگ کے کپڑے پہننا، پھر جو چاہو کرنا۔

کسی صحابی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر یہ نہ کہا کہ اللہ رب العزت نے کتابِ ہدایت میں عورت کی عدت 4 ماہ 10 دن فرمائی کیونکہ صحابہ جانتے تھے کہ اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیارِ کل عطا فرمایا ہے۔

3۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک صحابی کو سونے کی انگوٹھی پہنانا

محمد بن مالک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی، لوگ ان سے کہہ رہے تھے:

لِمَ تَخَتَّمْ بِالذَّهَبِ؟ وَقَدْ نَهَى عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ الْبَرَاءُ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ غَنِيمَةٌ يَقْسِمُهَا: سَبْيٌ وَخَرْثِيٌّ. قَالَ: فَقَسَمَهَا حَتَّى بَقِيَ هَذَا الْخَاتَمُ. فَرَفَعَ طَرْفَهُ، فَنَظَرَ إِلَى أَصْحَابِهِ، ثُمَّ خَفَضَ. ثُمَّ رَفَعَ طَرْفَهُ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ، ثُمَّ خَفَضَ. ثُمَّ رَفَعَ طَرْفَهُ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: أَيْ بَرَاءُ! فَجِئْتُهُ حَتَّى قَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ. فَأَخَذَ الْخَاتَمَ فَقَبَضَ عَلَى كُرْسُوعِي، ثُمَّ قَالَ: خُذِ، الْبَسْ مَا كَسَاكَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ. وَكَانَ الْبَرَاءُ يَقُولُ: كَيْفَ تَأْمُرُونِي أَنْ أَضَعَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْبَسْ مَا كَسَاكَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ؟ [رقم الحديث: 18602]

“کہ آپ نے سونے کی انگوٹھی کیوں پہن رکھی ہے، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت فرمائی ہے؟” انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مالِ غنیمت کا ڈھیر تھا جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تقسیم فرما رہے تھے، ان میں قیدی بھی تھے اور معمولی چیزیں بھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سب چیزیں تقسیم فرما دیں یہاں تک کہ یہ انگوٹھی رہ گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اٹھا کر اپنے ساتھیوں کو دیکھا، پھر نگاہیں جھکا لیں تین مرتبہ ایسا ہی ہوا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “براء کہاں ہے؟” میں آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ انگوٹھی پکڑی اور میری چھنگلیا کا گٹے کی طرف سے حصہ پکڑ کر فرمایا، “یہ لو اور پہن لو جو تمہیں اللہ اور رسول پہنا دیں”، تو تم مجھے کس طرح اسے اتارنے کا کہہ رہے ہو جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ “اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں جو پہنا رہے ہیں اسے پہن لو”۔

یقیناً جہاں اللہ رب العزت نے پیارے حبیب مقصودِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو شریعت دے کر بھیجا تو مجبورِ محض نہیں مختار بنا کر بھیجا۔ بلاشبہ ہر اختیارِ مصطفیٰ کریم درحقیقت اظہارِ قدرتِ خداوندِ قدوس کا مظہرِ اتم ہے۔ اور حقیقی قدر و قدرتِ مصطفیٰ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار ابھی باقی ہے بقول امامِ عشق و غیرت ع: دیکھنی ہے حشر میں عزت رسول اللہ کی۔ اور

ٹوٹ جائیں گے گنہ گاروں کے فوراً قید و بند
حشر میں کھل جائے گی طاقت رسول اللہ کی

[سہ ماہی القلم، شمارہ نمبر: 12، ذی الحجہ 1446ھ تا صفر المظفر 1447ھ]

قسطیں تمام ہوئیں۔۔۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!