Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

اعلیٰ حضرت اور سفرِ مدینہ | محمد حسان عطاری

اعلیٰ حضرت اور سفرِ مدینہ
عنوان: اعلیٰ حضرت اور سفرِ مدینہ
تحریر: محمد حسان عطاری
منجانب: جامعۃ المدینہ فیضانِ عطار، نیپال گنج

مدینہ شریف وہ سر زمین ہے جہاں بڑے سے بڑا بادشاہ ہی کیوں نہ ہو یا اللہ کے ولی ہی کیوں نہ ہو، وہاں پر جاکر ادب کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کیونکہ ہم سنیوں کا نظریہ ہے کہ جو کچھ بھی ملتا ہے انہیں کے در سے ملتا ہے۔ کوئی جب ان کے در پر جاتا ہے تو فقیر بن کر اور کوئی وقت کا بادشاہ جب ان کے در پر جاتا ہے تو ادب کے ساتھ جاتا ہے۔ الغرض! شہرِ مدینہ وہ مقدس مقام ہے جہاں ہر کوئی ادب کا دامن تھامے ہوئے حاضری کی کوشش کرتا ہے۔

اور جب سنیوں کی جان، سنیوں کی شان، سنیوں کی آن، مذہبِ اہل سنت کی پہچان، عاشقوں کا امام، ہم سب کی جان، مجددِ دین و ملت الحاج الحافظ القاری الشیخ امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ مدینہ شریف حاضر ہوتے ہیں تو اپنے عشق و ادب کا مظاہرہ اشعار میں یوں کرتے ہیں:

جان و دل ہوش و خرد سب تو مدینے پہنچے
تم نہیں چلتے رضا سارا تو سامان گیا

اب آئیے! اس مقالہ میں امامِ اہل سنت کے سفرِ مدینہ کے حوالے سے کچھ معلومات سپردِ قرطاس کرنے کی سعیِ بلیغ کرتے ہیں۔

اعلیٰ حضرت کا سفرِ مدینہ کب اور کتنی بار ہوا؟

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی پوری زندگی میں دو مرتبہ حرمینِ طیبین کا سفر فرمایا۔ پہلا سفر جو اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے والدین کے ساتھ ۱۲۹۵ھ / ۱۸۷۸ء میں کیا تھا، جس وقت آپ کی عمر شریف 23 سال تھی۔ (نوٹ: اصل متن میں یہاں کتابت کی غلطی سے ۱۳۹۵ھ درج تھا، جبکہ ۱۸۷۸ء کے مطابق صحیح ہجری سال ۱۲۹۵ھ ہے)۔ دوسرا سفر آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اپنے اہل خانہ کے ساتھ تھا۔ (عالمِ اسلام کی عبقری شخصیت امام احمد رضا، ص: 42)

خدا کی قسم کشتی نہ ڈوبے گی

پہلی بار جب اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ اپنے والدین کے ساتھ حج کرنے جا رہے تھے، اس وقت آپ کی عمر شریف 23 سال کی تھی۔ جب آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے والدین کے ساتھ حج کرکے واپسی کے لیے کشتی میں سوار ہوئے تو اسی سفر میں تین دن شدید طوفان چل رہا تھا جس کے سبب سے بہت سے لوگوں کا انتقال ہو گیا۔ جب اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی والدہ کو پریشان دیکھا تو تسکین دلانے کے لیے عرض کی: "خدا کی قسم کشتی نہ ڈوبے گی"۔

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ قسم میں نے حدیثِ پاک کی بنیاد پر کھائی تھی اس لیے کہ حدیث میں ہے کہ جو کشتی پر سوار ہوتے وقت کی دعا پڑھ لے گا تو وہ غرق ہونے سے محفوظ رہے گا۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ دعا پڑھی تھی اور مجھے حدیث پر اطمینان تھا۔ پھر بھی قسم کے نکل جانے سے میرا دل مطمئن نہ تھا اور اچانک مجھے ایک اور حدیث یاد آئی جس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ پر قسم کھائے، اللہ اس قسم کو رد فرما دیتا ہے۔ اب آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اللہ پاک کی طرف رجوع کیا اور سرکار صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا مانگی۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: الحمد للہ وہ مخالف ہوا جو تین دن سے شدت کے ساتھ چل رہی تھی، وہ دو گھڑی میں بالکل رک گئی اور حجاجِ کرام طوفان سے نجات پا گئے۔ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت)

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا دوسرا حج شریف

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جب مجھے دوسری مرتبہ حرمین شریفین کی زیارت کا شوق ہوا تو مجھے مذکورہ حج کی باتیں یاد آئیں کہ جب میری والدہ طوفانِ شدید سے بحفاظت گھر پہنچیں تو جیسے ہی ان کا قدم دہلیز پر پڑا تو مجھ سے فرمانے لگیں: "اے احمد رضا! حجِ فرض اللہ تعالیٰ نے ادا فرما دیا، اب میری زندگی میں پھر دوبارہ ارادہ نہ کرنا۔" ان کا یہ فرمان مجھے یاد آیا اور مسئلہ یہ ہے کہ ماں باپ کی ممانعت کے ساتھ حجِ نفل جائز نہیں۔

پھر میں اپنے چھوٹے بھائی اور بڑے بیٹے کو لے کر حج کے لیے روانہ ہوا۔ لکھنؤ تک میں ان سب کو پہنچا کر واپس آ گیا لیکن میرا دل بے چین تھا۔ اب ایک ہفتہ ہو گیا تب بھی میرا دل مدینہ کی یاد میں بے چین تھا۔ میں نے مغرب کی نماز پڑھ کر مولانا نذیر احمد کو اسٹیشن بھیجا ممبئی کا ٹکٹ نکلوانے کے لیے، بالآخر ٹکٹ نکل آیا اور ٹرین اسی رات میں تھی۔ عشاء کی نماز اول وقت میں پڑھ لی اور باہر گاڑی بھی آ گئی۔ اب صرف والدہ کی اجازت لینی تھی اور یہ بہت اہم مسئلہ تھا کیونکہ مجھے یقین تھا کہ والدہ مجھے اجازت نہ دیں گی۔ لیکن میں ڈرتے ہوئے والدہ کے کمرے میں گیا تو دیکھا کہ والدہ چادر اوڑھے ہوئے ہیں، میں نے اپنے سر کو والدہ کے قدموں میں رکھ دیا۔ وہ گھبرا کر اٹھیں اور بولیں: کیا ہوا ہے؟ میں نے عرض کی: مجھے حج کی اجازت دے دیجیے۔ ماں نے اجازت دے دی اور میں سفرِ حج کے لیے روانہ ہوا۔

حاضریِ مواجہہ شریف اور زیارتِ مصطفیٰ ﷺ

جب اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ مدینہ شریف پہنچے تو جیسے ہی گنبدِ خضریٰ پر پہلی نظر پڑی تو فرماتے ہیں:

حاجیو! آؤ شہنشاہ کا رَوضہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے کعبَہ کا کعبَہ دیکھو (عالمِ اسلام کی عبقری شخصیت امام احمد رضا، ص: 84)

آپ رحمۃ اللہ علیہ بیداری میں زیارت کی حسرت لیے مواجہہ شریف میں پوری رات حاضر رہ کر درود شریف کا ورد کرتے رہے۔ پہلی رات قسمت میں یہ سعادت نہ تھی۔ دوسری رات بھی زیارت کے ارادے سے مواجہہ شریف حاضر ہوئے اور دردِ فراق سے بے تاب ہو کر ایک نعتیہ غزل عرض کی:

وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں

کوئی کیوں پوچھے تیری بات رضا
تجھ سے شیدا ہزار پھرتے ہیں

آپ بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں درود و سلام پیش کرتے رہے، آخر کار انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور قسمت کا ستارہ چمک اٹھا، سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عاشقِ زار پر خاص کرم فرمایا، نقابِ رخ اٹھ گیا اور اعلیٰ حضرت نے اپنے محبوبِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سر کی آنکھوں سے کر لی۔ (عاشقانِ رسول کی حکایات، ص: 148)

پیارے اسلامی بھائیو! امامِ اہل سنت علیہ الرحمہ کے سفرِ مدینہ سے ہمیں بہت سے مدنی پھول چننے کا موقع मिलता ہے۔ اللہ پاک ہمیں بھی آپ علیہ الرحمہ کے سفرِ حرمین شریفین کا صدقہ عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!