| عنوان: | خاموش محبت |
|---|---|
| تحریر: | عائشہ رضا عطاریہ |
کیا محبت بھی خاموش ہوتی ہے؟ محبت تو شور کرتی ہے۔ پھر یہ کیسی محبت ہے جس میں اظہارِ محبت نہیں؟ سننے میں تو عجیب جملہ ہے، لیکن حقیقت سے بھرپور ہے۔
قارئین! آئیے ہم آپ کو اس عظیم ہستی سے روشناس کراتے ہیں کہ وہ کون ہے جو محبت تو بے پناہ کرتا ہے، لیکن کبھی اظہارِ محبت نہیں کرتا۔ کبھی احسان نہیں جتاتا لیکن اس کا دل محبت کے نور سے لبریز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، مگر ان تمام نعمتوں میں سب سے حسین، سب سے لطیف، اور سب سے دل کو چھو لینے والی جو نعمت ہے وہ ہے— محبت۔ محبت ہی وہ انمول نعمت ہے جو روح کو زندگی بخشتی ہے، دل کو قرار دیتی ہے، اور انسان کے وجود میں ایک ان کہی روشنی بھر دیتی ہے۔ یہ وہ عطا ہے جو دلوں کو جوڑتی ہے، اور زندگی کے ہر خالی لمحے کو احساس سے بھر دیتی ہے۔ جو اس نعمت سے محروم ہے، گویا وہ ادھورا ہے — اُس کی زندگی ادھوری ہے۔
باپ: ایک انمول اور خاموش سائیباں
اللہ پاک نے محبت ہر دل میں رکھی ہے۔ ماں باپ اپنی اولاد سے، میاں بیوی ایک دوسرے سے، اور اولاد اپنے والدین سے محبت کرتی ہے۔ ہر کوئی اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے — ماں اپنی ممتا کی نرمی سے، بیوی اپنی وفا اور خلوص سے، اور شوہر اپنے عمل اور حفاظت سے اپنی محبت جتاتا ہے۔ لیکن ایک ہستی ایسی بھی ہے، جو ٹوٹ کر محبت کرتی ہے، پھر بھی وہ کبھی اس کا اظہار نہیں کرتی۔ وہ ہستی ہے — باپ۔
باپ کی محبت سب سے خاموش، مگر سب سے گہری محبت ہے۔ اس کی محبت میں نہ شور ہے، نہ دکھاوا — مگر احساس کی وہ شدت ہے جو دلوں کو ہلا دیتی ہے۔ باپ بظاہر سخت لگتا ہے، مگر اس کے دل میں اپنی اولاد کے لیے بے پناہ نرمی، قربانی اور شفقت چھپی ہوتی ہے۔ وہ دن رات محنت کرتا ہے تاکہ بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ برقرار رہے۔ وہ کڑی دھوپ میں گرمی سے بے حال ہوتا ہے، سردی میں کانپتا ہے، مگر اولاد کو کبھی احساس نہیں ہونے دیتا کہ اس نے کیا کچھ قربان کیا۔ وہ خود بھوکا رہ کر بچوں کو کھلاتا ہے، پرانا لباس پہن کر اولاد کو نیا دیتا ہے، تھکن برداشت کرتا ہے تاکہ ان کے آرام میں خلل نہ آئے۔
باپ کی محبت وہ سایہ ہے جو زندگی کی تپتی دھوپ میں راحت بن جاتی ہے۔ وہ کم بولتا ہے مگر اس کی آنکھوں میں ہزاروں باتیں چھپی ہوتی ہیں۔ اس کی ڈانٹ میں بھی دعا ہوتی ہے، اس کی سختی کے پیچھے بھی پیار اور فکر کی گہرائی چھپی ہوتی ہے۔ باپ کے کندھے پر بیٹے کی پہلی سواری، بیٹی کی رخصتی کے وقت باپ کی خاموش آنکھوں سے بہتے آنسو — یہ سب اس محبت کی گواہی دیتے ہیں جو الفاظ سے نہیں، احساس کے ذریعے محسوس کی جاتی ہے۔
بیٹیوں سے محبت اور سنتِ مصطفیٰ ﷺ
باپ کے دل میں بیٹیوں کے لیے محبت، بیٹوں کے مقابلے کچھ زیادہ گہری اور اجاگر ہوتی ہے۔ یہ صرف انسانی فطرت ہی نہیں، بلکہ سنتِ مصطفیٰ ﷺ بھی ہے۔ ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹیوں سے بے پناہ محبت کی، اور ہمیں یہ سبق دیا کہ بیٹیوں کو پیار کرو، کیونکہ یہ رب کی رحمت ہیں۔ باپ کو بیٹی سے کتنی محبت ہوتی ہے، یہ اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بیٹی جب اپنی شادی کے دس سال بعد بھی مائکے سے سسرال جاتی ہے، تو وہ شفیق مہربان باپ اپنی بیٹی کو چھوڑنے باہر تک آتا ہے، اور جب وہ اپنی بیٹی کو جاتے ہوئے دیکھتا ہے، تو اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آتی ہیں اور وہ کھڑے ہو کر محبت بھری نظروں سے اسے اوجھل ہونے تک دیکھتا رہتا ہے۔ یہی وہ محبت ہے جو لفظوں میں نہیں، صرف دل کے گہرے سکون اور درد میں محسوس ہوتی ہے— خاموش، لیکن بے پناہ، اور ہمیشہ کے لیے۔
باپ وہ درخت ہے جو خود دھوپ میں جلتا ہے مگر اپنی اولاد کو سایہ دیتا ہے۔ باپ وہ محافظ ہے جو اپنی تھکن چھپا کر اولاد کے سکون کی نگرانی کرتا ہے۔ باپ وہ مجاہد ہے جو دن رات اپنی ذمہ داریوں کی جنگ لڑتا ہے، اور باپ وہ دعا ہے جو خاموشی سے رب کے حضور اولاد کے لیے جنت مانگتی ہے۔ جب انسان خود باپ بنتا ہے تو تب اسے احساس ہوتا ہے کہ اُس کے باپ نے زندگی میں کتنی قربانیاں دی تھیں، کتنی راتیں جاگ کر اُس کے لیے دعائیں مانگی تھیں۔ ماں جنت کی دعا ہے، اور باپ جنت کا دروازہ ہے۔
احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں باپ کی شان
قارئین! آئیے اب احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں باپ کی شان اور ان سے حسنِ سلوک کرنے کی اہمیت پر مشتمل چھ فرامینِ مصطفیٰ ﷺ سنتے ہیں۔
(1) رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے، اب یہ تیرا اختیار ہے کہ تو اسے محفوظ رکھ یا اسے ضائع کر دے۔" (ترمذی، کتاب البر والصلة، باب: ما جاء من الفضل فی رضا الوالدین، ج ۳، ص ۳۵۹، حدیث: ۱۹۰۶)
(2) نبیِ کریم ﷺ نے فرمایا:
"بیٹا اپنے باپ کا حق ادا نہیں کر سکتا، یہاں تک کہ اگر وہ اپنے باپ کو غلام پائے اور خرید کر آزاد کر دے، تب بھی حق ادا نہیں ہو سکتا۔" (مسلم، کتاب العتق، باب فضل عتق الوالد، حدیث: ۳۷۹۹، ص ۶۲۴)
(3) حضور ﷺ نے فرمایا:
"ربِّ کریم کی رضا، باپ کی رضا میں ہے، اور ربِّ کریم کی ناراضی، باپ کی ناراضی میں ہے۔" (ترمذی، کتاب البر والصلة، باب: ما جاء من الفضل فی رضا الوالدین، ج ۳، ص ۳۶۰، حدیث: ۱۹۰۷)
(4) نبیِ رحمت ﷺ نے فرمایا:
"اللہ پاک کی فرمانبرداری، والد کی فرمانبرداری میں ہے، اور اللہ پاک کی نافرمانی، والد کی نافرمانی میں ہے۔" (معجم اوسط، باب الالف، من اسمہ: احمد، ج ۱، ص ۶۱۴، حدیث: ۲۲۵۵)
(5) رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا:
"جس نے اپنے والدین، یا ان میں سے کسی ایک کو پایا، اور ان سے اچھا سلوک نہ کیا، وہ اللہ کریم کی رحمت سے محروم اور اس کے غضب کا حق دار ہوا۔" (معجم کبیر، ج ۱۲، ص ۶۶، حدیث: ۱۲۵۵۱)
(6) نبیِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
"باپ کی بددعا سے ڈرو، کیونکہ وہ اپنے رب کے ہاں رد نہیں ہوتی۔" (سنن کبریٰ للبیہقی، کتاب الدعوات، ج ۳، ص ۳۷۸، حدیث: ۶۵۶۱)
والدین کی قدر اور ماؤں کی ذمہ داری
یہ وہ فرامینِ نبوی ﷺ ہیں جو ہمیں باپ کی عظمت، اس کے احترام، اور اس سے حسنِ سلوک کی غیر معمولی اہمیت سمجھاتے ہیں۔ باپ صرف ایک رشتہ نہیں — بلکہ وہ ذریعہ ہے جس کے وسیلے سے ربِّ کریم کی رضا اور جنت کا دروازہ کھلتا ہے۔ ماں کی محبت زبان سے ادا ہوتی ہے، مگر باپ کی محبت دل کے اندر چھپی، خاموش مگر انمول محبت ہے۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے اپنے باپ کی آنکھوں میں پیار دیکھا ہے، ان کے آنسو دیکھے ہیں، ان کی دعائیں محسوس کی ہیں۔ ہر اولاد کی کامیابی کے پیچھے باپ کی قربانی، اس کی محنت، اور اس کے سجدوں کی روشنی چھپی ہوتی ہے۔
افسوس! بعض اولاد آخر میں یہ کہہ دیتی ہے: "آپ نے ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے؟" کاش وہ جان سکیں کہ ان کی کامیابی کے پیچھے ایک باپ کا پسینہ ہے، ایک باپ کا راتوں کو جاگ کر رب کی بارگاہ میں رو رو کر دعائیں کرنا اور باپ کی آنکھوں سے گرتے آنسو اولاد کی کامیابی کا راز ہیں۔ اپنے والدین سے ہم جب بھی بات کریں، بہت زیادہ ادب و احترام کے ساتھ بات کریں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے والدین — خاص طور پر اپنے باپ — کی قدر کریں۔ یہ اس لیے کہ بہت سے بچے اس حقیقت سے غافل رہ جاتے ہیں کہ ہمارے والد، چاہے لفظوں میں محبت کا اظہار نہ کریں، اپنی خاموش محبت سے ہمیشہ ہمارے لیے فکرمند رہتے ہیں۔ میرے عزیزو! اپنے والدین کی قدر کرو، ان کی محبت کی قدر کرو۔ ان کے پاس بیٹھو، ان کی باتیں غور سے سنو، کیونکہ جب یہ ہستیاں ہمارے درمیان نہیں رہتیں، تو ساری دنیا ساتھ ہو تب بھی اُن کی کمی ہمیشہ محسوس ہوتی ہے۔
ہر ماں کو چاہیے کہ اپنے بچوں کے دلوں میں باپ کی عظمت کے چراغ جلائے، ان کے کانوں میں باپ کی محبت کے قصے سنائے نہ کہ اُن کے دلوں میں خوف کی پرچھائیاں اتار دے۔ کچھ مائیں انجانے میں اپنے بچوں کے دلوں میں باپ کی ایسی ہیبت بٹھا دیتی ہیں جو برسوں نہیں مٹتی، اور کچھ کے لہجے میں ایسی کڑواہٹ گھل جاتی ہے کہ وہ بچوں کے دلوں سے باپ کی محبت کا ذائقہ ہی چھین لیتی ہیں۔ پھر یہی بچے بڑے ہو کر باپ کو نفرت بھری نظروں سے دیکھتے ہیں، یہاں تک کہ بدتمیزی پر بھی اتر آتے ہیں اور نافرمانی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ پھر وہی باپ... جو ساری زندگی ان کے لیے محنت کرتا ہے، اپنی خواہشیں قربان کرتا ہے، اپنی اولاد کی ایک جھلک کو ترس جاتا ہے۔ اے ماؤں! اپنے بچوں کے دلوں میں یہ یقین بٹھاؤ — کہ ان کے باپ ان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، اگرچہ وہ اسے ظاہر نہیں کر پاتے۔ باپ کی محبت شور نہیں کرتی، مگر باپ کی محبت ایسی ہے جو خاموش رہ کر بھی دلوں میں طوفان برپا کر دیتی ہے — یہ ہے اس باپ کی محبت جو اپنے ادھورے خواب اولاد کی خوشیوں پر قربان کر دیتا ہے، یعنی باپ کی خاموش محبت۔
دعائیہ کلمات
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے والدین، خصوصاً اپنے والد کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے، ان کی خدمت و اطاعت میں زندگی گزارنے، اور ان کی دعائیں حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ پاک ہمارے والدین کو سلامت رکھے، انہیں عمرِ دراز بالخیر عطا فرمائے، ان کا سایہ تا دیر ہمارے سروں پر قائم رکھے۔ جن کے والدین رخصت ہو چکے ہیں، ان کی قبروں کو نور سے بھر دے۔ اے ربّ العالمین! ہمیں اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے والی نیک اولاد بنا دے۔ آمین یا ربّ العالمین 🤲
