| عنوان: | حضرت سیّدنا امیر معاویہ رضی اللّٰہ عنہ |
|---|---|
| تحریر: | محمد عارف رضا قادری امجدی |
| منجانب: | جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی شریف ضلع مئو یوپی |
صحابی ابنِ صحابی حضرت سیّدُنا امیر معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کا سلسلۂ نسب پانچویں پشت میں حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے مل جاتا ہے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ 6 ہجری میں صلحِ حُدیبیہ کے بعد دولتِ ایمان سے مالامال ہوئے مگر اپنا اسلام ظاہر نہ کیا۔ پھر فتحِ مکّہ کے عظمت والے دن والدِ ماجد حضرت ابوسفیان رضیَ اللہُ عنہ کے ساتھ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر اس کا اظہار کیا تو رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مرحبا فرمایا۔ (طبقاتِ ابن سعد، ج 7، ص 285)
حُلْیۂ مبارکہ
حضرت امیر معاویہ رضیَ اللہُ عنہ گورے رنگ اور لمبے قد والے تھے، چہرہ نہایت وجیہ اور رُعْب و دبدبے والا تھا۔ زرد خِضاب استعمال فرمانے کی وجہ سے یوں معلوم ہوتا کہ داڑھی مبارک سونے کی ہے۔ (تاریخ الاسلام للذھبی، ج 4، ص 308)
فضائل و مناقب اور کتابتِ وحی
آپ رضیَ اللہُ عنہ کے اوصاف و کارنامے اور فضائل و مناقب کتبِ احادیث و سِیَر اور تواریخِ اسلام کے روشن اوراق پر نور کی کِرنیں بکھیر رہے ہیں۔ آپ کو کتابتِ وحی کے ساتھ ساتھ حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے خُطوط تحریر کرنے کی بھی سعادت حاصل ہوئی۔ (معجم کبیر، ج 5، ص 108، حدیث: 4748)
بُردباری اور حلم
ایک مرتبہ ایک آدمی نے آپ رضیَ اللہُ عنہ سے سخت کلامی کی مگر آپ نے خاموشی اختیار فرمائی، یہ دیکھ کر کسی نے کہا اگر آپ چاہیں تو اسے عبرت ناک سزا دے سکتے ہیں؛ فرمایا: مجھے اس بات سے حیا آتی ہے کہ میری رِعایا میں سے کسی کی غلطی کی وجہ سے میرا حِلم (یعنی قوتِ برداشت) کم ہو۔ (حلم معاویہ لابن ابی الدنیا، ص: 22)
اصلاحِ نفس کا جذبہ
آپ رضیَ اللہُ عنہ اپنے کام کو سنوارنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح کا جذبہ بھی رکھتے تھے، چنانچہ ایک مرتبہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ رضیَ اللہُ عنہا کو مکتوب روانہ کیا کہ مجھے وہ باتیں لکھ دیں جن میں میرے لئے نصیحت ہو۔ (ترمذی، ج 4، ص 186، حدیث: 2422 مختصراً)
فرمانِ مولیٰ مشکل کُشا
جنگِ صِفِّین کے بعد امیرُ المؤمنین حضرت سیّدُنا علیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ وَجہَہُ الْکریم نے حضرت امیر معاویہ رضیَ اللہُ عنہ کے بارے میں فرمایا: معاویہ کی حکومت کو ناپسند نہ کرو کہ اگر وہ تم میں نہ رہے تو تم سَروں کو کندھوں سے ایسے ڈھلکتے ہوئے دیکھو گے جیسے اندرائن (پھل)۔ (یعنی تم اپنے دشمن کے سامنے نہیں ٹھہر سکو گے)۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ج 8، ص 724، رقم: 18)
کعبہ میں نماز اور تبرکاتِ مصطفیٰ ﷺ سے محبت
جب آپ رضیَ اللہُ عنہ مکۂ مُکرّمہ میں داخل ہوئے تو حضرت سیّدُنا عبدُاللہ بن عمر رضیَ اللہُ عنہُما سے سوال کیا: نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کعبہ میں کس جگہ نماز پڑھی تھی؟ انہوں نے کہا: دیوار سے دو یا تین ہاتھ کا فاصلہ رکھ کر نماز پڑھ لیجئے۔ (اخبارِ مکۃ للازرقی، ج 1، ص 378)
ایک بار آپ رضیَ اللہُ عنہ مدینۂ مُنوّرہ تشریف لائے تو حضرت سیّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ رضیَ اللہُ عنہَا کی خدمتِ عالیہ میں آدمی بھیجا کہ آپ کے پاس رحمتِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رِدا (یعنی چادر) مُقدّسہ اور موئے مبارک ہیں، میں ان کی زیارت کرنا چاہتا ہوں، حضرت سیّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ رضیَ اللہُ عنہا نے وہ دونوں مُتبرّک چیزیں بھجوادیں۔ آپ رضیَ اللہُ عنہ نے حصولِ بَرَکت کے لئے چادر مبارک کو اوڑھ لیا، پھر ایک برتن میں موئے مبارک کو غسل دیا اور اس غَسالَہ کو پینے کے بعد باقی پانی اپنے جسم پر مَل لیا۔ (تاریخ ابنِ عساکر، ج 59، ص 153)
وصالِ مبارک اور وصیت
آپ رضیَ اللہُ عنہ کے پاس حضور سیّدِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے تَبرّکات میں سے اِزار (تہبند) شریف، ردائے اقدس، قمیصِ اطہر، موئے مبارک اور ناخنِ بابرکت کے مقدّس تراشے تھے، تَبرّکات سے برکات حاصل کرنے اور اہلِ بیت و صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان کی خدمت کا سلسلہ جاری و ساری تھا کہ وقت نے سفرِ زندگی کے اختتام پذیر ہونے کا اعلان کردیا، چنانچہ بَوقتِ انتقال وصیّت کی کہ مجھے حضورِ انور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اِزار شریف و ردائے اقدس و قمیصِ اطہر میں کفن دینا، ناک اور منہ پر موئے مبارک اور ناخنِ بابرکت کے تراشے رکھ دینا اور پھر مجھے اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْن کے رحم پر چھوڑ دینا۔ (تاریخ ابن عساکر، ج 59، ص 229 تا 231)
کاتبِ وحی، جلیلُ القدر صحابیِ رسول حضرت سیّدُنا امیر معاویہ رضیَ اللہُ عنہ نے 22 رجب المرجب 60ھ میں 78 سال کی عمر میں داعیِ اَجل کو لبیک کہا۔ (معجم کبیر، ج 19، ص 305، رقم: 679، استیعاب، ج 3، ص 472) حضرت سیّدُنا ضَحّاک بن قَیس رضیَ اللہُ عنہ نے نمازِ جنازہ پڑھانے کا شرف حاصل کیا جبکہ دِمَشْق کے بابُ الصغیر کو آخری آرام گاہ ہونے کا اعزاز بخشا گیا۔ (الثقات لابن حبان، ج 1، ص 436)
عقیدہِ اہل سنت اور صحابیت کا مقام
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اعتراض کرنا یا آپ سے سوءِ عقیدت رکھنا بدمذہبی و گمراہی و استحقاقِ جہنم ہے، کیونکہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابیِ رسول ہیں اور تمام صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اہلِ خیر و صلاح اور عادل ہیں، ان کا جب ذکر کیا جائے تو خیر ہی کے ساتھ ہونا فرض ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام صحابہ کرام کے ساتھ جنت کا وعدہ فرمایا ہے اور حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے تمام صحابہ کا تذکرہ خیر کے ساتھ کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔ پھر جن اصحاب کے لیے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے نام لے کر دعائیں فرمائیں ان میں سے ایک حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ہیں اور حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ پر طعن کرنے سے منع فرمایا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
وَ مَا لَکُمْ اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَ لِلہِ مِیۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ؕ لَا یَسْتَوِیۡ مِنۡکُمْ مَّنْ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ ؕ اُولٰٓئِکَ اَعْظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوۡا ؕ وَکُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی ؕوَ اللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ
ترجمہ کنز الایمان: اور تمہیں کیا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو، حالانکہ آسمانوں اور زمین میں سب کا وارث اللہ ہی ہے، تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتح مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیا، وہ مرتبہ میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا اور ان سب سے اللہ جنّت کا وعدہ فرماچکا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔ (پارہ 27، سورۃ الحدید، آیت 10)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لا تذکروا مساوی اصحابی فتختلف قلوبکم علیھم و اذکرو ا محاسن اصحابی حتی تاتلف قلو بکم علیھم"
ترجمہ: میرے صحابہ کا تذکرہ برائی کے ساتھ مت کرو کہ تمہارے دل ان کے خلاف ہوجائیں، میرے صحابہ کی اچھائیاں بیان کرو، یہاں تک کہ تمہارے دل ان کے لیے نرم ہوجائیں۔ (کنز العمال، کتاب الفضائل، الباب الثالث)
صحیح بخاری وصحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"لا تسبوا أصحابي، فلو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا ما بلغ مد أحدهم، ولا نصيفه"
ترجمہ: میرے صحابہ کو بُرا نہ کہو، پس اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ جتنا سونا خیرات کرے، تو وہ ان کے ایک مُد یا آدھا مُد خیرات کرنے کو نہیں پہنچ سکتا ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب المناقب)
المسامرہ میں ہے: اہل سنت کا عقیدہ (یہ ہے کہ) تمام صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی عدالت کو ثابت کرنے کے ساتھ ان کی پاکیزگی بیان کرنا واجب ہے اور ان سب کے معاملہ میں طعن سے رکے رہنا واجب ہے اور ان کی تعریف کرنا ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان کی تعریف کی ہے۔ (المسامرۃ شرح المسایرہ، الرکن الرابع، الاصل الثامن)
فرمانِ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی
صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: "تمام صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اہلِ خیر و صلاح ہیں اور عادل، ان کا جب ذکر کیا جائے، تو خیر ہی کے ساتھ ہونا فرض ہے۔ کسی صحابی کے ساتھ سوءِ عقیدت بدمذہبی و گمراہی و استحقاقِ جہنم ہے کہ وہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ بغض ہے، ایسا شخص رافضی ہے، اگرچہ چاروں خلفاء کو مانے اور اپنے آپ کو سُنّی کہے۔ مثلاً: حضرت امیرِ معاویہ اور اُن کے والدِ ماجد حضرت ابو سفیان اور والدہ ماجدہ حضرت ہند، کوئی ولی کتنے ہی بڑے مرتبہ کا ہو کسی صحابی کے رتبہ کو نہیں پہنچتا۔ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کے باہم جو واقعات ہوئے، ان میں پڑنا حرام، حرام، سخت حرام ہے۔ مسلمانوں کو تو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ سب حضرات آقائے دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے جاں نثار اور سچے غلام ہیں۔ تمام صحابہ کرام اعلیٰ و ادنیٰ (اور ان میں ادنیٰ کوئی نہیں) سب جنتی ہیں، وہ جہنم کی بِھنک نہ سنیں گے اور ہمیشہ اپنی من مانتی مرادوں میں رہیں گے، محشر کی وہ بڑی گھبراہٹ انہیں غمگین نہ کرے گی، فرشتے ان کا استقبال کریں گے کہ یہ ہے وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا۔ یہ سب مضمون قرآنِ عظیم کا ارشاد ہے۔ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم انبیاء نہ تھے، فرشتہ نہ تھے کہ معصوم ہوں۔ ان میں بعض کے لیے لغزشیں ہوئیں، مگر ان کی کسی بات پر گرفت اﷲ و رسول (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے خلاف ہے۔ اﷲ عزوجل نے سورہ حدید میں جہاں صحابہ کی دو قسمیں فرمائیں۔ مومنین قبلِ فتحِ مکہ اور بعدِ فتحِ مکہ اور اُن کو اِن پر تفضیل دی اور فرما دیا: ﴿وَکُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی﴾ سب سے اﷲ نے بھلائی کا وعدہ فرما لیا۔ ساتھ ہی ارشاد فرما دیا: ﴿وَ اللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ﴾ اﷲ خوب جانتا ہے، جو کچھ تم کرو گے۔ تو جب اُس نے اُن کے تمام اعمال جان کر حکم فرما دیا کہ ان سب سے ہم جنتِ بے عذاب و کرامت و ثواب کا وعدہ فرماچکے، تو دوسرے کو کیا حق رہا کہ اُن کی کسی بات پر طعن کرے؟ کیا طعن کرنے والا اﷲ (عزوجل) سے جدا اپنی مستقل حکومت قائم کرنا چاہتا ہے۔" (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 1)
