| عنوان: | اعلی حضرت محدث بریلوی کی محدثانہ بصیرت (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | غلام جیلانی مرکزی |
| پیش کش: | ام حبیبہ واسطی |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
اسلامی احکام کا ایک بنیادی اور اہم ترین ماخذ اور ادلۂ اربعہ میں سے کتاب اللہ کے بعد دوسری دلیل حدیثِ رسول اللہ ہے۔ اہلِ اسلام جہاں قرآن کریم سے راہ نمائی حاصل کرتے ہیں وہیں جمعِ حدیث سے بھی نورِ ہدایت پاتے ہیں کہ گمراہی سے بچنے کے لیے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ سے جو دو نسخے عطا ہوئے ہیں، ان میں سے ایک سنتِ مبارکہ ہے جس کے جاننے کا ذریعہ احادیثِ مبارکہ ہی ہیں؛ جیسا کہ ہادیِ برحق، علیم و خبیر آقا ﷺ نے فرمایا: ”تحقیق میں تم لوگوں میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک انہیں تھامے رکھو گے گمراہ نہ ہو گے (پہلی) اللہ کی کتاب اور (دوسری) میری سنت“ (مشکوٰۃ المصابیح، حدیث: 186)۔
ایک فقیہ و مفتی کے لیے جیسے قرآن کریم کے مفاہیم اور معانی پر مطلع ہونا ضروری ہے، ویسے ہی احادیثِ طیبات پر آگاہی بھی لازم و ضروری ہے۔ ماضیِ قریب کی عظیم روحانی، علمی اور انقلابی شخصیت، مجددِ دین و ملت، امامِ اہل سنت سیدی سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان نے جن جن موضوعات پر اپنی مایہ ناز تحقیقات اور گراں قدر تخلیقات پیش کی ہیں، ان ہی میں سے ایک علمِ حدیث بھی ہے جس میں آپ کو عظیم مقام و مرتبہ حاصل تھا اور احادیثِ کریمہ کا ایک بحرِ بیکراں آپ کے سینے میں موجزن تھا۔ علمِ حدیث اور حفظِ حدیث میں آپ کو جو مقام حاصل تھا، اسے سمجھنے کے لیے یہ شعر کافی ہے:
ان کی حدیث دانی کا عالم نہ پوچھیے
لگتا ہے گویا روحِ بخاری رضا میں ہے
امامِ اہل سنت، عاشقِ رسولِ اعظم، جہاں مجددِ اعظم اور فقیہِ اعظم تھے، وہیں ماضیِ قریب کے محدثِ اعظم بھی تھے۔ جس موضوع پر بھی آپ کا قلم اٹھتا—خواہ اسلامی افکار و نظریات کی حمایت میں ہو یا کفر و گمراہی کی تردید میں—قرآن کریم سے استدلال کے بعد احادیثِ کریمہ کا اتنا انبار لگا دیتے کہ پڑھنے والا موافق ہو تو اس کا کلیجہ ٹھنڈا اور آنکھیں روشن ہو جائیں، اور اگر مخالف ہو تو زبان گونگی اور دل ماننے پر مجبور ہو جائے۔
چند مثالیں ملاحظہ کیجیے:
(1) حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی علیہ الرحمہ کے خلیفہ مولانا کرامت اللہ صاحب نے دہلی (باڑہ ہندو راؤ) سے 1311ھ میں ایک استفتاء اس مضمون کا بھیجا کہ ’زید درودِ تاج وغیرہ پڑھنے کو شرک و بدعت کہتا ہے کیونکہ اس میں حضور سیدِ عالم ﷺ کو دافع البلاء والوباء وغیرہ کہا گیا ہے جو کھلا شرک ہے، العیاذ باللہ‘۔ یہ پڑھ کر کلکِ رضا حرکت میں آیا اور حضور ﷺ کے دافعِ بلاء اور صاحبِ عطا ہونے کو تین سو (300) احادیثِ کریمہ کے ذریعہ ثابت فرما کر وہابیہ کے خود ساختہ شرک کو ہمیشہ کے لیے خاک میں ملا دیا اور ایسا جواب عطا فرمایا کہ وہ ایک مستقل رسالے کی صورت اختیار کر گیا، جو "الامن والعلیٰ" کے نام سے مشہور ہے۔ (22 جلدوں والے فتاویٰ رضویہ میں یہ رسالہ 19 ویں جلد میں اور 30 جلدوں والے میں 30 ویں جلد کے نصفِ اول میں موجود ہے، صاحبِ طلب وہاں رجوع کر سکتے ہیں)۔
(2) حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو بے شمار دیگر فضائل کے ساتھ یہ شرف بھی حاصل ہے کہ آپ خاتم المرسلین و النبین ہیں۔ سیدی اعلیٰ حضرت نے جب منکرینِ ختمِ نبوت، بالخصوص مرزا قادیانی کی جعل سازیوں اور فتنوں کی بیخ کنی کا ارادہ فرمایا تو اس موضوع پر "جَزَاءُ اللَّهِ عَدُوَّهُ بِآبَائِه خَتْمِ النُّبُوَّة" نامی تصنیف رقم فرمائی، جس میں دیگر دلائل کے علاوہ اکیس (21) احادیثِ طیبات بھی درج ہیں۔
(3) سیدی اعلیٰ حضرت کے استادِ گرامی حضرت مولانا غلام قادر بیگ رحمۃ اللہ علیہ کی معرفت اعلیٰ حضرت کے پاس ایک سوال آیا کہ بعض لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے افضل المرسلین ہونے کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قرآن و حدیث سے دلیل لاؤ۔ اس کے جواب میں سیدی اعلیٰ حضرت نے فرمایا: ’حضور پُرنور سید المرسلین علیہ السلام کا افضل المرسلین اور سید الاولین والآخرین ہونا قطعی، ایمانی، اجماعی اور ایقانی مسئلہ ہے جس میں خلاف نہ کرے گا مگر گمراہ، بددین اور بندۂ شیاطین‘۔ پھر آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اس مسئلے کو 100 احادیث کے ذریعے روشن و واضح فرمایا اور اس تصنیف کا نام "تَجَلِّي الْيَقِين بِأَنَّ نَبِيَّنَا سَيِّدُ الْمُرْسَلِين" رکھا۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
