| عنوان: | ہندوستان میں مسلمانوں کی موجودہ سماجی اور سیاسی صورتحال |
|---|---|
| تحریر: | اے _ سعید |
| پیش کش: | ساریہ فاطمہ رضویہ |
| منجانب: | دو ماہی الرضا انٹرنیشنل نومبر، دسمبر ۲۰۱۷ء |
ہمارے ملک کی سماجی اور سیاسی صورتحال دن بدن خطرے سے دوچار ہے۔ ہندوتوا فاشسٹ تنظیمیں، بی جے پی، این ڈی اے حکومت اور سرکاری مشینری ہمارے ملک کے عوام کے درمیان رائج ترقی پسند جمہوری خیالات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اس وقت ملک میں لفظ "عدم رواداری" کا زیادہ چرچا ہو رہا ہے۔ ملک کئی تبدیلیوں اور بحران کے دور سے گزر رہا ہے۔ این ڈی اے حکومت کی ترقی کا نعرہ اب تقسیم کی سیاست میں تبدیل ہو گیا ہے۔ مودی حکومت تخلیقی ایجنڈے سے ہٹ کر ہندوتوا انتہا پسندوں کی گرفت میں ہے۔ بی جے پی کا مرکز میں اقتدار پر قابض ہونے کے بعد سے ملک میں ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں جن سے سیکولرازم اور مساوات صرف دکھاوا بن کر رہ گیا ہے اور حکومتی مشینری فرقہ وارانہ ایجنڈے کے نفاذ میں دلچسپی دکھا رہی ہے۔ فرقہ وارانہ منافرت اور گائے کے تحفظ کے نام پر ملک کے مختلف حصوں میں مسلمانوں پر لگاتار حملے ہو رہے ہیں۔ فسطائی طاقتیں اب یکساں سول کوڈ کے نام پر فرقہ وارانہ تنازعات پیدا کرنے کے لیے نئی چالیں چل رہی ہیں۔ جبکہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) ایک "ہندو راشٹر" کے قیام کے اپنے بنیادی نظریے سے کبھی منحرف نہیں ہوئی ہے۔ ودیا بھارتی جو بھارت میں نجی اسکولوں کا سب سے وسیع نیٹ ورک ہے، ان تعلیمی اداروں کے ذریعے زعفرانی سیاہی کے ساتھ تاریخ کو پھر سے لکھنے کی منظم کوشش ہو رہی ہے، جس کے ذریعے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کے ذہنوں میں ہندوتوا کے بنیادی نظریات کو بھرا جا رہا ہے۔ بھارتیہ شکشا نیتی آیوگ (BSNA) کو قائم کرنے کے لیے ایچ آر ڈی منسٹری کی طرف سے منظوری دیا جانا خود اس بات کا ثبوت ہے کہ بی جے پی کس نظریے سے متفق ہے۔ (BSNA) کو آر ایس ایس سے وابستہ 'شکشا سنسکرتی اتھان نیاس' نے قائم کیا ہے۔ ہم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ماضی قریب سے ہندوستان کی تاریخ کو مسخ کرنے اور تعلیمی نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اقلیتی طبقات کو ملک میں اڑچن اور بدامنی پیدا کرنے والے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں، عیسائیوں اور پارسیوں کو غیر ملکی قرار دیا جا رہا ہے۔ بھارت کی تقسیم کے لیے مسلمانوں کو مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ آر ایس ایس کو آزادی کی جدوجہد میں مرکزی کردار ادا کرنے والی تنظیم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور ڈاکٹر کیشو راؤ ہیگڈے وار کا شمار جدوجہد آزادی کے قدآور رہنماؤں میں کیا جا رہا ہے۔ قومی رہنماؤں کی ایک کثیر تعداد نے اپنے بیانات میں آر ایس ایس کی تعریف کی ہے۔ سنگھ پریوار اور اس کی ذیلی تنظیموں نے قومی اہمیت کے حامل 17 سے زائد تحقیقی اداروں جیسے: Indian Council of Social Science Research، Indian Council of Philosophical Research، UGC، NCERT، Institute of Advanced Studies سمیت دیگر کئی اہم اداروں پر اپنا قبضہ جما لیا ہے۔
پیسے کی طاقت: نیو لبرل پالیسیوں کو لاگو کرنے کے لیے سرمایہ داروں، سامراجیوں اور ان کے اتحادی ساری دنیا میں نیو فاشسٹ حکمرانی قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کا مشاہدہ ہمارے ملک ہندوستان میں بھی کیا جا سکتا ہے، یہ انقلابی اور جمہوری طاقتوں اور ہمارے ملک کے عوام کے سامنے بڑا چیلنج ہے۔ اس حقیقت کا بھی انکشاف ہو چکا ہے کہ آر ایس ایس، بی جے پی، کارپوریٹس اور میڈیا کی ملی بھگت کے نتیجے میں نریندر مودی کی بڑے پیمانے پر جیت ہوئی۔ یہ بی جے پی کی جیت نہیں ہے، یہ ان کارپوریٹ کمپنیوں کی جیت ہے جو نریندر مودی کو فروغ دے کر وزیر اعظم بنانا چاہتی تھیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت کی کارپوریٹ دنیا نے سیاست دانوں کو اپنانے اور ان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایک مہم کا آغاز کر رکھا ہے۔ لہٰذا میڈیا نے نریندر مودی کو ترقی کے مسیحا کے طور پر پیش کیا تھا، جس کے بعد خود کارپوریٹ میڈیا نے اس بات کا انکشاف کیا کہ اکیلے نریندر مودی کی تشہیر کرنے اور ان کو فروغ دینے کے لیے 30 ہزار کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے گئے تھے۔ مودی حکومت اب کارپوریٹس کی خدمت میں مصروف نظر آ رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں قیمتی عوامی اثاثوں، جنگلات اور زرعی زمینوں پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ اس قسم کے اقدامات اقتصادی منطق کے خلاف ہیں جن سے ملک کے عام عوام کی آزادی، سلامتی اور ان کی روزی روٹی کو خطرہ لاحق ہے اور اس سے ملک کی سماجی سالمیت کمزور ہوتی ہے۔ این ڈی اے حکومت کی طرف سے فاریسٹ رائٹ ایکٹ (FRA) کو کمزور اور سبوتاژ کر کے کارپوریٹ اقلیت کے مفادات کو پورا کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم کے دفتر سے یہ کوشش ہو رہی ہے کہ موجودہ جنگلات و ماحولیاتی ایکٹس کے قواعد و ضوابط پر غور کیے بغیر متعلقہ وزارتوں پر یہ دباؤ ڈالا جائے کہ وہ کچھ منصوبوں کے لیے اجازت دیں۔ وزیر اعظم کے دفتر نے کچھ منصوبوں کے لیے محکمہ جنگلات سے منظوری طلب کی تھی، لیکن ان منصوبوں میں فاریسٹ رائٹ ایکٹ کے تحت تمام شرائط پر عمل نہیں کیا گیا ہے۔ حکومت سختی سے کوشش کر رہی ہے کہ موجودہ تحویل اراضی، ری ہیبلی ٹیشن اور ری سیٹلمنٹ ایکٹ 2013 میں اہم تبدیلی لا سکے۔ جس کا مقصد صنعت کاروں کو کئی طریقے سے خوش کرنا ہے۔ بات واضح ہے کہ ایک غریب ترین کسان زمین میں کاشتکاری کرتا ہے لیکن وہ اس کا مالک نہیں ہے، تو ایسے غریب کسان کو کوئی معاوضہ نہیں مل سکے گا۔ قانون میں سماجی تشخیص کے حصے کو نکال کر حکومت ایک بہت بڑی رکاوٹ سے بری ہو گئی ہے۔ اس سے قبل کے قانون کے تحت تشخیص اس لیے کی جاتی تھی کہ کتنے لوگ اس سے متاثر ہوں گے، زمین کے مالک کے علاوہ تمام لوگ جو زمین پر انحصار کرتے ہیں ان کو معاوضہ دیا جانا ضروری تھا، لیکن اب نیا آرڈیننس صرف جاگیرداروں کو معاوضہ دینے کو یقینی بناتا ہے۔ مزدور قوانین کی ترمیم میں کم از کم اجرت کی ترمیم بھی شامل ہے۔ حکومت کی جانب سے خصوصی اقتصادی زون (SEZ) اور دیگر صنعتی علاقوں میں بھی خصوصی سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو مزدور اور عوام مخالف قوانین ہیں۔ یہ کام مالکان کو خوش کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے، خاص طور پر کارپوریٹس کے مالکان کو خوش کرنے کے لیے یہ اقدام کیا جا رہا ہے۔ این ڈی اے حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں کی یہ صرف چند مثالیں ہیں۔
بدعنوانی: سیاست میں مجرموں کے اثر و رسوخ کی وجہ سے بھارت میں انتظامیہ اور سماجی زندگی کے تمام شعبہ جات میں بدعنوانی کا بول بالا ہے۔ تشویش ناک صورتحال یہ ہے کہ پولیس اور عدلیہ بھی بدعنوانی جیسی لعنت سے آزاد نہیں ہے۔ عوام میں عدم تحفظ کا احساس کافی گہرا ہے اور ان کی عام زندگی ایک غیر یقینی سماجی ماحول میں گزر رہی ہے۔ سال 2011 میں ایک بین الاقوامی ایجنسی Transparency International کی جانب سے تیار کردہ فہرست کے مطابق بھارت بدعنوانی میں 182 ممالک کی فہرست میں 87 ویں نمبر پر ہے، جس سے ملک کی ترقی پر منفی اثر پڑا ہے۔ عوامی سہولیات اور عوام کی فلاح و بہبود کی ترقی کے لیے مختص پیسہ عوام کو لوٹنے میں ملوث ٹھیکے داروں، سرکاری ملازمین اور سیاست دانوں کی جیبوں میں بھرا جا رہا ہے۔
بھارت میں جمہوریت کی ناکامی: بھارت دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے۔ جمہوریت کو حکومت کی ایک مثالی شکل کے طور پر مانا جاتا ہے جس میں لوگوں کی نمائندگی ان کے منتخب نمائندے کرتے ہیں۔ یہ عوام کے لیے، عوام کی طرف سے اور عوام کی حکومت ہے۔ یہ وہ عوامی حکومت ہے جس میں عوام کی آواز بالاتر ہے۔ قوانین عوام کی مرضی کے مطابق ہی تشکیل دیے جاتے ہیں۔ بھارت کے ہر ایک شہری کو رنگ، ذات، نسل، مذہب، املاک یا جنس کی بنیاد پر کسی بھی امتیاز کے بغیر اسمبلی انتخابات میں ووٹ ڈالنے اور ایک رکن اسمبلی کے طور پر منتخب ہونے کا حق حاصل ہے۔ بھارت ایک سیکولر جمہوری ملک ہے لیکن ہمارے ملک میں وعدوں اور کارکردگی کے درمیان ایک بڑا فرق ہے۔ نظریاتی طور پر ہم ہر حق سے لطف اندوز ہو رہے ہیں لیکن عملی طور پر نہیں۔ معاشرے کا سماج وادی تصور صرف ایک خواب میں تبدیل ہو گیا ہے۔ حقیقی جمہوریت تب ہی آ سکتی ہے جب اس ملک کے عوام بیدار ہوں گے اور ملک کے اقتصادی اور سیاسی شعبے میں حصہ لیں گے۔ بھارت آج ایک امیر آدمی کی جمہوریت ہے، ہماری جمہوریت امیر کے لیے اور امیر کی طرف سے ہے۔ عوام تعلیم سے آراستہ نہیں ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے ووٹ کا غلط استعمال کر جاتے ہیں یا انہیں باآسانی پیسے کے زور پر خرید لیا جاتا ہے۔ جب تک عوام کے درمیان بڑے پیمانے پر تعلیم اور روشن خیالی عام نہیں ہوتی اس وقت تک کوئی جمہوریت کامیاب نہیں ہو سکتی ہے۔ یہاں امیر طبقہ غریب طبقے کا استحصال کرتا ہے کیونکہ غریب طبقے کا جمہوری ڈھانچے میں کوئی مؤثر اشتراک نہیں ہے۔ آج جمہوریت آزمائش کے دور سے گزر رہی ہے۔ جمہوریت ناکام نہیں ہوئی ہے بلکہ ہم ناکام ہوئے ہیں۔ اگر ہم اپنے آپ میں جمہوری جذبہ، حساسیت اور کردار کی بنیاد پر صحیح معنوں میں ہندوستانی بننے کو تیار ہوں تو ہم یقینی طور پر کامیاب ہو سکتے ہیں۔ انتخابات ہمیشہ ایک مہنگا معاملہ رہا ہے اور پیسے کی کشش خاص طور پر غیر تعلیم یافتہ لوگوں پر حیرت انگیز کام کرتی ہے۔ ملک کی ایک واحد پارٹی بھی مکمل جمہوری ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتی ہے۔ سیاست اب ایک کاروبار بن چکی ہے، جہاں سرمایہ کاری کرنے کے بعد اقتدار کا غلط استعمال کر کے منافع کمایا جا رہا ہے۔ غیر تعلیم یافتہ عوام اور قانون ساز ادارے پارلیمنٹ کے اراکین کرنسی نوٹوں سے ہی متاثر ہوتے ہیں۔ اور بہت سی نام نہاد جمہوری اور انقلابی قوتیں اس صورتحال سے نمٹنے کے قابل نہیں بن پا رہی ہیں۔ وہ اب بھی سامراجی، سرمایہ دارانہ اور فرقہ وارانہ طاقتوں سے عوام کی حفاظت کی ذمہ داری لینے سے ہچکچا رہی ہیں۔
کہاں ہے سیکولرازم؟: ہندوستان کے مسلمان فرقہ وارانہ فاشسٹ عناصر کی طرف سے کیے جانے والے حملوں اور حکومت کی جانب سے کی جانے والی ناانصافی اور جانبدارانہ رویوں سے خوفزدہ ہیں۔ ہمارے ملک میں موجودہ صورتحال یہ ہے کہ فرقہ وارانہ عناصر مسلمانوں کے خلاف، بشمول نسل کشی کے، کسی بھی قسم کے مظالم ڈھانے کے لیے آزاد ہیں۔ بھارت میں ہوئے کسی بھی فرقہ وارانہ حملے کے خلاف مناسب کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ معصوم اور بے قصور مسلمانوں کو جھوٹے الزامات میں گرفتار کر کے انہیں کئی سال سے مقید رکھا گیا ہے۔ بعض معاملوں میں ان کی بے گناہی ثابت کی گئی ہے لیکن ان نوجوانوں کو بعد میں دوسرے جھوٹے الزامات کی بنیاد پر دوبارہ جیلوں میں بھیج دیا جاتا ہے۔ ایک منصوبہ بندی کے تحت حکومت مسلمانوں کی توہین کرنے اور انہیں الگ تھلگ رکھنے کی سازش میں حصہ لیتی ہے۔ مسلمان طبقہ اس ملک میں سب سے زیادہ فرقہ وارانہ عناصر کے نشانے پر ہے۔ حکومت، انتظامیہ اور سیاسی پارٹیوں کی جانب سے مسلسل طور پر مسلم مخالف رجحان اتنا بڑھ چکا ہے کہ مسلم کمیونٹی کے ہر فرد کے دل پر گہرا زخم لگا ہے۔ یہاں تک کہ سیکولر پارٹیوں اور ان کے لیڈران نے بھی اہم مواقع پر اپنا فرقہ وارانہ چہرہ دکھایا ہے۔ مسلمان ہر قسم کے تحفظ سے محروم ہیں، مسلمان ہی زیادہ تر اور ہمیشہ کالے قوانین اور ریاستی دہشت گردی کا شکار ہوتے آ رہے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ملک میں فرقہ وارانہ عناصر کو فرقہ وارانہ فسادات کے نام پر قتل، لوٹ مار، عصمت دری، آتش زنی وغیرہ کی عملی طور پر کسی بھی حد تک جانے کی کھلی چھوٹ مل گئی ہے۔
