Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اسلامی فکر کی تعمیر نو (قسط: اول)|علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی

اسلامی فکر کی تعمیر نو (قسط: اول)
عنوان: اسلامی فکر کی تعمیر نو (قسط: اول)
تحریر: علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی
پیش کش: اختری

جامعہ ملیہ دہلی میں 15 دسمبر 1976ء کو ایک سیمینار منعقد ہونے والا تھا۔ اس میں اسلامی فکر کی تعمیر نو کے عنوان پر ایک مقالہ پڑھا جانے والا تھا۔ اس سلسلہ میں ایک صاحب نے وہاں سے یہ چند سوالات بھیجے تھے۔ باوجود گوناگوں مصروفیات کے قلم برداشتہ جو جوابات ارسال کیے گئے ہیں، وہ ہدیہ ناظرین ہیں۔ اس امید پر کہ ہو سکتا ہے یہ مضمون اسلامی مفکرین کو بہت سی غلط فہمیوں سے بچالے۔ (فقیر امجدی)

  1. کیا اسلام فکر کی اجازت دیتا ہے؟

  2. اگر جواب اثبات میں ہے تو کوئی مثال دیجیے کہ اسلامی تاریخ کے ارتقائی کن مراحل پر فکر سرگرم عمل رہی۔ آزادی فکر کن حدود کی پابند رہی؟

  3. کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اسلامی فکر میں جمود آ گیا ہے؟

  4. اگر جمود آ گیا ہے تو کب سے؟

  5. جمود کے لیے کون سے مخصوص حالات ذمہ دار قرار دیئے جاسکتے ہیں۔ ذمہ داری فکر کی ہے یا سماجی حالات کی؟

  6. کیا اجتہاد کے دروازے کھولے جا سکتے ہیں، یا نہیں؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو بتائیے اجتہاد کا حق کس کو دیا جائے؟ اور اس کا نفاذ کس طرح کیا جائے؟

  7. کیا موجودہ دور میں اسلامی فکر کے احیاء کی ضرورت ہے؟

  8. اگر جواب اثبات میں ہے تو بتائیے وہ کون سی سمتیں ہیں جن میں اسلامی فکر کی تعمیر نو اسلامی معیشت اور انسانیت کی ترقی کے لیے معاون ہو سکتی ہے؟

  9. اسلامی فکر کی تعمیر نو کے سلسلے میں کون سے مسائل یا مشکلات حائل ہو سکتے ہیں۔ کیا انہیں دور کیا جا سکتا ہے؟

جوابات

پہلا سوال: کیا اسلام فکر کی اجازت دیتا ہے؟

فکر مبہم لفظ ہے۔ آپ کی مراد کیا ہے، واضح کریں۔ عرفِ عام میں کسی الجھے ہوئے معاملے کو سلجھانے کے لیے غور کرنے کو فکر کہتے ہیں۔ منطقی اصطلاح میں اس کے معنی یہ ہیں: جو باتیں معلوم ہوں ان کو منضبط قواعد کے تحت اس طرح ترتیب دینا کہ ان کے ذریعہ وہ بات معلوم ہو جائے جو معلوم نہیں تھی۔

لیکن سوال 6 سے شبہہ ہوتا ہے کہ فکر سے آپ کی مراد اجتہاد ہے۔ یہ ایک خالص شرعی لفظ ہے، اور مخصوص شرعی معنی کے لیے بولا جاتا ہے۔ یعنی ایک شے کا حکمِ شرعی دوسری شے کے لیے ثابت کرنا۔ اس بنا پر کہ اس حکمِ شرعی کی علت دوسری شے میں بھی پائی جاتی ہے۔ بشرطیکہ شے ثانی کا حکم منقول نہ ہو۔

فکر سے آپ کی مراد کچھ بھی ہو۔ اس نمبر کا جواب اثبات میں ہے۔ اسلام نے بڑی فراخ دلی سے فکر کی اجازت ہی نہیں، حکم دیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ [سورۃ الحشر: 2]

ترجمہ: اے بصیرت والو! غور کرو۔

فَاعْتَبِرُوا، اعتبار مصدر کا امر ہے۔ اعتبار کے دو معنی ہیں۔ عبرت حاصل کرنا، غور کرنا۔ الفاظِ قرآنیہ کے اگر چند معانی ہوں اور وہ آپس میں مزاحم نہ ہوں تو دونوں معتبر ہیں۔ یہاں دونوں معانی مراد ہیں۔ عبرت حاصل کرو، اور غور و فکر کرو۔ ترمذی، ابو داؤد، اور دارمی کی یہ حدیث اس پر نصِ صریح ہے۔ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کے لیے قاضی مقرر فرمایا تو ان سے دریافت کیا:

معاملات کا فیصلہ کیسے کرو گے؟

عرض کیا: کتاب اللہ سے۔

فرمایا: اگر اس میں نہ ملے تو؟

عرض کیا: پھر رسول اللہ کی سنت سے۔

فرمایا: اگر اس میں بھی نہ ملے تو؟

عرض کیا: غور و خوض کر کے اپنی رائے سے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا:

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ لِمَا يَرْضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ

ترجمہ: اس اللہ کا شکر ہے جس نے اللہ کے رسول کے فرستادہ کو اس بات کی توفیق دی جو رسول اللہ کو پسند ہے۔

صحیحین یعنی بخاری و مسلم میں دوسری حدیث حضرت عبداللہ بن عمرو اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے یوں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ

ترجمہ: حاکم خوب غور کر کے فیصلہ کرے، اور صحیح کرے تو اسے دونا ثواب ہے اور اگر چوک جائے تو ایک ثواب کا مستحق ہے۔

دوسرا سوال: اسلامی تاریخ میں فکر کی مثالیں اور اس کی حدود

اسلامی فکر کی ایک نہیں سینکڑوں مثالیں موجود ہیں۔ عہدِ رسالت میں جو باتیں باہمی غور و خوض سے طے ہوتیں ان سے چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم متفق ہوتے تھے، اس لیے وہ بہ فحوائے:

وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ۝ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ

وحی ہیں۔ اس لیے اس کو جانے دیجیے۔ عہدِ رسالت کے بعد کی مثال لیجیے:

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جانشینی کا مسئلہ درپیش ہوا۔ ظاہر ہے کہ یہ مسئلہ کتنا اہم تھا۔ اسلام کی ترقی و تنزلی، بقا و فنا کا مدار یہ مسئلہ تھا۔ اس وقت پوری دنیا کا مزاج شہنشاہی تھا۔ مرنے والے حکمران کے بعد اس کے عصبات اور رشتہ دار، الاقرب فالاقرب کی ترتیب سے جانشیں ہوتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جانشینی کے سلسلہ میں ایک رجحان یہ بھی پیدا ہوا۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اسی بنا پر اس کے خواہش مند بھی ہوئے مگر کامل بحث و تمحیص، مکمل غور و خوض کے بعد جملہ صحابہ کرام نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جانشین منتخب کیا۔ خلافتِ راشدہ کی تیس سالہ تاریخ نے ثابت کر دیا کہ اس سے موزوں تر کوئی دوسرا انتخاب نہیں ہو سکتا تھا۔

صدیوں سے پوری دنیا میں پھیلے ہوئے قانون کے خلاف ایک نئی راہ نکالنا اسی کا ثمرہ تھا کہ اسلام نے اپنے پرستاروں کو مکمل آزادیِ فکر کی اجازت دی ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ اسلامی فکر بہر حال قرآن و حدیث کی پابند ہے۔ جس کی بنیاد یہ ہے کہ اسلامی فکر کی جولانگاہ وہ ہے جہاں کتاب و سنت سے کوئی حکم منقول نہ ہو۔ جس پر دلیلِ قاطع اوپر گزری ہوئی حدیثِ معاذ ہے۔ یہ دروازہ بند نہیں ہوا۔ خلافتِ راشدہ کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔

عہدِ صحابہ کے بعد تابعین کا دور آیا۔ قرآن مجید گھر گھر پہنچا۔ احادیث کا سلسلۂ اشاعت پورے بلادِ اسلامیہ میں پھیل گیا۔ قرآن مجید میں ناسخ بھی ہے، منسوخ بھی، عام بھی ہے، خاص بھی، مطلق بھی ہے، مقید بھی، ظاہر البیان بھی ہے، اور خفی البیان بھی۔ یہی حال احادیث کا ہے۔ علاوہ ازیں احادیث میں صحیح بھی تھیں اور سقیم بھی، بلکہ ناخدا ترسوں کی من گھڑت تراشیدہ خرافات بھی بنامِ احادیث عوام تو عوام کتنے خواص کی زبانوں پر جاری اور صحائف میں مسطور تھیں۔ اب تک کا مزاج یہ تھا کہ کسی معاملہ میں اتنا کہہ دینا کافی تھا: قال رسول اللہ کذا، فعل رسول اللہ کذا وغیرہ وغیرہ مگر اب اس میں دشواریاں بھی تھیں، اور خطرے بھی۔ اب اہلِ حل و عقد علماء نے ایک نیا راستہ اپنی صواب دید سے نکالا۔

مقتدایانِ اسلام دو گروہوں میں منقسم ہو گئے:

  1. ایک تو احادیث کریمہ کی حفاظت و صیانت، نشر و اشاعت، اور نقد و جرح میں مصروف ہو گیا، یہ محدثین کہلائے۔

  2. دوسرا گروہ ان احکام کی تدوین و ترتیب میں مشغول ہو گیا، جو کتاب و سنت سے ماخوذ ہوئے، یہ فقہاء و مجتہدین کہلائے۔

اگر اس وقت ملت کے ذمہ داروں نے ایسا نہ کیا ہوتا تو یہ یقین کر لیں کہ اسلام کا بھی وہی حال ہوتا جو یہودیت اور نصرانیت کا ہوا۔ جو کچھ ہوا علماء نے اپنی صواب دید سے کیا۔ مگر ہوا کتاب و سنت کی روشنی میں، ان کی مقرر کی ہوئی حدود میں۔ اس لیے اس نکتے سے کبھی غفلت نہیں کی جا سکتی کہ اسلامی فکر کی آزادی کا یہ مطلب نہیں کہ وہ قرآن و سنت سے بھی آزاد ہے۔

تیسرا سوال: اسلامی فکر میں جمود

اسلامی فکر سے مراد، اگر اجتہاد ہے تو بلاشبہہ اس میں جمود ہے۔ اور عرفی و منطقی فکر مراد ہے تو اس میں نہ اب جمود ہے، اور نہ رہ سکتا ہے۔

چوتھا سوال: جمود کا آغاز

اجتہاد میں کب سے جمود ہے اس کی صحیح تاریخ بتانا مشکل ہے۔ اندازہ ہے کہ تیسری صدی کے بعد کوئی مجتہد نہیں پیدا ہوا۔

پانچواں سوال: جمود کے اسباب

اجتہاد کے بند ہونے کے اسباب نہیں صرف ایک سبب ہے۔ یعنی صرف مجتہدین کا فقدان ہے۔ اور یہ اسی وقت سمجھ میں آ سکتا ہے کہ شرائطِ اجتہاد معلوم ہوں وہ مندرجہ ذیل ہیں:

  • کتاب اللہ کے اس حصے کا عالم ہونا جس کا تعلق احکام سے ہے، کتاب اللہ کے عالم ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن مجید کے الفاظ و تراکیب کے اپنے شرعی، عرفی معنی بخوبی جانتا ہو۔

  • اسی تفصیل کے ساتھ احادیث کریمہ کا بھی عالم ہو، مزید یہ کہ احادیثِ صحیحہ، غیر صحیحہ، ضعاف، اور حسان میں تمیز کی صلاحیت رکھتا ہو۔ نیز احادیث سے متعلق جملہ علوم پر مکمل حاوی ہو۔

  • قیاس کے طریقے جانتا ہو، نہ صرف جانتا ہو بلکہ اس کا ملکہ تامہ رکھتا ہو۔ قیاسِ صحیح و فاسد میں امتیاز کی پوری مہارت رکھتا ہو۔

  • مسلمان صحیح العقیدہ ہو۔

  • تقویٰ، خدا ترسی، اور دیانت میں اعلیٰ درجہ پر فائز ہو۔

  • اعلیٰ درجہ کا ذہین، طباع، اور نکتہ رس ہو۔

یہ کہنے کے لیے چھ شرطیں ہیں، لیکن اگر ان کی تفصیل کی جائے تو دفتر کے دفتر تیار ہو جائیں۔ اندازے کے لیے ایک جھلک دیکھ لیں۔

قرآن و حدیث کے معنیِ لغویہ و عرفیہ جاننے کے لیے ضروری ہے کہ عہدِ رسالت میں ان الفاظ و تراکیب کے کیا معنی تھے، اس کو کما حقہ جانے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اس عہد میں اہلِ حجاز خصوصاً قریش کے کلام کا پورا ذخیرہ اسی کی معلومات کے احاطے میں ہو، اور آج یہ ممکن نہیں۔ آج قریش اور اہلِ حجاز کے لیے کلام کا جو سرمایہ موجود ہے، وہ چند اشعار اور گنتی کے مقولوں کے سوا کچھ نہیں۔ یہ شرط ضروری ہے یا نہیں اس کا اندازہ اس واقعے سے کیجیے۔ (جاری ہے)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!