Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

عہدِ رسالت سے اتصال( علامت اول)|طارق انور مصباحی

عہدِ رسالت سے اتصال (علامت اول)
عنوان: عہدِ رسالت سے اتصال (علامت اول)
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: مفتیہ ام ہانی امجدی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ [سورۃ التوبة: 32، 33]

چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنے منہ سے بجھا دیں، اور اللہ نہ مانے گا، مگر اپنے نور کا پورا کرنا، پڑے برا مانیں کافر۔ وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے، پڑے برا مانیں کافر۔

عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ كَذَلِكَ [صحیح مسلم، ج: 2، کتاب الإمارة]

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت کا ایک طبقہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا، وہ انہیں نقصان نہ پہنچا سکے گا جو انہیں چھوڑ دے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم (قیامت) آجائے، اور وہ اسی طرح رہیں گے۔

توضیح: ہر زمانے میں اہل سنت و جماعت کا وجود رہے گا۔ حدیث نبوی میں ’لا تزال‘ کا لفظ بتا رہا ہے کہ اہل حق زمانہِ رسالت سے قیامت تک رہیں گے، اور کسی زمانہ میں انقطاع نہیں ہوگا، اور جتنی جماعتیں عہدِ رسالت کے بعد پیدا ہوئیں، وہ سب عہدِ رسالت سے منقطع ہیں، لہٰذا ان کے حق ہونے کا کوئی سوال پیدا نہیں آتا۔ یہ اہل سنت کی حقانیت کی ایسی علامت ہے جو عوام و خواص سب کے لیے ظاہر ہے۔ ایمان جس کے لیے مقدر ہوگا، وہ کبھی گمراہ نہ ہوگا، اور جس کی تقدیر میں ضلالت و گمراہی ہے، وہ کبھی راہِ راست پر نہ آ سکے گا۔

عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ - وَلَا تَزَالُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ [صحیح مسلم، ج: 2، کتاب الإمارة]

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اس کو دین کا فقیہ بنا دیتا ہے، اور مسلمانوں کا ایک طبقہ ہمیشہ حق کے لیے جنگ کرتا رہے گا، قیامت تک اپنے مخالفین پر غالب رہے گا۔

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَبْرَحُ عِصَابَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لَا يُبَالُونَ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَخْرُجَ الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ فَيُقَاتِلُونَهُ [سنن سعيد بن منصور، ج: 2، ص: 125، الدار السلفية: الهند]

حضرت محمد بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی، وہ اپنے مخالفین کی پرواہ نہیں کرے گی، یہاں تک کہ مسیح دجال نکلے، پس وہ لوگ دجال سے جنگ کریں گے۔

توضیح: مذکورہ بالا تینوں حدیثوں کا مفہوم یہ ہے کہ امت مسلمہ کا ایک طبقہ قیامت تک مذہبِ حق پر قائم رہے گا، اس کے مخالفین اس کا کچھ نقصان نہ کر سکیں گے، یہاں تک کہ دجال کا ظہور ہو گا، اور یہ حضرات دجال کے ساتھ جنگ کریں گے، اور دجال کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام کے عہد میں صرف اہل سنت و جماعت ہی ہوں گے۔ کوئی بد مذہب نہیں ہوگا۔

مذکورہ بالا تینوں حدیثوں میں ’طائفہ‘ اور ’عصابہ‘ کا لفظ وارد ہوا ہے، اور ان دونوں لفظوں کا اطلاق ایک فرد پر نہیں ہوتا، بلکہ ایک جماعت پر ہوتا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہو گیا کہ سوادِ اعظم کی تشریح میں حضرت عبداللہ بن مسعود، ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہما و دیگر حضرات کا قول تقدیر و تمثیل کے طور پر وارد ہوا ہے۔ ان حضرات کے اقوال کو حقیقتِ واقعہ پر محمول کرنا صحیح نہیں - باب سوم و باب چہارم میں ان اقوال کی تشریح و تفصیل مذکور ہے۔

مخارجِ حدیث

یہ ہی حدیث بعض لفظوں کی تبدیلی کے ساتھ حدیث کی درجِ ذیل کتابوں میں موجود ہے۔

  1. صحیح البخاری ج: 1، ص: 12، ج: 6، ص: 108

  2. صحیح مسلم ج: 2، ص: 78

  3. جامع الترمذی ج: 2، ص: 406

  4. مشکوٰۃ المصابیح ص: 583

  5. سنن ابی داؤد باب دوام الجہاد

  6. المستدرک للحاکم ج: 2، ص: 81

  7. سنن ابن ماجہ

  8. مسند احمد بن حنبل

  9. صحیح ابن حبان

  10. مسند البزار

  11. السنن الکبریٰ للنسائی

  12. مسند ابی یعلی

  13. السنن الکبریٰ للبیہقی

  14. مستخرج لابی عوانہ

  15. المنتقی لابن جارود

  16. Mejmal Kabeer معجم الکبیر للطبرانی

  17. المعجم الاوسط للطبرانی

  18. الاحکام الشرعیہ لللاشیلی

  19. الامامۃ لابی نعیم الاصبہانی

  20. الایمان لابن مندو

  21. تہذیب الاثار للطبری

  22. سنن الدارمی

  23. سیرۃ ابن اسحاق

  24. شرح السنہ للبغوی

  25. مصنف ابن ابی شیبہ

  26. معجم ابن الاعرابی

  27. معجم الصحابۃ لابی القاسم البغوی

  28. معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم الاصبہانی

دنیا میں صرف اہل سنت و جماعت

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے عہد میں تمام انسان مومن اور مذہبِ اہل سنت و جماعت پر ہوں گے۔ صدر الشریعہ حضرت علامہ امجد علی اعظمی (1296ھ - 1367ھ) نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد کے حالات بیان کرتے ہوئے تحریر فرمایا۔ “تمام جہاں میں دین ایک، دین اسلام ہوگا، اور مذہب ایک، مذہبِ اہل سنت”۔ [بہارِ شریعت حصہ اول ص: 60]

مذہبِ اسلام کے قدیم طبقات میں سے صرف دو طبقے ابھی موجود ہیں (1) اہل سنت و جماعت (2) شیعہ۔ ان دو جماعتوں کے علاوہ تمام جماعتوں کا وجود ماضی قریب میں ہوا، جیسے ابن عبد الوہاب نجدی سے وہابیت جاری ہوئی، ابوالاعلیٰ مودودی سے مودودیت کا وجود ہوا، سر سید سے نیچریت کا آغاز ہوا۔ اب سنی اور شیعہ یعنی یہی دونوں طبقات قابل تحقیق ہوں گے۔

شیعہ مذہب کے حق ہونے کی گنجائش نہیں، کیونکہ شیعہ جماعت بھی عہدِ رسالت سے منقطع ہے۔ اسی طرح عہدِ صدیقی، عہدِ فاروقی اور عہدِ عثمانی میں بھی شیعوں کا نام ونشان نہ تھا، پس شیعہ مذہب بھی عہدِ رسالت سے منقطع ہونے کے سبب اہل حق نہیں ہیں۔ اب باقی رہا مذہبِ اہل سنت و جماعت، یہی جماعت عہدِ رسالت سے متصل ہے، اور یہی جماعت حق ہے۔ حقانیت کی یہ ایسی علامت ہے جسے ہر عالم و جاہل سمجھ سکتا ہے۔ اب جسے اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے گا، وہ ان شاء اللہ تعالیٰ ضرور صراطِ مستقیم کی طرف پلٹ آئے گا۔ ایمان اللہ تعالیٰ کی بہت عظیم نعمت ہے۔ خوش نصیبوں کو ہی یہ نعمت ملتی ہے۔ وما توفیقی الا باللہ العلی العظیم والصلوۃ والسلام علی حبیبہ الکریم و آلہ العظیم

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!