| عنوان: | عاشورا کے فضائل |
|---|---|
| تحریر: | محمد عارف رضا قادری امجدی |
| پیش کش: | جامعہ امجدیہ رضویہ،گھوسی |
اسلامی سال کا پہلا مہینہ محرم الحرام ہے جو نہایت عظمتوں اور برکتوں والا ہے۔ بالخصوص اس ماہ کی 10 تاریخ یعنی عاشورا کے دن کو دین اسلام میں غیر معمولی حیثیت حاصل ہے چنانچہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس دن روزہ رکھا اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ [بخاری، ج: 1، ص: 656، حدیث: 2004، ماخوذاً]
بلکہ اسلام سے قبل بھی لوگ اس دن کا ادب و احترام کرتے اور اس دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ عاشورا کا روزہ رکھیں (10 محرم الحرام) اور خوب عبادات کریں، ذیل میں عاشورا میں کی جانے والی چند نیکیاں بیان کی جا رہی ہیں تاکہ عمل کی ترغیب ملے:
عاشورا کا روزہ گناہ مٹاتا ہے
نبی رحمت، شفیع امت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ عالی شان ہے: “مجھے اللہ پاک کے کرم سے اُمید ہے کہ عاشورا کا روزہ ایک سال قبل کے گناہ مٹا دیتا ہے۔” [مسلم، ص: 454، حدیث: 2746]
شب عاشورا کا عمل
عاشورا کی رات آئے تو یہ عمل کیجیے: عاشورا کی رات میں چار نفل اس طرح ادا کیجیے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد آیت الکرسی ایک بار اور سورہ اخلاص (مکمل سورت) تین تین بار پڑھیے، پھر نماز سے فارغ ہو کر سو مرتبہ سورہ اخلاص (مکمل سورت) پڑھیے۔ اس کی برکت سے گناہوں سے پاک ہو گا اور بہشت (جنت) میں بے انتہا نعمتیں ملیں گی۔ [جنتی زیور، ص: 157]
رزق میں فراخی کا نسخہ
فرمان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے: “جو دس محرم کو اپنے بچوں کے خرچ میں فراخی (یعنی کشادگی) کرے گا تو اللہ پاک سارا سال اس کو فراخی دے گا۔” حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “ہم نے اس حدیث کا تجربہ کیا تو ایسے ہی پایا۔” [مشکوٰۃ المصابیح، ج: 1، ص: 365، حدیث: 1926]
عاشورا کے دن کی بارہ نیکیاں
عاشورا کے دن 12 چیزوں کو علماء نے مستحب لکھا ہے:
-
روزہ رکھنا
-
صدقہ کرنا
-
نفل نماز پڑھنا
-
ایک ہزار مرتبہ ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ﴾ پڑھنا
-
علماء کی زیارت کرنا
-
یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنا
-
اپنے اہل و عیال کے رزق میں وسعت کرنا
-
غسل کرنا
-
سرمہ لگانا
-
ناخن تراشنا
-
مریضوں کی بیمار پرسی کرنا
-
دشمنوں سے ملاپ (یعنی صلح صفائی) کرنا [جنتی زیور، ص: 158، ملخصاً]
شہدائے کربلا کو ایصال ثواب کیجیے
عاشورا کے دن نواسہ رسول، جگر گوشہ بتول، امام عالی مقام، حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے رفقاء (ساتھیوں) کے ہمراہ گلشنِ اسلام کی آبیاری کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، لہٰذا ہمیں اس دن شہدائے کربلا کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی، ذکر و درود اور نذر و نیاز کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔
کچھ نیکیاں کما لے جلد آخرت بنا لے
کوئی نہیں بھروسا اے بھائی زندگی کا
[وسائل بخشش، ص: 195]
محرم الحرام میں ثواب کمانے کے طریقے
اللہ تعالیٰ مالک و مختار ہے، جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب دے، وہ کبھی چھوٹی سی نیکی پر بخش دیتا ہے تو بسا اوقات چھوٹی سی خطا پر پکڑ بھی فرماتا ہے، لہٰذا کسی نیکی کو چھوٹی سمجھ کر ترک نہیں کرنا چاہیے کہ بظاہر چھوٹی نظر آنے والی نیکی بہت بڑے اجر و ثواب کا باعث ہو سکتی ہے۔
محرم الحرام کا مہینہ نہایت برکتوں اور فضیلتوں والا ہے، اس ماہ مبارک میں روزہ رکھنے کا بہت زیادہ ثواب ہے، چنانچہ محرم کے ایک دن کے روزے کا ثواب حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: “محرم الحرام کے ہر دن کا روزہ ایک ماہ کے روزوں کے برابر ہے۔” [معجم صغیر، ج: 2، ص: 71]
عاشورا (10 محرم الحرام) کے دن روزہ رکھنا سنت ہے
حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورا کے دن خود بھی روزہ رکھا اور اس کے رکھنے کا حکم بھی ارشاد فرمایا۔ [بخاری، ج: 1، ص: 656، حدیث: 2004]
ایک سال کے گناہ مٹ جائیں
حضرت سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “مجھے اللہ تعالیٰ پر گمان ہے کہ عاشورا کا روزہ ایک سال پہلے کے گناہ مٹا دیتا ہے۔” [مسلم، ص: 454، حدیث: 2746]
یہودیوں کی مخالفت کیجیے
جو عاشورا کے دن روزہ رکھنا چاہے تو اسے چاہیے کہ وہ 9 محرم یا 11 محرم کا روزہ بھی رکھے جیسا کہ حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “عاشورا کے دن کا روزہ رکھو اور اس میں یہودیوں کی اس طرح مخالفت کرو کہ اس سے پہلے یا بعد میں بھی ایک دن کا روزہ رکھو۔” [مسند امام احمد، ج: 1، ص: 518، حدیث: 2154]
عاشورا کے دن گھر والوں کے کھانے میں وسعت کیجیے
احادیث مبارکہ میں بہت سے ایسے اعمال بیان کیے گئے ہیں جن پر عمل کی برکت سے رزق میں برکت ہوتی ہے ہمیں چاہیے کہ ایسے اعمال اپنا کر رزق میں برکت کے حق دار بنیں، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جس نے عاشورا کے روز اپنے گھر میں رزق کی فراخی کی اللہ تعالیٰ اس پر سارا سال فراخی فرمائے گا۔” [معجم اوسط، ج: 6، ص: 432، حدیث: 9302]
حکیم الامت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “بال بچوں کے لیے دسویں (10) محرم کو خوب اچھے اچھے کھانے پکائے تو ان شاء اللہ سال بھر تک گھر میں برکت رہے گی، بہتر ہے کہ حلیم (کھچڑا) پکا کر حضرت شہید کربلا امام حسین رضی اللہ عنہ کی فاتحہ کرے بہت مجرب (آزمایا ہوا) ہے، اسی تاریخ کو غسل کرے تو تمام سال ان شاء اللہ عز وجل بیماریوں سے امن میں رہے گا کیونکہ اس دن آب زم زم تمام پانیوں میں پہنچتا ہے۔” [اسلامی زندگی، ص: 131]
عاشورا کے دن اثمد سرمہ لگائیے
سرور کائنات، شاہ موجودات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جو شخص یوم عاشورا اثمد سرمہ آنکھوں میں لگائے تو اس کی آنکھیں کبھی بھی نہ دُکھیں گی۔” [شعب الایمان، ج: 3، ص: 367، حدیث: 3797]
اللہ رب العزت ہمیں کہنے سننے سے زیادہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
