Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

سوادِ اعظم: مفہوم و حقائق (قسط: اول)|طارق انور مصباحی

سوادِ اعظم مفہوم و حقائق (قسط: اول)
عنوان: سوادِ اعظم مفہوم و حقائق (قسط: اول)
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: مفتیہ ام ہانی امجدی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

ارشادِ الٰہی ہے:

وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا [سورۃ النساء: 115]

ترجمہ: اور جو رسول کا خلاف کرے بعد اس کے کہ حق راستہ اس پر کھل چکا اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ پر چلے، ہم اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں گے، اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے، اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی۔

توضیح: حدیثِ نبوی “اتَّبِعُوا السَّوَادَ الْأَعْظَمَ، فَإِنَّهُ مَنْ شَذَّ شَذَّ فِي النَّارِ” سے صاف ظاہر ہے کہ اہل حق ہر زمانے میں بہ نسبت دیگر فرقوں کے کثیر تعداد میں ہوں گے۔ یہ علامت بھی عوام و خواص سب کے لیے ظاہر ہے۔ احادیثِ نبویہ مرقومہ ذیل ہیں:

(1) عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَجْمَعُ اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ عَلَى الضَّلَالَةِ أَبَدًا، وَقَالَ: يَدُ اللَّهِ عَلَى الْجَمَاعَةِ، فَاتَّبِعُوا السَّوَادَ الْأَعْظَمَ، فَإِنَّهُ مَنْ شَذَّ شَذَّ فِي النَّارِ. [المستدرك للحاكم، ج: 1، ص: 199، دار الكتب العلمية بيروت]

ترجمہ: حضورِ اقدس سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اس امت کو کبھی بھی گمراہی پر جمع نہ فرمائے گا، اور فرمایا اللہ کی مدد جماعت کے ساتھ ہے، پس (اہلِ اسلام کے) سوادِ اعظم کی پیروی کرو، اس لیے کہ جو اس (سوادِ اعظم) سے جدا ہوا، وہ جدا ہو کر جہنم میں گیا۔

(2) شیخ عبدالحق محدث دہلوی (958ھ - 1052ھ) نے لفظ “شذ” کی تشریح میں تحریر فرمایا:

الشُّذُوذُ، الِانْفِرَادُ عَنِ الْجُمْهُورِ. [لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح، ص: 256، الجامعة الأشرفية مبارك پور]

ترجمہ: شذوذ، جمہور امت (کے عقائد) سے جدا ہونا اور الگ ہونا ہے۔

توضیح: جمہور کا معنی ہے “معظم کل شیء” (یعنی ہر چیز کا بڑا حصہ)۔ اس سے صاف ظاہر ہو گیا کہ جو سوادِ اعظم سے جدا ہوگا، وہ قلیل التعداد ہوگا، کیونکہ جب سوادِ اعظم کے مفہوم میں جمہور آ گیا اور جمہور بڑے حصے کو کہا جاتا ہے تو اب جو حصہ باقی ہوگا، وہ یقیناً چھوٹا ہوگا، پس سوادِ اعظم کا مقابل یعنی سوادِ اعظم سے جدا ہونے والا طبقہ یقیناً چھوٹا ہوگا اور انسانی جماعتوں کا بڑی چھوٹی ہونا افراد کی تعداد ہی کے اعتبار سے ہوتا ہے، پس جس جماعت میں افراد زیادہ ہوں، وہ بڑی جماعت ہوگی، اور جس میں افراد کم ہوں، وہ چھوٹی جماعت ہوگی۔

(3) عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمَّتِي لَا تَجْتَمِعُ عَلَى ضَلَالَةٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ اخْتِلَافًا كَثِيرًا فَعَلَيْكُمْ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ. [سنن ابن ماجه، ص: 283]

ترجمہ: حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کبھی گمراہی پر جمع نہ ہوگی، پس جب تم زیادہ اختلاف دیکھو تو تمہارے لیے سوادِ اعظم کے ساتھ رہنا ضروری ہے۔

(4) قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدِ افْتَرَقَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ، الْيَهُودُ مِنْهُمْ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً، وَافْتَرَقَتِ النَّصَارَى عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً، وَسَتَفْتَرِقُ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَنْ هَذِهِ الْوَاحِدَةُ؟ قَالَ: السَّوَادُ الْأَعْظَمُ. [نوادر الأصول للحكيم الترمذي، ج: 2، ص: 248]

ترجمہ: حضورِ اقدس تاجدارِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بنی اسرائیل فرقوں میں منقسم ہو گئے۔ ان میں سے یہود اکہتر (71) فرقوں میں منقسم ہو گئے، ایک کے علاوہ تمام جہنمی ہیں، اور نصاریٰ بہتر (72) فرقوں میں منقسم ہو گئے، ایک کے علاوہ تمام جہنمی ہیں، اور عنقریب میری امت تہتر (73) فرقوں میں منقسم ہو جائے گی، ایک کے علاوہ تمام جہنمی ہیں۔ عرض کیا گیا: یارسول اللہ! یہ ایک کون سا فرقہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “سوادِ اعظم”۔

(5) عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: تَفَرَّقَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَتَفَرَّقَتِ النَّصَارَى عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَأُمَّتِي تَزِيدُ عَلَيْهِمْ فِرْقَةً كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا السَّوَادَ الْأَعْظَمَ. [المعجم الأوسط للطبراني، ج: 5، ص: 157]

ترجمہ: حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے حضور اقدس شفیعِ محشر صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بنی اسرائیل اکہتر فرقوں میں منقسم ہو گئے، اور نصاریٰ بہتر فرقوں میں منقسم ہو گئے، اور میری امت ان پر ایک فرقہ بڑھ جائے گی۔ سوادِ اعظم کے علاوہ تمام فرقے جہنمی ہوں گے۔

(6) حافظ ابوالحسن نور الدین ہیثمی مصری (735ھ - 807ھ) نے مرقومہ بالا روایت کو نقل کیا، اس کے بعد لکھا:

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو غَالِبٍ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْأَوْسَطِ ثِقَاتٌ، وَكَذَلِكَ إِحْدَى إِسْنَادَيِ الْكَبِيرِ. [مجمع الزوائد، ج: 7، ص: 258، مكتبة القدسي قاهرة]

ترجمہ: امام طبرانی (260ھ - 360ھ) نے اس حدیث کو “المعجم الاوسط” میں اور اسی طرح “المعجم الکبیر” میں روایت کیا، اور اس (کی سند) میں ابوغالب ہے۔ امام الجرح والتعدیل یحییٰ بن معین (158ھ - 233ھ) وغیرہ نے اس کو ثقہ بتایا اور “المعجم الاوسط” کے باقی رواۃ ثقہ ہیں، اور اسی طرح “المعجم الکبیر” کی دوسری سندوں میں سے ایک سند کے رواۃ ثقہ ہیں۔

توضیح: حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعتِ حق کو کبھی سوادِ اعظم سے تعبیر فرمایا، اور کبھی جماعت کے لفظ سے، اور دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے، یعنی بڑی جماعت۔

(7) عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ. [المستدرك على الصحيحين، ج: 1، ص: 203، سنن أبي داود، ص: 655، مشكاة المصابيح، ص: 31، جامع الترمذي، ج: 2، ص: 110]

ترجمہ: حضور اقدس سیدِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو جماعتِ مسلمین سے ایک بالشت کے برابر جدا ہوا، اس نے اپنی گردن سے اسلام کا پٹہ اتار دیا۔

(8) عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَجْمَعُ أُمَّتِي، أَوْ قَالَ: أُمَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضَلَالَةٍ، وَيَدُ اللَّهِ عَلَى الْجَمَاعَةِ، وَمَنْ شَذَّ شَذَّ إِلَى النَّارِ. [جامع الترمذي، ج: 2، ص: 39]

ترجمہ: حضورِ اقدس افضل الخلائق، شفیع العباد، خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ میری امت کو، یا فرمایا امتِ محمدیہ کو گمراہی پر جمع نہ فرمائے گا، اور فرمایا کہ اللہ کی مدد جماعت کے ساتھ ہے، پس جو (جماعتِ مسلمین سے) جدا ہوا، وہ جدا ہو کر جہنم کی طرف گیا۔

(9) عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ ذِئْبُ الْإِنْسَانِ كَذِئْبِ الْغَنَمِ، يَأْخُذُ الشَّاةَ الْقَاصِيَةَ وَالنَّاحِيَةَ، وَإِيَّاكُمْ وَالشِّعَابَ، وَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ وَالْعَامَّةِ. [مشكاة المصابيح، ص: 31، رواه أحمد]

ترجمہ: حضرت تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ شیطان انسان کا بھیڑیا ہے، جیسے بکریوں کا بھیڑیا کہ وہ جدا ہو جانے والی اور دور رہنے والی اور کنارے رہنے والی بکری کو لے جاتا ہے (ویسے ہی) شیطان جماعتِ مسلمین سے جدا ہونے والے اور دور رہنے والے اور کنارے رہنے والے کو گمراہ کر دیتا ہے (اور گھاٹیوں سے بچو)، اور تمہارے لیے جماعتِ مسلمین اور عامۃ المسلمین کے ساتھ رہنا ضروری ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!