| عنوان: | علاماتِ حقانیت برائے جماعتِ حق |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | مفتیہ ام ہانی امجدی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
اس باب میں مسلکِ اہلِ سنت و جماعت کی حقانیت کی علامتوں کی وضاحت کی گئی ہے۔ مسلمانوں سے عرض ہے کہ پڑھیں اور غور کریں، تاکہ مذہبِ حق کی حقانیت آپ کے لیے روشن ہو جائے۔ دنیا میں آنے کا مقصد آخرت کو سنوارنا ہے۔ آخرت کی ہر نعمت کا مدار مبنی ایمان ہے۔ اگر ایمان صحیح نہیں ہے تو محض اعمالِ صالحہ اخروی نجات کے لیے کافی نہیں۔
علاماتِ حقانیت برائے علمائے دین
’’کونوا مع الصادقین‘‘
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ [سورہ توبہ: 119]
(ترجمہ): اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور سچوں کے ساتھ ہو۔ (کنز الایمان)
’’ما انا علیہ واصحابی‘‘
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أُمَّتِي كَمَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ حَذْوُ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ حَتَّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمَّهُ عَلَانِيَةً لَكَانَ فِي أُمَّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ، وَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً، قَالُوا: مَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ’’مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي‘‘ [رواه الترمذي]
(ترجمہ): رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت پر وہی کیفیت آئے گی جو قوم بنی اسرائیل پر آئی، بالکل برابر برابر، یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی اپنی ماں کے ساتھ اعلانیہ بدکاری کیا ہوگا تو میری امت میں کوئی ہوگا جو ایسا کرے گا، اور قوم بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں منقسم ہو گئی، اور میری امت تہتر فرقوں میں منقسم ہو جائے گی، اور وہ تمام جہنمی ہوں گے، مگر ایک فرقہ۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ! (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) وہ جنتی فرقہ کون ہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقہ پر ہوگا۔
توضیح: ’’ما انا علیہ واصحابی‘‘ کا ادراک علم و فضل پر موقوف ہے۔ یہ ادراک صرف علمائے کرام کو حاصل ہو سکتا ہے۔ اربابِ علم و دانش کسی بھی مسئلہ کو قرآن و حدیث کی روشنی میں جانچ سکتے ہیں کہ صحیح ہے یا غلط؟ لیکن یہ کام عوامِ مسلمین کی قوت سے باہر ہے، بلکہ عام مسلمان جب ہر طبقہ و فرقہ کے لوگوں سے اپنے دعویٰ پر قرآن و حدیث سنتا ہے تو وہ الجھن میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ کون سا فرقہ حق ہے اور کون سا باطل؟ انجام کار عوام الناس کچھ بھی صحیح فیصلہ نہیں کر پاتے، حالانکہ انہیں بھی خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے، اور اپنے ایمان و عمل کا حساب دینا ہے، لہذا عوامِ مسلمین کے لیے حقانیت کا جو معیار بتایا گیا ہے، اس سے قوم کو روشناس کرایا جائے، تاکہ عام مسلمان بھی بطریقِ احسن اپنے ایمان و عقیدہ کا تحفظ کر سکے۔ یہ رسالہ اسی باب کی ایک حسین کاوش ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے: آمین بحرمۃ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔
علاماتِ حقانیت برائے عامۃ المسلمین
عہدِ رسالت میں منافقین کے خاتمہ کے بعد جس طرح تمام مومنین مذہبِ حق پر قائم تھے، اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد بھی بد مذہب ختم ہو جائے گی، اور تمام مومنین مذہبِ اہلِ سنت پر ہوں گے۔ اہلِ حق کی پانچ ظاہری علامتیں اس رسالہ میں زیر بحث ہیں۔ قارئین اپنی آخرت کو مدنظر رکھ کر رسالہ کو بغور پڑھیں، ان شاء اللہ تعالیٰ حق و باطل روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جائے گا: وما توفیقی الا باللہ العلی العظیم والصلوۃ والسلام علی حبیبہ الکریم و آلہ العظیم۔
-
مذہبِ حق کا عہدِ رسالت سے اتصال۔
-
اہلِ حق کی کثرتِ تعداد بہ نسبتِ فرقِ ضالہ۔
-
اہلِ حق کی قلتِ عبادت بہ نسبتِ خوارج۔
-
اہلِ حق کا عشقِ مصطفوی کو معیارِ نجات اعتقاد کرنا۔
-
مسلکِ حق کے تحفظ کے لیے ہر صدی میں مجددین کی آمد۔
