Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

علامہ فضلِ حق خیر آبادی عظیم فلسفی یا زبردست اسلامی متکلم؟|بنت محمد صابر

علامہ فضلِ حق خیر آبادی عظیم فلسفی یا زبردست اسلامی متکلم؟
عنوان: علامہ فضلِ حق خیر آبادی عظیم فلسفی یا زبردست اسلامی متکلم؟
پیش کش: بنت محمد صابر

علامہ فضلِ حق خیر آبادی (۱۲۱۳ھ/۱۷۹۷ء - ۱۲۷۸ھ/۱۸۶۱ء) نے علم و فن کی مختلف شاخوں اور زندگی کے متعدد شعبوں میں اپنے فضل و کمال کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ منطق و فلسفہ، فقہ و کلام اور شعر و ادب ہر میدان میں ان کی علمی برتری کے آثار آج بھی نظر آتے ہیں۔ درس و تدریس اور تصنیف و تالیف کا مشغلہ مدت العمر رہا۔ لیکن ایسا نہیں کہ وہ صرف درس گاہ میں محصور اور لائبریری میں گوشہ نشین ہو کر عوامی زندگی اور ملکی سیاست سے بے تعلق رہے ہوں، نہیں۔ بلکہ سر زمینِ وطن کو ظالم حکمرانوں سے بچانے اور ابنائے وطن کو غیروں کی غلامی سے آزاد کرنے کی راہ میں انھوں نے جو مجاہدانہ کردار پیش کیا ہے وہ ان کی زندگی کا ایسا درخشاں باب ہے جو تمام اهل ہند کی جانب سے ہزار بار خراجِ تحسین اور شکر و سپاس کا مستحق ہے۔ مگر یہاں میری گفتگو ان کی علمی زندگی اور فکری و قلمی آثار سے متعلق ہے، جس کی کچھ تفصیل آئندہ سطور میں رقم ہوگی۔ [الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور، دسمبر ۲۰۰۱ء]

مشہور یہ ہے کہ "وہ زبردست فلسفی اور اپنے دور میں معقولات کے یکتائے روزگار شناور تھے۔" لیکن فلسفیوں کو عام طور سے دیکھا گیا ہے کہ وہ اہل یونان کے فضلات اور ارسطو و ابن سینا کے رشحات سے کسی باب میں انحراف نہیں کر سکتے۔ وہ یہ دیکھنے کی زحمت نہیں کرتے کہ فلسفہ کہاں تک قابل قبول ہے اور کہاں ہفوات و فضول، اور کہاں محض الحاد و زندقہ اور ناقابل قبول۔ اہل یونان کی بنیادیں مضبوط کرنے کی خاطر دفتر کے دفتر سیاہ کرتے چلے جاتے ہیں اور یہ بھی لحاظ نہیں ہوتا کہ خدا اور رسول کی بارگاہ میں اس کی حیثیت کیا ہے۔ اور علم و تحقیق کی اعلیٰ میزان میں اس کا وزن کیا ہو گا۔ فلاسفۂ یونان کے قواعد و مزخرفات پر اگر کوئی اعتراض نظر آ گیا تو اس کا سخیف سے سخیف اور طویل سے طویل جواب لکھتے چلے جاتے ہیں اور اسے اپنی حیاتِ مستعار کا قیمتی سرمایہ سمجھتے ہیں۔ گویا اسی کے لیے وہ پیدا ہوئے تھے اور آخرت کے لیے وہی توشہ لے کر جانا ہے۔

لیکن اگر کہیں اسلامی اصولوں پر اعتراض ہوا، خدا کی شان میں بکواس کی گئی، رسولِ اعظم علیہ صلوٰۃ ربِّہ الاکرم کی عظمتوں کو نشانہ بنایا گیا، انبیاءِ کرام کی تنقیص ہوئی، معصوم ملائکہ، مقدس صحابہ اور مبارک اولیاء کی اہانت ہوئی تو ان فلسفیوں میں کوئی حرکت نظر نہیں آئی، اسلام کا کلمہ ضائع ہونے پر نہ ان کی غیرتِ اسلامی جنبش میں آئی، نہ حمیتِ دینی کو جوش آتا ہے، نہ فکرِ علمی و ایمانی کا تقاضا انھیں کسی حرکت و عمل پر آمادہ کرتا ہے بلکہ وہ خود اسلامی اصولوں سے جاہلانہ کفر اور الحاد میں اور اس کے لیے ہر جتن کرنے کو تیار رہتے ہیں۔

اس کے برعکس امامِ علامہ فضلِ حق خیر آبادی کو دیکھتے ہیں کہ جب تقویت الایمان نامی کتاب لکھ کر توحید کے نام پر توہینِ رسالت کا بیج پھیلایا گیا تو وہ کھلے میدان میں آئے، مؤلفِ کتاب کی پرزور مخالفت کی، مجمعِ عام میں اس کا رد کیا، اور سب کے سامنے اس پر حجت تمام کر دی، پھر اس سلسلے میں "تحقیق الفتویٰ فی ابطال الطغویٰ" نامی کتاب بھی تصنیف فرمائی جس سے فقہ و کلام اور قرآن و سنت میں علامہ کی وسعتِ نظر، دقتِ نگاہ اور جولانیِ فکر عیاں ہے۔

یہ دینِ اسلام کی حمایت، اور ناموسِ رسول کی حفاظت میں ان کی غیرتِ ایمانی، حمیتِ دینی، اور جوشِ اسلامی کا ایک ایسا دلکش منظر ہے، جو ارسطو و ابن سینا کے وفاداروں میں ناپید ہے۔ اسی طرح جب وطن، غیرتِ قومی، رجوعِ ملی اور سیاستِ ملکی کے میدان میں انھوں نے جو مجاہدانہ کردار پیش کیا ہے وہ اغیار کے ریزہ خواروں اور اپنی قوم کے بے غیرت غداروں کے یہاں بھی نظر نہیں آسکتا۔

ان اجمالی اشارات کے بعد اب میں آپ کو خاص علمی ماحول میں لے جانا چاہتا ہوں جہاں آپ دیکھیں گے کہ علامہ نے فلسفہ کو کہاں تک قبول کیا ہے اور کہاں تک اس کی موافقت روا رکھی ہے اور کہاں صراحتہً اس کی تردید فرمائی ہے۔ پہلے یہ ذہن نشین رہے کہ تمام موجودات کے واقعی حالات کی تحقیق کو فلسفہ کا نام دیا گیا ہے۔ اس لیے فلاسفہ نے واجب الوجود تعالیٰ اور تقدس کی ذات و صفات اور تمام ممکنات کی تحقیق و تفتیش میں اپنی دماغی توانائیاں صرف کی ہیں۔ فلسفہ کو اولاً دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں نظری اور عملی۔ پھر نظری کو الٰہی, ریاضی، طبیعی تین شعبوں میں اور عملی کو تہذیبِ اخلاق، تدبیرِ منزل، سیاستِ مدنیہ تین قسموں میں تقسیم کرتے ہیں پھر ریاضی کو خاصی وسعت دے کر حساب، هندسہ، ہیئات، موسیقی چار خانوں میں تقسیم کرتے ہیں۔

ظاہر ہے کہ یہ انسانی دماغ کی علمی کاوش ہے جو ہزار ہا سال کی عرق ریزیوں کا نتیجہ ہے اور اس کے بے شمار اصول و قواعد ہیں جن پر موجودہ سائنس آج بھی عمل پیرا ہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ فلسفہ کُل کا کُل قابلِ انکار نہیں، اس میں بہت سی باتیں اہلِ حق سے اخذ کر کے بھی شامل کی گئی ہیں اور انھیں عقل و استدلال کا رنگ دے دیا گیا ہے اور بہت سی چیزیں صرف ذہنی و فکری کاوش پر مبنی ہونے کے باوجود بجا و درست ہیں لیکن بہت سے مزخرفات و واہیات ہیں جو سراسر باطل اور غلط ہیں اور بہت سے وہ ہیں جو غلط ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی عقائد سے متصادم بھی ہیں۔

خصوصاً الٰہیات کے باب میں فلسفہ کا زیادہ تر حصہ محض باطل و غلط ہے۔ اور فلکیات کا شعبہ بھی کثیر علامات پر مشتمل ہے۔ البتہ منطق و ریاضی اخلاق و سیاست کی بنیادی باتیں عموماً بجا و درست ہیں اور شریعت سے متصادم نہیں۔

علامہ فضلِ حق خیر آبادی نے فلسفہ میں "ہدیہ سعیدیہ" تصنیف کی ہے، جس سے فلسفہ میں ان کی مہارت اور پختہ بصیرت کے ساتھ ان کی اسلامی غیرت اور دینی رسوخ بھی عیاں ہے۔ وہ جا بجا صراحتہً و اشارۃً یہ بتاتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ جو کچھ بیان ہو رہا ہے وہ فلاسفہ کے مطابق ان کے نظریات کی تقریر و توضیح ہے، خود اپنا نظریہ کیا ہے اس کا رد دوسری کتابوں میں ہے۔ لیکن ہدیہ سعیدیہ میں بھی بعض مقامات پر اباطیلِ فلاسفہ پر نقد سے کتاب خالی رکھنا مناسب نہ سمجھا اور چند سطروں میں ان کی خامیوں کی ضروری نشان دہی کر دی۔ اس کی تائید کے لیے مناسب ہے کہ اسی کتاب سے چند نظائر و شواہد پیش کر دوں تاکہ اب تک جو کچھ عرض کیا گیا ہے۔ مکمل طور پر روشنی میں آ جائے۔ تفصیل کے لیے ایک بار اسی نقطۂ نظر سے اصل کتاب کی مراجعت کر لی جائے۔

(۱) ماہیتِ جسم کے بیان میں حکماء کے مذاہب بتاتے ہوئے مشائیہ کا مذہب بتاتے ہیں کہ ان کے نزدیک جسم ہیولیٰ اور صورتِ نوعیہ دو جوہروں سے مرکب ہے۔ پھر لکھتے ہیں:

وَنَحْنُ نُرِيدُ تَقْرِيرَ مَذْهَبِهِمْ وَبَيَانَهُ عَلَى حَسَبِ مَطْلَبِهِمْ فِي هَذَا الْمُخْتَصَرِ، وَأَمَّا تَحْقِيقُ مَا هُوَ الْحَقُّ فَقَدْ أَحَلْنَاهُ عَلَى كُتُبٍ أُخَرَ۔ [ص: 47]

"اس مختصر میں مشائیہ کے مذہب کی تقریر اور ان کے حسبِ مطلب اس کا بیان ہمارا مقصود ہے، مگر حق کیا ہے اس کی تحقیق دوسری کتابوں کے حوالے ہے۔"

(۲) فنِ ثانی فلکیات کے خاتمے میں لکھتے ہیں:

"فلاسفہ کہتے ہیں کہ افلاک نو ہیں، ایک کو اب سے خالی ہے اسی لیے اسے فلکِ اطلس کہا جاتا ہے وہی فلکِ اعظم ہے جس سے سمتوں کی تعیین ہوتی ہے وہ تمام اجسام کو محیط ہے۔ اس کے نیچے علی الترتیب فلکِ ثوابت، فلکِ مشتری، فلکِ مریخ، فلکِ شمس، فلکِ زہرہ، فلکِ عطارد، اور فلکِ قمر ہیں۔ یہ اس لیے کہ انھوں نے محسوس کیا کہ تمام ستارے یومیہ حرکت سے مشرق سے مغرب کی جانب حرکت کرتے ہیں، اس لیے ان کے لیے ایک ایسا فلک مانا جو تمام افلاک اور ستاروں کو محیط ہے جس کی اصلی حرکت کے تابع ہو کر دوسرے تمام افلاک اور ستارے بالواسطہ و بالفرض حرکت کرتے ہیں۔ یہی فلکِ اعظم ہے جس سے سمتوں کی تحدید اور تعیین ہوتی ہے۔ پھر محسوس کیا کہ کچھ ایسے ستارے بھی ہیں جو تھمے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور ثوابت کہے جاتے ہیں مگر وہ بھی بڑی سست رفتاری سے مغرب سے مشرق کی جانب حرکت کرتے ہیں اس لیے ایک فلک ان ثوابت کے لیے بھی مانا، یوں ہی ساتوں سیاروں کو دیکھا کہ یہ مختلف حرکتوں سے حرکت کرتے ہیں اس لیے ہر سیارہ کے لیے ایک ایک فلک مان لیا، اس طرح ان کا زعم یہ ہے کہ افلاک نو ہیں۔ انھوں نے فلکِ اعظم سے متعلق جو احکام مانے ہیں مثلاً بسیط ہونا، کردی ہونا، اس کے لیے حرکتِ اَینی اور خرق و التیام (پھٹنا جڑنا) محال ہونا اور اس کے علاوہ بہت سی باتیں جو سابقةً میں تفصیلاً بیان ہوئیں۔ وہ سب احکام دیگر افلاک کے لیے بھی ٹھہرائے ہیں اور جتنی ساری باتیں اور اوہام و خیالات ان کے نفس نے انھیں سوجھائے سب پر یقین کیے بیٹھے ہیں۔ انھیں یہ پتہ نہیں کہ اگر ان کی دلیل مان لی جائے اور اعتراض و خلل سے سلامت رہ جائے تو بھی وہ زیادہ سے زیادہ فلکِ الٰہی کی سطحِ بالا میں راست آسکتی ہے اس کے علاوہ کسی اور فلک کی سطحِ یا جسم میں وہ دلیل جاری نہیں ہو سکتی۔ سچ تو یہ ہے کہ اس مقام پر ان کے جتنے مزخرفات ہیں محض اٹکل پچو ہیں اور یہ بڑی لا علاج بیماری ہے۔" [ص: ۵۷]

(۳) ظاہر کی حواسِ پانچ ہیں:- لامسہ، ذائقہ، شامہ، سامعہ، باصرہ۔ شیخ بو علی سینا نے شافعیہ میں کہا کہ سامعہ اور باصرہ کو مناسب و نامناسب چیز کو سامنے دیکھنے سے کوئی لطف و الم نہیں حاصل ہوتا، بلکہ جو بھی لذت و کلفت ہوتی ہے وہ نفس کو ہوتی ہے۔ اور لامسہ، ذائقہ، شامہ کو خود بھی لذت و الم کا حصول ہوتا ہے۔ شیخ کے اس قول پر متعدد اعتراضات ہوئے جن کے جواب میں امام رازی نے شیخ کا دفاع کرتے ہوئے چند باتیں پیش کیں۔ مگر علامہ خیر آبادی نے وہ سب ذکر کرنے کے بعد لکھا:

یہ کلام بڑی متانت کا حامل ہے مگر اس سے اس اشکال کا حل نہیں نکلتا کہ کیا وجہ ہے کہ لامسہ، ذائقہ اور شامہ تو اپنے محسوسات سے متاثر ہوتے ہیں اور سامعہ، باصرہ متاثر نہیں ہوتے؟ آگے یہ فرماتے ہیں کہ لذت و الم اگر مناسب و نامناسب کے ادراک کا نام ہے تو ظاہر ہے کہ ادراک نفس کا کام ہے اور لذت و الم اگر حواس میں حاصل ہونے والی مناسب و نامناسب صورت کا نام ہے تو یہ بات دیگر حواس کی طرح باصرہ و سامعہ میں بھی ہوتی ہے۔ اس لیے یا تو یہ کہیں کہ پانچوں حواس کے احساسات سے لذت و الم صرف نفس کو ہوتا ہے، یا یہ کہیں کہ لامسہ، ذائقہ، شامہ کی طرح سامعہ، باصرہ کو بھی لذت و الم کا حصول ہوتا ہے۔ ان کے درمیان فرق کی کوئی وجہ نہیں۔ آخر میں فرماتے ہیں کہ بہر حال شیخ نے ان حواس کے لذت و الم سے متعلق جو جداگانہ حکم لگایا ہے وہ ایسا لفظ ہے جسے فطرتِ سلیمہ قبول نہیں کر سکتی "ولم نخلق لأن نومن بما فی دفتی الشفاء" اور ہم اس لیے پیدا نہ ہوئے کہ شفا کے اوراق میں جو کچھ رقم ہو گیا اس پر ایمان لائیں۔" [ص: ۱۹۲، ۱۹۷، ملخصاً]

اس سے فلسفہ میں علامہ خیر آبادی کی ناقدانہ بصیرت عیاں ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ فلاسفہ کی عام باتیں بھی ان کے نزدیک اسی وقت قابلِ قبول ہوں گی جب وہ عقل و استدلال کی میزان پر پوری اتریں ورنہ انھیں بے دریغ رد گر بیان کی جائے تو مادیات کے مقابل زیادہ دانشمندانہ عمل ہوگا۔

(۴) فصلِ فی کائنات الجو کے آخر میں لکھتے ہیں:

أَعْلَمْ أَنَّ تَكُونَ هَذِهِ الْآثَارِ بَلْ سَائِرِ الْكَائِنَاتِ وَالْأَشْيَاءِ إِنَّمَا هُوَ بِتَقْدِيرِ قَدِيرٍ فَعَّالٍ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ، وَ حُكْمِ حَكِيمٍ بَدِيعٍ، بَدِيعِ الْإِنْشَاءِ، فِي الْأَرْضِ وَالسَّمَاءِ، لَا يَحْتَاجُ فِي تَكْوِينِ الْأَشْيَاءِ إِلَى مَادَّةٍ وَمُدَّةٍ وَلَا إِلَى مُعِدٍّ وَعُدَّةٍ، لَكِنَّ حِكْمَتَهُ الْكَامِلَةَ رَبَطَتْ كَائِنَاتِ الْأَسْبَابِ عَادِيَّةً، وَقُدْرَتَهُ الشَّامِلَةَ كَوَّنَتْ مَوَادَّ عَنَاصِرَ وَأَعَدَّتْهَا لِتَكْوِينِ أَشْيَاءَ مَادِّيَّةٍ، وَرَتَّبَتْ عَلَيْهَا مَصَالِحَ وَغَايَاتٍ، وَجَعَلَتْهَا عَلَى عَظَمَتِهِ وَحِكْمَتِهِ أَدِلَّةً وَ آيَاتٍ، فَخَلَقَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ بَسَائِطَ، وَرَكَّبَ مِنْهَا أَبْخِرَةً وَأَدْخِنَةً، وَجَعَلَهَا مَوَادَّ وَأَسْبَاباً، وَقَدَّرَ مِنْهَا مَطَراً وَمَاءً وَسَحَاباً، وَأَخْرَجَ حَبّاً وَنَبَاتاً، وَقَدَّرَ لِكُلٍّ مِنْهَا فُصُولاً وَأَوْقَاتاً، وَجَعَلَهَا أَرْزَاقاً وَأَقْوَاتاً، فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ۔

"معلوم رہے کہ ان آثار کا وجود، بلکہ دیگر تمام اشیا اور کائنات کا وجود ایک قدرت والے کی تقدیر اور حکم سے ہوتا ہے، وہ جو چاہتا ہے تخلیق فرماتا اور بناتا ہے، وہ حکمت والا، از سر نو ایجاد فرمانے والا، زمین و آسمان میں انوکھی ایجاد والا ہے، وہ اشیا کو وجود بخشنے میں کسی مادہ و مدت، اور کسی ذریعہ و سامان کا محتاج نہیں۔ مگر اس کی حکمتِ کاملہ نے کچھ وجود پانے والی چیزوں کو کچھ اسبابِ عادية سے مربوط کر دیا ہے اور اس کی ہمہ گیر قدرت نے عناصر کے مادے پیدا کر کے انھیں کچھ مادی چیزوں کے بنانے کے لیے تیار کر دیا ہے اور اس پر بہت سے مصالح و مقاصد مرتب فرمائے ہیں۔ اور ان سب کو اپنی عظمت اور حکمت کے لیے دلیل و نشان بنا دیا ہے۔ تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بسائط کی تخلیق فرمائی، ان سے بخارات و دخانیات ترکیب دیے۔ پھر انھیں مادہ و سبب بنا کر ان سے بارش، پانی اور ابر کو وجود بخشا، اور ان سے اناج اور پودے اگائے اور ہر ایک کے لیے موسم اور وقت مقرر کر دیا، اور ان کو رزق اور خوراک بنایا۔ تو بڑی برکت والا ہے اللہ جس کی تخلیق سب سے بہتر ہے۔"

یہ خالص اسلامی نظریہ اور ایمانی نظر ہے جو اسباب و مسببات کے تعلقات میں الجھ کر رک نہیں جاتی، بلکہ سبب الاسباب تک پہنچتی ہے اور یہ دیکھتی ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے در اصل اسی کی تقدیر و تخلیق سے ہو رہا ہے اور اسباب میں جو کچھ صلاحیت و استعداد جلوہ نما ہے وہ سب اسی کا فیضان، اسی کی عطا، اور اسی کی بخشش ہے۔ جب کہ خالص فلسفی کا دماغ مادہ و عناصر اور اسبابِ ظاہر کی "بھول بھلیاں" سے کبھی باہر نہیں نکلتا۔

(۵) فلاسفہ نباتات کے لیے بے شعور نفس مانتے ہیں جس سے آلات و قوٰی کے ذریعہ مختلف کام انجام پاتے ہیں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!