Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

شیخ الاسلام عزّ الدین بن عبد السلام رحمۃ اللہ علیہ|بنت محمد صابر

شیخ الاسلام عزّ الدین بن عبد السلام رحمۃ اللہ علیہ
عنوان: شیخ الاسلام عزّ الدین بن عبد السلام رحمۃ اللہ علیہ
پیش کش: بنت محمد صابر

تاریخِ اسلام کی اُن مقتدر ہستیوں میں آپ کا نامِ گرامی ہے جن کے دم سے عظمتِ دین اور سطوتِ علم قائم رہی، جن کے سامنے تبلیغِ اسلام اور اصلاحِ زمانہ کی راہ میں عظیم الشوکت فرماں رواؤں کا اقتدار ہیچ تھا۔ جنھوں نے ایک عالم کو ایمان و یقین کی روشنی بخشی اور ایک جہان اُن کے وجود کی برکتوں سے مالامال ہوا۔

ولادت، تعلیم اور علمی جلالت

شیخ عزالدین بن عبدالعزیز بن عبدالسلام، غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے سترہ برس بعد ۵۷۷ھ میں سرزمینِ دمشق میں پیدا ہوئے۔ بعض روایات کے مطابق آپ نے عہدِ شباب میں تحصیلِ علم کا آغاز کیا مگر اپنے وفورِ شوق اور غیر معمولی جدوجہد کے نتیجے میں بہت جلد تکمیل کر کے معاصر علماء پر سبقت لے گئے اور سب نے آپ کی جلالتِ شان کا اعتراف کیا۔ ۶۳۹ھ میں مصر پہنچے تو بلند پایہ محدث علامہ عبدالعظیم منذری (م ۶۵۶ھ) صاحبِ کتاب "الترغیب والترھیب" نے افتاء سے دستبرداری ظاہر کر دی اور فرمایا "جس شہر میں شیخ عزالدین جیسا جلیل القد فقیہ موجود ہو، وہاں دوسرے کے لیے کارِ افتاء درست نہیں۔"

قاضی مجیر الدین حنبلی اپنی کتاب "تاریخ المعتبر فی ابناء من عبر" میں شیخ کی عظمتِ شان کا اظہار ان الفاظ میں فرماتے ہیں:

إِنَّ سَيِّدَنَا الشَّيْخَ عِزَّ الدِّينِ بَلَغَ رُتْبَةَ الْإِجْتِهَادِ مَعَ الزُّهْدِ حَتَّى ظَهَرَ حَالُهُ فِي الْمُكَاشَفَاتِ، وَإِنَّهُ لُقِّبَ بِسُلْطَانِ الْعُلَمَاءِ، وَكَانَ حَسَنَ الْمُحَاضَرَةِ بِالنَّوَادِرِ وَالْأَشْعَارِ۔

"سیدنا شیخ عزالدین درجہ اجتہاد کو پہنچے ہوئے تھے، اسی کے ساتھ پیکرِ زہد و ورع بھی تھے یہاں تک کہ مکاشفات میں ان کا حال و مقام ظاہر ہو گیا، انھیں "سلطان العلماء" کا لقب ملا، نادر باتیں اور اشعار پیش کرنے میں بڑے حاضر جواب تھے۔"

علمی وقار اور عالمانہ اوصاف:

شیخ بڑی پر جلال اور باوقار شخصیت کے مالک تھے، بادشاہوں کی دربار حضوری قطعاً پسند نہ تھی، خود ان کے بلانے پر اگر کبھی گئے تو "جی حضوری" یا خاموشی نہیں اختیار کی بلکہ ان کی بے اعتدالیوں اور بدعنوانیوں پر بر وقت تنقید و تنبیہ کی اور اپنے خلوصِ قلب اور عالمانہ رعب و جلال کی وجہ سے اثر انداز بھی ہوئے۔

مجاہدانہ کردار:

اسلامی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ، "فتنۂ تاتار" ہے۔ جس کے متواتر حملوں نے ممالکِ اسلامیہ کی بنیادیں ہلا دیں، مسلمانوں کے دلوں میں خوف و ہراس گھر کر گیا، یہاں تک کہ تاتاریوں کی شکست نامکن خیال کی جانے لگی، اور یہ فقرہ لوگوں کے زبان زد ہو گیا۔

إِذَا قِيلَ لَكَ إِنَّ التَّتَرَ انْهَزَمُوا فَلَا تُصَدِّقْ

اگر کوئی تمھیں تاتاریوں کی شکست خوردگی کی خبر دے تو سچ نہ مانو۔

اس دور میں سب سے پہلے سرفروش حضرت شیخ عزالدین ہیں جنھوں نے تاتاریوں کے مصر کی طرف رخ کرنے کی خبر سنتے ہی لوگوں میں ولولۂ جہاد اور جذبۂ استقامت پیدا کیا، اور سلطانِ مصر سے فرمایا تم جہاد کے لیے صف آرا ہو جاؤ، فتح کی ضمانت میں لیتا ہوں۔ مالیاتی قلت کی وجہ سے مصارفِ جہاد کے انتظام کے لیے سلطان نے تاجروں سے قرض لیے جانے کی تجویز پیش کی، تو شیخ نے فرمایا "پہلے شاہی محل کے جواہرات، بیگمات کے زیورات اور ارکانِ سلطنت کے وہ زیورات نکالے جائیں جو شرعاً حرام ہیں پھر اگر ضرورت ہو تو قرض لیا جائے۔"

زر پرست اذہان کے لیے یہ تجویز بہت گراں بار تھی مگر شیخ کی شخصیت کا اثر اتنا تھا کہ تمام زیورات و جواہرات حاضر کر دیے گئے، جو مصارفِ جہاد میں لگائے گئے اور دوسری سلطنتوں کے بر خلاف مسلمانوں کو پہلی بار تاتاریوں کے مقابلے میں فتح حاصل ہوئی جس کے بعد تاتاری پسپا ہوتے گئے۔ یہاں تک کہ ان کی شوکت و سطوت کا خاتمہ ہو گیا۔

جرأتِ بے باک:

حکمِ شرعی کے نفاذ میں شیخ کسی کے منصب و اقتدار سے ذرا بھی مرعوب نہ ہوتے اور جو بات حق ہوتی اُسے صرف کہہ کے نہ دیتے بلکہ کر کے دکھا دیتے۔

الملک الصالح نجم الدین ایوب (م ۶۴۷ھ) کے زمانے میں آپ قاضی اور مساجد کے مہتمم تھے۔ اس وقت فخر الدین عثمان نامی ایک شخص قصرِ شاہی کا مہتمم تھا مگر عملاً نائب السلطنت اور حکومت کے سارے کاموں میں دخیل تھا۔ اس نے ایک مسجد کی چھت پر طبل خانہ بنوا دیا۔ شیخ نے مطلع ہونے کے بعد فوراً حکم صادر کر دیا کہ یہ تعمیر جائز نہیں لہٰذا وہ عمارت منہدم کر دی جائے، اور اس جرم میں فخر الدین عثمان کو ساقط الشہادۃ قرار دیا پھر عہدۂ قضا سے مستغنی بھی ہو گئے۔ سلطان نے اگرچہ آپ کو دوبارہ عہدۂ قضا پر مامور نہیں کیا مگر اس کی نگاہ میں اس واقعہ سے شیخ کی عظمت و تحکم میں کمی نہیں ہوئی۔

اُدھر عالمِ اسلام میں شیخ کی علمی سطوت کا اثر یہ تھا کہ اُسی زمانے میں مصری سفارت کوئی پیغام لے کر خلیفۂ بغداد کے پاس پہنچی خلیفہ نے دریافت کیا یہ پیغام تم نے خود بادشاہ کی زبانی سنا ہے یا کسی کے توسط سے؟ انھوں نے کہا ہم نے یہ پیغام قصرِ شاہی کے مہتمم فخر الدین کی زبانی سنا ہے۔ خلیفہ نے کہا اسے تو شیخ عزالدین نے ساقط الشہادۃ قرار دیا ہے اس لیے تمھارا پیغام لائقِ قبول نہیں۔ نتیجہً سفارت پھر مصر واپس آئی اور بادشاہ کی زبانی پیغام سن کر دوبارہ بغداد جا کر پیغام پہنچایا تو مسموع ہوا۔

بے مثال شجاعت:

مصر میں کچھ امراے سلطنت بیت المال کی ملک اور غلام تھے۔ یہ شرعی طریقے پر آزادی حاصل کیے بغیر حکومت کے بڑے بڑے عہدوں کے مالک ہو گئے اور اطرافِ حکومت میں اپنا اثر و اقتدار جما لیا۔ ان میں ایک وزیرِ اعظم اور نائب السلطنت بھی تھا۔

شیخ نے فتویٰ دے دیا کہ "یہ امرا بیت المال کی ملک ہیں جب تک شرعی طریقے پر آزاد نہ کیے جائیں ان کے معاملات درست نہیں۔" شیخ کا فتویٰ سن کر مسلمانوں نے ان امرا سے معاملات ترک کر دیے اور وہ سخت وقت و پریشانی میں مبتلا ہو گئے انھوں نے ہر چند منت و سماجت کی اور سلطان نے بھی سفارش کی مگر آپ حکمِ شرعی پر قائم رہے۔ شیخ نے بتایا کہ میں ان سب کو نیلام کروں گا، ان کی قیمت مسلمانوں کے کام میں صرف ہوگی، اور آزاد ہونے کے بعد ان کے معاملات درست ہوں گے۔

کسی خوشامد پر شیخ نے اپنا فتویٰ واپس نہیں لیا تو نائب السلطنت اپنے نیلام اور ذلت کے تصور سے غضبناک ہو گیا۔ ننگی تلوار لیے اپنے عملہ کے همراہ شیخ کے گھر پہنچا دروازہ کھٹکھٹایا تو صاحبزادے باہر نکلے اور صورتِ حال دیکھ کر والدِ بزرگوار کو مطلع کیا۔ شیخ نے فرمایا "بیٹا ! تمھارے باپ کا مقدر کہاں کہ راہِ مولا میں شهید ہو۔" یہ فرمایا اور اٹھ کر دروازے پر آ گئے۔ نائب السلطنت نے دیکھا تو اس کے ہاتھ سے تلوار چھوٹ گئی، اس نے روتے ہوئے گفتگو کی اور آخر کار عرض کیا۔ میرے آقا! آپ جو حکم فرمائیں میں راضی ہوں۔

شیخ نے تمام امرا کو نیلام کیا اور ان کے اعزاز میں دام بہت زیادہ کہا پھر یہ آزاد ہو کر اپنے گھر گئے۔ طبقات میں ابن السبکی فرماتے ہیں: "ایک عالمِ دین کے رعب و دبدبہ کی یہ انتہائی مثال ہے جو کہیں اور سننے میں نہیں آتی۔"

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں شیخ کا فکری موقف

علماے حق پر سب سے بڑی ذمہ داری امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ہے اس ذمہ داری کو شیخ نے جس پابندی اور پامردی سے ادا کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بارے میں شیخ نہایت سخت مسلکِ فکر پر عامل تھے اپنے اسی علمی و فکری موقف کا اظہار کرتے ہوئے الملک الاشرف کو ایک خط میں لکھتے ہیں:

وَبَعْدَ ذَلِكَ فَإِنَّنَا نَزْعُمُ أَنَّنَا مِنْ جُمْلَةِ حِزْبِ اللَّهِ وَأَنْصَارِ دِينِهِ وَجُنْدِهِ وَكُلُّ جُنْدِيٍّ لَا يُخَاطِرُ بِنَفْسِهِ فَلَيْسَ بِجُنْدِيٍّ۔

"ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم جماعتِ الٰہیہ کے افراد، دینِ خدا کے مددگار اور لشکر ہیں اور جو لشکری اپنی جان خطرے میں ڈالنے کے لیے تیار نہ ہو وہ لشکری نہیں۔"

ایک دوسرے خطبے میں بڑی صفائی کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ ان کا یہ بیان علمائے زمانہ کے لیے درسِ عبرت و بصیرت ہے۔ فرماتے ہیں:

قَدْ أَمَرَنَا اللَّهُ بِالْجِهَادِ فِي نُصْرَةِ دِينِهِ، أَلَا إِنَّ سِلَاحَ الْعَالِمِ عِلْمُهُ وَلِسَانُهُ، كَمَا أَنَّ سِلَاحَ الْمَلِكِ سَيْفُهُ فَكَمَا لَا يَجُوزُ لِلْمُلُوكِ إِغْمَادُ أَسْلِحَتِهِمْ عَنِ الْمُلْحِدِينَ وَالْمُشْرِكِينَ لَا يَجُوزُ لِلْعُلَمَاءِ إِغْمَادُ أَلْسِنَتِهِمْ عَنِ الزَّائِغِينَ وَالْمُبْتَدِعِينَ۔ [طبقات الشافعیہ ابن السبکی، ج: 8]

ہمیں اللہ نے اپنے دین کی مدد میں جہاد کا حکم دیا ہے یقین کرو کہ جس طرح بادشاہ کا ہتھیار شمشیر و سنان ہے اسی طرح عالم کا ہتھیار اس کا علم اور زبان ہے اور جس طرح بادشاہوں کے لیے بے دینوں اور مشرکوں سے اپنے ہتھیار روک کر نیام میں کرنا جائز نہیں اسی طرح علما کے لیے کج رَوؤں اور بدعتوں سے روک کر اپنی زبانیں نیام میں کرنا جائز نہیں۔

شریعت کے معاملے میں شیخ اپنی بھی رعایت نہیں کرتے تھے۔ ایک مرتبہ کسی فتوے میں ان سے غلطی ہو گئی تو اپنے غیر معمولی منصب و اثر کا لحاظ کیے بغیر اعلان کر دیا کہ "ابن عبد السلام نے جسے فلاں فتویٰ دیا ہو وہ اس پر عمل نہ کرے اس لیے کہ وہ غلط ہے۔"

آپ عالمِ شریعت ہونے کے ساتھ شیخِ طریقت بھی تھے۔ شیخ الشیوخ حضرت شہاب الدین سہروردیؒ (م ۶۳۲ھ) سے اجازت و خلافت حاصل تھی۔

تصنیفات

شیخ نے نہ صرف اپنے زمانے میں اصلاحی اور تجدیدی کارنامے انجام دیے ہیں بلکہ بعد والوں کے لیے کتابوں کا گراں قدر ذخیرہ بھی چھوڑ گئے ہیں۔ آپ کی تصنیفات القواعد الکبریٰ، الإمام في أدلة الأحكام، مجاز القرآن، کنز الفوائد سے علامہ جلال الدین سیوطی (م ۹۱۱ھ) وغیرہ استفادہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

وفات

الملک الظاہر بیبرس (م ۶۷۶ھ) کے عہدِ حکومت میں بتاریخ ۱۰/ جمادی الاولیٰ ۶۶۰ھ علم و فن، صلاح و تقویٰ اور اصلاح و ارشاد کا یہ سلطان اس دارِ فانی کو خیرباد کہہ گیا۔ إنا لله وإنا إليه راجعون۔ [الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور، فروری ۱۹۷۹ء] [الشذرات الذہبیہ، الشیخ محمد بن یحییٰ الحنبلی، ص ۱۷۶]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!