Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حافظ ملت تعلیمی ماحول میں(قسط: اول)|محمد احسان مصطفیٰ

حافظ ملت تعلیمی ماحول میں (قسط: اول)
عنوان: حافظ ملت تعلیمی ماحول میں (قسط: اول)
پیش کش: محمد احسان مصطفیٰ

حافظ ملت کی حیات و خدمات پر متعدد جہات سے نظر جاتی ہے، اور ہر اعتبار سے وہ بلند پایہ، قابلِ اتباع اور پس رووں کے لیے مشعلِ راہ نظر آتے ہیں، اور ہر پہلو کا تقاضا ہوتا ہے کہ اسے اجالے میں لایا جائے اور اس سے اکتسابِ فیض و نور کا سامان کیا جائے، گویا:

ز فرق تا بقدم ہر کجا کہ می نگرم
کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا این جاست

لیکن تمام گوشوں اور شعبوں سے بآسانی و باختصار عہدہ برآ ہونے کی بروقت کوئی صورت ذہن میں نہیں آتی، اس لیے میں نے درسگاہی ماحول میں ان کے کردار و عمل پر نظر ڈالنے کی کوشش کی ہے، اگرچہ وہ صرف اسی کے پابند نہ تھے۔ ان کی خانگی زندگی، شہری زندگی، عابدانہ زندگی، دعوتی و تبلیغی زندگی، سیاسی زندگی وغیرہ ہر ایک پر بسط و تفصیل سے لکھنے کی ضرورت ہے۔

تعلیمی ماحول میں انھیں تین طرح سے دیکھا جا سکتا ہے:

(۱) بحیثیت استاذ و مدرس

(۲) بحیثیت صدر المدرسین

(۳) بحیثیت صدر مجلس عاملہ و سربراہ اعلیٰ (بحیثیت طالب علم کہیں ضمناً بیان کروں گا اسی کو مستقل سمجھیں)

بحیثیت مدرس

ایک مدرس کا فریضہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے وقت کا پابند ہو، متعلقہ اسباق پوری ذمہ داری سے پڑھائے، نصاب کی تکمیل کرے، کتاب کے مضمون کو دلنشین اور موثر طور پر طلبہ کے ذہن میں اتارے، طلبہ کی علمی ترقی، اخلاقی بلندی، عملی میدان میں کامیابی اور دینی و عملی خدمات میں فعالی کے لیے کوشاں رہے۔ اور ان کے ذہن و فکر، قلب و مزاج، اخلاق و کردار ہر ایک کی اصلاح کے ساتھ انھیں مردانِ کار کی صف میں نمایاں مقام پر لا کھڑا کر دے۔

پابندی اوقات

حافظ ملت کو ہم نے ہمیشہ دیکھا ہے کہ جب وہ مبارک پور تشریف فرما ہوتے، ٹھیک وقت پر مدرسہ تشریف لاتے اور آتے ہی کام میں لگ جاتے۔ تضییع اوقات اور خوش گپیوں کے لیے ان کی عام زندگی میں بھی کوئی خانہ نہ تھا، تعلیمی اوقات میں اسے کب روا رکھتے۔ طلبہ بھی وقت پر درسگاہ میں حاضر ہو جاتے اور تین چار منٹ کی تاخیر حضرت پر سخت گراں گزرتی۔ ایک بار مدارک شریف کے سبق میں ہم لوگ تین چار منٹ کی تاخیر سے پہنچے تو سخت برہم ہوئے اور باز پرس فرمائی کہ دیر کیوں کی؟

جواب کسی کے پاس نہ تھا، کسی ضروری کام میں مصروفیت یا کوئی معقول عذر تو تھا نہیں جسے پیش کر سکتے، چار منٹ کا وقفہ ان کی درسگاہ کے سامنے ہی بیکاری میں گزرا تھا۔ میں نے تو سمجھا نہ کوئی اس سوال کا جواب دے گا نہ اس کے بغیر حضرت سبق پڑھائیں گے، اور آج یوں ہی واپس جانا ہوگا۔ خیر ہمارے ایک رفیقِ درس (مولانا نصیر الدین صاحب) کو آخر بات سمجھ میں آگئی۔ عرض کیا “معاف فرمائیں آئندہ ایسا نہ ہوگا۔”

اتنا سننے کے بعد حضرت کا چہرہ بدل گیا، ہاں کہا اور سبق شروع کر دیا۔ ایسے ہی ایک مرتبہ ملا حسن کے درس میں مولانا حافظ عبد الرؤف صاحب علیہ الرحمہ کے یہاں تاخیر ہو گئی تھی، انہوں نے بھی اس کا بڑا سخت نوٹس لیا۔ بس یہی دو اتفاق ایسا ہوا اور سخت تنبیہ سے دوچار ہونا پڑا۔ ظاہر ہے کہ ان ذمہ دار اساتذہ کو نہ اپنے وقت کا ضیاع گوارا تھا، نہ طلبہ کے وقت کی بربادی وہ دیکھ سکتے تھے۔ ان حضرات کا بڑا زبردست مجاہدہ یہ تھا کہ ادارے کے غیر تعلیمی کاموں کو ہمیشہ غیر درسی اوقات میں ہی نپٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ اس کے لیے جو بھی صعوبت جھیلنی پڑے، مگر اسباق کا ناغہ گوارا نہ تھا۔

طریقہ تعلیم

حافظ ملت کا طریقہ درس یہ تھا کہ کسی طالب علم سے پہلے عبارت پڑھواتے، عبارت خوانی میں کوئی غلطی ہوتی تو اس پر تنبیہ فرماتے، کوئی بڑی غلطی ہوتی تو بہت خفا ہوتے۔ عبارت خوانی کے بعد پورے سبق کی ایک مختصر اور جامع تقریر کرتے، اس تقریر سے بہت سے اعتراضات اور شکوک و شبہات کا جواب بھی ہو جاتا۔ اس کے بعد عبارت کا سلیس ترجمہ حسب موقع توضیح و تنبیہ کے ساتھ مکمل کر دیتے۔ اگر کوئی طالب علم کوئی سوال کرتا تو بہت مختصر الفاظ میں تشفی بخش جواب دے دیتے۔ جو کتاب پڑھاتے پوری مہارت اور ذمہ داری سے اس کا حق ادا کرتے، اور جو سوال ہوتا فوراً اس کا جواب بھی دیتے۔ ایک بار خود فرمایا: “کبھی ادھار نہ رہا۔” بعد میں اس کی وضاحت فرمائی کہ ایسا ہوتا ہے کہ طالب علم نے کوئی ایسا سوال کر دیا جس کا معقول اور تشفی بخش جواب مدرس کے ذہن میں نہیں تو کہہ دیتا ہے “کل بتاؤں گا”۔

حضرت نے فرمایا کہ میرے یہاں “کل بتاؤں گا” والا معاملہ کبھی نہ ہوا۔ اس استحضار اور مہارت کے پس منظر میں وہ بتاتے کہ دورِ طالب علمی میں میرا طریقہ یہ تھا کہ جتنے اسباق پڑھنے ہوتے سب مطالعہ میں حل کرتا، اس کے متعلق اعتراضات و جوابات پر غور کرتا، پھر درسگاہ میں حاضری ہوتی اور وہاں جو بتایا جاتا بغور سنتا، جو سوال ذہن میں ہوتا اگر درس سے اس کا جواب حل نہیں ہوا تو پوچھ کر جواب حاصل کرتا، پھر روزانہ ہر سبق کا اعادہ اور اس کی تکرار رفقائے درس کو کراتا، پھر آئندہ سال وہ اسباق نیچے والی جماعت کے طلبہ کو بطور اعادہ و تکرار پڑھاتا، اس طرح ہر کتاب اور ہر سبق پڑھنے ہی کے زمانے میں متعدد بار نظر سے گزر چکا ہے، دوبار مطالعہ و درس کے طور پر، اور دوبار تکرار اور پڑھانے کے طور پر۔

ان کے درس میں اصلاح و تربیت کا عنصر بھی کار فرما ہوتا، اور علمی نکات کے ساتھ عمل کے جذبات بھی طلبہ میں منتقل کرتے، فکری اور اعتقادی رسوخ اور پختگی بھی ان کا مطمح نظر ہوتا۔ اسلام کی صداقت، اہل سنت کی حقانیت، منکرین اسلام کی بے ثباتی اور گمراہ فرقوں کا بطلان وہ بڑے موثر، مدلل اور واشگاف طور پر بیان فرماتے۔

تکمیل نصاب کی فکر

درسی تقریر کے ایجاز اور جامعیت کے باعث تقریری جلسوں سے متعلق ناغوں کے باوجود ان کے یہاں مقدارِ تعلیم زیادہ ہوتی، خصوصاً بخاری شریف کی دونوں جلدیں ہمیشہ ختم کراتے اور یہ ختم بھی اس طرح نہ ہوتا جیسا کہ بعض درسگاہوں کا رواج ہے کہ محض عباراتِ احادیث کی قراءت ہو جاتی اور کسی نے پوچھ لیا تو بتا دیا گیا، ورنہ عبارت خوانی پر درس مکمل ہو گیا۔ بلکہ حافظ ملت ہر سبق کی مناسب اور جامع تقریر کرتے، بخاری کے آخری پاروں میں جہاں احادیث عموماً سابقہ پاروں میں بار بار گزری ہوئی ملتی ہیں کم از کم ترجمۃ الباب سے حدیث کی مناسبت اور تطبیق چند لفظوں میں ضرور بتا دیتے تھے۔

حاضری پر نظر

طلبہ، خصوصاً پڑھنے والے طلبہ کی حاضری پر بھی نظر رکھتے۔ ایک بار جمعرات کے بجائے جمعہ کی صبح کو گھر جا رہا تھا، جوں ہی گیٹ کے قریب ہوا حافظ ملت سے ملاقات ہو گئی، نہ معلوم کس ضرورت سے اس دن جمعہ کو مدرسہ تشریف لانا ہوا۔ فرمایا، جا رہے تو پھر کل؟ میں نے عرض کیا رات کو مشقی بزم میں شرکت کے پیش نظر نہ جا سکا (اس وقت ہم چند رفقائے درس عنوانات کے تحت تقریر و تحریر کی مشقی بزم چلاتے تھے اور ذمہ داری کی وجہ سے رکنا پڑا)۔ دوسرے دن سنیچر کو میں گھر سے بہت سویرے چلا، سواری تو دن میں کبھی ملتی کبھی نہ ملتی، اتنی صبح سویرے ملنے کا تصور بھی نہ تھا اس لیے ابراہیم پور چھوڑ کر ایک دوسرے شارٹ راستے سے چلا، پہلی گھنٹی حضرت ہی کے یہاں تھی، عبارت خوانی کے دوران پہنچ گیا، سبق کے بعد حضرت نے سر اٹھا کر دیکھا تو مجھے موجود پایا، اور بہت خوش ہوئے۔ یوں بھی ناغے کی عادت نہ تھی۔ مبارک پور کے پورے تین سالہ ایامِ تعلیم میں کل غیر حاضری 20 دن سے زیادہ نہ ہوگی جس میں دو تین دن کسی ضرورت کے تحت اور باقی سخت علالت کے تحت ہے۔

صلاحیتوں سے آگاہی کا شوق

حافظ ملت کو اس کی بھی فکر ہوتی کہ طلبہ میں اچھی صلاحیت پیدا ہو اور صلاحیت کا جائزہ لینے کے دو موقعے ہوتے تھے، امتحان ششماہی جو دارالعلوم کے مدرسین لیتے اور امتحان سالانہ جس کے لیے ہمیشہ باہر کے ماہر و متبحر علما کا انتخاب کیا جاتا۔ حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کی تشریف آوری ضروری تھی، بعض اساتذہ یہ چاہتے کہ ان کے زیرِ تدریس کتابیں صدر الشریعہ کے یہاں امتحان کے لیے نہ جائیں اس لیے کہ دورانِ امتحان اگر طلبہ نے اچھے جوابات نہ دیے تو وہ پوچھتے کس کے یہاں پڑھا ہے؟ اور پھر وہی مدرس کو طلب کر کے فرماتے کیا پڑھایا ہے؟ کوئی ٹھکانے کا جواب دینے والا نہیں۔

مگر حافظ ملت کی کتابیں صدر الشریعہ کے یہاں جاتیں اور خود انہیں طلبہ کے جوابات سننے کا شوق ہوتا ہے، تاکہ طلبہ کی صلاحیت کا بھی اندازہ ہو اور اس کی روشنی میں آئندہ تدریس و تربیت کی ارتقائی راہ بھی متعین ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں صرف ڈیوٹی نبھانے اور کسی طرح وقت گزارنے سے مطلب نہ تھا، بلکہ وہ مقصد، وسیع میدانِ عمل اور عظیم تعلیمی و تربیتی نظریے کے تحت اس شعبے کے ایک بیدار مغز اور متحرک و فعال رکن کی حیثیت سے جادہ پیما تھے۔

طلبہ کی ہمدردی و غم گساری

انفرادی طور سے بھی طلبہ کو تحصیل کمال کی راہیں بتاتے اور اجتماعی طور سے بھی تعلیم و عمل کا شوق بیدار رکھتے۔ طلبہ کے شہری و خانگی حالات، ثروت و غربت، ضرورت و حاجت کا بھی اندازہ رکھتے اور شفیق باپ کی طرح ان کی ہمدردی و غم گساری بھی فرماتے، بعض طلبہ کی پوری کفالت بھی اپنے ذمہ لے لیتے جس کی کچھ تفسیر ایک دوسرے مضمون میں لکھ چکا ہوں۔

رجحانات سے آگاہی اور مناسب رہنمائی

طلبہ مختلف ذوق و رجحان کے حامل ہوتے ہیں، بعض کو شعر و سخن سے ذوق ہوتا ہے، بعض تقریر و خطابت کے دلدادہ ہوتے ہیں، بعض تجوید و قراءت کی مہارت چاہتے ہیں، بعض تصنیف و تحریر کا شوق رکھتے ہیں۔ عام مدرسین کو ان رجحانات و خواہشات کا اندازہ نہیں ہوتا مگر حافظ ملت کی نگاہ ایسی باریک بیں اور ذہن اتنا دور رس تھا کہ وہ کسی نہ کسی گوشے سے ان رجحانات کو بھانپ لیتے اور زمانہ طالب علمی میں شاعری سے منع کرتے لیکن باقی شعبوں کے لیے حوصلہ افزائی اور مناسب رہنمائی سے نوازتے۔ مقصد یہ تھا کہ طلبہ کی صلاحیتوں کو صحیح رخ پر لگایا جائے اور ہر میدان کے آدمی پیدا کیے جائیں۔

حوصلہ افزائی

آج تمام ماہرینِ تعلیم و تربیت کا اس پر اتفاق ہے کہ مار پیٹ کر پڑھانے اور زدوکوب کے ذریعے سدھارنے کا طریقہ فرسودہ ہی نہیں، مضر اور غلط بھی ہے۔ بچوں کی نفسیات کا جائزہ لیا جائے، تعلیم و درستگی سے ان کے انحراف کے اسباب معلوم کیے جائیں، اور ان اسباب کا علاج کیا جائے جس سے فاسد صورت رونما ہو رہی ہے۔ طلبہ کے فکر و مزاج کو صحیح سانچے میں ڈھالا جائے اور اجتماعی و انفرادی طور پر ایک کے لیے مناسب تدابیر عمل میں لائی جائیں۔ وہ خود ہی اچھی روش پر آ جائیں گے اور میدانِ عمل کے فعال رکن بن سکیں گے۔

ان تدابیر میں طلبہ کو مایوسی و پست ہمتی سے بچانے اور ان کے حوصلے بڑھانے کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ حافظ ملت کی زندگی میں حوصلہ افزائی کے شواہد بڑی کثرت سے ملیں گے، بعض کم فہم ان کے ہمت افزا کلمات سے اپنے بارے میں غلط فہمی بھی پیدا کر لیتے۔ اور بعض جان بوجھ کر بھی مناسب فائدہ اٹھانے کی راہ نکالتے۔ مگر بالغ نظر اور بلند حوصلہ افراد ہمیشہ اس کا مطلب یہی سمجھتے کہ حضرت یہ اس کے لیے فرما رہے ہیں کہ ہم کچھ کرتے رہیں اور کسی لائق بنیں۔ تاہم اس کا عام فائدہ یہ ہوتا کہ کوئی مایوسی کا شکار نہ ہوتا، اور محنت و عمل کے جذبات کو بڑی توانائی ملتی، اور یہ خیال قطعاً نہ ہوتا کہ نہ میں کسی لائق ہوں نہ ہو سکتا ہوں۔ دراصل یہ تصور ہر ترقی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے جبکہ ہمت و حوصلہ ترقی کا بہت مضبوط زینہ ہے۔

جوہر آشنائی

دوسری چیز یہ ہے کہ ہر انسان میں کوئی خوبی اور کوئی کمال بھی ہوتا ہے، ہر شخص کی کوئی انفرادی خصوصیت اور اس کا کوئی خاص درجہ بھی ہوتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ میری خوبی سے لوگ آشنا ہوں، میرے درجہ اور کام کا اعتراف کم از کم میرے مخلص و مہربان افراد کی زبان سے ادا ہو۔ مگر انسان کی انفرادی خوبی کا پتہ لگانا اس کے خاص درجہ سے آگاہ ہونا، اس کے بعد سینے میں اتنی وسعت، زبان میں اتنی بلاغت کہ مناسب انداز و الفاظ میں اس خوبی و رتبہ کا اظہار بھی ہو، بڑی دقت نظر اور وسعتِ ظرف والوں ہی کا حصہ ہے، اور اس خصوص میں حافظ ملت کا مقام بہت بلند ہے۔

میں بڑی سچائی کے ساتھ یہ عرض کرتا ہوں کہ حافظ ملت کا کمال یہ تھا کہ وہ راکھ کے ڈھیر سے بھی سونے کے ٹکڑے چن لیتے تھے اور ہمارا کمال یہ ہے کہ سونے کے ڈھیر میں بھی راکھ کے ذرے دیکھ لیتے ہیں۔ ان کا یہ عجیب کمال تھا کہ ہر شخص کا خاص جوہر وہ پہچان لیتے، اس کی خوبیوں سے آگاہ ہو جاتے، اور داد و تحسین سے بھی نوازتے، طلبہ کے حسن و قبح سے بھی وہ آشنا ہوتے اور غلطیوں کی اصلاح، خوبیوں کی تحسین دونوں ہی میں ان کا انداز کچھ ایسا نرالا تھا کہ اس سے فائدہ ہی ہوتا، نقصان نہ ہوتا۔ کیوں کہ تحسین اگر مناسب نہ ہو تو بے سلیقہ زجر و توبیخ کی طرح وہ بھی مضر بن جاتی ہے، حکمت و اعتدال ہر عمل کا جزوِ اعظم ہے۔

آج ہم بر محل دیکھتے ہیں کہ اپنے بچوں اور اپنے طلبہ کے معاملے میں عموماً لوگ افراط و تفریط کے شکار ہیں، کچھ لوگ انھیں خود رو پودوں کی طرح بے ہنگم بڑھنے کے لیے بالکل ہی آزاد چھوڑ دیتے ہیں۔ اور کچھ لوگ اس قدر قید و بند، تخویف و تہدید اور ضرب و کوب سے گزارتے ہیں کہ ان کی صلاحیت، ان کے طبعی رجحانات اور مناسب رعایت و آزادی کا بھی پاس و لحاظ نہیں رکھتے، حافظ ملت کے یہاں اس باب میں بھی حکیمانہ اعتدال نظر آتا ہے۔

شخصیت کی دل آویزی

طالب علم کی اصلاح و تربیت میں معلم کی شخصیت کو بڑا دخل ہوتا ہے، معلم کے افکار و اطوار اور اخلاق و کردار سے طالب علم کا متاثر ہونا فطری بات ہے۔ حافظ ملت کی شخصیت علم و تقویٰ کی جامع، اخلاص و بے نفسی کی حامل، تواضع و خود داری سے مرصع، دین و علم کی ترویج و اشاعت کے بے کراں جذبات سے لبریز تھی، جس کا اثر ان کے تلامذہ پر بھی پڑا، خواہ کوئی ان کے کمال کو نہ پہنچے، اور ان کے محاسن کا جامع نہ ہو سکے، لیکن ہر ایک کے سامنے ایک آئیڈیل اور مثالی شخصیت کا نقشہ ضرور رہتا، اور اسے بہرحال یہ سوچنا پڑتا کہ علمِ دین کی راہ میں قدم رکھا ہے اور نیابتِ رسول کا منصب حاصل کرنے کی تڑپ ہے تو شخصیت ایسی ہی دل آویز اور علمی و عملی کمالات و محاسن کی جامع بنانا ہوگی۔ جبھی بجا طور سے عالم دین اور نائب رسول شمار ہو سکتے ہیں، ورنہ درخت بے برگ یا شجر بے ثمر سے زیادہ کوئی حیثیت نہ ہوگی۔ آج نئی نسل میں جو بے راہ روی در آئی ہے، اس میں مناسب تعلیم و تربیت کے فقدان کے ساتھ علمائے سوء کی کمزوریوں، کوتاہیوں بلکہ اس سے بھی آگے بے باکیوں اور بے حیائیوں کا بھی بہت بڑا دخل ہے۔

حَفِظَنَا اللّٰهُ وَالْمُسْلِمِيْنَ مِنْ شُرُوْرِهِمْ.

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!