| عنوان: | آمین بالسر کا ایک تحقیقی جائزہ (لفظ آمین کی اصل اور اس کے معنی) |
|---|---|
| تحریر: | مولوی محمد نظام احسن مصباحی |
| پیش کش: | ثمینہ پروین قادریہ رضویہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
لفظ “آمین” مد اور قصر دونوں طرح سے ہے اور نون کے فتح کے ساتھ ہے جو کہ وقف کی حالت میں سکون کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ علامہ یحییٰ بن شرف نووی “المجموع شرح المہذب” میں فرماتے ہیں:
السُّنَّةُ فِي التَّأْمِينِ أَنْ يَقُولَ آمِينَ بِالْمَدِّ وَقَدْ تَقَدَّمَ بَيَانُ لُغَاتِهَا وَأَنَّ الْمُخْتَارَ آمِينَ بِالْمَدِّ وَتَخْفِيفِ الْمِيمِ وَبِهِ جَاءَتْ رِوَايَاتُ الْأَحَادِيثِ [ج سوم، ص 373، مسائل متعلقہ با تعوذ]
یعنی آمین میں سنت یہ ہے کہ مد کے ساتھ کہے اور اس کے لغوی معانی کو پیچھے بیان کیا جا چکا ہے اور مختار یہ ہے کہ آمین مد اور میم کی تخفیف کے ساتھ کہے اور اسی بارے میں احادیث بھی آئی ہیں۔
بعض لوگوں نے میم کی تشدید کے ساتھ بھی پڑھا ہے۔ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ یہ محض خطا ہے اور تجنیس میں آپ فرماتے ہیں کہ اس سے نماز فاسد ہو جائے گی کیوں کہ اس صورت میں آمین کے کچھ بھی معنی نہ رہیں گے بلکہ لا شے ہو جائیں گے لیکن صاحبین کے نزدیک اس سے نماز فاسد نہیں ہوگی اور اسی پر فتویٰ ہے۔ اس لیے کہ اس کی مثل قرآن مجید میں موجود ہے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَلَا آمِّينَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ [سورۃ المائدة: 2]
“آمین” اسم فعل ہے اور اس کے معنی کے متعلق کئی اقوال ہیں: اس کے معنی “استجب” یعنی “قبول فرما” ہے جیسا کہ تفسیر بیضاوی میں ہے:
آمِينَ اسْمُ الْفِعْلِ الَّذِي هُوَ اسْتَجِبْ [ج اول، ص 31]
اس کے علاوہ اس کے معنی “كَذَلِكَ” اور “لَا تُخَيِّبْ رَجَاءَنَا” اور “لَا يَقْدِرُ عَلَى هَذَا غَيْرُكَ” وغیرہ بھی بیان کیے گئے ہیں۔
“آمین” قرآن مجید سے نہیں ہے لیکن سورہ فاتحہ کے آخر میں اس کا پڑھنا سنت ہے اور اس کی فضیلت میں کئی حدیثیں ناطق ہیں۔ قاضی ناصر الدین بیضاوی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:
لَيْسَ مِنَ الْقُرْآنِ وِفَاقًا لَكِنْ يُسَنُّ خَتْمُ السُّورَةِ بِهِ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَّمَنِي جِبْرِيلُ آمِينَ عِنْدَ فَرَاغِي مِنْ قِرَاءَةِ الْفَاتِحَةِ وَقَالَ إِنَّهُ كَالْخَتْمِ عَلَى الْكِتَابِ [ج اول، ص 31]
ترجمہ: آمین بالاتفاق قرآن سے نہیں ہے لیکن سورہ فاتحہ کے آخر میں اس کا کہنا سنت ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ جبرئیل نے مجھے سورہ فاتحہ کے اختتام کے بعد آمین کہنے کی تعلیم دی اور کہا کہ یہ ایسے ہی ہے جیسے خط کے آخر میں مہر۔
آمین دعا ہے
لفظ آمین دعا ہے کیوں کہ آمین کہنے والا بھی دعا میں شریک ہوتا ہے۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
قَدْ أُجِيبَتْ دَعْوَتُكُمَا [سورۃ يونس: 89]
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعا مانگی اور حضرت ہارون علیہ السلام نے اس پر آمین کہا لیکن اللہ پاک نے فرمایا تم دونوں کی دعا قبول ہوئی، اس سے معلوم ہوا کہ آمین بھی ایک دعا ہے۔
علامہ بغوی اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں:
قَالَ اللَّهُ لِمُوسَى وَهَارُونَ قَدْ أُجِيبَتْ دَعْوَتُكُمَا، إِنَّمَا نَسَبَ إِلَيْهِمَا وَالدُّعَاءُ كَانَ مِنْ مُوسَى لِأَنَّهُ رُوِيَ أَنَّ مُوسَى كَانَ يَدْعُو وَهَارُونَ يُؤَمِّنُ وَالتَّأْمِينُ دُعَاءٌ
ترجمہ: اللہ پاک نے حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کے بارے میں فرمایا کہ تم دونوں کی دعا قبول ہوئی، دعا کی نسبت دونوں کی طرف کی گئی جب کہ حضرت موسیٰ دعا کرتے تھے جیسا کہ مروی ہے کہ حضرت موسیٰ دعا کرتے اور حضرت ہارون آمین کہتے اور آمین بھی دعا ہے۔ اس کے علاوہ تفسیر سعدی، تفسیر قرطبی وغیرہ میں بھی یہی تفسیر کی گئی ہے۔
دعا آہستہ کرنی چاہیے
دعا آہستہ کرنی چاہیے کیوں کہ دعا میں عاجزی و انکساری اور خشوع و خضوع کا حکم دیا گیا ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ
فِي الدُّعَاءِ بِالتَّشَدُّقِ وَرَفْعِ الصَّوْتِ [ص 201]
ترجمہ: اپنے رب کو گڑ گڑاتے ہوئے پکارو، بے شک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں۔
تفسیر جلالین میں ہے:
ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا أَيْ حَالَةَ تَذَلُّلٍ وَخُفْيَةً أَيْ سِرًّا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ فِي الدُّعَاءِ بِالتَّشَدُّقِ وَرَفْعِ الصَّوْتِ
ترجمہ: اپنے رب کو گڑ گڑا کر پکارو اور خفیہ یعنی آہستہ اس لیے کہ وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا جو بلند آواز سے دعا کرتے ہیں۔
حضرت حسن بصری نے فرمایا:
بَيْنَ دَعْوَةِ السِّرِّ وَدَعْوَةِ الْعَلَانِيَةِ سَبْعُونَ ضِعْفًا
یعنی آہستہ اور بلند آواز سے دعا کے درمیان ستر گنا فرق ہے۔
آمین کے بلند آواز یا آہستہ کہنے کے متعلق مذاہب اربعہ
شوافع اور حنابلہ کا موقف یہ ہے کہ امام اور مقتدی دونوں جہری نماز میں جہر سے آمین کہیں گے اور منفرد بھی جہر سے آمین کہے گا۔ “شرح الکرمانی علی صحیح البخاری” میں ہے:
وَاخْتَلَفُوا فِي جَهْرِهَا فَمَذْهَبُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ الْجَهْرُ وَمَذْهَبُ الْكُوفِيِّينَ وَمَالِكٍ السِّرُّ [ج چہارم، ص 108]
اس کے علاوہ دیگر کتب سے ان کا موقف واضح ہے۔ امام الائمہ سراج الامہ کاشف الغمہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا موقف یہ ہے کہ امام، مقتدی اور منفرد سب کے لیے یہی مسنون ہے کہ آمین آہستہ کہیں، چاہے جہری نماز ہو یا سری، ہر صورت میں “سر” ہی مسنون ہے۔ احناف کی کتب کی تفصیلات سے یہ موقف واضح ہے۔
“درر الحکام” میں ہے:
يُؤَمِّنُ أَنْ يَقُولَ آمِينَ بَعْدَهَا أَيِ الْفَاتِحَةِ سِرًّا سَوَاءٌ كَانَ إِمَامًا أَوْ مَأْمُومًا أَوْ مُنْفَرِدًا [ج اول، ص 69، باب صفة الصلاة]
امام مالک کا موقف یہ ہے کہ مقتدی آہستہ آمین کہے گا اور امام کے آمین کہنے سے متعلق دو روایتیں ہیں: اول یہ کہ امام آمین کہے گا۔ دوم یہ کہ امام آمین نہیں کہے گا۔
المدونہ میں ہے کہ جب امام سورہ فاتحہ سے فارغ ہو جائے تو آمین نہ کہے لیکن اس کے پیچھے والے آمین کہیں گے، پھر اسی میں آگے یہ بھی ہے کہ مقتدی آہستہ آمین کہے گا اور امام آمین نہیں کہے گا۔
آمین بالسر پر احناف کے دلائل
-
اس سے قبل ہم نے آیت قرآنی اور اقوال مفسرین سے ثابت کیا کہ آمین بھی ایک دعا ہے اور اکثر مفسرین کی یہی رائے ہے چاہے وہ کسی بھی مسلک سے تعلق رکھنے والے ہوں۔ پھر اس کے بعد ہم نے اس بات کو دلائل سے مزین کیا کہ دعا میں اصل اخفا ہے اور آیاتِ قرآنیہ اور اقوالِ مفسرین اس پر شاہد ہیں۔ اب میں کہتا ہوں کہ جب دعا کا آمین ہونا ثابت ہو گیا اور آمین کا آہستہ کہنا ثابت ہو گیا تو اس سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ سورہ فاتحہ کے بعد جو آمین کہنا مسنون ہے وہ بالسر ہے نہ کہ بالجہر۔
-
حضرت ابو مسلم الکجی نے اپنی سنن میں حضرت وائل بن حجر کی روایت ذکر کی ہے:
قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَالَ وَلَا الضَّالِّينَ قَالَ آمِينَ وَخَفَضَ بِهَا صَوْتَهُ
ترجمہ: حضرت وائل نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی جب “ولا الضالین” کہا تو آہستہ آواز سے آمین کہا۔
اس کی تخریج امام حاکم نے “المستدرک” میں کی اور فرمایا:
هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ
ان کے علاوہ امام احمد، امام ابو داؤد طیالسی اور ابو یعلیٰ موصلی نے “سنن” میں، نیز علامہ عینی نے “عمدۃ القاری” میں بھی اس کی تخریج فرمائی ہے۔
-
امام محمد نے “کتاب الآثار” میں روایت کی کہ حضرت ابراہیم نخعی نے فرمایا کہ چار چیزوں کو امام آہستہ کہے گا: “سبحانک اللہم وبحمدک”، تعوذ، تسمیہ اور آمین۔ [الآثار، ج اول، ص 162، باب الجہر ببسم اللہ الرحمن الرحیم]
-
امام طبرانی نے اپنی معجم میں روایت کی کہ حضرت ابو وائل نے فرمایا:
كَانَ عَلِيٌّ وَابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَا يَجْهَرَانِ بِبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَلَا بِالتَّعَوُّذِ وَلَا آمِينَ
ترجمہ: حضرت ابو وائل نے فرمایا کہ حضرت علی اور حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہما تسمیہ، تعوذ اور آمین کو بلند آواز سے نہیں کہتے تھے اور طحاوی شریف کی روایت میں حضرت عمر کے بارے میں بھی یہی ہے جس سے معلوم ہوا کہ اگر آمین بالجہر کہنے کا حکم ہوتا تو اتنے جلیل القدر صحابہ کرام ترک نہ فرماتے۔
-
سنن نسائی کی حدیثِ پاک ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ الْإِمَامُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا آمِينَ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَقُولُ آمِينَ وَإِنَّ الْإِمَامَ يَقُولُ آمِينَ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ [ج دوم، ص 199، باب جہر الإمام بآمین]
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام “غیر المغضوب علیہم ولا الضالین” کہے تو آمین کہو اس لیے کہ ملائکہ آمین کہتے ہیں اور امام بھی آمین کہتا ہے اور جس کا آمین کہنا ملائکہ کے آمین کے موافق ہو تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔
اس روایت کو آمین بالجہر کے قائلین نے بھی اپنے استدلال میں ذکر کیا ہے لیکن دراصل یہ احناف کی بھی مستدل بن سکتی ہے کیوں کہ “وَإِنَّ الْإِمَامَ يَقُولُ آمِينَ” یہ الفاظ جہاں یہ افادہ کر رہے ہیں کہ امام آمین کہے گا وہیں یہ بھی افادہ کر رہے ہیں کہ وہ آہستہ آمین کہے گا اس لیے کہ اگر یہ نہ مانیں تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا خبر دینا کہ “امام بھی آمین کہتا ہے” فائدہ سے خالی ہو جائے گا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس اس سے ارفع و اعلیٰ ہے کہ آپ کوئی بے معنی بات ارشاد فرمائیں۔
امام نووی نے شرح مسلم میں اور امام ابن عبد البر نے “التمہید” میں اس بارے میں کئی اقوال ذکر فرمائے ہیں کہ یہاں ملائکہ سے کون ملائکہ مراد ہیں، ان میں سے ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد “کراما کاتبین” ہیں۔ اب ہم قائلین بالجہر سے پوچھتے ہیں کہ کیا کراما کاتبین کے آمین کہنے کی آواز آپ سنتے ہیں؟ یقیناً جواب نفی میں ہوگا۔ تو ثابت ہوا کہ فرشتے آہستہ آمین کہتے ہیں تو آپ کا آمین بالجہر کہنا فرشتوں کے آمین کے موافق ہی نہ ہوا حالاں کہ حدیث پاک میں ہے:
فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
آمین بالجہر کے دلائل اور ان کا جواب
-
ابو داؤد اور ابن ماجہ کی روایت ہے:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ تَرَكَ النَّاسُ التَّأْمِينَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ قَالَ آمِينَ حَتَّى يَسْمَعَهَا أَهْلُ الصَّفِّ الْأَوَّلِ فَيَرْتَجَّ بِهَا الْمَسْجِدُ [ج اول، ص 278، باب الجہر بآمین]
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے آمین کہنا ترک کر دیا جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم “غیر المغضوب علیہم ولا الضالین” کہتے تو آمین کہتے یہاں تک کہ صفِ اول کے مقتدی سن لیتے تھے اور مسجد گونج اٹھتی تھی۔
امام حاکم نے اسی کی تخریج نصر بن علی کے حوالے سے کی اور فرمایا: “عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ” لیکن اس سے آمین بالجہر پر استدلال درست نہیں ہے کیوں کہ اس کی سند میں بشر بن رافع راوی ہیں جو کہ ضعیف ہیں اور ابو عبد اللہ غیر معروف ہیں۔
“حاشیۃ السندی علی سنن ابن ماجہ” میں ہے:
وَفِي الزَّوَائِدِ إِسْنَادُهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ لَا يُعْرَفُ وَبِشْرٌ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَقَالَ ابْنُ حِبَّانَ يَرْوِي الْمَوْضُوعَاتِ
یعنی زوائد میں ہے کہ اس کی سند میں ابو عبداللہ ہیں جو کہ غیر معروف ہیں اور اس میں بشر بھی ہیں جن کو امام احمد نے ضعیف قرار دیا اور امام ابن حبان نے فرمایا کہ یہ موضوعات کو روایت کرتے ہیں۔
علامہ عینی نے “عمدۃ القاری” میں فرمایا:
فِي إِسْنَادِهِ بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ الْحَارِثِيُّ وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ
“سنن کبریٰ” میں ہے:
بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ [ج دوم، ص 243]
علامہ کعمی نے “قبول الاخبار ومعرفة الرجال” میں فرمایا:
قَالَ أَبُو قُدَامَةَ بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ وَاهِي الْحَدِيثِ
دار قطنی نے “الضعفاء والمتروکین” میں منکر الحدیث کہا۔
جب اس روایت پر اتنا کلام ہے تو اس کو مستدل بہ نہیں بنایا جا سکتا ہے اور امام حاکم کا اس کے بارے میں علی شرط الشیخین کہنا کیوں کر درست ہو سکتا ہے؟ جب کہ خود امام بخاری ان کو ضعیف کہہ رہے ہیں۔
-
ترمذی شریف کی حدیثِ پاک ہے، حضرت وائل بن حجر سے مروی ہے:
قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَقَالَ آمِينَ وَمَدَّ بِهَا صَوْتَهُ [ترمذی، ج دوم، ص 27، باب ما جاء فی التأمین]
ترجمہ: حضرت وائل بن حجر نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے “غیر المغضوب علیہم ولا الضالین” پڑھا پھر آپ نے بلند آواز سے آمین کہا۔
سنن ابی داؤد کی روایت ہے حضرت وائل سے ہی مروی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں:
قَالَ آمِينَ وَرَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ [ج اول، ص 246، باب التأمین وراء الإمام]
پھر امام ابو داؤد نے دوسرے مقام پر اسی روایت کی تخریج کی تو اس کے الفاظ یہ ہیں:
أَنَّهُ صَلَّى خَلْفَ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَهَرَ بِآمِينَ
آمین بالجہر کے قائلین اس روایت سے بھی استدلال کرتے ہیں لیکن یہاں بھی ان کا استدلال تام نہیں ہوتا ہے کیوں کہ ان تمام روایات میں مختلف الفاظ آئے ہیں۔ ترمذی اور امام احمد کی روایت میں “مَدَّ بِهَا صَوْتَهُ” اور ابوداؤد کی ایک روایت میں “رَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ” ہے اور دوسری میں “فَجَهَرَ بِآمِينَ” ہے۔ ان تمام روایات میں سے محفوظ اور راجح وہ روایت ہے جس میں “مَدَّ بِهَا صَوْتَهُ” ہے اور اس کے علاوہ دیگر روایات روایت بالمعنی اور تفسیرِ راوی ہیں اور تفسیرِ راوی حجت نہیں لہٰذا ان روایات کو ترجیح نہیں دی جا سکتی۔
ملا علی قاری ہروی “مرقات” میں فرماتے ہیں:
قَالَ مِيرَكُ رِوَايَةُ مَدَّ بِهَا صَوْتَهُ رَوَاهَا التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَرِوَايَةُ رَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ رَوَاهَا أَبُو دَاوُدَ وَكَأَنَّهُ نُقِلَ بِالْمَعْنَى [ج دوم، ص 696، باب القراءة في الصلاة]
اب رہی ترمذی شریف کی روایت جس میں “مَدَّ بِهَا صَوْتَهُ” ہے تو یہ بھی استدلال کے لیے کافی نہیں کیوں کہ یہ حدیث محتمل ہے اور حدیث صحیح کے مقابل حدیث محتمل کو حجت نہیں بنایا جا سکتا۔
رہا اس کا قابلِ احتمال و محتمل ہونا تو وہ اس طور پر ہے کہ جس طرح لفظ “مد”، “رفع” کا احتمال رکھتا ہے اسی طرح یہ بھی احتمال رکھتا ہے کہ یہ “قصر” کی ضد ہو جو کہ “اطالہ” ہے۔ جیسا کہ ابن سید الناس نے “شرح ترمذی” میں فرمایا کہ “مد” سے مراد “اطالہ” ہے اور یہ “خفض” کے مقابل نہیں ہے۔
ملا علی قاری فرماتے ہیں:
مَدَّ بِهَا صَوْتَهُ أَيْ بِالْكَلِمَةِ يَعْنِي فِي آخِرِهَا وَهُوَ مَدٌّ عَارِضٌ وَيَجُوزُ فِيهِ الطُّولُ وَالتَّوَسُّطُ وَالْقَصْرُ
ترجمہ: “مد بھا صوتہ” یعنی اس کلمہ کے ساتھ اس کے آخر میں اور وہ مد عارض ہے اور اس میں طول، توسط اور قصر تینوں صورتیں جائز ہیں۔ [ج دوم، ص 494، باب القراءة فی الصلاۃ]
جب یہ ثابت ہو گیا کہ اس حدیثِ پاک میں جس طرح “مد” سے رفع مراد لیا جا سکتا ہے اسی طرح ضد “قصر” بھی مراد لیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا اس سے آمین بالجہر پر استدلال درست نہیں ہے۔ اگر مان ہی لیا جائے کہ یہاں “مد بها” سے “جہر بها” مراد ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بیانِ تعلیم کے لیے تھا جیسا کہ خود حضرت وائل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
مَا أُرَاهُ إِلَّا يُعَلِّمُنَا
یعنی میرا گمان ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیمِ امت کے لیے بلند آواز سے آمین فرمایا۔
الحمد للہ! آیاتِ قرآنیہ اور احادیثِ کریمہ سے واضح ہو کر یہ بات سامنے آئی کہ نماز میں سورہ فاتحہ کے بعد آمین آہستہ کہنا ہی مسنون ہے اور غیر مقلدین بے جا احناف پر طنز کرتے ہیں کہ ان کے پاس آمین بالسر پر کوئی دلیل نہیں اور یہ قیاس پر عمل کرتے ہیں حالاں کہ حقیقت اس کے برعکس ہے اور قرآن و حدیث دونوں ہماری موافقت میں ہیں۔ [ماہنامہ اعلیٰ حضرت، مارچ 2023ء، ص 25 تا 30]
