| عنوان: | حضرت شاہ دانہ ولی علیہ الرحمہ — ایک تعارف |
|---|---|
| تحریر: | توحید احمد خان رضوی |
| پیش کش: | جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم، بریلی شریف |
| منجانب: | تحسینی فاؤنڈیشن، بریلی شریف |
مرکزِ اہلِ سنت بریلی شریف بہت سی خوبیوں کا حامل شہر ہے۔ اس شہر میں جہاں امامِ اہلِ سنت، اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ آرام فرما ہیں، وہیں ایک نہایت عظیم المرتبت ہستی حضرت شاہ دانہ ولی علیہ الرحمہ بھی آرام فرما ہیں، جنہوں نے حق کی حمایت کا فریضہ انجام دیتے ہوئے باطل طاقتوں کا مقابلہ کیا اور ان کا قلع قمع فرمایا۔
حضرت شاہ دانہ ولی علیہ الرحمہ کا خاندان محمد بن قاسم کے زمانے میں ہندوستان آیا اور سلطان علاؤ الدین کے دور میں دہلی منتقل ہوا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
“بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے”۔
اس آیتِ کریمہ کے مصداق آپ نہایت متقی، پرہیزگار اور خدا رسیدہ بزرگ تھے۔ عبادت و ریاضت اور مخلوقِ خدا کی حاجت روائی آپ کا محبوب مشغلہ تھا۔
حضرت شاہ دانہ ولی علیہ الرحمہ نے اپنے دور کی اسلام مخالف تحریکوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور دشمنانِ اسلام کی سرکوبی فرمائی، یہاں تک کہ شہنشاہ اکبر جیسے طاقتور حکمران کی بھی پروا نہ کی اور اس کے خود ساختہ مذہب “دینِ الٰہی” کے خلاف جہاد بالسیف کیا۔
ولی کو ولی پہچانتا ہے
لوگوں کا بیان ہے کہ اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ حضرت شاہ دانہ ولی علیہ الرحمہ کے مزارِ اقدس پر تشریف لاتے اور باہر ہی سے فاتحہ پڑھ کر واپس چلے جاتے تھے۔ لوگوں نے عرض کیا کہ حضور! آپ یہاں تشریف تو لاتے ہیں مگر باہر سے ہی فاتحہ پڑھ کر چلے جاتے ہیں اندر کیوں نہیں جاتے؟
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے جواباً ارشاد فرمایا:
“اتنی بڑی ہستی کے سامنے میں کیسے جا سکتا ہوں؟”
اس سے حضرت شاہ دانہ ولی علیہ الرحمہ کی عظمت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اپنے وقت کے مجدد ان کی شان بیان فرما رہے ہیں۔ (مذکورہ واقعہ کے راوی جناب عبد الواحد خاں عرف ببّو بھائی ہیں)۔
کرامات
ایک مرتبہ چند لوگ ایک زندہ شخص کو چارپائی پر لٹا کر حضرت شاہ دانہ ولی علیہ الرحمہ کی خدمت میں لائے اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھانے کی درخواست کی۔ آپ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دی۔ وہ لوگ ہنستے ہوئے چلے گئے کہ یہ کیسے اللہ والے ہیں جو زندہ اور مردہ میں فرق نہ کر سکے۔
کچھ دور جا کر جب انہوں نے اس شخص (جس کی نمازِ جنازہ پڑھوائی تھی) کے چہرے سے چادر ہٹائی تو دیکھا کہ وہ واقعی فوت ہو چکا ہے۔ یہ دیکھ کر سب گھبرا گئے اور فوراً حضرت شاہ دانہ ولی علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر معافی مانگی اور اسے زندہ کرنے کی درخواست کی۔
آپ نے فرمایا:
“اس میں میرا کیا قصور؟ یہ تمہارا اپنا بنایا ہوا کھیل تھا۔ جاؤ، اسے زندہ پاؤ گے، لیکن توبہ کرو کہ آئندہ کبھی کسی کا مذاق نہیں اڑاؤ گے”۔
جب وہ واپس گئے تو اس شخص کو زندہ پایا۔
اسی طرح کا ایک اور واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ ایک قافلہ آپ کے سامنے سے گزرا۔ ان کے گھوڑوں پر سامان لدا ہوا تھا۔ حضرت شاہ دانہ ولی علیہ الرحمہ نے دریافت فرمایا:
“ان بوریوں میں کیا ہے؟”
حالاں کہ ان میں شکر تھی، مگر انہوں نے یہ خیال کر کے کہ کہیں فقیر مانگ نہ لیں، جواب دیا کہ ان میں ریت ہے۔
آپ نے فرمایا:
“اچھا! ریت ہی ہوگی”۔
جب وہ بازار پہنچے اور بوریاں کھولیں تو حیران رہ گئے کہ ان میں واقعی ریت تھی۔ قافلے کے سردار نے کہا کہ جہاں فقیروں نے پوچھا تھا وہیں چلو اور ان بزرگ سے معافی مانگو۔
وہ لوگ حاضر ہوئے، معافی طلب کی۔ حضرت شاہ دانہ ولی علیہ الرحمہ نے فرمایا:
“اچھا، شکر ہوگی، فقیروں کو کیا مطلب!”
جب انہوں نے دوبارہ بوریاں دیکھیں تو ان میں شکر موجود تھی۔
شہادت
شہنشاہ اکبر کی بے دینی کا دور تھا۔ اکبر نے مختلف مذاہب کی پسندیدہ باتوں کو جمع کر کے ایک نیا مذہب بنایا جسے “دینِ الٰہی” کا نام دیا گیا۔
جب اس باطل مذہب کی تبلیغ شروع ہوئی اور اسلامی احکام کی کھلی توہین ہونے لگی تو اس وقت کے جلیل القدر علماء، جیسے حضرت مجددِ الفِ ثانی علیہ الرحمہ اور میر عبد الواحد بلگرامی علیہ الرحمہ وغیرہ نے قلمی اور لسانی جہاد کے ذریعے اس کا رد فرمایا۔
مگر حضرت شاہ دانہ ولی علیہ الرحمہ نے بہادر نیابت خاں کے ساتھ مل کر شہنشاہ اکبر کی بے دینی کے خلاف جہاد بالسیف کیا۔
اس وقت بریلی اور سنبھل کا گورنر نواب حکیم عین الملک شیرازی تھا۔ اس نے بریلی کے قلعے کو مضبوط کیا اور اطراف کے جاگیرداروں کے ساتھ مل کر حضرت شاہ دانہ ولی علیہ الرحمہ کا مقابلہ کیا۔
کچھ لوگوں نے حضرت شاہ دانہ ولی علیہ الرحمہ اور عین الملک کے درمیان صلح کرانے کی کوشش کی، لیکن آپ کی غیرتِ دینی نے یہ گوارا نہ کیا کہ اسلام کے دشمنوں سے کسی قسم کی مصالحت کی جائے، لہٰذا آپ نے صلح سے صاف انکار فرما دیا۔
بالآخر نواب عین الملک نے سازش کے ذریعے بہادر نیابت خاں کو اپنی طرف ملا لیا۔ نیابت خاں کی غداری سے حضرت شاہ دانہ ولی علیہ الرحمہ کی قوت کمزور ہو گئی، لیکن آپ نے ہمت نہ ہاری اور صبر و استقامت کے ساتھ سنتِ حسینی پر عمل کرتے ہوئے شہنشاہ اکبر کی باطل طاقتوں کا مقابلہ جاری رکھا۔
بالآخر 990 ہجری مطابق 1582ء میں جامِ شہادت نوش فرما کر اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملے۔
ابرِ رحمت ان کے مرقد پر گہر باری کرے
حشر تک شانِ کریمی ناز برداری کرے
