| عنوان: | رشتوں میں بڑھتی بے حسی: انسانیت کا المیہ |
|---|---|
| تحریر: | ساریہ فاطمہ رضویہ |
خدائے لم یزل کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت “احساس” ہے۔ اللہ جل وعلا نے اس پوری کائنات میں متعدد مخلوقات کی تخلیق فرمائی ہے لیکن “اشرف المخلوقات” کے لقب سے صرف ہم انسانوں کو نوازا۔ اور انسان اشرف المخلوقات اس لیے ہے کہ اللہ جل وعلا نے اس کے اندر ایک اعلیٰ صفت رکھی ہے جس کے ذریعے انسان ایک دوسرے کے درد و الم کو محسوس کرتا ہے اور اسے ہی “احساس” کہتے ہیں جس کی وجہ سے آج انسان تمام مخلوق سے اشرف ہے۔
آج ہمارے معاشرے کا حال ناگفتہ بہ ہے، ہم آپس میں ہی لڑ رہے ہیں، ایک دوسرے کے درد اور تکلیف کو سمجھنے سے قاصر ہوتے جا رہے ہیں، بظاہر انسان تو نظر آرہے ہیں لیکن “متحرک لاش” بن چکے ہیں، دنیا کے اس برق رفتار میں کھو گئے ہیں۔ اور یہ بھول چکے ہیں کہ ایک بہترین معاشرے کی تشکیل میں انسان کے احساسات اور جذبات کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ جب ہم آپس میں ایک دوسرے کے درد، مسرت و شادمانی کو محسوس کر پائیں گے تبھی تو ایک بہترین معاشرے کا وجود ممکن ہو پائے گا۔ کہا جاتا ہے: “انسان اس وقت نہیں مرتا جب اس کے جسم سے روح نکال لی جاتی ہے بلکہ انسان اس وقت مرجاتا ہے جب اس کے اندر سے احساس ناپید ہوجاتا ہے”۔
انسانیت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ رشتوں کی قدر، محبت، ہمدردی، اخلاق اور شعور جیسی بنیادی صفات سے دور ہوتا جارہا ہے۔ ہم اپنی ذاتی ضروریات میں اس قدر کھو گئے ہیں کہ ہمیں اور دیگر لوگوں کا خیال ہی نہیں رہا۔ آج کا زمانہ تو وہ ہے جہاں لوگ محض فون پر آن لائن ہوتے ہیں لیکن اپنے رشتوں میں آف لائن ہوتے جا رہے ہیں۔ یاد رکھیں! کبھی بھی، کوئی بھی معاشرہ انسانیت کو پسِ پشت ڈال کر ترقی کی منزلوں کو عبور نہیں کرسکتا۔ ایک بہترین اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد اور اساس “احساس، خلوص اور ایثار” ہے۔ آج ہم لوگوں کی تکلیف میں تخفیف اور کمی تو دور بلکہ مزید اس میں زیادتی کا سبب بن جاتے ہیں اور المیہ یہ کہ ہمیں احساس تک نہیں ہوتا۔
دنیوی لحاظ سے ایک حساس شخص کن کن خوبیوں کا جامع ہوتا ہے؟
اولاً: اعلیٰ درجہ کی ہمدردی: حساس افراد دوسروں کے جذبات اپنے اندر محسوس کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں۔ دنیاوی اعتبار سے انہیں یہ خوبی ایک قابل اعتماد اور بھروسہ مند دوست بناتی ہے جس کی معیت میں ہر کوئی اپنی ذات کو محفوظ محسوس کرتا ہے۔
ثانیاً: مثبت سماجی اثر: حساس لوگ اپنی نرم اور خوش مزاجی کی وجہ سے معاشرے میں امن اور باہمی تعلقات میں پیار و محبت پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ اور معاشرتی تنازعات کو خلوص، محبت، ایثار اور گہری سوجھ بوجھ سے حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ثالثاً: غور و فکر اور حکمت: حساس لوگ معاملات میں حکمت عملی کے پیش نظر اقدام کرتے ہیں۔ جلد بازی نہیں کرتے جس کے سبب ان کی غلطی کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔ اپنی معلومات پر عام لوگوں کے مقابلے زیادہ توجہ دیتے ہیں جس کے سبب لغزشات سے بچے رہتے ہیں۔
رابعاً: بہترین فیصلہ سازی: حساس شخص اپنی فراست کے سبب پہلے ہی آنے والی مشکلات اور فتنوں کو بھانپ لیتا ہے اور امت کو پہلے ہی متنبہ کردیتا ہے۔
دینی لحاظ سے ایک حساس شخص کن کن خوبیوں کا جامع ہوتا ہے؟
اولاً: دل کی نرمی: حساس افراد بہت زیادہ نرم دل کے مالک ہوتے ہیں، ان کی یہ صفت انہیں اللہ جل وعلا سے قریب کردیتی ہے۔ کمزور، بے سہارا لوگوں کی مدد کرتے ہیں اور اسی جذبۂ خدمت کے سبب ان کی محبت لوگوں کے دلوں میں بھی پیدا ہوجاتی ہے۔
ثانیاً: خوفِ خدا اور تقویٰ: حساس افراد اپنے چھوٹے بڑے ہر اعمال کے متعلق بہت فکر مند ہوتے ہیں۔ اور ہر اس فعل سے اجتناب کرتے ہیں جو اللہ کریم کی ناراضگی کا سبب بنتا ہے۔ ان کی یہ حساسیت انہیں چھوٹی سی بھی لغزش پر فوراً توبہ کرنے پر مائل کرتی ہے۔
ثالثاً: حقوق العباد کی فکر: حساس شخص اس بات کا بہت خیال رکھتا ہے کہ اس کی زبان، ہاتھ اور کسی عمل سے کسی کی دل آزاری نہ ہو۔ بندوں کی حق تلفی اور ان کے دل ٹوٹنے کا سبب نہ بن جائے اس بارے میں اللہ جل وعلا سے ڈرتا رہتا ہے کیونکہ وہ بخوبی جانتا ہے کہ ٹوٹے ہوئے دلوں کی آہیں بہت وزنی ہوتی ہیں۔
رابعاً: شکر گزاری اور قناعت: حساس افراد اللہ کی رضا میں راضی ہوتے ہیں اور اس کی عطا کردہ نعمتوں پر ہمیشہ شکر ادا کرتے رہتے ہیں، ہرگز دوسروں کی نعمتوں سے مرعوب ہوکر اللہ کریم کی ناشکری نہیں کرتے ہیں۔
خامساً: بیدار ضمیر: حساس افراد بہت زیادہ متحرک الافعال ہوتے ہیں، وہ کسی کے ساتھ ہونے والی ناانصافی، حق تلفی اور زیادتی پر بے چین ہوجاتے ہیں اور جب تک ان کی پریشانیوں کا ازالہ نہ کرلیں چین نہیں پاتے ہیں۔ اور یہ ضمیر کی بیداری دین کا بنیادی تقاضا ہے۔
آج ہر زندہ دل اور ذی شعور کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے آس پاس موجود لوگوں کی تکلیف اور درد کو محسوس کرنے کی کوشش کرے، اور ان کے درد کو اپنا درد سمجھے۔ اور خود کو اصل معنوں میں زندہ رکھنے کی سعیِ جمیل کرے، کیونکہ انسانیت کی بقا کا راز احساس، خلوص اور ایثار میں مضمر ہے۔
