Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

مشکل کشائی اور عقیدۂ صحابہ | محمد ضیاء نعمانی مصباحی

مشکل کشائی اور عقیدۂ صحابہ
عنوان: مشکل کشائی اور عقیدۂ صحابہ
تحریر: محمد ضیاء نعمانی مصباحی (جامعہ اشرفیہ مبارک پور)
پیش کش: عرشیہ بانو عطاریہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

عقیدۂ توحید اور مظاہرِ قدرت

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو جس دین کی تعلیم دی، اس کا اظہار صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی زندگی کے ہر لمحے میں ہوتا رہا، یہی وہ لوگ تھے، جو اپنے کردار و عمل سے قرآن و سنت کی تعلیمات کی عملی تفسیر پیش کر رہے تھے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ صرف اللہ ہی معبود ہے اور وہی ساری مخلوقات کا پالنہار ہے، اور وہ قادرِ مطلق ہے، اور وہی کائنات کا متصرف بالذات ہے، اگر اس کا حکم نہ ہو تو ایک پتہ بھی نہیں ہل سکتا، اور اگر اس کا اذن نہ ہو تو کائنات کا ایک ذرہ بھی اپنے آپ کو برقرار نہیں رکھ سکتا، خالقِ کائنات جل جلالہ لوگوں کے احوال کو جانتا ہے، اور ان کی دعاؤں کو سنتا ہے، وہ ان کی دعاؤں کو قبول کر کے ان کی مشکلات کو بھی حل فرماتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے کچھ بندوں کو اپنی قدرت کا مظہر بنایا ہے، اللہ تعالیٰ کی قدرت ان بندوں سے ظاہر ہوتی ہے، وہ بندے بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے دنیا والوں کے لیے مددگار بن جاتے ہیں، اپنی ذاتی حیثیت میں وہ کسی کو تنکا بھی عطا نہیں کر سکتے، اور پتے کو بھی حرکت نہیں دے سکتے، لیکن جس حیثیت سے وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظہر ہوتے ہیں ان کے زورِ بازو کا ہم اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔

وہ اللہ عزوجل کی ذات ہے، جو پکارنے والوں کی پکار کو سنتا ہے، قرآن مجید سورۂ یوسف کی آیت نمبر ۹۳ کو سامنے رکھیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے، کہ اللہ تعالیٰ کے انبیا و اولیا کے تبرکات یا اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں جو اللہ تعالیٰ کے اذن سے مدد ملتی ہے، اس کی طرف متوجہ ہونا حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی کو مشکل کشا ماننا ہے، یہ ایسا عقیدہ ہے، جس سے عقیدۂ توحید میں کچھ فرق نہیں پڑتا۔

حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص کا معجزہ

حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والد گرامی حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی کی بحالی کے لیے اپنی قمیص بھیجی اور انہوں نے اپنی آنکھوں پر رکھی تو بینائی لوٹ آئی، ان کا قول قرآن حکیم نے ان الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے:

اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًاۚ (سورہ یوسف ۹۳/۱۲)

ترجمہ: میری یہ قمیص لے جاؤ اسے میرے والد کے چہرے پر ڈال دینا وہ بینا ہو جائیں گے۔

یہ اللہ عزوجل کے پیغمبر ہیں اسرارِ توحید اور رموزِ وحدانیت ان کے لیے کوئی اجنبی سبق نہیں، لیکن ایک مشکل وقت میں اپنے والد ماجد حضرت یعقوب علیہ السلام کی طرف حضرت یوسف علیہ السلام اپنی قمیص بھیج کر اس بات کو واضح کر رہے ہیں کہ جب اللہ عزوجل کی دی ہوئی برکت مخلوق میں شامل ہوتی ہے، تو اس وقت اللہ تعالیٰ کو متصرف بالذات مانتے ہوئے ایسی چیز کو درمیان میں رکھنے سے عقیدۂ توحید میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اپنی 'تفسیر عزیزی' میں ”ایاک نعبد وایاک نستعین“ کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: اللہ تعالیٰ حقیقی مددگار ہے، اگر اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کسی کو ایسا مددگار مان لیا جائے جس کو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت کا محتاج سمجھا جائے، اور اللہ تعالیٰ کے اذن کا محتاج سمجھا جائے تو اس سے مدد مانگنا اور اس کا مدد کرنا یہ دونوں باتیں ہی ایاک نستعین کے منافی نہیں ہے۔ [تفسیر عزیزی ج:۳ ص:۲۴۵]

احادیثِ مبارکہ اور صحابہ کرام کا استغاثہ

اس سلسلے میں جب ہم صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نظریات کی تحقیق کرتے ہیں تو بڑے ہوش ربا حقائق سامنے آتے ہیں، ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ سے بہت سی احادیث سنتا ہوں اور پھر بھول جاتا ہوں، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی چادر پھیلاؤ، بس میں نے چادر پھیلائی، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے کوئی چیز اٹھا کر اس (چادر) میں ڈالی، پھر فرمایا اسے اپنے ساتھ ملا لو، بس میں نے ملا لیا، تو اس کے بعد میں کبھی کوئی چیز نہیں بھولا۔ (صحیح البخاری کتاب العلم ج:۱ ص:۵۶)

صحیح بخاری کی مذکورہ روایت سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے، کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم ہر مشکل کے حل کے لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے استغاثہ کرتے تھے، صحابۂ کرام سے بڑا موحد کون ہو سکتا ہے؟ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر داعی الی التوحید کون ہو سکتا ہے؟ اس کے باوجود حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے استغاثہ و استمداد کی، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کے بجائے ان کا مسئلہ زندگی بھر کے لیے حل فرما دیا۔

نابینا صحابی کا واقعہ اور تعلیمِ مصطفیٰ ﷺ

مادر زاد نابیناؤں کو نعمتِ بصارت سے فیضیاب کرنا بھی تاجدارِ انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے، جامع ترمذی کی روایت ہے کہ ایک نابینا صحابی نے سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں بینائی کے حصول کے لیے استغاثہ فرمایا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع کرنے اور استغاثہ کی حرمت یا خدشۂ شرک کا اظہار کرنے کی بجائے خود انہیں دعا کی تلقین کی، یہ دعا وسیلہ اور استغاثہ دونوں کی جامع ہے، مذکورہ دعا کے الفاظ یہ ہیں:

اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُكَ وَاَتَوَجَّهُ اِلَیْكَ بِنَبِیِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِیِّ الرَّحْمَةِ، یَا مُحَمَّدُ! اِنِّیْ قَدْ تَوَجَّهْتُ بِكَ اِلٰی رَبِّیْ فِیْ حَاجَتِیْ فَهٰذِهٖ فَتُقْضٰی لِیْ، اَللّٰهُمَّ فَشَفِّعْهُ فِیَّ. (جامع ترمذی کتاب الدعوات عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)

ترجمہ: اے اللہ! میں نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے سوال کرتا ہوں، اور تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں، اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! میں اپنی اس حاجت میں آپ کے واسطے سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں، تاکہ یہ حاجت بر آئے، یا اللہ میرے معاملے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش اور شفاعت کو قبول کر لے۔

حدیث مبارکہ میں مذکورہ دعا کا ابتدائی جملہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ عزوجل کی بارگاہ میں بطورِ وسیلہ پیش کر رہا ہے، جب کہ اسی دعا کا دوسرا جملہ جس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کیا جا رہا ہے، مقبولانِ بارگاہِ الٰہی سے استغاثہ صرف جائز نہیں بلکہ حکم و ارشاد کا ثبوت پیش کر رہا ہے، اللہ عزوجل کے سوا کسی سے اپنی مشکلات کا حل طلب کرنا اور مدد چاہنا جائز اور درست نہ ہوتا، تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس عمل کا حکم ارشاد نہ فرماتے، حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی ذاتِ گرامی سے استغاثہ کا حکم ارشاد فرما کر ان باطل عقائد و نظریات کی جڑ کاٹ دی، جن کے ذریعہ بعض لوگ اسلام کے حقیقی عقائد و نظریات اور تعلیمات کا چہرہ مسخ کرتے ہوئے جمیع مسلمانانِ عالم کو کافر و مشرک قرار دیتے ہیں۔

صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عقیدۂ توحید میں کامل تھے، اور ان کے استغاثے منافیِ توحید ہرگز نہیں ہیں، یہ اسلام کے اولین مخاطب ہیں، جن کو توحید کے اسرار و رموز کا اچھی طرح پتہ ہے، اور وہ یہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نبی کی طرف متوجہ ہونا اور ان سے حاجت روائی کی گزارش کرنا، انہیں وسیلہ بنانا، اور ان سے اللہ تعالیٰ کے دربار میں سفارش کروانا جائز اور درست ہے، یہ مشکل کشائی کے مسئلے میں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا عقیدہ ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو درست ایمان و ایقان پر قائم اور باقی رکھے، آمین۔

حوالہ: سہ ماہی القلم :جمادی الاخریٰ تا شعبان المعظم ۱۴۴۶ھ

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!