Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

اولیائے کرام علیہم السلام|فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی

اولیائے کرام علیہم السلام
عنوان: اولیائے کرام علیہم السلام
تحریر: فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی
پیش کش: محمد عارف رضا قادری امجدی
منجانب: جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی

اولیائے اللہ بھی زندہ ہیں! وہابیوں اور دیوبندیوں کو تو انبیائے کرام علیہم السلام کی زندگی کے بارے میں بھی کلام ہے، یہاں تک کہ سید الانبیاء اور نبی الانبیاء جنابِ احمدِ مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ مر کر مٹی میں مل گئے؛ حالانکہ اولیائے کرام و بزرگانِ دین کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں یہ مرتبہ ملا ہے کہ وہ بھی بعدِ وفات زندہ رہتے ہیں۔ ثبوت کے لیے بروقت صرف دو واقعات سماعت فرمائیں۔

حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ جو مشہور بزرگوں میں سے ہیں، ان کا واقعہ عارف باللہ حضرت مولانا روم رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی مثنوی شریف کے دفترِ چہارم میں تحریر فرماتے ہیں کہ ایک روز بایزید بسطامی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے مریدوں کے ساتھ ایک راستہ سے گزر رہے تھے کہ اچانک شہرِ خرقان کی طرف سے انہیں خوشبو محسوس ہوئی۔ حضرت اس خوشبو سے اس قدر مست ہوئے کہ چہرے کا رنگ کبھی سرخ ہوتا تھا اور کبھی سفید۔ ایک مرید نے عرض کیا کہ حضور! کیا معاملہ ہے کہ میں حضرت کے چہرہ کا رنگ بدلتا ہوا پاتا ہوں؟ فرمایا کہ اس طرف سے ایک دوست کی خوشبو آ رہی ہے کہ جہاں درجہ ولایت و قطبیت کا ایک بہت بڑا بادشاہ اتنے سال کے بعد فلاں تاریخ کو تشریف لانے والا ہے۔ کسی نے پوچھا کہ ان کا نام کیا ہے؟ فرمایا کہ ان کا نام ابوالحسن ہے۔ پھر سر سے لے کر پاؤں تک ان کا پورا حلیہ بیان فرمایا۔

حضرت کے بیان کے مطابق ابوالحسن خرقانی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کی تاریخِ پیدائش کو لوگوں نے نوٹ کر لیا۔ اور جب حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کی وفات کے بعد وہی تاریخ آئی تو خرقان میں حضرت ابوالحسن خرقانی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ پیدا ہوئے۔ اور جب سنِ بلوغ کو پہنچے تو لوگوں نے ان سے بیان کیا کہ حضرت بایزید فرمایا کرتے تھے کہ ابوالحسن میرا عقیدت مند ہو گا اور میری قبر پر آ کر مجھ سے فیض حاصل کرے گا۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے بھی اسی مضمون کا خواب دیکھا ہے۔ پھر آپ روزانہ صبح کے وقت حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کی قبرِ مبارک کے پاس حاضر ہوتے اور چاشت کے وقت تک ان کے مزار کے سامنے با ادب کھڑے رہتے اور فیض حاصل کرتے۔ ایک روز صبح کے وقت جبکہ آپ اس قبرستان میں تشریف لے گئے کہ جہاں حضرت کا مزار تھا تو دیکھا کہ ساری قبریں برف سے چھپی ہوئی ہیں۔ آپ حضرت کی قبرِ مبارک کو پہچان نہیں سکے جس کے سبب بہت پریشان ہوئے۔ تو پھر اس کے بعد کیا ہوا؟ اسے مولانا روم علیہ الرحمہ کی زبان سے سنیں: [گلدستئہ مثنوی، الامجدی]

بَانگَشْ آمَد اَز خَطِیرَہ شَیخ حَی
ہَا اَنَا اَدْعُوکَ لِی تَسْعٰی اِلٰی

یعنی اچانک حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ جو زندہ ہیں، ان کی قبرِ مبارک سے آواز آئی کہ میں تمہیں پکارتا ہوں، تم میری طرف آؤ۔ بیشک بایزید بسطامی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ وفات کے بعد بھی زندہ ہیں۔ اگر وہ مر کر مٹی میں مل گئے ہوتے اور زندہ نہ ہوتے تو ان کی قبرِ مبارک سے اس طرح کی آواز ہرگز نہ آتی۔

حیاتِ جاوداں پاتا ہے اس کو قتیلِ تیغِ ابروئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم

ایک بار ہم سب مل کر بلند آواز سے پھر درودِ شریف پڑھیں۔

اولیائے کرام بھی بعدِ وصال زندہ رہتے ہیں۔ اس سلسلے میں دوسرا واقعہ یہ سماعت فرمائیں کہ حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کچھوچھوی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ جب وہ اپنے پیر و مرشد حضرت علاء الحق والدین علیہ الرحمۃ والرضوان کے آستانہ مبارکہ پنڈوہ شریف کی حاضری کے لیے گلبرگہ شریف (دکن) سے روانہ ہوئے تو جس روز صوبہ بہار میں منیر شریف کے قریب پہنچے اسی روز حضرت شرف الدین یحییٰ منیری علیہ الرحمۃ والرضوان کا وصال ہوا۔ وفات سے کچھ پہلے انہوں نے وصیت فرمائی تھی کہ ایک سیدِ صحیح النسب جو تارکِ سلطنت ہیں اور ساتوں قراءت کے حافظ ہیں، وہ عنقریب آنے والے ہیں، وہی میرے جنازہ کی نماز پڑھائیں گے۔ حضرت کا وصال ہو گیا اور جنازہ بھی تیار ہو گیا مگر جن کے بارے میں حضرت نے وصیت فرمائی تھی وہ نہیں پہنچے۔ تو شیخ جلائی نام کے ایک شخص آپ کی تلاش میں نکلے۔ جب آبادی کے باہر پہنچے تو انہیں دور سے ایک قافلہ آتا ہوا نظر آیا۔ قافلہ قریب پہنچا تو شیخ جلائی آپ کو تلاش کرنے لگے۔ لوگوں کی بھیڑ میں ان کو ایسا چہرہ نظر آیا کہ جن کی پیشانی میں نورِ ولایت جگمگا رہا تھا۔ پوچھا کہ حضور سید ہیں؟ فرمایا کہ ہاں۔ پھر ساتوں قراءت کے حافظ ہونے اور ترکِ سلطنت کے بارے میں دریافت کیا۔ جب اطمینان ہو گیا کہ آپ ہی کے بارے میں حضرت نے وصیت فرمائی ہے تو بڑے اعزاز و اکرام کے ساتھ آپ کو لائے اور حسبِ وصیت حضرت کی نمازِ جنازہ آپ نے پڑھائی اور وہ دفن کر دیے گئے۔

وقفہ کے بعد مخدوم صاحب کو اطلاع ملی کہ حضرت شرف الدین یحییٰ منیری رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کا مبارک ہاتھ قبرِ شریف سے باہر نکل آیا ہے اور بہت سے لوگ وہاں جمع ہو گئے ہیں مگر کسی کی سمجھ میں نہیں آتا کہ معاملہ کیا ہے۔ حضرت مخدوم صاحب مزارِ شریف کے پاس پہنچے۔ جب قبر کے باہر نکلے ہوئے ہاتھ کو دیکھا تو آپ نے وہیں بیٹھ کر مراقبہ فرمایا اور جب سر اٹھایا تو لوگوں کو بتایا کہ حضرت شیخ منیری رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کو مردانِ غیب سے ایک ٹوپی ملی تھی جس کے بارے میں حضرت نے وصیت فرمائی تھی کہ وہ میرے ساتھ قبر میں رکھ دی جائے، مگر آپ لوگ بھول گئے۔ حضرت شیخ اسی ٹوپی کو طلب فرما رہے ہیں۔ لوگوں نے تصدیق کی کہ واقعی حضرت نے ٹوپی کے متعلق وصیت فرمائی تھی کہ وہ میرے ساتھ قبر میں رکھ دی جائے، جسے ہم لوگ بھول گئے۔ اب وہ ٹوپی لائی گئی اور جب حضرت شیخ کے مبارک ہاتھ پر رکھی گئی تو آپ نے فوراً اپنا ہاتھ اندر کر لیا۔ یہ واقعہ بھی ببانگِ دہل اعلان کر رہا ہے کہ اولیائے کرام بھی بعدِ وصال زندہ رہتے ہیں۔ اگر زندہ نہ رہتے تو حضرت شرف الدین یحییٰ منیری رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ دفن کے بعد قبر سے باہر ہاتھ نہ نکالتے۔ اور اولیائے کرام کیوں نہ زندہ رہیں کہ وہ تو وہ اللہ تعالیٰ ہی کے نام پر مرتے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کے نام پر مرتے ہیں وہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ ایک شاعر کہتا ہے:

زندہ ہو جاتے ہیں جو مرتے ہیں اس کے نام پر اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کر دیا

بس دعا ہے کہ خدائے عزوجل ہم سب کو مذہبِ اہلسنت و الجماعت پر قائم رکھے اور گمراہی سے بچنے کی توفیقِ رفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔

مُحَرَّمَةُ النَّبِیِّ الْکَرِیمِ الْاَمِینِ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ اَفْضَلُ الصَّلَوَاتِ وَاَکْمَلُ التَّسْلِیمِ۔

[حوالہ: خطباتِ محرم، ص: 66 تا 69]
جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!