| عنوان: | حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی |
| پیش کش: | محمد سلمان العطاری |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابیت اور قرابت کے علاوہ اور بھی بہت سی فضیلتیں ثابت ہیں جن میں سے چند ذکر کی جاتی ہیں۔
آپ کے فضائل میں بہت سی احادیثِ کریمہ وارد ہیں۔ حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اللَّهُمَّ عَلِّمْ مُعَاوِيَةَ الْكِتَابَ وَالْحِسَابَ وَقِهِ الْعَذَابَ[رواه أحمد في مسنده]
یعنی اے اللہ! تو معاویہ کو کتاب (قرآنِ کریم) اور حساب کا علم عطا فرما اور انہیں عذاب سے بچا۔ [الناہیہ، ص: 17، تصنیف عارف باللہ حضرت علامہ عبدالعزیز فرہاروی مؤلف نبراس شرح شرح العقائد النسفی]
اور حضرت عبدالرحمن بن ابو عمیرہ صحابی مدنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے فرمایا:
اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِياً مَهْدِياً، وَاهْدِ بِهِ النَّاسَ[رواه الترمذي]
اے اللہ! معاویہ کو ہادی اور مہدی بنا دے یعنی ہدایت یافتہ اور ہدایت دینے والا بنا دے اور ان کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت دے۔ [مشکوٰۃ، ص: 549]
اور خدائے عزوجل اپنے پیارے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے تو ثابت ہوا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہادی بھی ہوئے اور مہدی بھی اور ان کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت بھی ہوئی۔ تو ایسی ذات کو برا بھلا کہنا یقیناً اللہ و رسول کی ناراضگی کا سبب ہو گا۔
اور ابن ابی شیبہ مصنف میں و طبرانی معجم کبیر میں عبدالملک بن عمیر سے روایت کرتے ہیں، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھ سے سرکارِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يَا مُعَاوِيَةُ! إِذَا مَلَكْتَ فَأَحْسِنْ
اے معاویہ! جب تم بادشاہ ہو جاؤ تو لوگوں کے ساتھ اچھی طرح پیش آنا۔ [تاریخ الخلفاء، ص: 132]
انتباہ
عوام میں جو مشہور ہے کہ “حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ یزید کو کندھے پر لیے جا رہے ہیں تو حضور نے فرمایا جنتی جہنمی کو لیے جا رہا ہے۔” یہ صحیح نہیں اس لیے کہ یزید حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال فرمانے کے تقریباً 15 سال بعد سن 25ھ میں پیدا ہوا۔ [سوانح کربلا]
2۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتبِ وحی بھی رہے اور کاتبِ خطوط بھی۔ امام مفتی حرمین احمد بن عبداللہ بن محمد طبری خلاصۃ السیر میں تحریر فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تیرہ (13) کاتب تھے: خلفائے اربعہ، عامر بن فہیرہ، عبداللہ بن ارقم، ابی بن کعب، ثابت بن قیس بن شماس، خالد بن سعید بن العاص، حنظلہ بن ربیع اسلمی، زید بن ثابت، شرجیل بن حسنہ اور معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم۔ لیکن ان لوگوں میں حضرت امیر معاویہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہما اس خدمت کو زیادہ انجام دیتے تھے۔ علامہ قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ نے بخاری شریف کی شرح میں فرمایا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتبِ وحی رہے۔ [الناہیہ، ص: 16]
3۔ حضرت ملا علی قاری شرح مشکوٰۃ میں تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مبارک رضی اللہ عنہ جو حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے مخصوص شاگردوں میں سے ہیں، ان سے پوچھا گیا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز افضل ہیں یا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما؟ تو حضرت عبداللہ بن مبارک رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
غُبَارٌ دَخَلَ فِي أَنْفِ فَرَسِ مُعَاوِيَةَ حِينَ غَزَا فِي رِكَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْ كَذَا عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کے موقع پر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کی ناک میں جو غبار داخل ہوا وہ ایسے حضرت عمر بن عبدالعزیز سے افضل ہے۔ [الناہیہ، ص: 16]
محترم قارئین کرام! حضرت عمر بن عبدالعزیز وہ ہیں کہ جن کو امام الہدیٰ کہا جاتا ہے، خلفائے راشدین میں پانچویں خلیفہ کی حیثیت سے ان کو شمار کیا جاتا ہے اور جن کی زیارت کے لیے حضرت خضر علیہ السلام آیا کرتے تھے مگر حضرت عبداللہ بن مبارک جیسے امامِ وقت جب حضرت امیر معاویہ کے گھوڑے کی ناک کے غبار کو بھی ان سے افضل بتاتے ہیں تو پھر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی عظمت و رفعت کا کیا کہنا۔ مگر افسوس کہ آج کل وہ لوگ جن کی حقیقت کچھ بھی نہیں وہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے افضل بنتے ہیں بلکہ ان کی ذات پر سب و شتم اور لعن و طعن بھی کرتے ہیں۔ العیاذ باللہ تعالیٰ۔
حضرت علامہ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ علامہ معافی بن عمران علیہ الرحمہ سے ایک شخص نے کہا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز حضرت معاویہ سے افضل ہیں، یہ سنتے ہی علامہ ابن عمران غضبناک ہو گئے اور فرمایا:
لَا يُقَاسُ أَحَدٌ بِأَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر کسی کو قیاس نہیں کیا جائے گا۔
مُعَاوِيَةُ صَاحِبُهُ وَصِهْرُهُ وَكَاتِبُهُ وَأَمِينُهُ عَلَى وَحْيِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت معاویہ نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کے صحابی، ان کے سالے، ان کے کاتب اور خدائے عزوجل کی وحی پر نبی کریم کے امین ہیں۔ [الناہیہ، ص: 17]
4۔ حضرت علامہ شہاب الدین خفاجی نسیم الریاض شرح شفائے امام قاضی عیاض میں تحریر فرماتے ہیں کہ جو شخص حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرے وہ جہنمی کتوں سے ایک کتا ہے۔ [احکامِ شریعت، ج: 1، ص: 103]
نوٹ: پیارے قارئین کرام! اس سے آگے مطالعہ کرنے کے لیے قسط دوم اوپن (سرچ) کریں۔ [حوالہ: خطبات محرم، ص: 303 تا 306]
