Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

امام احمد رضا اور علمِ اصولِ حدیث (قسط: چھٹی)فیضان المصطفی قادری

امام احمد رضا اور علم اصول حدیث
عنوان: امام احمد رضا اور علم اصول حدیث
تحریر: فیضان المصطفی قادری
پیش کش: رافعہ ریاض
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

النوع الثانی عشر: تدلیس

تدلیس کی دو قسمیں ہیں بلکہ تین سے زائد ہیں، یہاں پر صرف تدلیس کی دو قسمیں ذکر کی جاتی ہیں، ملاحظہ فرمائیں:

اول، تدلیس الاسناد: اعلیٰ حضرت محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نووی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے تدلیسِ اسناد کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

"تدلیس اسناد یہ ہے کہ روایت کرنے والا اپنے ہم عصر سے اس چیز کو روایت کرے جو اس سے نہ سنی ہو، اس سے سننے کے متعلق وہم میں ڈالنے والے، مثلاً کہے 'قال فلان' یا 'عن فلان' یا اس کے مثل دوسرے الفاظ استعمال کرے"۔ [التقريب والتيسير، ص: 39]

ثانی، تدلیس الشیوخ: تدلیس شیوخ یہ ہے کہ روایت کرنے والا اپنے شیخ کا ایسا نام ذکر کرے یا ایسی کنیت بتائے یا ایسی نسبت بیان کرے یا ایسا وصف لائے، جس سے وہ مشہور نہ ہو۔ [التقريب والتيسير، ص: 39]

تدلیس کا حکم: تدلیس کے صیغے کا حکم بیان کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"رہا مدلس! جی ہاں! آپ تو بہت محدثی میں دم بھرتے ہیں، صحیح حدیثیں بے وجہ من گھڑت کہہ کر دے آئے، بخاری و مسلم کے رجال ناحق مردود الروایۃ بنائے، اب اپنے لیے یہ روایت حجت بنائی جو آپ کے مقبول اصولِ محدثین پر ہرگز کسی طرح حجت نہیں ہو سکتی، اس کا مدار ابن ابی شعیب پر ہے، وہ مدلس تھا اور یہاں روایت میں 'عنعنہ' کی وجہ سے، مدلس جمہور محدثین کے مذہبِ مختار میں مردود و نامستند"۔ [فتاویٰ رضویہ مترجم، ج: 5، ص: 325]

پھر امام نووی رحمۃ اللہ علیہ کی تدلیس کے متعلق وضاحتی بیان سے اپنے قول کی توثیق و تائید فرمائی، ملاحظہ فرمائیں:

"صحیح یہ ہے کہ اس میں تفصیل ہے یعنی مدلس کی روایت ایسے لفظ سے ہو جو سماع کا احتمال تو رکھتا ہو مگر سماع کی تصریح نہ ہو؛ تو وہ مرسل اور غیر مقبول ہے اور جس میں سماع کی صراحت ہو جیسے سمعت، حدثنا، اخبرنا اور ان جیسے الفاظ؛ تو وہ مقبول اور قابلِ استدلال ہے"۔ [التقريب والتيسير، ص: 39]

نیز مدلس کا سماعت کی صراحت یا ایسے شیخ سے روایت کی صورت میں جس سے مدلس کثرت سے روایت کرتا ہے، اس کی حدیث مقبول ہوتی ہے، اس کی وضاحت کرتے ہوئے امام محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:

"اصلِ حدیث جسے ہم نے روایت کیا 'مسند احمد' میں اس سند کے ساتھ ہے: *يعقوب حدثنا أبى عن ابن إسحاق قال: حدثنی محمد بن مسلم بن عبيد الله الزهري، عن السائب بن يزيد،* یہاں یہ حدیث لفظِ 'حدثنی' سے مروی ہے؛ تو اب اس روایت پر تدلیس کا اعتراض نہیں ہو سکتا ہے، یہ ایک جواب۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ امام محمد بن اسحاق امام زہری سے کثرت سے روایت کرنے والے ہیں اور ایسے راوی کا عنعنہ بھی سماع پر محمول ہوتا ہے۔ امام ذہبی فرماتے ہیں: 'راوی جب روایت میں لفظِ 'عن' کا استعمال کرے؛ تو تدلیس کا احتمال ہوتا ہے مگر جب راوی ایسے شیخ سے روایت کرے جس سے وہ کثرت سے روایت کرنے والا ہو؛ تو یہ روایت متصل ہوگی'"۔ [فتاویٰ رضویہ مترجم، ج: 28، ص: 9]

النوع الرابع عشر: منکر

تعریف: منکر اس روایت کو کہتے ہیں جس کا راوی ضعیف ہو اور روایت کرنے میں منفرد اور ثقہ راویوں کے خلاف ہو۔ [شرح الزرقاني على المواهب، ج: 1، ص: 192]

اعلیٰ حضرت محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ امام زرقانی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے حدیثِ منکر کی یہ تعریف پیش کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

"اور صرف ضعیف کا مرتبہ منکر سے احسن و اعلیٰ ہے جسے ضعیف راوی نے ثقہ راویوں کے خلاف روایت کیا ہو"۔ [فتاویٰ رضویہ مترجم، ج: 5، ص: 428]

حدیثِ منکر کا حکم: اعلیٰ حضرت محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ حدیثِ منکر کا حکم بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:

"حدیث کا مضطرب ہونا، منکر ہونا بھی موضوعیت سے کچھ علاقہ نہیں رکھتا، یہاں تک کہ بارہا یہ فضائل میں مقبول رہے گی"۔ [فتاویٰ رضویہ مترجم، ج: 5، ص: 450]

اس کے بعد ہمارے ممدوح اعلیٰ حضرت محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ اپنے اس دعویٰ کو خاتم الحفاظ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ کے مختلف اقوال سے ثابت کرتے ہیں۔ خاتم الحفاظ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:

"منکر موضوع کے علاوہ ایک دوسری نوع ہے جو کہ ضعیف کی ایک قسم ہے"۔ [التعقيبات على الموضوعات، بحوالہ فتاویٰ رضویہ مترجم، ج: 5، ص: 450]

دوسری جگہ فرماتے ہیں:

"منکر ضعیف کی قسم ہے اور یہ فضائل کے ابواب میں قابلِ قبول ہے"۔ [التعقيبات على الموضوعات، ص: 331]

النوع الخامس عشر: معرفة الاعتبار والمتابعة

اعلیٰ حضرت محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ نے مختلف روایات پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ روایت متابعت بننے کے قابل ہے اور فلاں روایت متابعت بننے کے قابل نہیں۔ محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ کے اس مستند علمِ اصطلاح کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اعتبار اور متابع کی حقیقت کو ان کی تعریف کی روشنی میں جان لیا جائے۔

اعتبار کی تعریف: اعتبار یہ ہے کہ راویوں کی بعض حدیث کو لے، پھر حدیث کے طرق کی چھان بین کرے کہ دوسرے راویوں کی روایات کے ذریعہ اس حدیث کا اعتبار کرے؛ تاکہ معلوم ہو کہ اس حدیث میں دوسرے راوی نے پہلے راوی کی مشارکت کی ہے، اس طور سے کہ اس دوسرے راوی نے پہلے راوی کے شیخ سے روایت کی ہے یا نہیں، اگر روایت نہیں کی ہے تو دیکھے کہ کیا کسی راوی نے اس پہلے راوی کے شیخ کے شیخ سے متابعت کی ہے، اس طور سے کہ اس کے شیخ کے شیخ سے روایت کی، اسی طرح آخری اسناد تک کرے اور یہی متابعت ہے۔ [تدريب الراوى، ج: 1، ص: 281]

متابعتِ تامہ و ناقصہ کی مثال: متابعتِ تامہ یہ کہ مثلاً حماد بن سلمہ نے ایوب سے کوئی حدیث روایت کی اور حماد کے علاوہ کسی راوی نے بھی ایوب سے وہ حدیث روایت کی، اور متابعتِ ناقصہ یہ ہے کہ ایوب سے حماد کے علاوہ کسی راوی نے روایت نہیں کی مگر ابن سیرین سے ایوب کے علاوہ راوی نے روایت کی یا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ابن سیرین کے علاوہ راوی نے روایت کی یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ دوسرے صحابی نے روایت کی، یہ ساری صورتیں متابعت کی ہیں مگر پہلی والی متابعت سے یہ متابعت ناقص ہے۔ [تدريب الراوى، ج: 1، ص: 283]

اعلیٰ حضرت بریلوی رحمۃ اللہ علیہ 'لحیۃ المستملی' کے حوالے سے متابعت کے متعلق فرماتے ہیں:

"اس لیے کہ یہ طے شدہ ہے کہ راوی کا ضعف جب فسق کی وجہ سے نہ ہو بلکہ غفلت کی وجہ سے ہو؛ تو وہ متابعت کی وجہ سے دور ہو جاتا ہے اور اس سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ راوی نے اس میں عمدگی برتی ہے اور وہم کا شکار نہ ہوا؛ تو وہ حدیث حسن ہو جاتی ہے"۔ [لحيّة المستملى، ص: 138، بحوالہ فتاویٰ رضویہ مترجم، ج: 1، ص: 370]

نیز فرماتے ہیں:

"میں کہتا ہوں: امیں جلال؛ تو متابعت کے قابل نہیں، یحییٰ بن سعید نے اسے کاذب کہا ہے"۔ [فتاویٰ رضویہ مترجم، ج: 1، ص: 370]

مزید ارشاد فرماتے ہیں:

"اور امام بخاری و امام طحاوی کی روایت میں امام زہری سے ابن ابی ذئب نے بلفظِ وضو روایت کی: ((كنت اغتسل انا و النبي... إلخ)) ابن ابی ذئب کی متابعت امام نسائی کی روایت میں معمر اور ابن جریج نے اور امام طحاوی کی ایک روایت میں جعفر بن برقان نے کی"۔ [فتاویٰ رضویہ مترجم، ج: 1، ص: 58]

مندرجہ بالا ان اقسامِ حدیث کے علاوہ دیگر مندرجہ ذیل حدیث کے اقسام پر بھی اعلیٰ حضرت محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ نے علمی و فنی کلام کیا ہے:
النوع الثامن عشر: معلل، النوع التاسع عشر: مضطرب، النوع العشرون: مدرج، النوع الحادی والعشرون: موضوع، النوع الثالث والعشرون: صفۃ من تقبل روایتہ، النوع الخامس والثلاثون: مصحف، النوع الثامن والثلاثون: مرسلِ خفی، النوع الخامس والخمسون: الضعفاء، النوع التاسع والخمسون: مبہم، النوع الستون: وفیات، النوع الحادی والستون: معرفة الثقات والضعفاء، النوع الثالث والستون: طبقات، النوع السادس والستون: معضل، النوع السابع والستون: مفہمن، النوع الثامن والستون: متواتر، النوع السبعون: مستفیض وغیرہ۔

علمِ حدیث پر محدثِ بریلوی کی مستقل کتب اور حواشی

اعلیٰ حضرت محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ نے علمِ حدیث پر گفتگو تقریباً اپنی مایہ ناز کتاب 'العطایا النبویة فی الفتاوی الرضویة' کی بیسیوں جلدوں میں مختلف مقامات پر فرمائی ہے۔ آپ کی اس محبوب فن پر مستقل کتب و رسائل بنام: 'الهادی الکاف فی احکام الضعاف، منیر العین فی تقبیل الابهامين، حاجز البحرين الواقی عن جمع الصلاتين، مدارج طبقات الحدیث اور الروض البھیج فی آداب التخریج' وغیرہ بھی موجود ہیں۔

نیز ہمارے ممدوح اعلیٰ حضرت محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ نے حواشی کی صورت میں بھی بہت ساری کتابوں پر علمِ حدیث کی روشنی میں گفتگو کی ہے، ان میں سے بعض یہ ہیں: سنن ابن ماجہ، التعقيبات على الموضوعات، اللآلئ المصنوعة، ذیل اللآلئ المصنوعة، الموضوعات الکبیر، فتح المغیث، نصب الرایه، التقريب، تہذیب التہذیب، الاصابة فی تمییز الصحابة، میزان الاعتدال، تذکرۃ الحفاظ، خلاصہ تہذیب الکمال، الاسماء والصفات، کشف الاحوال فی نقد الرجال اور العلل المتناہیہ وغیرہ۔

راقم الحروف کی اتنی گفتگو سے روشن کی طرح واضح ہو گیا کہ اصولِ حدیث میں بھی اعلیٰ حضرت محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ یگانۂ روزگار تھے۔ علمِ حدیث میں آپ کو مہارتِ تامہ حاصل تھی۔ اعلیٰ حضرت محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ کے متعلق مذکورہ بالا اقوالِ علماے فن، آپ کی تحقیق، افکار و نظریات اور کتبِ فنِ علمِ حدیث کے باوجود بھی اگر کوئی شخص اعلیٰ حضرت محدثِ بریلوی علیہ الرحمہ کی حدیث دانی اور آپ کی علمِ حدیث میں مہارت کا انکار کرے یا شک و شبہ کی گنجائش رکھے؛ تو اس میں ہمارے ممدوح مکرم کا کوئی قصور نہیں بلکہ اس شخص کے دل و دماغ اور آنکھ کا قصور ہے جو اپنے تعصب، حسد یا جہالت کی وجہ سے حق بجانب چڑھتے ہوئے سورج کو سلامی پیش کرنے اور اس کی بلندی کا اعتراف کرنے سے قاصر یا گریز کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

دیدہ کور کو نظر کیا آئے کیا دیکھے

اللہ تعالیٰ میری اس ادنیٰ خراجِ عقیدت کو اعلیٰ حضرت محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ کی بارگاہ میں قبول فرمائے اور مجھ حقیر کو اپنے علوم و فنون خاص کر علمِ فقہ و حدیث کا کچھ حصہ عطا کرے۔ راقم الحروف، علمائے کرام اور تمام اہل سنت و جماعت کو صحیح طور پر اعلیٰ حضرت مجددِ دین و ملت علیہ الرحمہ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیقِ رفیق عطا فرمائے، آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔

از بارگاہِ امجدی، ازہری
فاضل جامعہ اشرفیہ، مبارکپور، شعبہ حدیث، ایم اے
خادم: مرکز تربیتِ افتاء، اوجھا گنج، بستی، یو پی، انڈیا۔
29 محرم الحرام 1440ھ مطابق 10 اکتوبر 2018ء

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!