| عنوان: | عورت اور پردہ |
|---|---|
| تحریر: | علامہ قمرالزماں مصباحی اعظمی |
| پیش کش: | سلطانی رضویہ |
اسلام ایک نظامِ عدل ہے وہ انسانیت کا احترام سکھاتا ہے اور زندگی کے کسی شعبے میں بھی انسانیت کی تحقیر و توہین پسند نہیں فرماتا، بلکہ ان تمام رجحانات کا شدت کے ساتھ قلع قمع کرتا ہے جن سے انسانیت کی توہین ہوتی ہے۔ اسلام نے عورت کو پردے کا حکم بھی اسی لیے دیا ہے کہ اس کی انسانی قدروں کا احترام ممکن ہو سکے۔ آپ اگر ازمنۂ قدیمہ میں عورت کی حیثیت کا مطالعہ کریں تو معلوم ہو گا کہ آج صرف انداز بدل گیا ہے، ورنہ اسلام سے قبل عرب، ہند، روم و یونان میں عورتوں کو جو حیثیت حاصل تھی اور جس ذلت کی زندگی پر اسے مجبور کیا گیا تھا، تخاطب کا لب و لہجہ بدل گیا ہے، شرابِ کہن کو نئے جام میں انڈیل دیا گیا۔ جس زمانے میں پوری دنیا میں عورت کو کوئی عزت کا مقام حاصل نہیں تھا، یونان میں یہ بحث چل رہی تھی کہ عورت کے اندر احساس ہے یا نہیں۔ یورپ نے اسے خبیثہ، مکارہ اور شجرِ ممنوعہ کی طرف لے جانے والی برائی قرار دیا تھا۔ عرب و ہند میں عورت کو بازار کی جنسِ ارزاں سے زیادہ حیثیت حاصل نہیں تھی، کہیں بچیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا اور کہیں مرد کی چتا پر عورتوں کو زبردستی جلنا پڑتا تھا۔ اسی دور میں پیغمبرِ آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی بار دنیا کو عورتوں کی عزت و احترام کا احساس دلایا اور اپنی تعلیمات میں یہ بات واضح کر دی کہ عورت نصف انسانیت ہے اور مرد ہی کی طرح لائق احترام ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: عورتیں نازک شیشے ہیں، ان کا خیال رکھو۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا کہ عورتوں کو ان کے حقوق دو اور ان پر ظلم نہ کرو۔ اپنے آخری خطبے میں حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا کہ عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرتے رہو۔ اپنی مقدس تعلیمات کے ذریعے رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسا صالح معاشرہ تشکیل فرمایا کہ جس میں دنیا کے اس مظلوم ترین طبقہ نے عزت و وقار کی آنکھ کھولی اور زندگی کے تمام میدانوں میں خواہ وہ معاشرتی ہوں یا تعلیمی؛ سرگرم حصہ لے کر دین و دنیا کی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔
اس کے برعکس یورپ میں عورت سترہویں صدی عیسوی تک مظلوم تر رہی اور جب یہاں کے لوگوں نے کلیسائی جبر و تشدد کا قلادہ اپنی گردن سے اتار پھینکا تو عورت بھی ایک دم آزاد ہو گئی۔ مگر اس کی آزادی بالکل ایسی ہی تھی جیسے کہ کسی قیدی کو ایک صحرا میں لے جا کر آزاد کر دیا جائے، جہاں اس کو اپنی منزل کا قطعی پتہ نہ ہو۔ حتیٰ کہ اسے سمتوں کا تعین کرنا بھی مشکل ہو۔ ظاہر ہے ایسی صورت میں جو بھی کارواں اس طرف سے گزرے گا وہ اس کے ساتھ ہو جائے گا، خواہ وہ کاروانِ حیات ہو یا قافلۂ موت، رہزنوں کا گروہ ہو یا رہبروں کی جماعت۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ تین صدیوں سے یورپ میں عورت اپنے حقوق کے تعین، اپنی انفرادی حیثیت کی بقا اور تحفظ کے سلسلے میں جن مراحل سے گزری ہے اور جس قدر متضاد طرزِ زندگی پر مجبور کی گئی ہے، دنیا کی تاریخ میں اس کی مثال کم ہی ملے گی۔ اگر عدالتوں میں اس کے حقوق کا جائزہ لیا جائے تو اوسطاً ہر پچیس سال کے بعد قوانین کو تبدیل کر کے بھی آج اس کے ساتھ انصاف نہیں کیا جا رہا ہے، اور اگر معاشرے میں اس کے مقام اور کردار کے متعلق غور کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ آج سے زیادہ رسوائی اور بےعزتی کا دور عورت کے اوپر کبھی نہ آیا تھا۔ اس قدر عجیب بات ہے کہ مرد اپنے ذوقِ جمال کو تسکین دینے کے لیے اور اپنی شہوانی آگ کو مزید شعلۂ جوالہ بنانے کے لیے آج ہر مقام پر عورت کو عریاں اور آزاد کر چکا ہے۔ بازاروں میں، مکانوں میں، ہوٹلوں میں، ناچ گھروں میں، کلبوں میں، دکانوں پر جہاں کہیں آپ جائیں، عورت مرد کی آسودگیِ نظر کا سامان نظر آئے گی۔ گویا خود عورت کا اپنا وجود نہیں ہے، مرد عورت کو جس انداز میں دیکھنا چاہتا ہے وہ عریاں ہوتی جا رہی ہے۔ سب سے پہلے جب مرد نے اپنی پیاسی نگاہوں کی تسکین کے لیے عورت سے لباس کی قید سے قدرے آزاد ہونے کا مطالبہ کیا تو بنتِ حوا نے قبائے مریم اتار پھینکی، لیکن انسان کی نظر “ہل من مزید” کی قائل ہے۔ چنانچہ جب اس نے مزید تسکینِ نظر چاہی تو دست و بازو کھول دیے، پھر سینہ و ساق عریاں ہو گئے اور بالآخر جسم پر جو برائے نام لباس رہ گیا تھا آج اس کو بھی اتار پھینکنے کا مطالبہ شدید سے شدید تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔
کیا یہ صورتِ حال عورت کو یہ احساس نہیں دلاتی کی وہ محض مرد کی نگاہوں اور جنسی تقاضوں کی تسکین کا سامان ہے اور بس، اس کی اپنی کوئی مستقل حیثیت نہیں ہے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ایک دکاندار اپنی دکان میں، ایک ہوٹل کا منتظم اپنے ہوٹل میں، کلبوں اور رقص گاہوں کے مالکان اپنے کلبوں اور ڈانس گھروں میں، فضائی پروازوں کی کمپنیاں اپنی پروازوں میں محض اس لیے خوبصورت عورتوں کو ملازم رکھتے ہیں کہ ان کا کاروبار چمکے اور گاہک زیادہ سے زیادہ آئیں۔ تو عورت کی “انا” اور اس کا ضمیر کیوں نہیں محسوس کرتا کہ وہ پہلے سامانِ تجارت تھی اور اب سامانِ تجارت کے ساتھ بک رہی ہے۔ مگر صدیوں کی اس تذلیل نے عورتوں کا احساسِ خودی چھین لیا ہے اور اب وہ اپنی ان ذلتوں پر مطمئن ہو گئی ہے۔ اسلام نے عورتوں کے حدودِ عمل کی تعیین اور پردے کا حکم اس لیے نہیں دیا تھا کہ عورت کو مجبورِ محض بنا کر گھر کی چار دیواریوں میں محصور کر دیا جائے بلکہ اسلام ان پابندیوں سے عورت کی عظمت اور معاشرے میں اس کے لیے مناسب کردار کا تحفظ چاہتا ہے۔
اگر آپ اسلام کے ماضی کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ انسانیت کی فلاح و بہبود اور ترقی و کمال میں عورت نے مرد ہی کی طرح اپنے حصے کا کارنامہ انجام دیا ہے اور کسی بھی مقام پر اپنے کو ان قیودِ عزت سے آزاد کرنے کی کوشش نہیں کی جن میں اس کا اپنا وقارِ نسوانی محفوظ تھا۔ اسلام نے عورت اور مرد کی فطری صلاحیتوں کے مطابق تقسیمِ کار کے بہترین اصول وضع فرمائے۔ مرد اگر باہر کی دنیا کا مہتمم ہے تو عورت گھر کے مسائل کی نگرانِ اعلیٰ۔ مرد اگر شمعِ انجمن ہے تو عورت چراغِ خانہ، مرد اگر خالد و طارق و محمود اور صلاح الدین بننے کے لیے پیدا ہوا ہے تو عورت اس لیے ہے کہ وہ گھر کو ایک ایسی تربیت گاہ بنا دے اور اس میں ایسے اسباب مہیا کرے جو مرد کو خالد و طارق اور محمود و صلاح الدین امثال بننے میں مدد دے۔
مکالماتِ فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطوں
نکہتِ گل جب تک دامنِ گل میں پوشیدہ رہتی ہے باعزت و باوقار رہتی ہے، لیکن جب دامنِ گل سے نکل کر آوارہ ہو جاتی ہے تو مٹ جاتی ہے۔ گل جب تک شاخِ گل سے وابستہ رہتا ہے تر و تازہ رہتا ہے اور جب شاخِ گل سے توڑ لیا جائے تو ممکن ہے کسی کے گلے کا ہار بن جائے، یا کسی کے دستار کی زینت بنے، یا کسی کے دامنِ حیات کو چند لمحوں کے لیے مہکا دے لیکن پھر وہ قدموں تلے روند دیا جاتا ہے۔
نہیں ہے یہ شانِ خودداری چمن سے توڑ کر تجھ کو
کوئی دستار میں رکھ لے کوئی زیبِ گلو کر لے
کیا یہ آج کے بے پردہ ماحول کا خوفناک انجام نہیں ہے کہ ایک انسان کا دل جب اپنی شریکِ زندگی سے بھر جاتا ہے، یا ایک عورت کا دل جو اپنے شریکِ حیات سے آسودہ ہو جاتا ہے تو اس کی نگاہِ انتخاب دوسری طرف اٹھتی ہے، اور دونوں کی نگاہ میں ماضی کی رفاقت کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہ جاتی؟ صنفِ نازک کی عریانیت معاشرے میں عفت و پاک دامنی کو ناممکن بنا دیتی ہے۔ کیا یہ ایک ثابت شدہ حقیقت نہیں ہے کہ یورپ جیسے علاقے میں عصمت ایک جنسِ نایاب ہے جو کہیں نہیں پائی جاتی؟ یورپ میں ایک طرف تو مرد و عورت کو زنا کے بعد مطالبۂ طلاق کا حق دیا گیا ہے اور دوسری طرف زنا کے اسباب و محرکات اس قدر عام کر دیے گئے ہیں کہ وہ قدم قدم پر دعوتِ گناہ دیتے ہیں۔
اسلام کی ایک بہت بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ وہ قانون عطا فرمانے سے پہلے ایک ایسا ماحول تیار کرتا ہے جس میں اس قانون کا نفاذ بخوبی کیا جا سکے۔ وہ راستے کے موانعات کو ختم فرماتا ہے پھر راستہ چلنے کا حکم دیتا ہے۔ وہ عفت اور پاک دامنی کا مطالبہ کرتا ہے تو پہلے زنا کو حرام قرار دیتا ہے اور معاشرے میں ایسی فضا پیدا کرتا ہے جہاں باعفت اور پاک دامن رہنا آسان اور ارتکابِ گناہ دشوار تر ہو جائے۔ پردے کا حکم بھی اسی لیے دیا گیا ہے کہ معاشرے کو جنسی جنون کی دست برد سے بچایا جا سکے اور معاشرے میں ایسے افراد پیدا کیے جا سکیں جن کا دامن جنسی آلودگیوں سے پاک ہو۔ اسلام ہر گھر کو عبادت گاہ تو نہیں بنانا چاہتا مگر عبادت گاہوں کا تقدس ضرور بخشتا ہے۔ آج اسلام کی کسی بیٹی کو مریم و عذرا ہونے کا دعویٰ تو نہیں ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج بھی صرف مسلم معاشرے ہی میں ایسی بے شمار خواتین موجود ہیں جن کو مریمِ پاک کے مقدس آنچل کے صدقے میں عفت و عصمت کا لباسِ تقدس میسر ہے۔ [مقالاتِ خطیبِ اعظم، ص: 255 تا 259]
