Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

قصیدہ بردہ شریف اور صاحبِ قصیدہ|عمران ظہور غازی

قصیدہ بردہ شریف اور صاحبِ قصیدہ
عنوان: قصیدہ بردہ شریف اور صاحبِ قصیدہ
تحریر: عمران ظہور غازی
پیش کش: زہرہ یاسمین
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

مصر کے ایک مشہور بزرگ شرف الدین بوصیری گزرے ہیں، انہوں نے ایک غریب گھرانے میں آنکھ کھولی، جیسا کہ والدین بچوں کو اسکولوں یا مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجتے ہیں، اسی طرح بوصیری کو بھی والدین نے مدرسے بھیجنا شروع کیا اور جلد ہی انہوں نے قرآن پاک حفظ کر لیا، اس کے بعد آپ کے والد کی خواہش تھی کہ اب آپ کچھ کام کاج کریں تاکہ گھر سے غربت کا خاتمہ ہو، جبکہ بوصیری ابھی مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے، وہ ایک زیادہ روشن مستقبل چاہتے تھے۔

گھر میں باپ بیٹے کے درمیان کھینچا تانی شروع ہو گئی، آخر کار بوصیری نے اپنی والدہ کو اپنے ساتھ ملا کے والد سے مزید پڑھنے کی اجازت لے لی، اس کے بعد آپ نے تجوید، فقہ اور باقی ضروری مضامین پڑھے اور بچوں کو پڑھانا شروع کر دیا، اس وقت تک آپ ایک دنیا دار شخص تھے اور مادی کامیابیوں کو ہی ترجیح دیتے تھے، آپ غربت سے نجات حاصل کرنا چاہتے تھے۔ شاعری کا وصف آپ کو اللہ کی طرف سے ودیعت کیا گیا تھا، اب آپ بادشاہوں کی شان میں قصیدے بھی لکھتے تھے اور نئے شعراء کی اصلاح بھی کیا کرتے تھے، درس و تدریس سے بھی منسلک تھے، ایک دن آپ گھر سے باہر کہیں جا رہے تھے، ایک شخص نے آپ کو روک کر پوچھا، کبھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی زیارت ہوئی؟ اس شخص کا یہ سوال کرنا امام بوصیری کی زندگی کو بدلنے کا سبب بن گیا۔

اب امام بوصیری نے اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کا بغور مطالعہ شروع کر دیا، آپ جوں جوں مطالعہ کرتے جا رہے تھے، آپ کے دل میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بڑھتی جا رہی تھی، جوں جوں وقت گزر رہا تھا، آپ کے دل میں نبی آخر الزماں محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کی تڑپ بڑھتی جا رہی تھی، اسی دوران میں انہیں فالج کا حملہ ہو گیا اور آپ صاحبِ فراش ہو گئے، اسی حالت میں پندرہ سال گزر گئے۔

وہ بادشاہ جن کے قصیدے امام بوصیری لکھتے تھے، انہوں نے پلٹ کے بھی نہ پوچھا، آپ بہت دل گرفتگی کے عالم میں ایک رات لیٹے ہوئے تھے، جب آپ نے سوچا کہ زندگی بھر دنیا کے بادشاہوں کے قصیدے لکھے، آج کیوں نہ ان کا قصیدہ لکھوں جن کے سامنے ان بادشاہوں کی کوئی اوقات نہیں، جب ٹوٹے ہوئے دل سے سچی محبت کے ساتھ الفاظ نکلے تو وہ بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں مقبول ہو گئے جس کے بعد وہ الفاظ امر ہو گئے۔

اس سے پہلے بھی امام بوصیری نے عرب کے صحراؤں پہ، صحراؤں کے خیموں پہ اور خوش جمال چہروں پہ اشعار لکھے تھے لیکن اس رات وہ اس بدرالدجیٰ، شمس الضحیٰ کی شان بیان کر رہے تھے جن کی خاطر ربِ کائنات نے اس دنیا اور اس کی ہر چیز کی تخلیق فرمائی، میرا یہ ایمان ہے کہ یہ کلام بھی رب کی ہی دین ہے اور اسی رب نے اسے انسان کے دل پہ القا فرمایا۔

جب آپ قصیدہ لکھ چکے تو آپ نے قلم دوات رکھی اور سو گئے، اسی رات آپ نے خواب دیکھا کہ وہ وجہ وجودِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں اور فرمایا کہ: اٹھ بوصیری! امام بوصیری نے کہا: میں ہزار جانوں سے قربان لیکن کیسے اٹھوں؟ میں تو فالج زدہ ہوں اور اٹھنے سے قاصر ہوں، طبیبِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ شفقت ان کے جسم پہ پھیرا اور فرمایا: بوصیری! اٹھ اور مجھے وہ سنا جو تو نے لکھا ہے، امام بوصیری اٹھ بیٹھے اور جھوم جھوم کے سنایا۔

مولا يا صلي وسلم دائماً ابداً

اے اللہ! دائمی اور ابدی سلامتی بھیج اپنے محبوب پر۔

میری آنکھیں آپ کی یاد میں آنسو بہا رہی ہیں اور رواں دواں ہیں۔

مدینہ پاک سے ٹھنڈی ہوا آ رہی ہے، اندھیری رات میں بجلی چمک رہی ہے۔

میرے عشق کا تذکرہ لوگوں تک پہنچ چکا ہے۔ اب میرا راز محبت بھی نہیں چھپ سکتا اور نہ ہی میرا مرض ختم ہوگا۔

تیری محبت کی، میرے آنسو اور میری بیماری گواہی دے رہے ہیں۔ میں اپنے عشق کو کیسے چھپا سکتا ہوں۔

اے دل! اگر تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشق نہیں تو مکہ کو دیکھ کے آنسو کیوں بہاتا ہے۔

کیا محبت میں رونے والا عاشق خیال کرتا ہے کہ بہتے آنسوؤں اور سوختہ دل کی آڑ میں محبت کا راز چھپا پائے گا۔

تیری آنکھوں کو کیا ہوا ہے کہ تو انہیں آنسو روکنے کے لیے کہتا ہے اور یہ بہائے جا رہی ہیں۔

تیرے دل کو کیا ہوا ہے کہ سنبھلنے کی بجائے مزید غمناک ہو رہا ہے۔

جب رات مجھے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال آیا تو میں رات بھر جاگتا رہا۔

دردِ محبت نے میرے چہرے پہ آنسو اور رخساروں پہ زردی پیدا کر دی ہے۔

اے غریبوں کا خیال رکھنے والے

اے دل گیروں کی دلجوئی کرنے والے

اے مظلوموں کا ہاتھ پکڑنے والے

اے سچ کہنے والے

اے گناہگاروں کا پردہ رکھنے والے

اے ازل کا نور

اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کے منہ میں آپ کے دانت ایسے ہیں جیسے سیپ کے اندر قیمتی موتی۔

اے اللہ! تو اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم پہ ابدی اور دائمی سلامتی نازل فرما۔

اب امام بوصیری جھوم جھوم کے پڑھ رہے ہیں اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی محبت کو قبول فرماتے ہوئے ان کے ساتھ سن رہے ہیں، جب قصیدہ ختم ہوا تو اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم اتنے خوش ہوئے کہ اپنی چادر (بردہ) مبارک اتار کے انہیں مرحمت فرمائی، اس کے ساتھ ہی ان کی آنکھ کھل گئی، دیکھا تو چادر ان کے پاس ہی رکھی ہوئی تھی، وقت دیکھا تو تہجد کا وقت تھا۔

امام بوصیری پندرہ سال کے بعد ہشاش بشاش صحت مند اٹھے، فالج کا کہیں دور دور تک نام ونشان بھی نہیں تھا، وضو کیا اور مسجد کا رخ کیا کہ تہجد ادا کریں، گھر سے نکلے تو ایک فقیر نے آواز لگائی: ہمیں بھی تو سناؤ وہ قصیدہ! امام بوصیری نے تحیرِ عارفانہ سے کہا: کون سا؟ فقیر نے کہا: وہی جس کے بدلے یہ بردہ بھی ملا، مجذوب نے چادر کی طرف اشارہ کیا اور آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔

اس قصیدے میں 100 سے اوپر اشعار ہیں اور کسی شعر میں لفظ "بردہ" استعمال نہیں ہوا لیکن جو چادر آپ کو دی گئی اس کی مناسبت سے اس کا نام "قصیدہ بردہ" شریف زبان زد خاص و عام ہو گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں شرفِ قبولیت کے سبب آج تک اس کا ورد جاری وساری ہے۔

مولا يا صلي وسلم دائماً ابداً

(ماہنامہ سنی دنیا بریلی شریف، اپریل 2026)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!