| عنوان: | میدانِ جنگ اور اخلاقِ حسنہ (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | علامہ قمرالزماں مصباحی اعظمی |
| پیش کش: | رافعہ ریاض |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
میدانِ جنگ غیظ و غضب، فساد و تخریب، قتل و غارت گری کے جذبات کی سب سے بڑی آماجگاہ ہوتا ہے، چنانچہ تاریخ کی ابتدا سے لے کر آج تک اگر دنیا کی غیر اسلامی جنگوں کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ میدانِ جنگ میں دو متحارب گروہ کسی بھی اخلاقی ضابطے کے پابند نہیں ہوتے اور ہر ایک فریق کا مدعا ہوتا ہے کہ دوسرے فریق کو صفحہۂ ہستی سے نیست و نابود کر دیا جائے، خواہ اس کے لیے کیسی ہی سفاکی کا مظاہرہ کیوں نہ کرنا پڑے۔
چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے چار سو سال بعد قسطنطینِ اعظم نے جب بنامِ مذہب یہودیوں پر لشکر کشی کی تو ان کا اس طرح قتلِ عام کیا کہ تاریخ آج بھی اس کے تصور سے لرزہ براندام ہے۔ بابل کا بادشاہ بختِ نصر جب بیت المقدس میں فاتحانہ داخل ہوا تو اس نے ایک بھی انسان اور جانور کو زندہ نہیں چھوڑا اور جب اس کے غیظ و غضب کی آگ انسانوں اور حیوانوں کے خون سے بھی نہ بجھ سکی تو اس نے دیارِ قدس کے تمام آثار کو مٹانا شروع کر دیا اور ایک مدت تک اپنے جنگی جنون کی تسکین کے لیے وہاں کے کھیتوں اور درختوں کو جلاتا رہا۔
روم اور ایران کی جنگیں جو صدیوں کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ہیں، قیصر و کسریٰ کے جنگی جنون کی بھیانک ترین مثالیں ہیں۔ بارہا کسریٰ نے غلبہ حاصل کیا تو ایران کی تباہی و بربادی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی اور یوں ہی جب کسریٰ نے قیصر پر فتح پائی تو عورتوں، بوڑھوں اور بچوں کا قتلِ عام کیا۔
چنگیز اور ہلاکو کی فوجوں نے جب بعض اسلامی شہروں کو تاخت و تاراج کیا تو گھروں میں محصور مسلمانوں نے اپنے ننھے بچوں کو اس امید پر التجائے رحم کرنے کے لیے بھیجا کہ بے قصور اور بے گناہ بچوں پر دستِ ظلم نہ اٹھ سکے گا۔ آخر چنگیزیوں کے گھروں میں بھی تو بچے ہوں گے، مگر ظالم فوجی افسروں نے اپنے مسلح فوجیوں کو حکم دیا کہ ان بچوں کو گھوڑوں کے سموں سے روند دیا جائے۔
یہ تو بختِ نصر، قسطنطین، قیصر و کسریٰ اور چنگیز و ہلاکو کے دور کی مثالیں تھیں، لیکن آج کا دور تو ان ادوارِ گزشتہ سے بھی زیادہ بھیانک نقشہۂ جنگ پیش کر رہا ہے۔ پہلے تو جنگ میدانِ جنگ میں ہوتی تھی اور دو متحارب فوجیں آمنے سامنے ہو کر نبرد آزما ہوا کرتی تھیں، مگر آج کے نقشہۂ جنگ کو ترتیب دینے والے لوگ سب سے پہلے آبادیوں، فیکٹریوں، صنعتی اور تعلیمی اداروں، دیگر اقتصادی اور فلاحی مراکز کو اپنی نگاہ میں رکھتے ہیں، تاکہ مقابل قوم کی اقتصادی اعتبار سے کمر ٹوٹ جائے اور وہ بہت دنوں تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہے۔ آج کے انسان نے اپنی تخریبی توانائیوں کو بے جان ہتھیاروں کے حوالے کر کے پوری دنیا کو موت کے دروازے پر پہنچا دیا ہے، اور کسی بھی وقت انسان کی جنگی وحشت کی نمود دنیا کے اوپر ہزاروں ہیروشیما اور ناگاساکی کو جنم دے سکتی ہے۔
چنانچہ آج کے دور کی ایک اہم ضرورت یہ بھی ہے کہ دنیا کے سامنے اسلامی جہاد کی ان اعلیٰ ترین اخلاقی قدروں کو پیش کیا جائے جن کو پیشِ نظر رکھنے کے بعد حالتِ جنگ میں بھی انسان جذبات سے مغلوب نہ ہو، بلکہ ان کے سامنے اس کا وہ عظیم نصب العین ہو جس کے لیے انہوں نے جنگ کی ناگزیر راہ اختیار کی ہے۔ آج ضرورت ہے کہ دنیا کی جنگ جو طاقتوں سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ جنگوں سے "فساد فی الارض" کی بجائے "اصلاح فی الارض" اور ظلم کے بجائے استیصالِ ظلم، غصبِ حقوق کے بجائے ظالم سے مظلوم کے حقوق دلانے کا کام لیں۔ اسلام میدانِ جنگ میں جانے سے پہلے مجاہدین کا یہ مزاج بنا دیتا ہے کہ ان سے ظلم سرزد ہی نہ ہو سکے خواہ وہ کتنے ہی غصے کی حالت میں کیوں نہ ہوں، وہ انہیں اس بات کی ہدایت کرتا ہے کہ حالتِ غیظ و غضب میں بھی انسانی حقوق کو ملحوظ رکھیں۔ اسلام ان کے ذہن میں یہ بٹھا دیتا ہے کہ رحم و کرم اور عفو و درگزر ہی انسان کو خدا کے قریب کر سکتے ہیں، اور ظلم خدا کی رحمت سے دور کر دیتا ہے اور چوں کہ ایک مومن میدانِ جنگ میں بھی رضائے الٰہی تلاش کرنے کے لیے نکلتا ہے، اس لیے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھا سکتا جس میں اللہ کی ناراضی کا خطرہ ہو۔
احادیثِ مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار رحم اور محبت کی تاکید فرمائی ہے:
وَمَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَلَمْ يُوَقِّرْ كَبِيرَنَا فَلَيْسَ مِنَّا [رقم الحديث: 1920]
“جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور جو ہمارے بڑوں کا ادب نہ کرے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔”
ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ [رقم الحديث: 1924]
“زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔”
إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ [رقم الحديث: 2593]
“اللہ نرمی فرمانے والا ہے اور نرمی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔”
چوں کہ اسلام کی اساس ہی رحم و محبت پر رکھی گئی ہے اس لیے اسلام جنگ کی اس وقت اجازت دیتا ہے جب کہ دنیا کی اصلاح اور مظلوم کی دادرسی کے لیے اس کے علاوہ اور کوئی صورت نہ رہ جائے۔ چنانچہ قرآنِ عظیم مقصدِ جہاد کی وضاحت ان الفاظ میں فرماتا ہے:
وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَفَسَدَتِ الْأَرْضُ وَلَكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ [سورۃ البقرۃ: 251]
“اگر اللہ بعض کے ظلم کو بعض سے دفع نہ فرماتا تو زمین پر فساد برپا ہو جاتا لیکن اللہ تمام عالَم پر بہت زیادہ فضل فرمانے والا ہے۔”
میدانِ جنگ میں باطل قوتوں کی سرکوبی اور ظلم کا استیصال مظلوم دنیا کے لیے فضلِ الٰہی ہے اور یہ فضل اس وقت تک فضل رہے گا جب تک کہ مظلوم ظالم سے اپنے حقوقِ زندگی حاصل کرنے کے بعد انہیں راہوں پر نہ چلنے لگے جن پر چل کر ظالم قوت اپنی پاداش کو پہنچی ہے۔
اسلام کی اعلیٰ ترین ہدایات سے ہٹ کر جب بھی جنگ ہوگی ہو سکتا ہے کہ ابتداً اس کا نصب العین مظلوم کی دادرسی ہی رہی ہو، لیکن جب فتح حاصل ہو جاتی ہے تو وہ بھی وہی کردار پیش کرتی ہے جو اس کے سامنے ظالم قوم پیش کرتی رہی ہے۔ اس طرح سے ظلم و جبر کا ایک لامتناہی سلسلہ قائم ہو جاتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس اسلام نے سختی سے حکم دیا ہے کہ حالتِ جنگ میں عدل و انصاف کو برقرار رکھا جائے۔
