| عنوان: | غصے میں خود پر قابو رکھیں |
|---|---|
| تحریر: | غلام مصطفے نعیمی |
| پیش کش: | عائشہ فاطمہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
فہد، بیگ صاحب کا انتہائی منہ لگا خادم تھا اس نے فوراً ہی نمک مرچ لگا کر ساری باتیں کہہ سنائیں... فہد کی بات سنتے ہی بیگ صاحب کی آنکھوں میں شرارے اتر آئے... چہرہ بھٹی میں تپنے والے کوئلے کی طرح سرخ اور بدن شدتِ غضب سے کانپنے لگا... دانت پیستے ہوئے کہا:
"سعید کی اتنی ہمت کہ وہ ہمارے کاموں میں عیب نکالے، ہماری سوچ اور سمجھ پر سوال اٹھائے۔ وہ ہمارا خادم ہے خادم! مخدوم بننے کی کوشش نہ کرے ورنہ دانہ پانی تک کو ترس جائے گا۔"
بیگ صاحب علاقے کے رسوخ دار شخص اور پشتنی زمین دار تھے... قرب و جوار کے زیادہ تر افراد ان کے خاندانی ملازم تھے۔ علاقہ بھر میں بیگ صاحب کو پیر جیسا درجہ حاصل تھا... جدھر نکل جاتے، ہجوم آس پاس جمع ہو جاتا... لبوں سے کوئی بات نکلتی تو تائید و تحسین کی آوازیں بلند ہو جاتیں۔ سطحی باتوں پر بھی پڑھے لکھے لوگ علمی نکتے اور فلسفیانہ گہرائی سمجھاتے ہوئے نظر آتے تھے۔
آج بیگ صاحب کے پوتے کی سالگرہ تھی... دور دراز کے امراء و رؤساء کی آمد کا تانتا بندھا ہوا تھا... قسم قسم کے مرغن کھانوں اور پھلوں سے دستر خوان بھرا ہوا تھا۔ کئی بستیوں کے عقیدت مند بھی حاضر تھے... دیگوں پر دیگ چڑھ رہی تھیں... برقی قمقموں سے پوری بستی جگمگا رہی تھی... بڑے بڑے شامیانے، خوبصورت جھالروں سے حویلی جنت نشاں بنی ہوئی تھی... بس اسی تام جھام کو دیکھ کر سعید نامی نوجوان نے اتنا کہہ دیا:
"جتنا خرچ سالگرہ جیسی رسم پر کیا جا رہا ہے کاش اس کا نصف بھی تعلیم پر کیا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔ لمبے وقت سے اس گاؤں کے بچے دس کلومیٹر دور گاؤں میں پڑھنے جاتے ہیں، کاش بیگ صاحب توجہ دیں اور کوئی تعلیمی ادارہ بنادیں تو ہماری ایک بڑی ضرورت پوری ہو جائے۔"
سعید کے اس معقول تبصرے پر غیر معقول تڑکا لگا کر بیگ صاحب کے کانوں میں صور پھونکا گیا... بس پھر کیا تھا! بیگ صاحب کے اندر کا جاگیردار بیدار ہو گیا... سعید کی طلبی ہوئی اور بغیر صفائی لیے سخت ڈانٹ پھٹکار لگائی گئی۔ اتنے پر بھی آتشکدۂ غضب ٹھنڈا نہ ہوا سو اسی وقت سعید کے والد کو ملازمت سے نکال دیا گیا۔
کہنے کو بیگ صاحب تعلیم یافتہ گھرانے کے چشم و چراغ تھے لیکن احساسِ برتری کے خمار میں انہیں قرآنی ہدایت بھی یاد نہیں آئی... اپنی طاقت دکھاتے ہوئے ایک خاندان کو انا پرستی کے مذبح خانے میں بے دردانہ ذبح کر دیا گیا۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کا مثالی طرزِ عمل
حضرت سلیمان علیہ السلام بڑے جاہ و حشم والے بادشاہ تھے... جن و انس، چرند پرند، خشکی و تری ہر جگہ آپ کی حکومت تھی... لیکن اس قدر طاقت و قوت کے باوجود جب آپ کو کسی پر غصہ آتا تو ایسا اسلوبِ کلام استعمال فرماتے جس سے ملزم کو عذر خواہی کا بھرپور موقع ملتا تھا۔ ایک مرتبہ آپ سیر کرنے کے لیے نکلے تو پرندوں کا جائزہ لینے پر ہدہد نامی پرندے کو غائب پایا:
وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ فَقَالَ مَا لِيَ لَا أَرَى الْهُدْهُدَ أَمْ كَانَ مِنَ الْغَائِبِينَ ﴿٢٠﴾ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا شَدِيدًا أَوْ لَأَذْبَحَنَّهُ أَوْ لَيَأْتِيَنِّي بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ ﴿٢١﴾
ترجمہ: اور حضرت سلیمان نے پرندوں کا جائزہ لیا تو کہنے لگے، مجھے کیا ہوا کہ میں ہدہد کو نہیں دیکھتا، یا وہ واقعی حاضر نہیں؟ ضرور میں اسے سخت سزا دوں گا یا ذبح کردوں گا، یا پھر بچاؤ میں کوئی روشن سند میرے پاس لائے۔ [سورۃ النمل: 20-21]
ہدہد نے عذر میں ملکہ بلقیس کی خبر دی تو سخت غصے کے باوجود حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہدہد کا عذر قبول فرمایا۔ قرآنی اسلوب دیکھیں کہ کس طرح حضرت سلیمان علیہ السلام نے "عذابِ شدید" اور "ذبح" جیسے سخت الفاظ استعمال فرمائے لیکن اہم خبر لانے پر ہدہد کے لیے بچاؤ کا راستہ بھی رکھا۔
غصے میں خود پر قابو اور تحقیق کا حکم
کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان غصے میں سخت الفاظ کہہ جاتا ہے لیکن حقیقتِ واقعہ کھلنے پر شرمندہ ہونا پڑتا ہے یا ملزم / متہم کو ناکردہ گناہ کی سزا بھگتنا پڑتی ہے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ سخت غصے میں بھی خود پر قابو رکھیں اور قرآنی اسلوب اختیار کرتے ہوئے سخت الفاظ کے ساتھ عذر کا راستہ بھی رکھیں تاکہ کسی کو ناکردہ گناہ کی سزا نہ ملے۔ فرمانِ خداوندی ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ ﴿٦﴾
ترجمہ: اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو کہ کہیں کسی قوم کو بے جانے ایذا نہ دے بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہ جاؤ۔ [سورۃ الحجرات: 6]
احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں
حضور سیدِ عالم ﷺ فرماتے ہیں:
كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ.
ترجمہ: آدمی کے جھوٹے ہونے کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو آگے بیان کردے۔ [صحیح مسلم، كتاب المقدمة، حديث: 7]
حالتِ غضب میں کسی بے گناہ پر ظلم کرنا بہادری نہیں بزدلی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:
لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ.
ترجمہ: پہلوان وہ نہیں جو کشتی لڑنے میں غالب ہو جائے، بلکہ اصلی پہلوان تو وہ ہے جو غصے کی حالت میں اپنے آپ پر قابو پائے (بے قابو نہ ہو جائے)۔ [صحیح البخاری، رقم الحديث: 6114]
اس لیے کسی کے کہہ دینے بھر سے غصہ میں آنا اور بغیر تحقیقِ حال کسی کو مجرم ٹھہرانا نادانی ہے۔ کسی کی شکایت ملے تو پہلے صاحبِ معاملہ سے تحقیق کریں، بعد میں کوئی فیصلہ کریں۔ ضرب المثل ہے: "کمان سے نکلا تیر اور زبان سے نکلا لفظ واپس نہیں آتا"۔ اس لیے سخت غصے میں بھی اعصاب پر قابو رکھیں ایسا نہ ہو کہ غصے میں کہے گئے الفاظ آپ کے لیے باعثِ ندامت بن جائیں اور آپ متاثرہ شخص سے آنکھیں نہ ملا سکیں۔
[حوالہ:- ماہنامہ افکار حصہ 3 صفحہ نمبر 61/66]
