| عنوان: | عوام کی دین سے دوری اور تبلیغِ دین کا فقدان: ذمہ دار کون؟ (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | محمد بسم اللہ جمالی مصباحی |
| پیش کش: | بنت اسلم برکاتی |
اسلام وہ آفاقی مذہب ہے جس میں حیاتِ انسانی کی ساری کامیابی کے راز پنہاں ہیں۔ یہی وہ دین ہے جو اللہ رب العزت کے نزدیک سب سے پسندیدہ اور محبوب ہے: إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ یعنی بیشک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔ [سورۂ آل عمران: 19]
طریقِ حق اور صراطِ مستقیم جس کا نام ہے وہی دینِ اسلام اور دینِ محمدی سے مشہور و معروف ہے۔ اس کے ماننے والے کو مسلمان اور مومن کہا جاتا ہے۔ انسان کے اندر کامل انسانیت تب تک نہیں آ سکتی جب تک کہ اسلامی قوانین و احکام کو حرزِ جاں نہ بنا لیا جائے؛ کیونکہ اسلام ہی وہ مذہبِ مہذب ہے جو اپنے اندر مکمل ضابطۂ حیات بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یعنی انسان کے مہد سے لحد تک سارے دینی و دنیوی معاملات کی واضح رہنمائی اس پاکیزہ مذہب میں ملتی ہے۔ یہی وہ مذہب ہے جس میں مکمل طور پر داخل ہونے کی ترغیب خود خلاقِ کائنات نے ہی دی ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ
یعنی اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ [سورۂ بقرہ: 208]
از آدم تا ایں دم دیکھا گیا ہے کہ وہی شخص صحیح معنوں میں کامیابی کی دہلیز تک پہنچ سکا ہے، جس نے دینِ اسلام کے احکام و فرامین کی پیروی کی اور مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کو آئیڈیل بنا کر ان کے اسوۂ حسنہ کو اپنایا ہے، جس شخص نے بھی اسلامی تعلیمات و احکام سے اعراض کیا اس کے خائب و خاسر ہونے پر تاریخی شہادتیں جا بجا ملتی ہیں۔ مگر افسوس کی انتہا نہیں رہ جاتی ہے کہ آج کے اس پرفتن دور میں جبکہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کفار کی طرف سے ناپاک عزائم اور مکر و فریب کے جال بچھائے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں خود اہلیانِ اسلام کا تعلق دینِ اسلام اور بانیِ اسلام سے دن بدن کمزور ہوتا جا رہا ہے، پورے مسلم معاشروں میں عجب بے حسی کی کالی گھٹا چھائی ہوئی ہے۔ چشمِ عبرت سے مشاہدہ کرنے کے لائق ہے کہ اغیار مسلمانوں اور ان کے تشخصات و امارات کو مٹانے کے بالکل درپے ہیں۔ مختلف حربے اور ہتھکنڈے اپنا کر انہیں ان کے دین سے دور کر دینا چاہتے ہیں۔ جس کی انجام دہی کے لیے وہ کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہیں لیکن ہائے رے میری قوم کی بے حسی، معلوم نہیں کس غفلت بھری نیند میں مست ہے۔ ع:
سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو! جاگتے رہو چوروں کی رکھوالی ہے
آنکھ سے کاجل صاف چرا لیں یاں وہ چور بلا کے ہیں
تیری گٹھری تاکی ہے اور تو نے نیند نکالی ہے
عصرِ حاضر میں قومِ مسلم کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت بالکل آشکار ہو جاتی ہے ہماری اکثریت اپنے ہی دین سے دوری کا شکار ہے۔ عالم یہ ہے کہ ہماری عوام اپنے دین کی بالکل بنیادی باتوں سے بھی کوری اور نابلد ہے۔ دین کی نہایت بنیادی باتیں اور احکام انہیں معلوم نہیں جس کے صلے میں خالص وہ نام کے مسلمان بن کر رہ جاتے ہیں، اسلامی تعلیمات کی کوئی رمق ان کی زندگی میں نہیں پائی جاتی۔ وجہ یہی ہے کہ یا تو انہیں مذہب سے واقعی دلچسپی نہیں بایں سبب مذہب کی تعلیمات کی اہمیت ان کی نظر میں نہیں ہے یا ان کے سامنے صحیح طور پر اسلامی عقائد و ایمانیات کو پیش نہیں کیا گیا۔ من جملہ دیکھا جائے تو امتِ مسلمہ کی زبوں حالی کا مدار ہی چراغِ مصطفوی سے روشنی لینے کے بجائے شرارِ بولہبی سے متاثر ہونے پر ہے۔
ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ان اسباب کا کچھ اجمال اور کچھ تفصیل کے ساتھ جائزہ لیا جائے جس کے نتیجے میں مسلم امہ اپنے دین سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ اور اس کے چارہ جوئی کے لیے حرکت و عمل کا عنصر بالکل ماند پڑتا جا رہا ہے۔
-
تبلیغِ دین کا فقدان: دین سے دوری اور لا تعلقی کی سب سے اہم وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ ہمارے میں دعوت و تبلیغ کا رجحان بالکل انحطاط پذیر ہے۔ دعوت و تبلیغ ہمارا اجتماعی فریضہ ہے اور یہی ہمارا نشانِ امتیاز ہے کہ ہم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کریں: كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ یعنی (اے مسلمانو!) تم بہترین امت ہو جو لوگوں کی ہدایت کے لیے ظاہر کی گئی، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ [سورۂ آل عمران: 110]
مدینہ بصورتِ علمِ نبوی لگا لے پھر دنیاوی تعلیم کو حاصل بھی کرے گا تو وہ اس کے مفاسد سے متاثر نہ ہوگا۔ اندازہ لگائیں کہ ماحول کی ناسازگاری کی وجہ سے کس قدر الحاد و ارتداد کی تیز آندھیاں چل پڑی ہیں۔ جب گھر میں بے حیائی ہوگی، عیاشی ہوگی، ناچ گانا ہوگا بھلا ان تاریکیوں میں اولاد بہکے گی نہیں تو کیا ہوگی۔ چنانچہ اولاد کی صحیح تربیت اور گھر کے ماحول کو خالص اسلامی بنانا نہایت ضروری ہے۔ اس سے معاشرہ، گھر، افراد سب پرسکون زندگی گزار سکیں گے۔
رسولِ اکرم نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً [صحیح البخاری]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری طرف سے پہنچا دو اگرچہ ایک ہی آیت ہو۔ نیز سرکار علیہ الصلاۃ والسلام فرماتے ہیں:
مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ [صحیح مسلم، باب النہی عن المنکر]
یعنی تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے تو اس کو لازم ہے کہ ہاتھ سے روکے، اگر اس (ہاتھ سے روکنے) کی استطاعت نہ ہو تو زبان سے روکے پس اگر اس کی (بھی) استطاعت نہ ہو کم از کم دل سے اس کو برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور حصہ ہے۔
