| عنوان: | مسلم نوجوانوں کی بدحالی اور اصلاح کی تدابیر |
|---|---|
| تحریر: | سیّد حسان علی مصباحی |
| پیش کش: | فرحین فاطمہ نعمانی |
| منجانب: | الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور، اعظم گڑھ |
نوجوان کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں، ملک و ملت کی ترقی میں نوجوانوں کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ کوئی بھی قوم نوجوانوں کے مثبت کردار کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی۔
نوجوانوں کی پختہ فکر، با مقصد زندگی، درست سمت، قبولِ نصیحت کی بدولت ہی کوئی بھی قوم ترقی کی منزلیں طے کرتی ہے۔ نوجوان ہر قوم کا ایک اہم سرمایہ ہوتا ہے، اس لیے کہ قوم و ملت کو بیدار، تحریکوں کو متحرک و فعال رکھنے اور نظریات کو کامیابی سے ہم کنار کرنے کے لیے ہمیشہ نوجوانوں نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
نوجوان بلند عزائم کے مالک ہوتے ہیں، جہدِ مسلسل اور جفاکشی ان کا طرۂ امتیاز ہوتا ہے، بے پناہ صلاحیتیں ان میں ودیعت ہوتی ہیں، بلند پرواز ان کا ہدف ہوتا ہے، چیلنجز کا مقابلہ کرنا ان کا مشغلہ ہوتا ہے، شاہینی صفات سے وہ متصف ہوتے ہیں، ایک عظیم ہدف کے حصول کے لیے وہ بہ آسانی ساحل پر کشتیاں جلانے کو تیار ہو جاتے ہیں، وہ ہواؤں کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ میدانِ کارزار میں شکست کو فتح سے بدلنے کی قوت ان کے اندر موجود ہوتی ہے۔ یہی نوجوان ہیں جو باطل پرستوں کے خیموں کی بنیاد کو اکھاڑ سکتے ہیں۔ یہ نوجوان ہی ہیں جو ہر قوم و ملت اور تحریک کے لیے اُمید کی کرن ہوتے ہیں۔ اسی کرن کے سہارے قوم و ملت اور تحریکیں آگے بڑھتی ہیں اور اہداف کی مختلف منازل طے کرتی ہیں۔ پس اگر ہماری قومِ مسلم کے نوجوان اپنے مقصدِ زندگی کو پالیں، احساسِ ذمہ داری کا شعور حاصل کر لیں تو یقیناً آج بھی مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ بحال کی جا سکتی ہے، مسلمانوں کی گزری ہوئی شان و شوکت واپس لائی جا سکتی ہے۔
آپ اگر اسلامی کتبِ تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ امر آپ پر مخفی نہ رہے گا کہ قوم و ملت کو چلانے، تحریکوں کو متحرک رکھنے اور نظریات کو کامیابی سے ہم کنار کرنے کے لیے ہمیشہ نوجوانوں نے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ مگر موجودہ دور میں نوجوان مختلف مسائل کا شکار ہیں۔
جن نوجوانوں کی خدمات، فتوحات، جہاں بانی، جہاں رانی اور جہاں داری سے کتبِ تاریخ کے اوراق روشن و تابناک ہیں، آج انہیں اسلاف کے نااہل اخلاف کے حالِ زار پر ہر صاحبِ ہوش و خرد کا دل افسردہ اور زبان گریہ و نالاں رہا کرتی ہے۔ ڈاکٹر اقبال یوں گویا ہوئے:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا
تقدیرِ امم کیا ہے، کوئی کہہ نہیں سکتا
مومن کی فراست ہو تو کافی ہے اشارہ
سلطان صلاح الدین ایوبی کی جانب ایک قول منسوب ہے کہ "اگر تم چاہتے ہو کہ کسی قوم کو بغیر جنگ کے تباہ کر دو، تو اس کی نوجوان نسل میں بے حیائی اور فحاشی عام کر دو۔" آج اگر آپ اپنے گرد و نواح میں نظر دوڑائیں تو آپ دیکھیں گے کہ کس طرح دشمن نے ہمارے معاشرے میں فحاشی و بے حیائی کا زہر گھول دیا ہے۔ دورِ حاضر میں نونہالانِ اسلام کا ایک بڑا حصہ بے تعلیمی سے دور، بے روزگاری سے مجبور، منشیات و قمار بازی کی لت میں چور جیسے سنگین مسائل میں الجھا و بکھرا ہوا ہے، جو قوم کے مستقبل کے لیے ایک تشویشناک صورتِ حال ہے۔ اگر وقت رہتے ان مسائل کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہ اٹھائے گئے تو اس کے نتائج نہ صرف موجودہ دور کے لیے تباہ کن ہوں گے، بلکہ اسلامی معاشرے کے مستقبل پہ گہرے اور مہلک اثرات چھوڑیں گے۔ اب ہم مسلم نوجوانوں کی بدحالی کے اسباب اور ان کے تدارک و حل پر بات کرتے ہیں:
۱۔ تعلیمی و تربیتی زوال
جس قوم کی مذہبی کتاب ہی پڑھنے پر زور دیتے ہوئے شروع کی گئی اور نبی معلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا گیا: "اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِی خَلَقَ"۔ مزید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو ترغیبِ حصولِ علم دیتے ہوئے فرمایا:
"طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَةٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ"
(علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ یعنی بنیادی ضروری علم۔ سنن ابن ماجہ: 224)
وہی قوم اگر تعلیم سے دور ہو جائے اور اتنی دور کہ سروے رپورٹیں تعلیم میں سب سے پسماندہ ہونے کا طعنہ دینے لگیں، تو وہ قوم کے لیے لمحۂ فکر و غیرت ہے۔ جس امت کو علم کے نور سے دنیا کو روشن کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا، اگر وہ خود جہالت کے اندھیروں میں بھٹکنے لگے تو اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے؟
تعلیم سے غفلت درحقیقت اپنی عظمتِ رفتہ کو منہ چڑانے کے مترادف ہے، کیوں کہ جو قوم اپنے علمی و ثقافتی ورثے کو چھوڑ دے، وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہے۔ اگر آپ اپنے علاقے کے نوجوانوں کا جائزہ لیں تو محسوس کریں گے کہ ان کی اکثریت تعلیم کی ضرورت و اہمیت و افادیت سے ہی محروم ہے، اور اگر کسی نے تعلیم حاصل کی بھی ہے تو وہ معیاری اور بنیادی نہیں، جس کے باعث وہ اپنی صلاحیتوں کو صحیح سمت میں بروئے کار نہیں لا سکے۔ اگر عصرِ حاضر میں تعلیمی زوال کی روک تھام کے لیے بروقت اور موثر اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے تباہ کن اثرات قوم و ملت کے لیے ناقابلِ تلافی ثابت ہوں گے۔
لہذا والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر گہری توجہ دیں اور وقتاً فوقتاً یہ جائزہ لیتے رہیں کہ ان کا بچہ مدرسہ اور اسکول میں کیا پڑھ رہا ہے، اور اس کی تعلیمی کارکردگی کیسی ہے۔ محض اسکول یا مکتب میں داخلہ دلوا دینا کافی نہیں، بلکہ معیاری تعلیم اور اخلاقی تربیت کی فراہمی بھی والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ نونہالوں کو ان کے مستقبل کے حوالے سے بیدار کرنا، اور انہیں محنت و لگن سے کسی ہنر یا پیشے کی طرف مائل کرنا بھی ضروری ہے، تاکہ وہ ایک تعلیم یافتہ، باہنر، کامیاب اور باصلاحیت فرد بن سکیں، نہ کہ غیروں کے ٹکڑوں پر یا نوکری کے محتاج۔
۲۔ دینی و اخلاقی زوال
آج اگر ہم اپنی نوجوان نسل کی دینی حالت پر غور کریں، تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ دین سے بے رغبتی اور دین بیزاری کا ایسا طوفان برپا ہے کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نہ صرف بنیادی اسلامی احکام سے ناواقف ہے بلکہ ان میں دینی شعور اور اسلامی تعلیمات کو سیکھنے کی خواہش بھی مانند پڑ چکی ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر عبادات، جو اسلام کا لازمی حصہ ہیں، ان کے بارے میں بہت سے نوجوانوں کو صحیح علم نہیں۔ یہ افسوسناک صورتِ حال محض اتفاق نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی غفلت اور تربیت کی کمی کا نتیجہ ہے۔ والدین اور معاشرے کے دیگر ذمہ دار افراد نے اگر اس پہلو پر توجہ دی ہوتی تو آج نوجوانوں کی یہ حالت نہ ہوتی۔
سوشل میڈیا، مادہ پرستی، اور دین کے بارے میں بے جا مغربی پروپیگنڈے نے بھی نوجوانوں کو دین سے دور کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے دینی و اخلاقی زوال کی اصلاح اور ان میں دینی رغبت بیدار کرنے کے لیے والدین، اساتذہ، علماء اور معاشرے کے تمام ذمہ دار افراد کو بروقت عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
گھروں میں اسلامی ماحول کو فروغ دیا جائے، اور بچوں کو بچپن ہی سے تعلیماتِ اسلام اور سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روشناس کرایا جائے، تاکہ ان کے دل میں اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت راسخ ہو جائے۔ والدین پر لازم ہے کہ وہ اپنی اولاد کی پرورش اسلامی اقدار کے مطابق کریں، ان کی سنگتوں اور صحبتوں پر نظر رکھیں، اور انہیں نیک صحبت اختیار کرنے کی ترغیب دیں۔ اسی طرح ائمہ کرام کو چاہیے کہ وہ مساجد میں نوجوانوں کے لیے خصوصی دروس اور تربیتی نشستوں کا اہتمام کریں، تاکہ وہ دینی تعلیمات سے جڑ کر ایک باعمل مسلمان بن سکیں۔
۳۔ منشیات اور غلیظ صحبت
بزرگوں نے بجا فرمایا ہے: "صحبتِ بد، بدتر بود از مارِ بد"۔ کہ بری صحبت سانپ سے بھی زیادہ خطرناک اور نقصان دہ ہوتی ہے۔ صحبتِ بد انسان کے اخلاق، عادات اور خیالات کو اس قدر متاثر کر دیتی ہے، کہ وہ برائی کو برائی سمجھنا چھوڑ دیتا ہے، بلکہ بسا اوقات اچھائی کو برائی تصور کر لیتا ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں نوجوانوں کی دین سے دوری، تعلیم سے انحراف، اور مقصدِ حیات سے بے راہ روی عام ہو چکی ہے، اور اس زوال کے اسباب میں بری صحبت کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
والدین کی لاپرواہی اور بے توجہی کے باعث، نوجوان غلط صحبت میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ وہ ایسے لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے لگتے ہیں، جو نہ صرف انہیں اخلاقی انحطاط کی طرف لے جاتے ہیں، بلکہ عملی زندگی میں بھی ناکامی کی راہ پر دھکیل دیتے ہیں۔ جس طرح کوئلے کی کان میں جانے والا کوئلے کی سیاہی سے محفوظ نہیں رہ سکتا، اسی طرح جو شخص برے دوستوں کی صحبت میں بیٹھتا ہے، وہ لازماً ان کے اثرات قبول کرتا ہے۔ بری صحبت کے اثرات صرف اخلاقی بگاڑ تک محدود نہیں رہتے، بلکہ یہ نوجوانوں کو نشے جیسی لعنت میں بھی مبتلا کر دیتی ہے۔ اکثر اس کی ابتدا معمولی چیزوں جیسے سپاری اور گٹکے سے ہوتی ہے، لیکن اگر اس پر بروقت قابو نہ پایا جائے تو یہ سفر تمباکو، چرس، ہیروئن اور دیگر مہلک نشہ آور اشیاء تک جا پہنچتا ہے۔
ایسے نوجوان نہ صرف اپنی زندگی برباد کر لیتے ہیں، بلکہ اپنے خاندان اور سماج کے لیے بھی بوجھ بن جاتے ہیں۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ کئی نوجوان لاعلمی میں ایک ایسے راستے پر چل پڑتے ہیں جس کی منزل تباہی اور موت کے سوا کچھ نہیں۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے جو ہماری نوجوان نسل کے مستقبل کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ اگر اس کے سدباب پر فوری توجہ نہ دی گئی تو آنے والے دنوں میں اس کے نتائج مزید خطرناک اور بھیانک ہو سکتے ہیں۔ نہ جانے کتنے خاندان اس نشے کی لت کی وجہ سے برباد ہوگئے؛ ایک معمولی سا بچہ نشے میں گرفتار ہوتا ہے، اور ہر طرح کے فتنہ و فساد، قتل و غارت گری، چوری و اسمگلنگ میں ہاتھ ڈالتا ہے، اور جب پھنستا ہے تو پولیس کی سختی اور مقدمات کی دشواری سے بچنے کے لیے پورے خاندان کی دولت و ثروت کے ساتھ ساتھ عزت و احترام پاش پاش اور تار تار کر دیتا ہے۔ لہٰذا یہ نہ صرف اہل خانہ بلکہ پورے خاندان کی ذمہ داری ہے کہ اس بچے کو اس مہلک دلدل میں جانے سے پہلے روک لیں، ورنہ: "لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں"۔
۴۔ سوشل میڈیا کا غلط استعمال
دورِ حاضر میں سوشل میڈیا ہر جانب چھایا ہوا ہے، اور ہر فرد، چاہے امیر ہو یا غریب، چھوٹا ہو یا بڑا، اس کی زلفوں کا اسیر دکھائی دیتا ہے۔ بیشتر لوگ اس کے منفی اثرات سے بے خبر محض وقت گزاری کے لیے اس میں مگن ہیں، حالانکہ یہی وقت علم و عمل میں صرف ہو کر ان کی دنیا و آخرت کو سنوار سکتا تھا۔
افسوس کہ جہاں نظر دوڑائیں، ہر طرف لوگ بے مقصد اسکرولنگ میں مصروف نظر آتے ہیں۔ فیس بک، واٹس ایپ، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز پر قیمتی لمحات ضائع ہو رہے ہیں، اور یہ ضیاعِ وقت حقیقت میں ایک بہت بڑی محرومی ہے۔ یہ سچ ہے کہ سوشل میڈیا کے کچھ مثبت پہلو بھی ہیں، لیکن اس کا صحیح یا غلط ہونا سراسر صارفین (یوزرز) کے طرزِ استعمال پر منحصر ہے۔ اگر کوئی شخص اسے مثبت مقاصد کے لیے بروئے کار لائے تو یقیناً وہ اس سے مستفید ہو سکتا ہے، لیکن اگر وہ اس کی منفی دلدل میں پھنس جائے تو یہ اسے ہلاکت کی گہرائیوں تک لے جا سکتا ہے۔
وقت ایک بیش قیمت نعمت ہے، اور اس کا ضیاع انسان کو صرف خسارے اور پشیمانی کی طرف لے جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سوشل میڈیا جیسے ذرائع کو تعمیری مقاصد کے لیے استعمال کریں، اپنے وقت کو قیمتی بنائیں، اور دین و دنیا دونوں کی فلاح کے لیے اس کا درست مصرف اختیار کریں، تاکہ ہم دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکیں۔
اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کے نوجوانوں کو علم و عمل کی دولت سے مالامال فرمائے، انہیں دینِ اسلام پر ثابت قدم رکھے، اور ان کی صلاحیتوں کو ملت کی سربلندی کے لیے استعمال ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ یا رب! ہمیں گمراہی، بے راہ روی اور بے عملی سے بچا کر صراطِ مستقیم پر چلنے والا بنا دے۔ آمین یارب العالمین۔
سید حسان علی مصباحی
جامعہ اشرفیہ، مبارک پور، اعظم گڑھ
