| عنوان: | عوام کی دین سے دوری اور تبلیغِ دین کا فقدان: ذمہ دار کون؟ (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | محمد بسم اللہ جمالی مصباحی |
| پیش کش: | بنت اسلم برکاتی |
یہاں ٹھہر کر یہ کہنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ ہمارے اگر اتفاق سے چند پر جوش مبلغین ہیں بھی تو غیر تربیت یافتہ ہیں جو دعوت و تبلیغ کے عناصر و اجزاء اور اس کے اصول و قوانین سے بے بہرہ ہوتے ہیں۔ ان مبلغین کی صحیح تربیت ہمارے اکابر علماء و مشائخ کی ذمہ داری ہے۔ چونکہ ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کا یہی تقاضا ہے کہ مبلغین کے اندر حکمتِ بالغہ، موعظتِ حسنہ اور جدالِ احسن کی خوبیاں بدرجۂ اتم موجود ہوں۔ الدِّينُ النَّصِيحَةُ دین سراپا بھلائی اور خیر خواہی ہے۔ چنانچہ لوگوں کو اس بھلائی والے دین کی طرف بلانے کے لیے تربیت یافتہ دعاۃ و مبلغین کی اشد ضرورت ہے۔
-
علم کی کمی: دین سے دوری کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے۔ حالانکہ اسلام میں تعلیم و تعلم کی اہمیت اس قدر مسلم ہے کہ مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی پہلی وحی کا آغاز اقْرَأْ یعنی پڑھو سے ہوا۔ نیز قرآن مجید میں دوسرے مقام پر ہے: يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ یعنی اللہ تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جنہیں علم دیا گیا۔ [سورۃ المجادلة: 11]
حدیث شریف میں ہے: طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَىٰ كُلِّ مُسْلِمٍ یعنی علم کو طلب کرنا ہر مسلمان (مرد و عورت) پر فرض ہے۔
ہماری بلندی اور برتری کا سارا اساس علم پر رکھا گیا ہے۔ اس کے باوجود دنیا میں ہم ایک ان پڑھ قوم کی حیثیت سے متعارف ہیں۔ ماضی میں مسلمانوں نے علم میں غیر معمولی ترقی کر کے پوری دنیا کو چونکایا ہے مگر افسوس ہم اپنے اسلاف کے صحیح اخلاف نہ ہوئے۔ اور حشر یہ ہوا کہ علم سے دور ہونے کی وجہ سے دین سے بھی تعلق کمزور ہوتا چلا گیا اور دنیا کے سامنے مذہب کی غلط شبیہ پیش ہو گئی۔
-
دنیاوی مشغولیات: اس فانی دنیا کے چکر میں انسان اخروی دائمی حیات کو پسِ پشت ڈال دیتا اور دنیا کمانے میں سارا وقت گنوا دیتا ہے جبکہ یہ محض نادانی اور ایک مسلمان کے لیے افسوس کا مقام ہے۔ ارشادِ حق تعالیٰ ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ ۚ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ یعنی اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں اور جو ایسا کرے گا تو وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔ [سورۃ المنافقون: 9] نیز باری تعالیٰ فرماتا ہے: أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ یعنی زیادہ مال جمع کرنے کی طلب نے تمہیں غافل کر دیا۔ یہاں تک کہ تم نے قبروں کا منہ دیکھا۔ [سورۃ التکاثر: 1-2]
-
سماجی اور ثقافتی عوامل: اس کے تحت بہت ساری چیزیں آ سکتی ہیں، بطورِ مثال تین چیزوں کا تجزیہ پیش کرتے ہیں:
اول، مغربی اثرات: مغربی اثرات اور فیشن نیز میڈیا کی فحاشی پر مبنی مواد کی بہتات نے لوگوں کو دین سے دور کرنے میں خطرناک کردار ادا کیے ہیں۔
دوم، سماجی اور اقتصادی دباؤ: معاشرتی اور اقتصادی الجھنوں نے بھی لوگوں کو دین سے دور کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ یہ معاشرتی دباؤ، اقتصادی الجھن اور احساسِ کمتری ہی کا نتیجہ ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو مدرسے میں اس لیے نہیں پڑھانا چاہتے ہیں کہ فقط دین کی باتیں سیکھ کر زندگی کیسے گزار لے گا، نہ اس لائن میں پیسے ہیں نہ معاش کے قابلِ قدر ذرائع ہیں۔ لہٰذا ایسی ذہنیت سے متاثر افراد کی ذہن سازی بہت ضروری ہے۔
سوم، گھریلو ماحول: یہ بہت اہم وجہ ہے کہ اگر گھر اور خاندان میں دینی تعلیم و تربیت کو اہمیت اور ترجیح نہ دی جائے تو یقیناً لوگ دین سے ناواقف ہی ہوں گے اور عصرِ حاضر کا حال بھی یہی ہے کہ لوگ دنیاوی تعلیم کو ماویٰ اور ملجا سمجھ بیٹھے ہیں۔ جبکہ اسلام کسی بھی تعلیم خواہ دینی ہو یا دنیاوی کسی کے حصول سے بھی نہیں روکتا۔
ذمہ دار کون؟
ان مفاسد کا ذمہ دار اولاً ہر شخص ہے، ہاں اتنا ضرور ہے کہ مذہبی اور معاشرتی نقطۂ نظر سے ہر بڑا اور اثر و رسوخ والا اپنے ماتحت کا ذمہ دار ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ یعنی تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے، اور ہر شخص سے اس کی رعیت (ذمہ داری) کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ [صحیح البخاری]
لہٰذا سب کو چاہیے کہ پہلے اپنی ذات کی پھر اپنے ماتحتوں کی اصلاح کرے، ان شاء اللہ معاشرہ اسلامی احکام اور سنتِ نبوی کا آئینہ دار ہوگا۔
عوام کی دین سے دوری اور تبلیغِ دین کے فقدان کی وجوہات مزید ہیں اور ہو سکتی ہیں اس مضمون میں ہم نے حتی المقدور قرآن و احادیث کی روشنی میں بعض اہم وجوہات اور اس کے حل و تدارک کا اختصار کے ساتھ جائزہ پیش کیا ہے۔ امید ہے ان تمام باتوں کو عملی جامہ پہنایا گیا تو نمایاں تبدیلی محسوس کی جائے گی۔ ڈاکٹر اقبال کے اس شعر کے ساتھ یہ مضمون اپنے اختتام کو پہنچتا ہے:
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندی مسلمانو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
